یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ثالثی سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک یہ اقدامات کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غیر متعلق ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے اور جب تک کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ثالثی سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک یہ اقدامات کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غیر متعلق ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکرات کے بارے میں اس وقت میڈیا میں جو کچھ بھی زیر بحث ہے، وہ قیاس آرائیاں ہیں، اور میری رائے میں ان قیاس آرائیوں کو اس وقت تک اہمیت نہیں دی جانی چاہیے جب تک کہ معاملات یقینی کے مرحلے تک نہ پہنچ جائیں۔‘
پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں بھی ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن سبسڈی یا رعایت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایسے صارفین کے میٹرز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے سبسڈی جاری رکھے گی لیکن اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران بجلی کی سبسڈی لینے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ 15 لاکھ ہو گئی ہے اور ملک میں بجلی استعمال کرنے والے مجموعی گھریلو صارفین کی تعداد دو کروڑ 95 لاکھ ہے جن میں سے 86 فیصد ایسے صارفین ہیں جو پروٹیکیڈ صارفین کی کیٹگری میں آتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور زرعی شعبے اور گھریلو صارفین کو ملنے والی سبسڈی 527 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی لینے والوں سے کیو آرکوڈ کے ذریعے تفصیل مانگی جارہی ہیں جس کے ذریعے سبسڈی لینے والے تمام صارفین کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور صرف مستحق صارفین کے لیے ہی بجلی کی سبسڈی کا سلسلے جاری رہے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ کئی افراد اس رعایت کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور انھوں نے بڑے بڑے سولر سسٹم لگا لیے اور گرڈ سے آنے والی بجلی کو 200 یونٹ سے نیچے رکھا ہوا ہے تاکہ وہ فی یونٹ سبسڈی لے سکیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے صارفین حکومتی خزانہ پر بوجھ ہیں۔
کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے ملے گی؟
حکومت کی جانب ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بلوں میں ملنے والی ماہانہ سبسڈی کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔
رواں ماہ صارفین کے بجلی کے بلوں میں کیو آر کوڈ موجود ہے اور صارفین سے کہا گیا ہے کہ اس کوڈ کو سکین کرنے کے بعد دیا گیا فارم میں اپنی تفصیلات درج کریں۔
اس فارم میں صارف سے آمدن سمیت دیگر معلومات لی جا رہی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی لینے والی صارفین کی رجسٹریشن مکمل کی جائے اور اس کے بعد ہی سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا کہ کیو آر کوڈ کی ذریعے اب تک 20 لاکھ صارفین کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر طائر میں ایک ہسپتال کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں طبی عملے کے 13 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی لبنانی سرزمین میں پیش قدمی جاری ہے۔
لبنانی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا: ’اسرائیل نے طائر میں ہیرام ہسپتال کے گرد ایک فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ہسپتال کے عملے کے 13 افراد زخمی ہوئے اور اس سہولت کو کافی نقصان پہنچا۔‘
بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’اسرائیلی حملوں میں توسیع اور اضافے‘ کو روکنے کے لیے کارروائی کرے۔
پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر حسین علائی کا کہنا ہے کہ 29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے تین دن پہلے انھوں نے علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی سے کہا تھا کہ ایران پر نیا حملہ رہبر اعلیٰ کے قتل سے شروع ہو گا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ رہبر انقلاب کو نہیں ڈھونڈ سکتے۔
علائی نے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا: ’میں اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اور میں نے کئی بار اور کئی ملاقاتوں میں اپنے دوستوں کو بتایا کہ امریکہ کا پلان اے 12 روزہ جنگ ہے۔ پلان بی جنوری کا احتجاج تھا، اور اب وہ پلان سی پر کام کر رہے ہیں۔‘
حسین علائی پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل ہیں اور 1985 سے پانچ سال تک آئی آر جی سی بحریہ کے کمانڈر تھے۔ پھر انھوں نے چھ سال تک نائب وزیر دفاع اور پھر تین سال تک آئی آر جی سی کے چیف آف جوائنٹ سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔
علائی نے کہا کہ شمخانی سے اپنی ملاقات میں، ’نئی جنگ سے تین دن پہلے، میں نے کہا تھا کہ ان کا (امریکہ اور اسرائیل) کا منصوبہ یہ ہے، اور تیسری جنگ لیڈر کو مارنے سے شروع ہو گی۔۔۔ ان کا نظام مکمل ہے اور وہ غالب ہیں، وہ یہ جنگ اس وقت شروع کریں گے جب وہ لیڈر کو پہلے مار سکیں گے۔ میں نے اس مسئلے پر شمخانی سے بہت اصرار کیا۔‘
