آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اجتماعی شادی‘ جہاں 42 دلہوں میں سے کسی کو بھی دلہن نہ ملی: ’ہمیں خواب دکھایا گیا لڑکیاں اچھی ہیں اور شادی کریں گی‘
- مصنف, وشنوکانت تیواری اور سمیر خان
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
24 مئی اتوار کا دن تھا اور مدھیہ پردیش کے علاقے دیواس میں واقع ماتا ٹیکری مندر میں چند نوجوان کھڑے تھے اور شادی کی رسومات شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ نوجوانوں نے گلے میں ہار پہنے ہوئے تھے، کچھ کے رشتے دار بھی وہاں موجود تھے اور کچھ کرایے کی کاروں میں اس مقام تک پہنچے تھے۔
انھوں بتایا گیا تھا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں گے۔ پھر صبح کے بعد رات بھی آ ہی گئی، لیکن نہ کوئی دلہن آئی اور نہ ہی کوئی شادی ہوئی۔
پولیس کے مطابق مدھیہ پردیش کے ضلع دیواس میں دراصل اجتماعی شادیوں کا ایک فراڈ رچایا جا رہا تھا اور اس حوالے سے چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ دو ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
دیواس کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) جیویرسن بہادریہ کہتے ہیں کہ ’شادی کے نام پر بہت سارے لوگوں سے پیسے اینٹھے گئے۔ اس کیس میں اب تک ہم دو لوگوں کو گرفتار کر چکے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے شادیاں کروانے کا جھانسہ دے کر متعدد نوجوان مردوں سے پیسے لیے گئے تھے۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ ان کی شادیاں اندور کے ایک یتیم خانے کی لڑکیوں سے کروائی جائے گی۔
یہ فراڈ کیسے ہوا؟
پولیس اور فراڈ کا شکار ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دھوکہ دہی میں پورا ایک نیٹ ورک ملوث تھا۔ پہلے شادی کے لیے لڑکی تلاش کرنے والے لڑکوں سے رابطے کیے جاتے تھے اور پھر انھیں بتایا جاتا تھا کہ اندور کے ایک آشرم میں رہائش پزیر لڑکیاں ان سے شادی کے لیے تیار ہیں۔
اس کے بعد رجسٹریشن اور دستاویزات بنانے کے نام پر مردوں سے پیسے لیے جاتے تھے۔ یہ سب کام آن لائن ہی ہوتا تھا۔
اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لڑکے اور ان کے خاندان کے افراد کو موبائل فونز پر لڑکیوں کی تصاویر بھیجی گئیں۔ بعد میں متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ یہ تصاویر دراصل سوشل میڈیا سے لی گئیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کے دوران ریاست کے وزیرِ اعلیٰ کے نام کا استعمال بھی کیا گیا تاکہ لوگوں کا بھروسہ حاصل کیا جا سکے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک شکایت کنندہ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہمیں خواب دکھایا گیا کہ لڑکیاں اچھی ہیں اور وہ شادی کریں گی۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیرِ اعلیٰ خود آئیں گے اور ہمیں 51 ہزار روپے کا چیک دیں گے۔‘
اس شخص کا شادی کے نام پر فراڈ کرنے والے نیٹ ورک سے رابطہ ایک دور کے رشتے دار کے توسط سے ہوا تھا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وزیرِ اعلیٰ کا نام لیا گیا گیا، اجتماعی شادیوں کی بات ہو رہی تھی، لڑکیوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی تھیں اور اس سے ہم قائل ہو گئے۔‘
یہ 22 سالہ نوجوان کہتے ہیں کہ جب انھوں نے شادی سے لڑکی سے ملنے کی بات کی تو انھیں بتایا گیا کہ چونکہ وہ یتیم خانے میں رہتی ہیں اس لیے ان سے پہلے ملاقات ممکن نہیں ہے۔
’پھر ہمیں بتایا گیا کہ 24 مئی کو لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی جگہ پر ہوں گے اور انھیں بات کرنے کا پورا موقع دیا جائے اور شادی اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 25 مئی کو ہو گی۔‘
کچھ خاندانوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ انھیں کچھ جہیز کی اشیا بھی دی جائیں گی، جبکہ کچھ لوگوں کو کہا گیا کہ وہ شادی سے قبل مہندی وغیرہ جیسی تقریبات کا انعقاد نہ کریں کیونکہ یہ تمام رسمیں دیواس میں ہی ہوں گی۔
دلہے تو آ گئے لیکن دلہنیں غائب
