کیا ایک ہی جانور پر قربانی اور عقیقہ دونوں کیے جا سکتے ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ہر سال دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر مختلف اقسام کے جانور قربان کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بہت سے لوگ قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کا عقیقہ بھی کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو مختلف وجوہات کی بنا پر مقررہ وقت پر اپنے بچوں کا عقیقہ ادا نہیں کر سکتے۔

عقیقہ بچے کا نام رکھنے کے بعد جانور ذبح کرنے کا عمل ہے۔

اسلامی قانون کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد ساتویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے تاہم اگر اس دن ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو بعد میں بھی عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں مذہب اسلام میں کوئی سخت پابندی نہیں۔

بہت سے لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ جو افراد مختلف وجوہات کی بنا پر مقررہ وقت پر عقیقہ ادا نہیں کر سکے، کیا وہ عید الاضحیٰ کے دوران اسی جانور کے ساتھ عقیقہ کر سکتے ہیں۔

مذہب اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر اس کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض مکاتبِ فکر کے مطابق قربانی کے ساتھ عقیقہ کرنا جائز نہیں جبکہ بعض کے مطابق یہ جائز ہے۔

اسلامی محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف مکاتبِ فکر کے ماننے والے اپنی اپنی وضاحتیں دیتے ہیں تاہم قرآن یا حدیث کی روشنی میں اس بارے میں فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسلامی مصنف اور تجزیہ کار شریف محمد کہتے ہیں کہ ’اسلام کے مطابق عقیقہ سنت اور قربانی واجب ہے۔ اگر کوئی شخص مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے مقررہ وقت پر اپنے بچے کا عقیقہ نہ کر سکے تو وہ کچھ شرائط کے ساتھ قربانی کے وقت عقیقہ کر سکتا ہے۔‘

عقیقہ کے لیے اصول کیا ہیں؟

اسلام میں ایک اہم سنت عقیقہ کی رسم ہے، جو نومولود کے لیے اللہ کا شکر ادا کرنے اور بچے کی خیریت کی دعا کے لیے جانور ذبح کر کے ادا کی جاتی ہے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد نے اپنے نواسوں حسن اور حسین کی پیدائش کے بعد ان کا عقیقہ کیا تھا۔ اس لیے اسلامی قانون کے مطابق عقیقہ سنت ہے۔

اسلامی محقق مولانا شریف محمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اسلامی قانون کے مطابق عقیقہ سنت ہے۔ ’جو لوگ مالی طور پر مستحکم ہیں انھیں عقیقہ کرنا چاہیے۔‘

اسلامی قانون کے مطابق عام طور پر بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے تاہم اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو چودھویں یا اکیسویں دن بھی عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی وجہ سے سات سے 21 دن کے اندر عقیقہ ممکن نہ ہو تو بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

مولانا شریف محمد نے کہا، ’ساتویں دن عقیقہ کرنا، نام رکھنا اور سر کے بال منڈوانا اہم اعمال ہیں۔ اسی لیے نام رکھنے کو عقیقہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر عمر زیادہ ہونے پر نام تبدیل کیا جائے تب بھی عقیقہ کرنا پڑے گا لیکن یہ درست نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اکثر بچے کی پیدائش کے بعد مختلف پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ ماں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہوتی ہے یا مالی مسائل ہو سکتے ہیں تو بعد میں حالات بہتر ہو جائیں تو عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔‘

اسلام میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کے نام پر عقیقہ کرنے کے لیے لڑکے اور لڑکی کے لیے الگ الگ اصول ہیں۔

اسلامی قانون کے مطابق لڑکے کے لیے دو بکرے یا بھیڑیں اور لڑکی کے لیے ایک جانور ذبح کیا جاتا ہے۔ جانور صحت مند اور بالغ ہونا چاہیے، جیسا کہ قربانی کے جانور کے لیے ہوتا ہے۔

اگرچہ عقیقہ کے لیے جانور کے انتخاب میں کچھ گنجائش ہے تاہم بکرے کے ساتھ عقیقہ کرنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

شریف محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اونٹ، بھینس اور دیگر جانور بھی تھے لیکن ان کا ذکر کرنے کے بجائے پیغمبر اسلام نے عقیقے کے لیے بکرے کا ذکر کیا، اس لیے وہ بہتر ہے۔‘

حدیث کے مطابق پیدائش کے ساتویں دن بچے کا نام رکھنا، سر منڈوانا اور بالوں کے وزن کے برابر سونا یا چاندی صدقہ کرنا سنت ہے۔

عقیقہ کے جانور کا گوشت عقیقہ کرنے والا اور اس کے اہل خانہ کھا سکتے ہیں۔ اسے رشتہ داروں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی اس گوشت کو خود کھانے پر کوئی مذہبی پابندی نہیں۔