وزارت دفاع کے قیام سے برسوں پہلے، علی شمخانی پاسداران انقلاب کے وزیر، فوج کی بحریہ کے کمانڈر، آئی آر جی سی کی بحریہ کے کمانڈر، آٹھ سال تک وزیر دفاع، اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل میں علی خامنہ ای کے نمائندے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اس کونسل کے سیکرٹری رہے۔
وہ 12 روزہ جنگ کے بعد قائم ہونے والی دفاعی کونسل میں خامنہ ای کے نمائندے بن گئے۔ اس جنگ کے دوران، یہ اعلان کیا گیا کہ شمخانی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن وہ بچ گئے تھے۔
علی خامنہ ای، علی شمخانی اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز، جن میں مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی اور وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ شامل تھے، قیادت کے دفتر پر ایک فوجی حملے کے دوران جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہلاک ہو گئے۔
اس حملے کے دوران خامنہ ای کے خاندان کے کچھ افراد مارے گئے، جن میں ان کی بڑی بیٹی بشری، اور ان کی سب سے چھوٹی پوتی، ان کے داماد، مصباح الہدا باقری کنی، اور ان کی بہو زہرہ حداد عادل (مجتبی خامنہ ای کی اہلیہ) شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی اہلیہ منصورح خواستہ باقرزادہ کو بھی قتل کر دیا گیا ہے لیکن تقریباً دو ہفتوں کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ منصورح خواستہ باقرزادہ زندہ ہیں۔
علی شمخانی کی تدفین جنگ کے دوران ہوئی تھی لیکن اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے جانے کے تین ماہ بعد ابھی تک خامنہ ای کے لیے کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔
ایران اور امریکہ اس وقت جنگ بندی کی حالت میں ہیں اور امن منصوبے کی شرائط پر ایک دوسرے کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول کر اپنی افزودہ یورینیم حوالے کرے۔
لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس کی سابقہ حیثیت پر واپس نہیں لائے گا اور اس نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے تک اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت ملتوی کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف مہم میں ایک ’اہم موڑ‘ ہے۔
انھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’آج ہم ایک مختلف انداز میں بیفورٹ واپس آئے ہیں، ہم متحد، پرعزم اور پہلے سے زیادہ مضبوط واپس آئے ہیں۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا: ’فورٹ بیفورٹ پر قبضہ ایک قدم اور پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ ہم نے خوف کی رکاوٹ کو ہٹا دیا ہے۔ ہم نے پہل کی ہے اور شام، غزہ اور لبنان میں تمام محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔‘
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں لبنان کے تاریخی بیفورٹ قلعے پر قبضے کے بعد انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
ژاں نویل بارو نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا: ’ہم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی ہے۔ اگرچہ ہم دیگر ممالک کی طرح اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہیں لیکن کوئی بھی چیز اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔‘
انھوں نے لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی فوجی موجودگی میں توسیع پر تشویش کا اظہار کیا اور اس مسئلے کا سلامتی کونسل سے جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
یا رہے اسرائیلی وزیر دفاع نے آج اعلان کیا ہے کہ شقیف کے تاریخی اور تزویراتی قلعے (بیفورٹ) پر ان کی افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔
انھوں نے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا: ’بیفورٹ کی بہادرانہ جنگ کے 44 سال بعد اور اس دن جو پہلی لبنان جنگ (1982) میں مارے گئے فوجیوں کی یاد منایا جاتا ہے، ہماری افواج ایک بار پھر اس قلعے میں واپس آئیں اور اسرائیلی پرچم بلند کیا۔‘
یہ 900 سال پرانا قلعہ جنوبی لبنان کا وسیع منظر پیش کرتا ہے اور اسے عسکری لحاظ سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’سفارت کے میدان میں موجود سپاہیوں کو دشمن کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے‘ ان کے مطابق ایران صرف عملی اور ٹھوس نتائج کو اہمیت دیتا ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جب تک یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر حاصل ہو چکے ہیں۔
ایرانی نیوز یجنسی اسنا کے مطابق، آج اتوار کے ورچوئل سیشن میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنی تقریر میں کہا: ’ہم 12ویں پارلیمنٹ کے تیسرے سال کا آغاز کر رہے ہیں جب کہ قوم کے شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی یاد ہمارے ساتھ ہے، اور ہم ابھی تک اس عظیم قائد کے نقصان پر یقین نہیں کر پا رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے 37 سالہ قیادت کے دوران ایران کو مضبوط اور خودمختار بنایا اور قوم کو سکھایا کہ دھمکیوں کے آگے نہیں جھکنا بلکہ آخر تک دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
