مغل شہنشاہ اکبر اعظم سال میں 14 عیدیں کیوں مناتے تھے اور انھوں نے گائے کا گوشت حرام قرار دینے کا فرمان کیوں جاری کیا؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

اٹھارویں صدی کے اوائل میں چھٹے شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کا دنیا سے جانا مغلیہ سلطنت کے زوال کا اشارہ تھا۔

جو سلطنت کبھی برصغیر پر اپنی ہیبت اور اقتدار کی علامت تھی، وہ جانشینی کی جنگوں، اندرونی بغاوتوں، بیرونی حملوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے تسلط تلے رفتہ رفتہ بکھرتی گئی۔ مورخین اس عہدِ زوال کا آغاز 1712 میں بہادر شاہ اول کی وفات اور اختتام 1857 میں بہادر شاہ ظفر کی معزولی سے جوڑتے ہیں۔

لیکن اپنے عروج پر ہندوستان کے مغل حکمران عید الاضحیٰ کیسے مناتے تھے؟ شہنشاہ اکبر نے سال میں 14 عیدیں منانے کا رواج کیوں شروع کیا اور گائے کے گوشت کو حرام کیوں قرار دیا؟

پہلے دو بادشاہوں ظہیرالدین بابر اور ہمایوں کو کم وقت ملا حکومت کا۔ بابرکو چارسال ملے، ہمایوں کو گیارہ۔ گویا اتنی ہی عیدیں دیکھی ہوں گی انھوں نے۔

بابرکی کتاب ’تزکِ بابری‘ سے صرف ایک عید ِ قربان کا علم ہوتا ہے جو انھوں نے 16 جون 1502 میں شاہ رُخیا، فرغانہ میں منائی۔ تفصیل نہیں لکھی۔

گل بدن بیگم کی لکھی ’ہمایوں نامہ‘ میں بھی عیدِ قربان کا تذکرہ اگر ہے تو حج کے موقع پر لیکن وہ بھی ہمایوں کے حوالے سے نہیں۔

اکبر کی 14 عیدیں اور گوشت سے پرہیز

شوکت علی فہمی اپنی کتاب ’ہندوستان پر مغلیہ حکومت: مغل دور سے لے کر انگريزوں کے دور حکومت تک‘ میں لکھتے ہیں کہ تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے اسلامی تہواروں یعنی عید بقر عید سے دلچسپی لینا چھوڑ دی تھی۔ انھوں نے 50 سال سے چند ماہ کم حکومت کی۔

’زرتشتوں کی تقلید کرتے ہوئے سال میں دو کی بجائے 14 عیدیں منانے لگے تھے جس کا اثر یہ پڑا کہ مسلمانوں کی عیدیں بے رونق ہو گئیں۔‘

’اکبر نے گائے کا گوشت، لہسن اور پیاز کھانا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ کئی کئی مہینے گوشت نہیں کھاتا تھا۔ سنہ 1590 میں یہ حکم جاری ہوا کہ بھیڑ، گائے بھینس، گھوڑے اور اونٹ کا گوشت حرام سمجھا جائے۔ بلکہ قصائی کے ساتھ کھانا کھانا بد ترین جرم قرار دے دیا گیا۔‘

ابوالفضل اپنی تصنیف ’آئین اکبری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اکبر کے باورچی خانے میں اول وہ کھانے تھے جن میں گوشت شامل نہیں تھے۔ یہ کھانے صوفیانہ کھانے کہلاتے تھے۔ دوم وہ کھانے جن میں گوشت اور اناج ایک ساتھ پکایا جاتا تھا اور سوم وہ کھانے جن میں گوشت گھی اور مسالوں کے ساتھ پکایا جاتا تھا۔‘

یوں بادشاہ کی پہلی پسند وہ کھانے تھے جن میں دال، موسمی ترکاریوں سے بنے سالن اور پلاؤ بادشاہ کے خاصے میں شامل تھے۔

جہانگیر کا اتوار کو جانور ذبح نہ کرنے کا حکم

فہمی کے مطابق چوتھے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر نے اپنے 22 سالہ دورِ حکومت میں حکم دیا تھا کہ اتوار کو کوئی جانور ذبح نہ ہو کیوں کہ یہ والد کی ولادت کا دن ہے۔

