آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران، امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان، مگر ’حتمی فیصلہ‘ اب بھی باقی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئی جہاز اور ان کا عملہ ’گھر واپسی‘ کی تیاری کریں۔ جمعے کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ایران سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘
  • ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ کسی ’معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں‘ پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
  • مذکرات میں ’رعایتیں‘ بات چیت نہیں بلکہ میزائلوں کے ذریعے حاصل کیں: محمد باقر قالیباف
  • امن اور استحکام کے لیے کوششوں پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • رومانیہ میں روسی ڈرون کے عمارت سے ٹکرانے اور دو افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادی رومانیہ کے ساتھ کھڑا ہے اور 'اس کے علاقے میں دراندازی' کی مذمت کرتا ہے۔
  • رومانیہ کا روسی قونصل جنرل کو ملک بدر کرنے اور قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی دفاعی افواج کو غزہ کا 70 فیصد علاقہ قبضے میں لینے کی ہدایت کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا پاکستان کی پالیسی میں کوئی ’لچک نہیں‘ آئے گی: اسحاق ڈار کا معاہدہ ابراہیمی سے متعلق بیان

    واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدہ ابراہیمی اور اسلام آباد کی پالیسی پر بھی تبصرہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کو کہا گیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے۔ پاکستان کی اس حوالے سے ہمیشہ بہت واضح پالیسی رہی ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ سنہ 1967 سے پہلے والے ماڈل پر واپس نہیں جاتا اور قدس الشریف (یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بن جاتا، تب تک اس معاملے پر کوئی لچک نہیں آ سکتی۔‘

    خیال رہے چند دن قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت متعدد ممالک سے معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔

  2. امن اور استحکام کے لیے کوششوں پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: سیکریٹری روبیو

    پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ’امن کو آگے بڑھانے‘ پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں مارکو روبیو کا کہنا ہے تھا کہ اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے ’مشرقِ وسطیٰ میں امن کو آ گے بڑھانے کے لیے پاکستان کے کردار پر‘ شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے دونوں قوموں کی سکیورٹی بہتر کرنے اور خوشحالی کے لیے ’معنی خیز پارٹنرشپ کو مزید مضبوط‘ بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دوسرہ جانب پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ’خطے کی اور بین الاقوامی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔‘

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سیکریٹری روبیو کی جانب سے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کو تسلیم کیا۔‘

  3. مذکرات میں ’رعایتیں‘ بات چیت نہیں بلکہ میزائلوں کے ذریعے حاصل کیں: قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران نے مذاکرات کے دوران ’رعایتیں میزائلوں کے ذریعے حاصل کی ہیں، بات چیت کے ذریعے نہیں۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ضمانتوں اور لفظوں پر اعتماد نہیں بلکہ اعمال پر ہے۔ دوسرے فریق کی کسی کارروائی سے قبل ہماری طرف سے بھی کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔‘

    ’اس معاہدے میں فاتح وہی ہوگا جو اس کے اگلے ہی روز سے جنگ کے لیے تیار ہوگا۔‘

  4. آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم، ایران کے ساتھ دیگر ’کم اہمیت کے حامل نکات پر بھی اتفاق‘ ہوگیا: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئی جہاز اور ان کا عملہ ’گھر واپسی‘ کی تیاری کریں۔

    جمعے کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ایران سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘

    ’اب میں ایک اجلاس کے لیے سچوئیشن روم میں جا رہا ہوں اور حتمی فیصلہ کروں گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کیا کہا؟

    • ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کرنا ہوگا۔
    • آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلنی چاہیے، بحری ٹریفک کی بلاتعطل روانی جاری رہنی چاہیے اور کسی بھی قسم کے ٹول کی وصولی نہیں ہونی چاہیے۔
    • آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی زیادہ تر سرنگیں امریکہ مائن سوئپرز پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں اور جو اب بھی باقی ہیں وہ ایران فوری طور پر ہٹائے گا۔
    • امریکہ، بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور ایران کے’قریبی تعاون‘ سے منہدم پہاڑوں کے نیچے زیرِ زمین دفن افزودہ یورینیم نکالے گا اور ’تباہ‘ کر دے گا۔
  5. امن کی پاکستانی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے: چین

    چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متحرک انداز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے اور وہ ایک ’قابلِ اعتماد اور اہل‘ ثالث ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان کا یہ بیان نیو یارک میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین پاکستان کی امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، تمام فریقوں کے درمیان مکالمے اور مذاکرات کو مشترکہ طور پر فروغ دے گا اور جامع جنگ بندی کے لیے کوشش کرے گا تاکہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جلد از جلد امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔‘

  6. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں میں 22، 22 روپے کی کمی کا اعلان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں میں 22، 22 روپے کی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہو گی، عوام کو ریلیف دیا جائے گا، اس وعدے پر ہو بہو عمل کیا گیا ہے۔‘

  7. ایمرجنسی الرٹس ’مذاق نہیں‘ ہیں: رومانیہ میں حکام کا شہریوں کو پیغام

    رومانیہ میں حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اداروں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایمرجنسی الرٹس کو سنجیدہ سمجھیں۔

    محکمہ برائے ایمرجنسی کے ترجمان بوگڈن ٹوما کا کہنا تھا کہ ’یہ پیغامات مذاق نہیں ہیں۔ اگر کچھ نہیں ہوگا تو ہمیں بھی خوشی ہوگی کہ کچھ نہیں ہوا۔‘

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایسی اطلاعات موجود تھیں کہ گالاتسی میں ایک عمارت سے ڈرون ٹکرانے سے قبل کچھ شہریوں نے حکومت کی جانب سے آنے والے ایمرجنسی الرٹس کو نظرانداز کیا ہے۔

    بوگڈن ٹوما نے اپنی پریس کانفرنس میں شہریوں سے گزارش کی کہ جن افراد نے یہ الرٹس بند کر دیے ہیں وہ انھیں دوبار ایکٹو کر لیں۔

    گالاتسی کی ایک رہائشی نے فیس بک پر لکھا کہ وہ اکثر ایسے پیغامات کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ کارمن نیگریلا نے مجھے لکھا کہ ’لیکن اس بار دھماکوں کی آواز سے میں اور میرا بچہ دونوں نیند جاگ گئے تھے۔‘

    عمارت سے روسی ڈرون ٹکرانے کا واقعہ جمعے کے روز رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں پیش آیا، جو یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی جانب سے ’سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

    رومانیہ کے ریسکیو حکام کے مطابق دو افراد کو معمولی زخم آنے کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً 70 افراد کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب روس کی وزارتِ خارجہ کی ایک ترجمان نے روس کے ڈرون سے متعلق واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

  8. یورپی یونین کے ممالک میں ڈرون سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں: روس

    روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے روس کے سرکاری میڈیا سے رومانیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ’ہم جو الزامات سنتے ہیں، خاص طور پر یورپی یونین کے ممالک میں ڈرون سے متعلق، وہ سب بے بنیاد ہیں، اس میں کوئی حقیقت نہیں، کوئی مواد یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔‘

  9. الزامات بے بنیاد ہیں: رومانیہ میں عمارت سے ڈرون ٹکرانے کے بعد روس کا جواب

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے طاس کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا کہنا ہے کہ ’رومانیہ میں ڈرون پر ہنگامہ آرائی‘ کو ’مغربی ممالک‘ یوکرین کی جنگ سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    وزارت نے یہ بھی کہا کہ رومانیہ کے جنوب مشرقی شہر کونستانتسا سے روسی قونصل جنرل کو نکالے جانے کے جواب میں روس کے ردِ عمل میں ’زیادہ تاخیر نہیں ہو گی۔‘

  10. رومانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، نیٹو کی سرزمین کا دفاع کریں گے: امریکی سفیر

    رومانیہ میں روسی ڈرون کے عمارت سے ٹکرانے اور دو افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادی رومانیہ کے ساتھ کھڑا ہے اور ’اس کے علاقے میں دراندازی‘ کی مذمت کرتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری دعائیں گالاتسی میں زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہیں۔ ہم نیٹو کی سرزمین کے ایک، ایک انچ کا دفاع کریں گے۔‘

  11. رومانیہ کا روسی قونصل جنرل کو ملک بدر کرنے اور قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے ملک کے مشرقی شہر گالاتسی میں رہائشی عمارت سے روسی ڈرون ٹکرانے اور دو افراد کے زخمی ہونے کے ردِ عمل میں کونستانتسا شہر میں تعینات روسی قونصل جنرل کو ملک بدر کرنے اور قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی قونصل جنرل کو ’پرسونا نان گراٹا‘ (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر رومانیہ میں پیش آنے والے ڈرون حادثے سے ’آگاہ‘ ہیں۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ جلد ہی روسی قونصل جنرل کو ’پرسونا نان گراٹا‘ قرار دیے جانے پر اپنا ردِعمل دے گی۔