قالیباف نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے اور جنگ کے نئے مرحلے میں فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ اور میڈیا کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ ایرانی قوم اس نازک وقت کی اہمیت سمجھتی ہے۔
قالیباف نے کہا کہ اس جدوجہد میں فوجی، سفارتی، عوامی اور خدمت کے تمام میدان اہم ہیں۔ ان کے مطابق فوجی کامیابیاں عوام کی حمایت سے حاصل ہوتی ہیں، سفارت کاری کا مقصد انھیں سیاسی و قانونی کامیابیوں میں بدلنا ہے، جبکہ عوامی خدمت کا ہدف ان فتوحات کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے۔
قالیباف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’اس راستے پر میدان جنگ کے سپاہیوں کو دشمن کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے لیے وہ ٹھوس کامیابیاں اہم ہیں جو ہمیں بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے حاصل کرنا ہوں گی، اور ہم کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک منظور نہیں کریں گے جب تک کہ ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے ایرانی عوام کے حقوق محفوظ کر لیے ہیں۔‘
فرانس بھر میں فٹبال کے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ صورتِ حال پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی جانب سے چیمپیئنز لیگ فائنل میں آرسنل کے خلاف فتح کے بعد پیدا ہوئی۔
دارالحکومت پیرس میں بدامنی کو قابو میں رکھنے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے، جس کے باعث بس، ٹرین اور ریل سروسز میں خلل پڑا۔
کئی مقامات پر آتش بازی کی گئی جبکہ جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ شہر کے مرکز میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
گذشتہ سال بھی جب پی ایس جی نے یہی ٹرافی جیتی تو اسی نوعیت کا تشدد دیکھنے میں آیا تھا۔ اس بار وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق حکام بہتر طور پر تیار تھے اور ان کے پاس بہت مضبوط، انتہائی مستحکم نظام موجود تھا۔
فرانس کی علامتی شانزے لیزے سڑک پر فرانسیسی ٹیم کی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں جیت کے فوراً بعد شائقین کا ہجوم امڈ آیا۔
شہر سے موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعلہ بردار روشنیاں جلائی جا رہی ہیں، سڑکوں پر برقی موٹر سائیکلیں جل رہی ہیں اور جشن منانے والے کم از کم ایک دکان کے شیشے توڑ رہے ہیں۔
اس سے پہلے دن کے وقت پی ایس جی کے پارک دی پرنس میں نصب بڑی سکرینوں پر فائنل دیکھنے آنے والے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے مطابق بدامنی کے دوران چھ گاڑیوں، دو کاروباری اداروں اور ایک بس سٹاپ کو نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق اتوار کی ابتدائی ساعتوں تک 416 افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا، جن میں سے 280 پیرس میں گرفتار کیے گئے۔
نونیز نے کہا کہ سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور اس بدامنی کو بالکل ناقابلِ قبول قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی اور جنگی اعتبار سے اہمیت کے حامل شقیف (بیوفورٹ) قلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے خلاف جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کاٹز نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں لکھا کہ ’بیوفورٹ کی تاریخی جنگ کے 44 سال بعد اور سنہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد کے دن، ہماری افواج ایک بار پھر اس قلعے میں داخل ہوئیں اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرایا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی ہدایات اور میرے احکامات کے تحت اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی، دریائے لیتانی عبور کیا اور بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا، جو الجلیل (گیلیل) کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم مقام ہے۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک تصویر میں اس کے فوجیوں کو اُس مقام کے قریب دکھایا گیا ہے جو بظاہر بیوفورٹ قلعہ معلوم ہوتا ہے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے اتوار کی صبح حاصل کی گئی تصاویر میں قلعے کے اوپر اسرائیلی فوج کا جھنڈا لہراتا ہوا دکھائی دیا، تاہم علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ اطراف میں دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے نظر آئے۔
یہ تاریخی قلعہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کے لحاظ سے خاصہ اہم ہے اور عسکری اعتبار سے اسے انتہائی معاون مقام سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی افواج ماضی میں بھی تقریباً دو دہائیوں تک جنوبی لبنان پر اپنے قبضے کے دوران اس قلعے کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی رہی تھیں۔ اسرائیل کا جنوبی لبنان پر قبضہ سنہ 2000 میں ختم ہوا تھا۔