شکایت کنندہ کہتے ہیں کہ وہ نو افراد کے ہمراہ شادی کے لیے دیواس پہنچے تھے: ’ہمیں ماتا تیکری مندر مدعو کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ 24 تاریخ کو صبح آٹھ بجے پہنچ جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہاں کم از کم 42 مزید لوگ تھے۔
’ان میں سے زیادہ تر کی عمریں 40 برس کے قریب تھیں۔ وہاں ایسے بھی دلہے تھے جو 60 برس کے ہوں گے۔ اس وقت ہمیں تھوڑا سا شک ہوا۔‘
وہاں شادی کے لیے آنے والوں میں ہرنیاکلام نامی گاؤں کے رہائشی وکاس مینا بھی شامل تھے، جنھوں نے اپنی شادی کے لیے 25 ہزار روپے دیے تھے۔
’ہم سے رجسٹریشن کے نام پر پیسے لیے گئے۔ ہمیں کہا گیا کہ ہماری شادیاں اندور کے ایک یتیم خانے کی لڑکیوں سے کروائی جائے گی۔ جب ہم نے تصاویر مانگیں تو لڑکیوں کی تصاویر ہمیں موبائل فونز پر بھیج دی گئیں۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ تمام تصاویر سوشل میڈیا سے لی گئی تھیں۔‘
دیواس بھوپال سے 150 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے اور لوگ یہاں مدھیہ پردیش کے متعدد علاقوں سے آئے تھے۔
ان میں ایک اوم پرکاش پراجاپتی بھی تھے، جنھوں نے تصاویر دیکھ کر اپنی دلہن کا انتخاب کیا تھا۔
اوم پرکاش کہتے ہیں کہ ’ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم سادہ کپڑوں میں آئیں۔ دلہے کے کپڑوں اور دیگر تمام رسومات کا انتظام یہاں ہی ہوگا۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم نہ ہلدی لگائیں اور نہ مہندی۔‘
خاندانوں کا نہ ختم ہونے والا انتظار
ایک نوجوان کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کی صبح آٹھ بجے مندر پہنچ گئے، جہاں ان کی ملاقات مکیش بیگاری اور ان کی اہلیہ سنیتا سے ہوئی جو اس تقریب کے انچارج تھے۔
مکیش بیگاری اور سنیتا دلہوں اور ان کے خاندانوں سے براہ راست رابطے میں تھے۔ مکیش اور سنیتا اتوار کی صبح بس یہی کہتے رہے کہ دلہن اندور سے نکل چکی ہے اور جلد ہی یہاں پہنچ جائے گی۔
لیکن اس رات دیواس کے مندر میں کوئی نہیں پہنچا، جس کے بعد لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور پولیس کو وہاں آنا پڑا۔
وہاں موجود لوگوں کے شور مچانے کے بعد ایونٹ کے آرگنائزر مکیش نے کہا کہ ان کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دنیش بیگاری میرے بڑے بھائی ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ یتیم خانوں کی لڑکیوں کی شادیاں کروانا چاہتے ہیں، اس لیے ہم لوگوں سے ملے اور ان سے پیسے لیے۔ میرے پاس جو پیسے آتے تھے وہ میں بھائی کو بھیج دیتا تھا، میرے ساتھ بھی دھوکہ ہوا ہے۔‘
پولیس کا مؤقف کیا ہے؟
دیواس کے اے ایس پی جیویرسن بہادریہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی کے شادی کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں اور شک ہے کہ ان کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی، لوگوں سے بات کی اور ان کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں مکیش بیگاری، سنیتا بیگاری، دنیش بیگاری اور ایک اور شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔
اے ایس پی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ شادی کے وعدے پر لوگوں سے پیسے لیے گئے۔ انھیں تصاویر دکھائِی گئیں۔ مرکزی ملزم مکیش کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔‘
پولیس افسر کے مطابق مکیش بیگاری نے اب تک یہی بتایا ہے کہ ان کے بڑے بھائی دنیش بیگاری اس سب کے پیچھے ہیں۔
دوسری جانب شادی کے نام پر دھوکہ کھانے والے 22 سالہ نوجوان اپنے گھر واپس آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں کو اس واقعے کے بارے میں پتا ہے ان سے میں نے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی ہے اس حوالے سے کسی کو نہ بتائیں۔ اگر یہ معلومات باہر نکلی تو میرا مستقبل مشکل ہو جائے گا۔‘
’لیکن میں دھوکہ کرنے والے لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے ان کے خلاف شکایت درج کروا دی ہے اور میں ان کو سزا ملنے تک قانونی جنگ جاری رکھوں گا۔‘