کیا قربانی کے جانور کے ساتھ عقیقہ کیا جا سکتا ہے؟

اسلام کے مطابق قربانی سال کے ایک مخصوص مہینے میں ادا کی جاتی ہے۔ عربی تقویم کے مطابق ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو عید الاضحیٰ منائی جاتی ہے۔

اس دن اور اس کے بعد کے دو دن تک یعنی 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک، مسلمان جانور قربان کرتے ہیں۔

حکم کے مطابق اگر ایک عاقل بالغ مسلمان عید الاضحیٰ کے تین دن کے اندر یعنی 10 ذوالحجہ کی صبح سے 12 ذوالحجہ کے غروب تک نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا یا باون تولہ چاندی یا اس کے برابر نقد رقم یا تجارتی مال) کا مالک ہو یا بن جائے تو اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے پروفیسر عبدالرشید نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اگر کسی شخص کے پاس زکوٰۃ کے قابل مال ہو تو اس پر قربانی واجب ہو گی اور جس کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اسے قربانی کرنی چاہیے۔

بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر مقررہ وقت پر عقیقہ ادا نہیں کر پاتے۔ ان میں سے بہت سے افراد کو عید الاضحیٰ کے دوران اسی جانور کے ساتھ عقیقہ کرتے ہوئے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دو طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔

اسلامی قانون کے مطابق قربانی اور عقیقہ دو الگ عبادات ہیں لیکن عقیقہ بچے کی پیدائش کے بعد شکرانے کے طور پر جانور ذبح کرنا ہے جبکہ قربانی اس شخص پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہو۔

یعنی عقیقہ اگرچہ سنت ہے اور واجب نہیں جبکہ قربانی استطاعت رکھنے والوں پر واجب قرار دی گئی ہے۔

مولانا شریف محمد نے کہا کہ ’واجب وہ عبادت ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہو۔ اگر کوئی شخص ایک مخصوص مدت تک مخصوص مقدار میں مال کا مالک ہو تو اس پر قربانی لازم ہے۔ دوسری طرف بچے کی پیدائش کے بعد شکرانے کے طور پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور عقیقہ واجب نہیں۔‘

مذہبی اصولوں کے مطابق گھریلو جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جیسے بھیڑ، بکری، دنبہ، گائے، بھینس اور اونٹ۔ یہی چھ اقسام کے جانور قربانی کے لیے جائز ہیں، اس کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ قرآن کی زبان میں انہیں ’بہیمتہ الانعام‘ کہا جاتا ہے، یعنی بے ضرر پالتو چوپائے۔

دوسری طرف عقیقہ کے لیے اسلام میں بکرے یا بکری کا حکم دیا گیا۔

مولانا شریف محمد نے کہا کہ ’حدیث کے مطابق عقیقہ کے لیے بکرے یا بکری کا استعمال بہتر ہے لیکن قربانی میں اونٹ، گائے، بھیڑ اور بھینس سب جائز ہیں۔‘

اسلامی علما کے مطابق عقیقہ اور قربانی ایک ہی نوعیت کی عبادات ہیں اور ان کے قواعد ایک جیسے ہیں۔ جانور کو اسی طریقے سے ذبح کرنا ہو گا۔

جو لوگ مقررہ وقت پر اپنے بچے کا عقیقہ نہیں کر سکے یا استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے عقیقہ نہیں کر پائے، ان میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ایک ہی جانور کے ساتھ قربانی اور عقیقہ دونوں کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں اسلامی محققین کہتے ہیں کہ مختلف مکاتبِ فکر کے مطابق اس کے مختلف اصول ہیں تاہم قربانی کے جانور میں حصہ شامل کر کے عقیقہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

شریف محمد نے کہا کہ حنفی مکتبِ فکر کے مطابق قربانی کے جانور کے ساتھ عقیقہ کیا جا سکتا ہے لیکن اہلِ حدیث کے پیروکار اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر قربانی کے جانور میں حصہ لینے کا موقع ہو تو ایک یا دو حصے عقیقہ کے لیے رکھے جا سکتے ہیں اور یہ جائز ہے۔

’اگر آپ قربانی کے دن جانور ذبح کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ کم از کم ایک جانور قربانی کے لیے ہی ہو۔ اگر کوئی شخص قربانی نہیں کر رہا یا نہیں کر سکتا لیکن اس کے بچے کا عقیقہ باقی ہے اور وہ صرف عقیقہ کا جانور ذبح کر دیتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے بہتر فیصلہ نہیں۔‘

شریف محمد نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی شخص گائے میں حصہ ڈال کر قربانی کرے اور عقیقہ کے لیے الگ بکرے کا انتظام کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ یا اپنی استطاعت کے مطابق گائے میں حصہ لے کر اور الگ طور پر عقیقہ کر سکتا ہے۔‘