تاہم سنیچر کے روز حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ وہ منگل سے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع تین قصبوں کی جانب اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجو منگل کی صبح سے مسلسل اسرائیلی فوج کی زوطر الشرقیہ کے مضافات اور یحمر الشقیف اور دبین نامی قصبوں کی جانب پیش قدمی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوج اب تک مذکورہ قصبوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اب بھی ان علاقوں کے نواح میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کرتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ حزب اللہ کے جنگجو اسرائیلی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔
جاپان نے ’نئی عسکریت پسندی‘ کے چینی الزامات مسترد کر دیے، چین کی فوجی توسیع پر تشویش کا اظہار
جاپان کے وزیر دفاع شن جیرو کوئزومی نے بیجنگ کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ جاپان ’نئی عسکریت پسندی‘ کی راہ پر گامزن ہے۔ انھوں نے اس کے برعکس یہ دعویٰ کیا کہ چین کی فوج میں توسیع اور شفافیت کے فقدان کو عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعثِ قرار دیا۔
سنگاپور میں منعقدہ دفاعی سربراہی اجلاس کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے کوئزومی نے کہا کہ درحقیقت چین اور اس کے ’وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے‘ نے بین الاقوامی برادری میں سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ان کا یہ بیان جاپان کی جانب سے چین کی مسلسل تنقید کا اب تک کا ایک سخت ترین جواب تصور کیا جا رہا ہے۔ چین، وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی قیادت میں جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں پر بارہا اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔
جاپان اور چین کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ دوسری عالمی جنگِ کے دوران جاپان کا چین پر حملہ ہے۔
سنگاپور سربراہی اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے خبردار کیا تھا کہ ’دوبارہ مسلح ہونے والے جاپان کا خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے‘ اور عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ ’جاپان کی نئی عسکریت پسندی کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات‘ کرے۔
دوسری جانب جاپان مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور گزشتہ 12 برسوں سے دفاعی اخراجات کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ دسمبر میں جاپانی کابینہ کی جانب سے منظور کردہ تازہ ترین دفاعی بجٹ نو کھرب ین یعنی 57 ارب ڈالر سے زائد ہے، جس کے ذریعے جاپان اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے ہدف کے قریب پہنچ رہا ہے۔
جاپانی حکومت اس سے قبل متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ وہ جنگ کی خواہاں نہیں بلکہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
اتوار کے روز شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کوئزومی نے کہا کہ بدلتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے جاپان سمیت ہر ملک کا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانا ’بالکل فطری‘ امر ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کی جانب ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’40 دن کی جنگ کے دوران دشمن نے ہماری طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی امور کے نگران یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ’ایران کے دشمنوں نے ملک کی صلاحیتوں اور عزم کا اندازہ لگانے میں سنگین غلطی کی، جس کے نتیجے میں ایران پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے جبکہ امریکہ کو ناکامی اور کمزوری کا سامنا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے سنیچر کی شب گفتگو کرتے ہوئے یداللہ جوانی نے کہا کہ ’دشمنوں کا خیال تھا کہ وہ ایران پر جنگ مسلط کر کے جلد کامیابی حاصل کر لیں گے، تاہم ان کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔‘
ارنا کے مطابق یداللہ جوانی نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز فضائی حملوں سے ہوا، جن میں اعلیٰ ایرانی حکام اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
جوانی کے مطابق اس کے ’جواب میں ایرانی مسلح افواج نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دشمنوں کے بنیادی مقاصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنا، اس کے میزائل دفاعی نظام کو ختم کرنا اور بالآخر اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا خاتمہ تھا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار نے کہا کہ ’یہ تمام اہداف ناکام ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔‘
علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایران اب آبنائے ہرمز پر مؤثر برتری رکھتا ہے اور اسے ایسا مقام حاصل ہو چکا ہے جو ان کے بقول ’ایرانی عوام کا جائز حق‘ ہے۔
اسرائیلی دفائی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور زمینی دستے دریائے لیتانی عبور کر کے نئے علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔
اس پیش قدمی سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے دریائے لیتانی کے شمال میں واقع حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ حزب اللہ کے ڈرون حملے میں اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔
دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیل پر ’جلاؤ گھیراؤ کی حکمتِ عملی‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے قصبوں اور دیہات کو منظم انداز میں تباہ کر رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافہ نہ تو خطے میں سلامتی لاسکتا ہے اور نہ ہی استحکام پیدا کرتا ہے۔
ادھر اسرائیل اور لبنان کے درمیان مزید مذاکرات آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی ثالثی کے تحت ہونے والے ہیں، جہاں دونوں فریق کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی امور پر بات چیت کریں گے۔
تاہم سنیچر کے روز حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ وہ منگل سے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع تین قصبوں کی جانب اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجو منگل کی صبح سے مسلسل اسرائیلی فوج کی زوطر الشرقیہ کے مضافات اور یحمر الشقیف اور دبین نامی قصبوں کی جانب پیش قدمی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوج اب تک مذکورہ قصبوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اب بھی ان علاقوں کے نواح میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کرتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حزب اللہ کے جنگجو اسرائیلی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس وصول کرنے کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیوں میں کمی آئی ہے اور رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ایف بی آر نے 11227 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا ہے جو اپنے مقرر کردہ ہدف سے کم ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 12095 ارب روپے تھا لیکن ایف بی آر نے اپنے ہدف سے 868 ارب روپے کم ٹیکس وصول کیا ہے۔
ایف بی آر کے جاری اعدادوشمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں ایف بی آر نے 966 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ماہانہ ہدف 1150 ارب روپے ہے۔
پاکستان اس وقت بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدہ کے تحت ٹیکس وصولیوں کے اہداف کو حاصل کرنا ضروری ہے۔
مالی سال 2026 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14307 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد اس ہدف کو کم کر کے 13979 ارب روپے کیا گیا لیکن رواں مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران 11227 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔
اب رواں مالی سال کے صرف ایک ماہ کے دوران ایف بی آر کے لیے اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے 2752 ارب روپے کا ٹیکس وصول کرنا بظاہر ناممکن ہے۔
آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15264 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور ہائی پاور کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات رات گئے تک جاری رہنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گے ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی کال برقرار رکھنے کا علان کر دیا ہے۔
ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے اختتام کے بعد ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نو جون کو ریاست بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
کور ممبر شوکت نواز میر نے مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مختصر اعلامیے میں کہا کہ ’ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام رہے ہیں، جس کے بعد نو جون کو لانگ مارچ کیا جائے گا۔‘
انھوں نے ریاست بھر کے عوام سے نو جون کے لانگ مارچ کی تیاری کرنے کی اپیل بھی کی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے تمام تر سنجیدہ کوششوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔‘
شوکت نواز میر کے مطابق مہاجرین نشستوں سمیت چار اکتوبر سنہ 2025 کے معاہدے پر دن بھر حکومتی سطح پر تاخیر اور رکاوٹوں کے باوجود مذاکرات جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوران مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کے نمائندوں نے نو جون کے احتجاج کو مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاجی کال برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام سے لانگ مارچ کی تیاریوں کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب مذاکرات میں وفاقی حکومت کی نمائندگی وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ آئندہ ہفتے دوبارہ ملاقات ہوگی۔