    عمارت سے روسی ڈرون ٹکرانے کا واقعہ جمعے کے روز رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں پیش آیا، جو یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی جانب سے ’سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

    رومانیہ کے ریسکیو حکام کے مطابق دو افراد کو معمولی زخم آنے کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً 70 افراد کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا۔

    یوکرین کے ساتھ چار سال سے جاری جنگ کے دوران یہ پہلا موقع نہیں کہ جب روسی ڈرون نیٹو رکن ملک رومانیہ کی حدود میں داخل ہوئے ہوں، تاہم یہ پہلا واقعہ ہے جس میں رومانیہ کے شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    رومانیہ کی فضائی حدود میں ڈرونز کی موجودگی کا پتا چلنے کے بعد دو ایف-16 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تھے۔ رومانیہ صدر کے مطابق حالات ایسے نہیں تھے کہ شہریوں کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالے بغیر ہدف کو تباہ کیا جا سکے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے اتحادی ممالک سے اضافی اینٹی ڈرون دفاعی صلاحیتوں کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔

  12. معاہدے کے لیے ’مؤثر کوششوں‘ پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ کسی ’معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں‘ پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ایرانی صدر نے لکھا کہ انھوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو ٹیلی فون پر عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی ہے اور سفارتکاری سے متعلق امور پر بھی بات کی ہے۔

    صدر پزیشکیان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’انسانی ہمدردی‘ پر مبنی مؤقف اختیار کرنے پر ملائیشیا اور امریکہ کے ساتھ کسی ’معاہدے تک پہنچنے کے لیے مؤثر کوششیں‘ کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    ’ایران کی پالیسی یہ ہے کہ وہ مسلم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دے۔‘

  13. وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز بڑی سرجری کے بعد گھر منتقل: مریم اورنگزیب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی لاہور کے شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں ایک بڑی سرجری ہوئی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ایکس پر اپنے بیان میں صوبہ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں بڑی سرجری کی گئی جس کے بعد خدا کا شکر ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور انھیں گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عید کے روز بھی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتال سے ہی صوبے بھر کے معاملات کی براہِ راست نگرانی جاری رکھی، جن میں سکیورٹی، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامی امور شامل تھے۔‘

    دوسری جانب شریف میڈیکل سٹی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عدنان خان نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’آپریشن منصوبہ بندی اور توقعات کے عین مطابق کامیاب رہا ہے۔ آپریشن کے بعد وزیراعلیٰ کو احتیاطاً ایک رات انتہائی نگہداشت کے وارڈ یعنی آئی سی یو‘ میں رکھا گیا، تاہم اب انھیں ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    ڈاکٹر عدنان کا ایکس پر مزید کہنا تھا کہ ’طبی ماہرین نے آپریشن کی پیچیدگی کے باعث مریم نواز کو بیرونِ ملک کسی جدید طبی مرکز میں علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انھوں نے بیرونِ ملک جانے کے بجائے لاہور میں ہی علاج کروانے کو ترجیح دی۔‘

    تاہم دونوں کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کس نوعیت کی عارضے میں مبتلا ہیں۔

  14. امریکہ کے دھمکی آمیز بیانات اور اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کو ’بلیک میل‘ کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عمان کے خلاف امریکی حکام کے ’دھمکی آمیز بیانات‘ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کو ’بلیک میل‘ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جمعے کے روز جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے عمان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کی مذمت کی۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عمان کو ’تباہ کر دینے‘ سے متعلق بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق بقائی نے کہا کہ ’اس قسم کا رویہ امریکی نظامِ حکمرانی اور پالیسی سازی کے ’اخلاقی زوال‘ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

    ایرانی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ’بے بنیاد الزامات کے تحت عمان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

    انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ’وہ ایسے اقدامات کے خلاف ذمہ دارانہ ردِعمل ظاہر کرے تاکہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کو معمول بننے سے روکا جا سکے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ اگر عمان، ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹولنگ سسٹم قائم کرنے میں مدد دیتا ہے تو امریکہ اس پر ’سخت‘ پابندیاں عائد کرے گا۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق کسی معاہدے کی صورت میں ’تباہ کر دینے‘ کی دھمکی کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت بعد سامنے آیا۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی اور آبنائے ہرمز میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے پاس ہوگا۔

