بشیر بدر جن کے شعر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈین وزیراعظم کو بھی پڑھ کر سنائے

    • مصنف, وشنو کانت تیواری
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ایک شعر سنایا تھا۔ یہ سنہ 1972 تھا۔ اس وقت پاکستان اور انڈیا کی جنگ ہو چکی تھی، اس جنگ میں پاکستان کی شکست کے بعد ملک کا مشرقی حصہ الگ ملک بنگلہ دیش بن چکا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے لیے انڈین ریاست ہماچل پردیش کے مرکزی مقام شملہ پہنچے تھے۔

دشمنی چھوڑ کر امن کی راہ پر چلنے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے اندرا گاندھی کو شعر سنایا:

’دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں‘

شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے مطابق یہ سن کر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہمارا شعر ہمیں ہی سنا رہے ہیں۔

یہ شعر کہنے والے انڈیا کے شاعر بشیر بدر، 91 برس کی عمر میں چل بسے ہیں۔ خاندان کے مطابق انھوں نے جمعرات 28 مئی کی دوپہر تقریباً 12 بجے آخری سانس لی۔

بشیر بدر نے دو شادیاں کی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد انھوں نے ڈاکٹر راحت بدر سے شادی کی، جن سے ان کا ایک بیٹا طیب بدر ہے۔

طیب بدر کے مطابق ’بشیر بدر کافی عرصے سے ڈیمنشیا (چیزیں یاد رکھنے، سوچنے، سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت میں کمی) کے مرض میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے ان کی طبیعت مسلسل خراب رہتی تھی۔ وہ لوگوں کو پہچاننے میں بھی دشواری محسوس کرتے تھے۔‘

بشیر بدر نے آسان اور بول چال کی زبان میں شاعری کی، اور وہ ان شاعروں میں شامل رہے جن کے اشعار ادبی محفلوں سے نکل کر عام لوگوں کی زبان تک پہنچے۔

ان کی غزلوں میں محبت، تنہائی، رشتوں کی پیچیدگی، جدائی کا غم اور روز مرہ زندگی کے تجربات نمایاں تھے۔ ان کے کئی اشعار آج بھی مشاعروں، سوشل میڈیا پوسٹس، سیاسی تقاریر اور عام گفتگو میں سنائی دیتے ہیں۔

ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ مسلسل ان کے اشعار شیئر کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شعر بار بار یاد کیا جا رہا ہے، جو ان کے گھر کے باہر تختی پر بھی درج ہے:

’اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے‘

18 ہزار سے زیادہ اشعار بشیر بدر سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی پیچیدہ سچائیوں کو بہت ہی سادگی سے بیان کر دیا کرتے تھے۔

’بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا‘

یا

’یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے‘

’ڈیمنشیا کا پتہ چلا تو محفلوں میں جانا چھوڑ دیا‘

کئی برسوں سے ڈیمنشیا کا شکار بشیر بدر کو جاننے والے افراد کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب تضاد تھا کہ جس شاعر کے اشعار کروڑوں لوگوں کو یاد ہیں، وہ خود آہستہ آہستہ اپنی یاد داشت کھو رہا تھا۔

ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ’جب بشیر صاحب کو معلوم ہوا کہ انھیں ڈیمنشیا ہو گیا ہے تو انھوں نے مشاعروں میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں دنیا انھیں اُسی بشیر بدر کے طور پر یاد رکھے جس کی ہر لفظ پر مضبوط گرفت تھی۔‘

مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا کہ ’انھوں نے مشکل شاعری کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کا فن حاصل کیا تھا۔ اسی لیے ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے لوگ انھیں پسند کرتے تھے۔‘

ڈاکٹر مہدی کے مطابق وہ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی میں ان کے ساتھ کام کر چکی ہیں اور بشیر بدر اسی اکیڈمی کے صدر بھی رہ چکے تھے۔

بشیر بدر نے شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید اور علمی تحریر میں بھی اہم کام کیا۔

ان کی کتابوں میں ’اکائی‘، ’آمد‘، ’آہٹ‘، ’آس‘ اور ’کلیاتِ بشیر بدر‘ شامل ہیں جبکہ ’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘ اور ’20 ویں صدی میں غزل‘ جیسی کتب کو اردو ادب میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