ان کے مطابق کچھ تجاویز عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئیں جبکہ بعض تجاویز حکومت کی طرف سے دی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر آزاد کشمیر حکومت آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق اس کے بعد چھ یا سات جون تک دوبارہ اجلاس منعقد ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’آزاد کشمیر کے انتخابات آئین کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور شیڈول کے اعلان سے قبل ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘
مہاجرین نشستوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا، جس کے بعد ہی اس موضوع پر مزید پیش رفت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مرحلے پر اپنی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کر سکتے۔
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی مواصلاتی کیبلز کے تحفظ اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے پانی کے اندر کام کرنے والی ڈرون ٹیکنالوجی تیار کریں گے۔ یہ منصوبہ تینوں ممالک کے دفاعی اتحاد ’آکس‘ کے تحت شروع کیا جا رہا ہے۔
بغیر عملہ زیرِآب چل نے والی گاڑییعنی یو یو وی کی یہ ٹیکنالوجی آئندہ سال تک تیار ہونے کی توقع ہے۔ اگرچہ منصوبے کی مجموعی لاگت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا کہ برطانیہ اس منصوبے میں 150 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرے گا۔
یہ اعلان سنگاپور میں منعقدہ ایک سکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے دفاع نے کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آکس کے مختلف منصوبوں کی رفتار سست ہونے پر تنقید کی جا رہی تھی۔
تنقید کا اعتراف کرتے ہوئے جان ہیلی نے کہا کہ ’طویل عرصے تک آکس میں ہم نے زیادہ باتیں کیں اور کم نتائج دیے، لیکن اب ہماری تینوں حکومتوں کے دور میں یہ صورتحال بدل چکی ہے۔‘
سنہ 2021 میں قائم ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کی تیاری اور فوجی ٹیکنالوجی کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس اتحاد کو بحرالکاہل اور بحرا ہند کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور جنوبی بحیرہ چین جیسے متنازع علاقوں میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
نئی یو یو وی ٹیکنالوجی آکس کے ’پلر ٹو‘ کے تحت پہلا بڑا منصوبہ ہے، جس کے ذریعے رکن ممالک طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائلوں، زیرِآب روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید دفاعی صلاحیتوں پر مشترکہ کام کر رہے ہیں۔
تینوں ممالک کے مشترکہ بیان کے مطابق اس منصوبے کے تحت زیرِآب ڈرونز کے لیے جدید پے لوڈز اور معاون نظام تیار کیے جائیں گے، جو سمندر کی تہہ میں موجود اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ، حملہ آور کارروائیوں، نگرانی، جاسوسی اور لاجسٹک آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے مزید کہا کہ زیرِآب ڈرونز کے لیے جدید سینسرز اور ہتھیاروں کے نظام بھی تیار کیے جائیں گے، جو ’ہماری افواج کو تیزی سے جدید جنگی ٹیکنالوجیز فراہم کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ان خطرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی جو ’ہماری زیرِآب کیبلز اور پائپ لائنوں کو لاحق ہیں، جن پر ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا انحصار ہے۔‘
ان کے مطابق یہ اقدامات بحرالکاہل، بحرِاوقیانوس اور شمالی قطبی خطے کے سمندری علاقوں میں دفاعی قوت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل جان ہیلی نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ برطانیہ کے شمالی سمندری علاقوں میں زیرِآب کیبلز اور پائپ لائنوں کے خلاف خفیہ سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ تاہم ماسکو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ہفتے کے روز تینوں ممالک کے وزرائے دفاع نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا نئی یو یو وی ٹیکنالوجی کا منصوبہ روس اور چین کی زیرِآب سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ایک ’انتہائی تشویشناک‘ صورتحال پیدا کر دی ہے۔
وبا کے اعلان کے دو ہفتے بعد تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلن گونزالیز نے کہا کہ ماضی میں کبھی بھی ایبولا کے کسی پھیلاؤ میں اتنی کم مدت میں اتنے زیادہ کیسز سامنے نہیں آئے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسز نے وائرس پر قابو پانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے مشرقی کانگو کے صوبے ایتوری کا دورہ کیا، جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔
جمہوریہ کانگو میں اب تک ایبولا کے ایک ہزار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 246 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایبولا کے نو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
سنیچر کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ڈاکٹر گونزالیز نے کہا کہ ’صوبہ ایتوری میں ایبولا کی وبا کے اعلان کے دو ہفتے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایبولا کی کسی بھی وبا میں اعلان کے اتنے کم عرصے بعد اتنی بڑی تعداد میں کیسز پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ زمینی سطح پر کام کرنے والی ان کی ٹیمیں ایسے حالات کا سامنا کر رہی ہیں جو وبا کے تیز رفتار پھیلاؤ کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔
ڈاکٹر گونزالیز کے مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی اس وبا کے اصل حجم اور شدت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ روزانہ نئے مشتبہ کیسز سامنے آ رہے ہیں، جبکہ سیکڑوں نمونوں کی جانچ ابھی تک نہیں کی جا سکی ہے۔‘
ڈاکٹر گونزالیز نے مزید کہا کہ ’وبا پر قابو پانے کی کوششیں اور انسانی امداد کی فراہمی ’بڑی رکاوٹوں‘ کے باعث تاخیر کا شکار ہیں، جن میں سرحدوں اور ہوائی اڈوں کی بندش بھی شامل ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں جاری مسلح تنازع بھی ایبولا وبا کے خلاف کارروائیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خبر رساں ادارے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ایران کی فوج کو جان بوجھ کر اتنی شدت سے نشانہ نہیں بنایا گیا جتنا کہ بعض دیگر ریاستی عناصر کو بنایا گیا ہے۔‘
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’لوگ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم نے درحقیقت ایران کی فوج کو کیوں چھوٹ دی ہے اور اُن کے ساتھ یہ نرمی کیوں برتی گئی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایرانی فوج، حکومت کے بعض دیگر حلقوں کے مقابلے میں ’کسی حد تک معتدل‘ ہے۔‘
صدر ٹرمپ کے مطابق، ’اگر کسی ملک کے تمام اداروں اور افراد کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ملک کئی نسلوں تک دوبارہ تعمیر اور بحالی کے قابل نہیں رہتا۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں سب سے اہم مسئلہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص بارہ نشستوں کا مستقبل ہے۔
یہ مذاکرات سنیچر کو دن ایک بجے ایک نجی ہوٹل میں شروع ہوئے، جن کے اب تک تین دور ہو چکے ہیں۔ مذاکرات میں وفاقی حکومت کی نمائندگی وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے وزیر اعظم چوہدری فیصل ممتاز راٹھور شریک ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی امجد علی ایڈووکیٹ کی سربراہی میں 17 رکنی وفد کر رہا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 31 مئی تک کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مزید اقدامات پر غور کریں گے۔
مہاجر نشستوں کا تنازع
ان مذاکرات میں سب سے متنازع اور اہم مطالبہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص بارہ نشستوں کے خاتمے کا ہے۔ یہ نشستیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے رکھی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ اس مطالبے پر فوری طور پر عملدرآمد ممکن نہیں کیونکہ اس کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے، جو کم از کم 35 ارکان کی حمایت سے ممکن ہو سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تاحال اسمبلی میں اس حوالے سے کوئی بل پیش نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی عمل ابھی ابتدائی مراحل میں بھی داخل نہیں ہوا۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کا دعویٰ ہے کہ اس ترمیم کے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر مہاجر نشستوں پر منتخب ارکان اس ترمیم کے حق میں ووٹ نہ بھی دیں تب بھی اسے منظور کروانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے ماضی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے انتخاب کے دوران 48 ارکان نے ووٹ ڈالا تھا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اہم مواقع پر وسیع سیاسی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان سے یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو پس پردہ کسی نہ کسی سطح پر یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت ممکن ہے۔
مذاکرات کے دوران فریقین کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور فی الحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ تاہم رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ خوشگوار ماحول میں مکمل ہوا ہے اور مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال جاری ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کشمیر میں عام انتخابات متوقع ہیں، جو رواں سال جولائی میں ہونے کی توقع ہے، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے، جس سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی مارکیٹ میں بھی سنیچر کے روز سونے کی قیمت میں فی تولہ 1300 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 76 ہزار 162 روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 1115 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 8 ہزار 232 روپے تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 13 ڈالر اضافے کے ساتھ 4 ہزار 538 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔
عام طور پر مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ فی تولہ چاندی 21 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 13 روپے کی سطح پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 18 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 869 روپے ہو گئی ہے۔