  15. بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اسرائیل کو مزید جارح بنا رہی ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف علاقوں، بشمول دارالحکومت بیروت، پر اسرائیلی حملوں میں شدت کی مذمت کی ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اور بے حسی‘ اسرائیل کو ’مزید جارح‘ بنا رہی ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو بھی لبنان، فلسطینی علاقوں اور پورے خطے میں اسرائیل کے ’تمام جرائم میں شریک اور معاون‘ قرار دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں شدت آنے کے بعد لبنان میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ ہے۔

    اسرائیلی فوج نے لبنان کے ایک بڑے حصے میں رہنے والے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر شمالی علاقوں کی جانب منتقل ہو جائیں۔

  16. روسی ڈرون رومانیہ کی رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، دو افراد زخمی

    رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایک روسی ڈرون مشرقی شہر گالاتسی میں ایک رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ جمعے کے روز رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں پیش آیا، جو یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی جانب سے ’سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

    رومانیہ کے ریسکیو حکام کے مطابق دو افراد کو معمولی زخم آنے کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً 70 افراد کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا۔

    یوکرین کے ساتھ چار سال سے جاری جنگ کے دوران یہ پہلا موقع نہیں کہ جب روسی ڈرون نیٹو رکن ملک رومانیہ کی حدود میں داخل ہوئے ہوں، تاہم یہ پہلا واقعہ ہے جس میں رومانیہ کے شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    روس کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد رومانیہ کی سرزمین کو متاثر کرنے والے ’اب تک کے انتہائی سنگین اور خطرناک‘ واقعے کے بعد ملک کی سپریم کونسل برائے قومی دفاع کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    صدر نیکوشور دان کے مطابق یہ اجلاس جمعے کے روز یعنی آج منعقد ہوگا، جس میں روسی فیڈریشن سے متعلق ’متناسب اقدامات‘ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’میں نہایت سخت الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس واقعے کی مکمل ذمہ داری روسی فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔‘

    رومانیہ کی فضائی حدود میں ڈرونز کی موجودگی کا پتا چلنے کے بعد دو ایف-16 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تھے۔ صدر کے مطابق حالات ایسے نہیں تھے کہ شہریوں کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالے بغیر ہدف کو تباہ کیا جا سکے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے اتحادی ممالک سے اضافی اینٹی ڈرون دفاعی صلاحیتوں کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔

    دوسری جانب یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ روس کی ’جارحیت پر مبنی جنگ نے ایک اور خطرناک حد عبور کر لی ہے‘ اور یورپی یونین رومانیہ اور اس کے عوام کے ساتھ ’مکمل یکجہتی‘ کا اظہار کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ رومانیہ کے گنجان آباد علاقے میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے۔‘

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا کہ ’ہم اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ، خاص طور پر اپنی مشرقی سرحد پر، روس پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے رہیں گے۔‘

    انہوں نے مزید بتایا کہ یورپی یونین روس کے خلاف پابندیوں کے 21ویں پیکج کی تیاری کر رہی ہے۔

  17. نیتن یاہو کی اسرائیلی فوج کو غزہ کا 70 فیصد علاقہ قبضے میں لینے کی ہدایت

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی دفاعی افواج کو غزہ کا 70 فیصد علاقہ قبضے میں لینے کی ہدایت کر دی ہے۔

    جمعرات کو اپنے ایک خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم اس وقت حماس پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد علاقے پر ہمارا کنٹرول ہے۔ ہم 50 فیصد پر تھے، پھر 60 فیصد تک پہنچے۔ اب میں نے آئی ڈی ایف کو ہدایت کی ہے کہ۔۔۔‘ نیتین یاہو کی بات کو اس لمحے پر تقریب میں شامل افراد میں سے کسی نے کاٹتے ہوئے کہا کہ ’100‘ پر کنٹرول چاہتے ہیں۔

    نیتن یاہو نے جواب دیا کہ ’آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں۔ پہلے 70 فیصد تک پہنچتے ہیں، پھر باقی معاملات دیکھیں گے۔ ہم ہر طرف سے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور باقی عناصر سے بھی نمٹیں گے۔‘

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کنٹرول میں یہ توسیع اُس جنگ بندی معاہدے کے منافی ہوگی جس پر اسرائیل اور حماس نے اکتوبر 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اتفاق کیا تھا۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ یہ مذاکرات ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 738 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔

    نیتن یاہو متعدد بار عوامی سطح پر یہ کہہ چکے ہیں کہ آئی ڈی ایف غزہ کی پٹی کے 60 فیصد سے زائد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے، جبکہ اکتوبر کے معاہدے میں یہ تناسب 53 فیصد طے پایا تھا۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت آئی ڈی ایف ایک مخصوص حد بندی لائن، جسے ’ییلو لائن‘ کہا جاتا ہے، تک واپس چلی گئی تھی۔

    20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مراحل میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کی شقیں شامل ہیں، تاہم اسرائیل اور فلسطینی مسلح گروپ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  18. شہباز شریف سے گفتگو میں معاہدے تک پہنچنے کے لیے موثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی ’موثر کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا: ’ملیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے عید الاضحیٰ کی مبارک باد کے لیے گفتگو کی۔‘

    مسعود پزشکیان کے مطابق گفتگو کے دوران انھوں نے ایران کی سفارت کاری سے وابستگی پر زور دیا۔

    انھوں نے لکھا: ’انسانی ہمدردی پر مبنی موقف پر ملائیشیا کا اور معاہدے کے لیے قدم بڑھانے اور اس تک پہنچنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔‘

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

  19. امریکہ اور ایران معاہدے کے ’بہت قریب‘ تو ہیں مگر ابھی معاہدے تک ’پہنچے نہیں ہیں‘: جے ڈی وینس

    نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے امریکہ اور ایران کو اب بھی کئی اہم نکات طے کرنا ہوں گے۔

    بی بی سی کے اس سوال پر، کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں، وینس نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ دونوں فریق ’کب اور کیا‘ کسی معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت کا آغاز کرے گا۔

    اس سے پہلے جمعرات کو امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں، بس ٹرمپ اور ایران کی قیادت کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    جمعرات کی شام نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے صحافیوں سے کہا: ’ہم ابھی معاہدے تک نہیں پہنچے لیکن اس کے بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے۔‘

    امریکہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے اور اپنے پاس پہلے سے موجود ذخیرے کو ختم کرے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وینس کا لہجہ پرامید تھا، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے ایرانی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

  20. امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا: امریکی حکام, میکس ماٹزا اور برنڈ ڈیبُسمن جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق اسے ابھی حتمی منظوری درکار ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھایا جائے گا اور اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

    حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے جنگ بندی معاہدے کی ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ایرانی قیادت نے منظوری نہیں دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    ایران نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تصدیق نہیں کی۔

    بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی، جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے پاس ہوگا۔

    دنیا کی تقریباً ایک تہائی مائع قدرتی گیس اور تیل اس اہم بحری راستے سے گزرتے ہیں، اور اس کی بندش نے عالمی توانائی تجارت کو متاثر کیا ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔

    گذشتہ ہفتے دونوں فریقوں نے معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ جلد کوئی اعلان متوقع ہے۔

    8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صدر ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

    مثال کے طور پر، چند روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی ٹھوس نتیجے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔

    تقریباً ہر موقع پر، اور حالیہ دنوں میں بھی، ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ’دوسرا راستہ‘ یعنی فوجی کارروائی اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

    گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، لیکن اتحادی ممالک کی درخواست پر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    بدھ کو کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران کی پیشکش ابھی قابلِ قبول سطح تک نہیں پہنچی اور مزید کام باقی ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ اگلے 24 گھنٹوں میں کیا پیش رفت ہوئی یا صدر ٹرمپ اس مجوزہ معاہدے کی منظوری کب، یا آیا دیں گے بھی یا نہیں۔

    تاہم اگر جنگ بندی میں توسیع ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک کو پیچیدہ معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملے گا۔

    ٹرمپ نے پہلے یہ تجویز دی تھی کہ امریکہ اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یا ایران کے ساتھ مل کر اسے کسی تیسرے مقام پر کم درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق، ٹرمپ کو اس مجوزہ معاہدے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، مگر انھوں نے فوری منظوری نہیں دی اور مزید چند دن غور کرنے کا کہا ہے۔

    امریکی ذرائع کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے پہلے سے زیادہ قریب آ چکے ہیں، اگرچہ حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی، جبکہ ایران کو 30 دن کے اندر اس راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔

    اس کے بدلے میں امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے اور ایران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی دے سکتا ہے۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں اس معاہدے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ’صدر سے پہلے کوئی حتمی بات کہنا درست نہیں، یہ فیصلہ انہی نے کرنا ہے۔‘