بلکہ جہانگیر کی کتاب ’تزک جہانگیری‘ سے پتا چلتا ہے کہ ایک عیدِ قربان جمعرات کے روز آ گئی جب ان کے حکم کے مطابق گوشت کا ناغہ تھا تو انھوں نے ذبیحہ اگلے روزیعنی جمعہ کے لیے موخر کر دیا۔

تزک میں اگلے روز کا احوال یوں لکھا ہے: ’میں نے اپنے ہاتھ سے تین بھیڑوں کی قربانی کی، پھر شکار کے لیے روانہ ہوا اور رات کے چھ گھڑی گزرنے پر واپس آیا۔‘

’تزک جہانگیری‘ میں کم از کم تین بار اور عیدِ قربان کا تذکرہ ہے جب جہانگیر یا تو سفر پر تھے یا شکارپر۔

مورخ معتمد خان کی تصنیف ’اقبال نامۂ جہانگیری‘ کے مطابق، جہانگیر نے ایک موقع پر کہا تھا: ’جب تک (ان کی ملکہ) نور جہاں امورِ سلطنت سنبھالے ہوئے ہے، مجھے خوش رہنے کے لیے صرف ایک سیر شراب اور آدھا سیر گوشت ہی کافی ہے۔‘

لزّی کولنگھم اپنی کتاب ’کری اے ٹیل آف کُکس اینڈ کنکررز‘ میں لکھتی ہیں کہ جہانگیر کے دربار میں برطانوی سفیر ایڈورڈ ٹیری نے ایک مغل ضیافت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مہمانوں کے سامنے چاندی کے پیالوں میں 50 مختلف پکوان پیش کیے گئے۔

انھوں نے خاص طور پر رنگین پلاؤ کا ذکر کیا جو سبز اور ارغوانی رنگوں میں رنگا جاتا تھا اور برطانوی کھانوں سے کہیں بہتر پکا ہوتا تھا۔

ٹیری کے مطابق اس میں ’ہرا ادرک، مرچ اور مکھن‘ شامل کیا جاتا تھا، جس سے اس کا ذائقہ نہایت لذیذ ہو جاتا۔ گوشت کو جڑی بوٹیوں، مسالوں، پیاز، ادرک اور مکھن میں آہستہ آہستہ پکایا جاتا تھا، اور ان کے بقول یہ ’ایسا کھانا تھا جو ہر ذائقے کو بھا جائے‘ — یعنی، کولنگھم کے مطابق وہی چیز جسے بعد میں دنیا نے ’کری‘ کے نام سے جانا۔

جہانگیر کے عہد کی کتاب ’الوانِ نعمت‘ مٹھائیوں اور لذیذ پکوانوں کے لیے مخصوص تھی، جس میں نان خطائی، میٹھی پوریاں، سموسے، لڈو اور حلوے جیسے شاہی ذائقوں کا ذکر ملتا ہے۔

فہمی لکھتے ہیں کہ پانچویں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے لیے عید اور بقر عید کے دن سب سے بڑی خوشی یہ ہوتی تھی کہ غریبوں میں زیادہ سے زیادہ دولت لٹائی جائے۔

’عیاشی، بدکاری اور شراب سے انھیں نفرت تھی۔ ان پر مذہب کا اثر غالب تھا‘۔

شاہ جہاں جو گھنٹوں دسترخوان پر بیٹھے رہتے

شاہ جہاں کے عہد سے مغلیہ تہذیب اپنے عروجِ جمال میں داخل ہوئی۔ دلی ایک ایسے نفیس اور شائستہ دربار کا مرکز بن چکی تھی جہاں ذوق، نزاکت اور شاہانہ رکھ رکھاؤ اپنی مثال آپ تھے۔

سلمیٰ یوسف حسین نے ’نسخہ شاہ جہانی‘ کا ترجمہ ’دی مغل فیسٹ‘ کے عنوان تلے کیا ہے۔

ان کے مطابق مغل باورچی خانوں میں ہندوستانی مسالوں کے ساتھ پرتگیزی مرچ، آلو اور ٹماٹر نے بھی جگہ بنا لی، جس سے قورمے، قلیے، پلاؤ، کباب اور دیگر پکوان ذائقے اور رنگ میں مزید دل کش ہو گئے۔

شاہی دسترخوان خود ایک تقریب ہوتا تھا۔ کھانے سونے، چاندی اور جواہرات جڑے برتنوں میں پیش کیے جاتے۔ شہنشاہ کھانے سے پہلے غریبوں کے لیے حصہ الگ رکھتا، دعا سے آغاز کرتا اور گھنٹوں دسترخوان پر بیٹھ کر کھانوں سے لطف اندوز ہوتا۔

