خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری سیکس کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں شامل بعض تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔ کیس عدالت میں ہونے اور اس کی حساس نوعیت کی وجہ سے مقتولہ اور ملزم کے نام بھی نہیں لیے جا رہے۔

پنجاب پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر فطری طریقے سے سیکس کر کے اپنی اہلیہ کی جان لی ہے۔

یہ واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر خانیوال کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ ملزم کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو سنیچر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار عمثان خان نے بی بی سی کوبتایا کہ چونکہ قتل کے مقدمے میں کسی بھی ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ لینا ضروری ہوتا ہے اس لیے انھیں مقامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق خانیوال کے ایک گاؤں کی 18 سالہ لڑکی کی شادی تین ماہ قبل ملزم سے ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اپنی بیوی کے ساتھ اُس وقت دو مرتبہ غیر فطری طریقے سے سیکس کیا، جب ان کے مخصوص ایام چل رہے تھے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ نے اس کی شکایت اپنی قریبی خواتین رشتہ داروں سے بھی کی تھی۔

مقتولہ کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کی بہن والدین کے گھر آئیں تو وہ بہت کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے مطابق والد نے بیٹی کی حالت دیکھ کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ ان سے اس قدر کمزور ہونے کی وجہ دریافت کریں اور یہ بھی پوچھیں کہ یہ حالت کس نے کی۔

مقتولہ کے بھائی کا دعوی ہے کہ ان کی بہن نے اپنی والدہ کو بتایا کہ ان کے شوہر حیض کے دوران غیر فطری طریقے سے سیکس کرتے رہے، ’جس کے باعث ان کی پاخانے والی جگہ سے نہ صرف خون نکلا بلکہ انفیکشن بھی ہو گیا اور انھیں قضائے حاجت میں بھی دشواری ہے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ مقتولہ نے اپنی والدہ کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے شوہر نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر اس واقعے کا ذکر اپنے والدین سے کیا تو وہ ان کے اکلوتے بھائی کو قتل کروا دیں گے۔

بھائی نے بتایا کہ مقتولہ جب اپنی والدہ کو یہ تمام باتیں بتا رہی تھیں تو اسی دوران ان کی حالت غیر ہو گئی، جس پر انھیں نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد دے کر انھیں داخل کر لیا۔

مقامی پولیس کے مطابق دو دن بعد ان کا آپریشن کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ تفتیشی ٹیم کے رکن عثمان خان کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت مبینہ طور پر ملزم کی جانب سے غیر فطری سیکس کرنے کے باعث ہوئی۔

مقتولہ کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس واقعے کی شکایت ملزم کے والدین سے بھی کی تاہم انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا ایسا کام نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مقامی پولیس اس معاملے میں مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی تاہم وزیر اعلیٰ کے شکایات سیل میں شکایت درج ہونے کے بعد متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے وقت تک مقتولہ زندہ تھیں اور کیس ان ہی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟

ایف آئی آر کے مطابق چھ مئی کی رات ملزم گھر میں داخل ہوا اور نشہ آور ادویات استعمال کر کے متاثرہ لڑکی کے ساتھ بد فعلی کی تاہم شور مچانے پر فرار ہو گئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر خانیوال محمد عابد کے مطابق واقعہ چھ مئی کو پیش آیا، جس کے بعد متاثرہ لڑکی کو علاج کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ 16 مئی کو اسی واقعے سے متعلق درخواست تھانے کو موصول ہوئی جبکہ 19 مئی کو قائم مقام ایس ایچ او نے کارروائی کے لیے درخواست سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھجوا دی۔

ان کے مطابق درخواست پر مقتولہ کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات بھی موجود تھے۔ مقدمہ 23 مئی کو درج کیا گیا جبکہ 24 مئی کو مدعی مقدمہ فوت ہو گئیں۔

ڈی پی او کے مطابق ابتدائی طور پر مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت درج کیا گیا، جو عصمت دری اور زنا بالجبر سے متعلق ہے۔ بعد ازاں مقتولہ کی وفات کے بعد دفعہ 302 (قتل) بھی شامل کر دی گئی۔

بی بی سی کو اپنے پیغام میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر خانیوال محمد عابد نے کہا کہ ’اس معاملے میں جنسی عمل کے نتیجے میں ریکٹل پرولیپس (Rectal Prolapse) رپورٹ کیا گیا، طبی و قانونی اصطلاح میں اس کا تعلق مقعد کے ذریعے جنسی عمل سے ہو سکتا ہے۔ میڈیکو لیگل کیس رپورٹ کے مطابق شوہر کے ریپ کرنے کی وجہ سے خاتون کو ٹراما ہوا۔‘

ریکٹل پرولیپس کیا ہوتا ہے؟

ریکٹل پرولیپس وہ حالت ہے جس میں آنت کا آخری حصہ نیچے کی طرف کھسک کر مقعد کے اندر یا باہر آ جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈی پی او محمد عابد نے بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق مقتولہ پہلے سے ایک مرض میں مبتلا تھیں، جس کا انھیں علم نہیں تھا تاہم ملزم کی جانب سے غیر فطری طریقے سے سیکس کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

انھوں نے کہا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد نمونے فارنزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

ڈی پی او کے مطابق چونکہ ملزم مقتولہ کے شوہر تھے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو اس کیس میں ضروری نہیں سمجھا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں حوالات میں بند کیا گیا جبکہ سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھی معطل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ملزم کے قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