آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سبزی خور مسلمان عید الاضحیٰ کیسے مناتے ہیں؟
- مصنف, مروه کارا کاسکا
- عہدہ, بی بی سی ترک سروس
- مقام, لندن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’میں وہی سب کچھ کرتی ہوں جو باقی سب کرتے ہیں۔ میں اچھے کپڑے پہنتی ہوں، گھر سجاتی ہوں، اپنے والدین سے ملنے جاتی ہوں، ہم بہت سا کھانا کھاتے ہیں، خیرات کرتے ہیں اور روزمرہ کے تمام معمولات انجام دیتے ہیں۔ مجھے بالکل ایسا نہیں لگتا کہ میں نے کچھ کھو دیا۔‘
ویلز سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ عائشہ یونس خود کو ایک مکمل سبزی خور مسلمان قرار دیتی ہیں۔
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عید الاضحیٰ دراصل بانٹنے اور درگزر کرنے کے بارے میں ہے۔ ان کے مطابق ’میں خیراتی اداروں کو عطیہ دیتی ہوں اور اس رقم سے دوسرے لوگ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس طرح، درگزر کرتے ہوئے میں اپنی مذہبی ذمہ داری پوری کرتی ہوں۔‘
عائشہ عید الاضحیٰ کی روایات کے متبادل طریقے اختیار کر رہی ہیں، جو جانوروں کے حقوق اور ماحولیاتی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔
بی بی سی نے دنیا بھر کے سبزی خور مسلمانوں سے عید الاضحیٰ کے حوالے سے ان کے تجربات کے بارے میں بات کی۔
لبنان کے شہر بیروت میں رہنے والی ویڈیو ایڈیٹر اور سماجی کارکن فوزیہ جعفان کہتی ہیں کہ انھیں بچپن سے ہی جانوروں میں خاص دلچسپی رہی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مذہبی مواقع پر جانوروں کو قربان ہوتے دیکھنا ہمیشہ ان کے لیے ایک مشکل تجربہ رہا: ’مجھے یقین ہے کہ بہت سے بچے جو میری طرح ہیں، جب جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھتے ہیں تو ذہنی صدمے کا شکار ہوتے ہیں، لیکن ہمیں اس بارے میں بات کرنے یا سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘
فوزیہ 18 سال کی عمر میں سبزی خور بن گئیں اور کووِڈ-19 کی وبا کے دوران انھوں نے ’ویگن‘ والا طرزِ زندگی اختیار کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سبزی خور اور ویگن دونوں گوشت نہیں کھاتے تاہم، سبزی خور دودھ اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے ہیں، جبکہ ویگن، یا مکمل سبزی خور جانوروں سے حاصل کردہ کسی بھی قسم کی غذا استعمال نہیں کرتے۔
فوزیہ کا ماننا ہے کہ ویگن ہونا اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ سمجھتی ہیں کہ مذہبی تعلیمات جانوروں کی فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔
ان کے خیال میں عید الاضحیٰ اس بارے میں ہے کہ انسان کسی ایسی چیز کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جو اس کے لیے بہت قیمتی ہو تاکہ ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے۔
وہ کہتی ہیں کہ جانور قربان کرنے کے متبادل کے طور پر پودوں پر مبنی خوراک، جو مہینوں تک استعمال کے قابل رہتی ہے، ضرورت مند لوگوں کو فراہم کی جا سکتی ہے۔
وہ یہ بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس سے ماحولیاتی اثرات اور پانی کے ضیاع میں کمی آتی ہے: ’اگر آپ تحقیق کو دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ یہ بہت ماحول دوست طریقہ ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہم خوراک ضائع نہیں کر سکتے، ہم پانی ضائع نہیں کر سکتے، ہم اپنی صحت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ہم درخت نہیں کاٹ سکتے، حتیٰ کہ جنگ کے دوران بھی۔‘
زہرا البیستان، جو کورونا وائرس کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے ویگن طرزِ زندگی سے متعارف ہوئیں، پہلے سبزی خور بنیں اور پھر دودھ اور پنیر جیسی مصنوعات کے متبادل جاننے کے بعد ویگن طرزِ زندگی اختیار کر لیا۔
استنبول میں رہنے والی 22 سالہ ترک طالبہ کہتی ہیں کہ عید الاضحیٰ ان کے اندر متضاد جذبات پیدا کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایسا نہیں جیسے کسی عام کھانے کی تیاری کے لیے قصاب کی دکان پر جانا۔ کیونکہ یہاں ایک ایسا عقیدہ بھی شامل ہے جس پر میں یقین رکھتی ہوں اور اسے اہمیت دیتی ہوں، اور اس کے ساتھ ایک عمل بھی جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مجھے کسی بھی عام دن کے مقابلے میں زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔‘
زہرا کے مطابق، اس عید کا یہ فلسفہ ہے کہ مومن اپنی قیمتی چیز کی قربانی دے اور ضرورت مندوں کی مدد کرے۔
عید الاضحیٰ کے پکوان کیا ہوتے ہیں؟
عید الاضحیٰ کے دوران خاندانی ملاقاتیں، بڑی بڑی محفلیں اور روایتی کھانے مسلمانوں میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
ویگن یعنی مکمل سبزی خور مسلمان کہتے ہیں کہ وہ اس سماجی اور ثقافتی ماحول سے الگ نہیں کیے جاتے بلکہ وہ اپنی پسند کے مطابق اس کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
عائشہ، جو 2015 سے ویگن ہیں، کہتی ہیں کہ اگرچہ ابتدا میں ان کے خاندان کو ان کی خوراک کے بارے میں تشویش تھی لیکن اب وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میری والدہ مجھ سے پوچھتی ہیں کہ عید کے کھانے میں میں کیا پسند کروں گی۔ وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ میں کسی چیز سے محروم نہ رہوں اور میرے لیے کھانے کا مناسب انتظام ہو۔‘
عید کے کھانے کیسے تیار کیے جاتے ہیں؟
عائشہ مزید کہتی ہیں ’میرے شوہر کے اہلِ خانہ بھی میرے لیے ویگن کھانا تیار کرتے ہیں۔ وہ اصل میں ہانگ کانگ سے ہیں اور ان کی خوراک زیادہ تر گوشت اور مچھلی پر مشتمل ہوتی ہے لیکن وہ میرے انتخاب کے مطابق ڈھلنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔‘
زہرا زور دیتی ہیں کہ ترکی کے روایتی پکوان بہت متنوع اور لچکدار ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں زیتون کے تیل میں پکائی گئی انگور کے پتوں کی ڈش (دولما) کھاتی ہوں۔ میری والدہ ویگن بقلوا بناتی ہیں۔ مجموعی طور پر مجھے عید میں کھائے جانے والے روایتی کھانوں کے ویگن انداز آزمانے کا موقع ملتا ہے۔‘
تاہم، جب عید الاضحیٰ کی ملاقاتوں اور میل جول کی بات آتی ہے تو سب لوگ یکساں طور پر تعاون نہیں کرتے۔
زہرا کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے بعض رشتہ داروں سے اس طرح کے ردِ عمل کا سامنا کیا: ’کیوں نہیں کھاتیں؟ ٹھیک ہے، عام دنوں میں نہ کھاؤ ۔۔۔ تم جانوروں کے قتل کے خلاف ہو لیکن یہ کام صحیح طریقے سے کیا جاتا ہے۔ کم از کم آج کے دن تو کھا لو۔۔۔‘
لبنان میں رہنے والی فوزیہ کہتی ہیں کہ ویگن بننے کے ابتدائی برسوں میں وہ مشکل محسوس کرتی تھیں، کیونکہ انھیں ’وہ لڑکی جو عید الاضحیٰ پر جانور قربان نہیں کرتی‘ کہا جاتا تھا اور اسی وجہ سے انھوں نے رشتہ داروں سے میل جول بھی بند کر دیا تھا۔
فوزیہ کہتی ہیں کہ ’لیکن اب ایک کارکن کے طور پر، ایک انسان کے طور پر اور ایک ویگن کے طور پر میں زیادہ پختہ ہو گئی ہوں۔۔۔ مجھے خود پر اعتماد ہے ۔۔۔ میں زیادہ باخبر ہو گئی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ مضبوط دلائل اور بحث کیسے پیش کرنی ہے۔‘
وہ ویگن مسلمان جنھوں نے بی بی سی سے بات کی، کہتے ہیں کہ ان کا انتخاب ایک ایسے عمل کا حصہ ہے جو ان کے اردگرد کے ماحول کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوتا ہے۔
عائشہ کہتی ہیں کہ اگرچہ ویگن بننے کی طرف آنے کی ان کی سب سے بڑی وجہ جانوروں کی فلاح ہے لیکن ماحولیاتی بحران دوسری اہم وجہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب ماحولیاتی مسائل کی بات ہوتی ہے تو میں سمجھ نہیں پاتی کہ کچھ لوگ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کیسے کہتے ہیں کہ نہیں، لیکن یہ بہت مزیدار ہے۔۔۔ آپ اس وقت اسی دنیا میں رہ رہے ہیں اور یہ صورتحال ابھی آپ پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اگر آپ کے بچے ہوں تو آپ کے جانے کے بعد بھی ان پر اس کے اثرات پڑیں گے۔‘
فوزیہ کہتی ہیں کہ ماحولیاتی بحران، جانوروں کے حقوق اور صارفین کے رویوں کے بارے میں بڑھتی بحث نے ان کے اردگرد کے لوگوں پر بھی اثر ڈالا۔
وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کے بعض رشتہ داروں کی کھانے کی عادات بدل گئی ہیں اور کچھ معاملات میں وہ پودوں پر مبنی غذاؤں کے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔
اسی وجہ سے عید الاضحیٰ ان کے لیے ایک نیا مفہوم بھی اختیار کر لیتی ہے؛ یہ شرکت، ایثار اور اجتماعی غور و فکر کے تصور کو نئے سرے سے سمجھنے کا وقت بن جاتا ہے۔
عائشہ کہتی ہیں کہ ’میں بطور ایک ویگن مسلمان یہ نہیں کہتی کہ ہمیں کبھی گوشت نہیں کھانا چاہیے لیکن میں صرف یہ سوال اٹھاتی ہوں کہ کیا واقعی جس دور میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں اب بھی اس کی ضرورت ہے یا نہیں؟‘