’عیدین اور دوسرے تہواروں پر یہی ضیافتیں اور بھی زیادہ شان و شوکت اختیار کر لیتیں، جہاں باقرخانی، شیرمال، نہاری، حلیم، قورمے، کباب، شربت اور قلفیوں کی بہار دربار اور بازار دونوں کو معطر کر دیتی تھی۔‘

’نسخۂ شاہجہانی‘ شاہ جہاں کے شاہی باورچی خانے کے پکوانوں کا ریکارڈ سمجھی جاتی ہے۔ اس فارسی مخطوطے میں نان، آش، قلیے، دوپیازہ، بھرتہ، بریانی، پلاؤ، کباب، ہریسہ، کھچڑی، مربے، اچار، حلوے، فیرنی اور دیگر میٹھوں سمیت درجنوں شاہی کھانوں کی تراکیب درج ہیں۔

’نسخہ شاہ جہانی‘ میں پلاؤ کی تقریباً 56 اور قلیہ کی 36 قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ مگر یہ عیش و عشرت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

اورنگزیب کی سادگی

اورنگزیب نے سادگی کو ترجیح دی، جبکہ زندگی کے آخری برسوں میں شاہ جہاں قیدِ تنہائی میں صرف چنوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہو گئے — وہی چنے جن سے بعد میں شاہجہانی دال جیسی مشہور ڈش وجود میں آئی۔

پھر بھی اورنگ زیب کے دور میں ’خلاصۃ الماکولات و المشروبات‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب ہوئی، جس میں نان، کُلچے، سالن، کباب، کھچڑی، اچار اور ہندوستانی طرز کے مختلف کھانوں کی تفصیل ملتی ہے، جبکہ فِرنی، فالودہ، مالیدہ، گُلگلے جیسے میٹھے بھی شامل تھے۔

عمر کے ابتدائی حصوں میں، رقعات عالمگیری کے مطابق، اورنگزیب کا ایک شوق کھانوں سے ان کی رغبت ہے۔

لیکن پھر اورنگ زیب کا گوشت سے پرہیز ان کی عادت بن گئی۔ ان کا دسترخوان سادہ کھانوں سے مزین رہتا تھا اور شاہی باورچی ترکاریوں اور سبزیوں کے اعلیٰ سادہ پکوان بنانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ تازہ پھل کھاتے اور رقعات عالمگیری میں بیشتر جگہ آم کا ذکر ملتا ہے۔

گندم سے بنے کباب اور چنے کی دال سے بنے پلاؤ اورنگ زیب کی پسندیدہ غذا تھی۔ پنیر سے بنے کوفتے اور پھلوں سے بنی غذائیں عہدِ اورنگ زیب کی دین ہیں۔

فہمی کے مطابق چھٹے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالم گیر کی تاج پوشی کے جشن کا آغاز رمضان میں ہوا تھا۔

اورنگ زیب کو جب ( بھائی اور تخت کے دعوے دار) دارا شکوہ کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو بے حد محظوظ ہوئے، شادیانے بجوانے کا حکم دیا اور احکامات جاری کیے کہ تاج پوشی کا جشن ایام عید الاضحیٰ تک جاری رہے یعنی تقریباً چار ماہ تک تاج پوشی کا جشن ہوتا رہا۔ اسی زمانہ میں دارا شکوہ کو سزائے موت دی گئی۔

محمد ساقی مستعد خاں کی عالم گیر کے 50 سال دورِ حکومت پر لکھی کتاب ’مآثر عالمگیری‘ سے پتا چلتا ہے کہ بادشاہ نمازو قربانی کی رسم کے بعد خلعتیں، انعامات، تحائف اور خیرات بانٹتے۔

ایک عید کا واقعہ لکھا ہے کہ ’قبلہ عالم نے گوسفند ذبح فرمائی اور شہزادہ محمد سلطان نے حسب الحکم اونٹ کی قربانی کی۔ واپسی میں ایک دیوانہ صورت شخص سواری مبارک کے قریب آیا اور ایک لکڑی ماری۔ لکڑی تخت سے اچھل کرزانوئے مبارک پر لگی۔ گُرز برداراس کو گرفتارکرکے حضورمیں لائے۔ بادشاہ کرم گُسترنے اس کی رہائی کا حکم صادر فرمایا۔‘

