’میڈ ان پاکستان‘: انڈین مدرسے کے پنکھے پر لگا لیبل جو دو افراد کی حراست اور سوشل میڈیا مہم کی وجہ بنا

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع کُشی نگر میں ایک مدرسے کے اندر موجود پنکھے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اتوار کو دو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا کیونکہ اس پنکھے پر مبینہ طور پر ’میڈ اِن پاکستان‘ کا لیبل لگا ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی ائی) کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پنکھے کی تصویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی اور مقامی لوگوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انڈین مدرسے تک پاکستانی پنکھا کیسے پہنچا ؟

یہ پنکھا قادریہ حکیم العلوم نامی مدرسے کا تھا۔

مدرسہ کے ایک استاد محمد معراج الدین نے میڈیا کو بتایا کہ گاؤں میں شمس الدین نامی شخص نے تین سال قبل یہ پنکھا عطیہ کیا تھا۔

ان کے مطابق جب یہ پنکھا خراب ہو گیا تو اسے مرمت کے لیے مکینک کو دیا گيا اور اس نے انھیں بتایا کہ یہ پنکھا پاکستان میں بنا ہے۔

مدرسے کے استاد کہتے ہیں کہ لوگوں نے دکان میں اس پنکھے کی تصویر لے کر اسے وائرل کر دیا اور وشنو پورہ تھانے کی پولیس مدرسے پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ اتر پردیش کا یہ علاقہ نیپال کی سرحد سے متصل ہے۔ اسی لیے اس معاملے کو بارڈر سکیورٹی کےتناظر میں حساس سمجھا گیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کیشو کمار نے ایک بیان جاری کیا، جس میں انھوں نے بتایا کہ پولیس نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث

دریں اثنا اس کے متعلق سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ آدیتی کماری سنگھ نامی ایک صارف نے، جن کے 88 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں، نے ایکس پر لکھا کہ ’اتر پردیش کے کُشی نگر میں مدرسے کا پنکھا ٹھیک کرنے آئے الیکٹریشن نے دیکھا کہ پنکھے پر ’میڈ اِن پاکستان‘ لکھا ہے! تو اس سے کیا سمجھا جائے؟‘

وہیں ایکس پر ہی ایک دوسرے صارف رام نِواس اکیلا نے لکھا: 'کھلے عام چین کے سامان کا استعمال ہو رہا ہے کسی کو کوئی دقت نہیں ہے لیکن کُشی نگر میں ایک مدرسے میں پاکستانی پنکھا مل گیا تو ہلچل مچ گئی۔‘

'وجہ صاف ہے۔ انڈین حکومت نے 2 مئی 2025 کو پاکستان سے آنے والی تمام قسم کی اشیاء کی براہِ راست درآمد پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ قومی سلامتی کے مدنظر اب پاکستان میں بنی کوئی بھی نئی چیز جس میں پنکھے، کپڑے، یا دیگر مصنوعات شامل ہیں، قانونی طور پر انڈیا میں نہیں منگوائی جا سکتی۔‘

انھوں نے مزید لکھا: یو پی کے کشی نگر میں مدرسے کی چیکنگ چل رہی ہے، وہاں ملنے والے پنکھے پر الاحمد فینز، میڈ اِن پاکستان لکھا ہوا ملا۔‘

’لیکن مدرسہ 1994 میں قائم ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مئی 2025 کے پہلے کا پنکھا ہو اور یہ جانچ کا موضوع ہے۔ اگر بعد میں منگوایا گیا ہے تو کارروائی ہونی چاہیے۔‘

پولیس کی تفتیش کے بعد کیا ہوا؟

کُشی نگر کے وشنو پورہ تھانہ کے انچارج وِنے مشرا کے مطابق مدرسے کے مینیجر محمد یونس اور گاؤں کے رہائشی شمس الدین سے پوچھ گچھ کی گئی۔

تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ شمس الدین کا بیٹا واجد انصاری گذشتہ 10 سال سے سعودی عرب میں مزدوری کر رہا تھا۔ اُس نے پنکھا 2020 میں تقریباً 80 ریال میں خریدا اور کارگو کوریئر کے ذریعے گھر بھیج دیا۔ بعد میں سنہ 2023 میں، شمس الدین نے مدرسہ کو پنکھا عطیہ کیا۔

تھانہ انچارج نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد پولیس کو معلوم ہوا کہ پنکھا سعودی عرب سے خریدا گیا تھا اور متعلقہ افراد نے اس کی خریداری سے متعلق دستاویزات حکام کے سامنے پیش کیں۔ پولیس کے مطابق دستاویزات کی تصدیق اور تفصیلی تفتیش کے بعد کوئی شکوک شبہات باقی نہیں رہے اور اس وجہ سے حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر دیا گیا۔