اپنے طویل ادبی سفر میں انھیں پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات ملے۔ انھیں اتر پردیش اردو اکیڈمی اور بہار اردو اکیڈمی نے بھی سراہا۔

1980 میں نیو یارک میں انھیں ’پوئٹ آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر مہدی کے مطابق بشیر بدر خواتین کا بہت احترام کرتے تھے، ’جب بھی میں ان کے کمرے میں جاتی تھی تو وہ ہمیشہ کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ خواتین کی عزت کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دسمبر میں جب وہ ان سے ملنے گئیں تو وہ کسی کو پہچان نہیں پا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن کبھی کبھی لوگ ان کے سامنے ان کے اشعار پڑھتے تو وہ اگلی سطر خود مکمل کر دیتے تھے۔ اس وقت لگتا تھا کہ شاید وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

پاکستانی سیاست دان فواد چودھری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نعمان صدیقی نامی صارف کی پوسٹ کردہ ویڈیو کو شیئر کیا۔ اس ویڈیو کے تعارف میں درج ہے کہ بشیر بدر کی اہلیہ شعر پڑھنے میں ان کی مدد کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ خاتون بشیر بدر کا شعر پڑھتی ہیں:

’بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا‘

یہ سن کر بشیر بدر خوش ہوتے ہیں اور دوبارہ پڑھنے کا کہتے ہیں۔ پھر خاتون ان کے شعر کا مصرع پڑھتی ہیں ’خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے‘، اس پر بشیر بدر اگلا مصرع پڑھ کر شعر مکمل کرتے ہیں ’کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے۔‘

اسی غزل کا ایک اور مصرع بھی بہت معروف ہے اور زبان زد عام ہے:

’خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے

اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے‘

’پڑھنے گئے تو معلوم ہوا کہ ان کی شاعری نصاب میں شامل ہے‘

بشیر بدر کی پیدائش 1935 میں ہوئی۔ سرکاری ریکارڈ میں ان کی جائے پیدائش کان پور درج ہے، لیکن اہل خانہ کے مطابق وہ اتر پردیش کے موجودہ امبیڈکر نگر ضلع کے گاؤں بکیاں میں پیدا ہوئے تھے۔

انھوں نے 1969 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

بعد ازاں انھوں نے ’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کی، جو آج بھی کئی جگہوں پر پڑھائی جاتی ہے۔

طیب بدر یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ابا جب علی گڑھ پڑھنے گئے تو وہاں جا کر انھیں معلوم ہوا کہ کالج کے نصاب میں ان کی لکھی ہوئی شاعری، غزلیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ انھیں اس بات پر بہت فخر تھا۔‘

ان پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کہتے ہیں کہ بشیر بدر نے ’معاشرے کے درد کو اپنی شاعری میں جگہ دی۔ انڈیا اور پاکستان کے تقریباً تمام بڑے گلو کاروں نے ان کی غزلیں گائیں۔‘

ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے مطابق: ’بشیر بدر کی مقبولیت صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں تھی۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کے انتخابی مہم میں ان کا ایک شعر بہت استعمال ہوا تھا:

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں‘

بشیر بدر نے 1974 میں میرٹھ کالج کے شعبہ اردو میں بطور لیکچرر کام شروع کیا اور 1980 کی دہائی کے آخر تک وہاں تعلیم دیتے رہے۔

ان کے قریبی دوست اور شاعر ملک زادہ جاوید کہتے ہیں کہ بشیر بدر نے نہ صرف شاعری بلکہ مشاعروں کی روایت میں بھی تبدیلیاں کیں۔

ان کے مطابق ’اس دور میں مشاعروں میں شیروانی، ٹوپی اور کُرتا پاجامہ عام تھا، لیکن بشیر بدر جیکٹ اور ٹائی پہن کر سٹیج پر آتے تھے۔‘

اگرچہ بشیر بدر کو پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات ملے، لیکن انھیں جاننے والے کہتے ہیں کہ ان کی اصل پہچان ان کے اشعار ہی تھے، جنھیں لوگ اپنی زندگی کے مختلف مواقع پر یاد کرتے رہے۔

ان کے انتقال کے بعد آخری رسوم کے دوران بھی ان کی شاعری لوگوں کی گفتگو کا اہم حصہ بنی رہی۔

بشیر بدر کا شعر ہے:

’زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے‘