مگر سلطنت کے چراغ بجھنے لگے تو بھی شاہی دسترخوان روشن رہے۔ دربار سجے، پرتکلف ضیافتیں ہوئیں، اور عید کی شاہانہ دعوتیں برپا کی گئیں۔

منشی فیض الدین نے شاہی قلعے یا قلعہ معلیٰ میں پرورش پائی اور اس مٹی ہوئی ثقافت اور دَم توڑتے تمدّن کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔

اپنی کتاب ’بزمِ آخر‘ میں وہ دیگر تقریبات کے ساتھ ساتھ عید الاضحىٰ یا عید قربان کے روز مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے معمولات کا احوال یوں بیان کرتے ہیں:

’(عید الفطر کی طرح)، رات کو توپیں، ڈیرے خیمے، فرش فروش عیدگاہ روانہ ہوا۔ سواری کا حکم ہوا، ہاتھی رنگے گئے۔ ذی الحجہ کے مہینے کی 10ویں تاریخ صبح کو (بادشاہ) نے حمام کیا، پوشاک بدلی، جواہر لگایا۔ خاصے والیوں نے جلدی سے دستر خوان بچھایا۔ سویاں، دودھ، اولے، بتاشے، چھوارے، خشکا، کھڑی مسور کی دال اس پر لگا دی۔ بادشاہ نے نیاز دی، ذرا ذرا سا چکھ کر کلی کی۔‘

’باہر برآمد ہوئے، جسولنی نے خبر داری بولی، باہر تُرئی ہوئی، سب جلوس قاعدے سے کھڑا ہوگیا۔ فوجدار خان نے ہاتھی بٹھا دیا، کہاروں نے ہوا دار تلووں کے برابر لگا دیا۔ بادشاہ ہودے میں سوار ہوئے، دیوان عام میں سواری آئی۔ قلعے کے دروازے پر پلٹنوں نے سلامی اتاری، 21 توپیں چلیں۔‘

’عیدگاہ کے دروازے پر سواری پہنچی، جلوس دو طرفہ کھڑا ہوگیا، سلامی اتاری، توپیں سلامی کی چلنے لگیں۔ دروازے پر سے بادشاہ ہوادار میں اور ولی عہد نالکی میں اور سب پیدل عید گاہ کے اندر آئے۔ چبوترے پر سے اتر کر خیمے میں اپنے مصلوں پر کھڑے ہو گئے۔ مکبر پر تکبیر ہوئی، سب نمازیوں نے صفیں درست کیں۔ امام جی کے ساتھ سب نے نیت باندھی۔ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا، سب کھڑے ہو گئے۔ بادشاہ، ولى عہد، شاہ زادے اپنے مصلوں پر بیٹھے رہے۔‘

منشی فیض الدین قربانی کا منظر یوں بیان کرتے ہیں: ’عید گاہ کے اندر جنوب کی طرف ایک بڑا سا خیمہ کھڑا ہے، بیچوں بیچ میں ایک چبوترہ بنا ہوا ہے، اس پر بادشاہ کی مسند لگی۔ پیچھے دو خیمے زنانے کھڑے ہوئے ہیں، ارد گرد بڑے بڑے سرانچے کھچے ہوئے ہیں۔ ایک اونٹ بانات کی جھول پڑی ہوئی، سینہ پر چونے کا نشان کیا ہوا، رسوں میں جکڑا ہوا، فراش پکڑے کھڑے ہیں۔ دیکھو اب اونٹ کی قربانی ہوتی ہے۔‘

’بادشاہ اونٹ کے پاس آئے، فراشوں نے ایک بڑی سی چادر بادشاہ اور اونٹ کے بیچ میں تان لی۔ قورخانے کے داروغہ نے بادشاہ کے ہاتھ میں برچھی دی۔ قاضی نے اونٹ کی قربانی کی دعا پڑھوائی۔ بادشاہ نے دعا پڑھ کر چونے کے نشان پر اونٹ کے تاک کر برچھی ماری۔ قاضی نے اسے ذبح کیا۔ بادشاہ سوار ہو کر خیمے کی سہ دری کے پاس آئے۔‘

یہ تذکرہ ہے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفرکا۔

اشرف صبوحی دہلوی لکھتے ہیں کہ ’آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر جس کے پاس نہ تیموری لشکر تھا، نہ بابری شجاعت و شوکت، نہ اکبری صولت و جبروت، نہ شاہ جہانی سطوت و شان، پھر بھی بادشاہ تھا، نام ہی کا سہی۔‘