بنوں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے اور القاعدہ برصغیر کے قریب سمجھا جانے والا شدت پسند گروہ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کیا ہے؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک پولیس چوکی پر حملے میں 15 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد جہاں اسلام آباد نے افغان ناظم الامور کو بُلا کر انھیں ’سخت احتجاجی مراسلہ‘ دیا ہے، وہیں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہ پر بھی بات ہو رہی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری ’اتحاد المجاہدین‘ نامی گروہ نے قبول کی ہے۔

بی بی سی نے محققین اور تجزیہ کاروں سے بات کر کے اس گروہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

’اتحاد المجاہدین‘ کیا ہے؟

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ’اتحاد المجاہدین‘ تین شدت پسند تنظیموں کا اتحاد ہے اور اس کی وابستگی طالبان کے حافظ گُل بہادر گروپ کے ساتھ ہے۔

یہ گروپ پہلی بار 11 اپریل سنہ 2025 کو سامنے آیا اور یہ پاکستانی گروہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس گروپ کی عملی سرگرمیاں زیادہ تر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مرکوز ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس گروپ کا ٹیلیگرام چینل 12 اپریل سنہ 2025 کو بنایا گیا تھا جس پر گروپ کی جانب سے اُردو، پشتو اور انگریزی میں بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ بنوں حملے کے بعد بھی اس گروپ نے اُردو اور پشتو زبانوں میں بھیجے گئے بیانات میں ہی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق اس گروہ میں حافظ گل بہادر، لشکر اسلام اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستانی نامی تنظیمیں شامل ہیں۔

شدت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالسید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’اتحاد المجاہدین‘ دراصل پاکستانی طالبان کا ہی ایک دھڑا ہے جس کی قیادت حافظ گُل بہادر کے پاس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کالعدم ٹی ٹی پی کے برعکس ’اتحاد المجاہدین‘ کے اکثر حملے شمالی وزیرستان، بنوں اور خیبر اضلاع میں نظر آتے ہیں۔‘

’اس کی قیادت حافظ گل بہادر کے پاس ہے، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے شمالی وزیرستان اور اس سے منسلک ضلع بنوں میں عسکریت پسندوں کا بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ اتحاد المجاہدین میں شامل لشکرِ اسلام بھی خیبر ضلع کے بعض علاقوں تک محدود ایک عسکریت پسند گروہ ہے جو دو دہائیاں قبل وجود میں آیا۔‘

القاعدہ اور دیگر گروہوں سے تعلقات

عبدالسید سمیت دیگر محققین کا خیال ہے کہ اس گروہ کا تعلق القاعدہ کی برصغیر کے لیے بنائی گئی شاخ سے بھی ہے۔

صحافی و تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ’بظاہر کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک گروہ جماعت الاحرار کی ہمدردی بھی ’اتحاد المجاہدین‘ کے ساتھ ہے۔‘

احسان ٹیپو محسود کے مطابق ان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ برصغیر بھی اندرونی طور پر ’اتحاد المجاہدین‘ سے روابط رکھتی ہے اور دونوں گروہوں کے بیانات اور پروپیگنڈا مہم میں بھی یکسانیت نظر آتی ہے۔‘

عبدالسید اس اس تنظیم اور القاعدہ برِصغیر کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اتحاد المجاہدین میں سب سے اہم کردار حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کا ہے اور یہ گروہ پہلی مرتبہ مارچ سنہ 2025 کے وسط میں منظرِ عام پر آیا تھا، تاہم اس کی قیادت اور ارکان بھی اس تنظیم کی طرح نئے نام ہیں۔‘

’اس تنظیم کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ دراصل پاکستان میں القاعدہ کی جنوبی ایشیا کے لیے علاقائی شاخ القاعدہ برصغیر کا فرنٹ گروپ نظر آتا ہے۔‘

اتحاد المجاہدین اور القاعدہ برصغیر نے آپس میں روابط کی کبھی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے، تاہم عبدالسید کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستانی طالبان کے غیررسمی چینلز پر مختلف بیانات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کا تعلق القاعدہ کی جنوبی ایشائی شاخ سے ہی ہے۔

اتحاد المجاہدین کے رہنما حافظ گُل بہادر کون ہیں؟

شدت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے افراد کہتے ہیں کہ حافظ گُل بہادر میڈیا اور سوشل میڈیا سے دور رہنے کے عادی ہیں۔ ماضی میں وہ اپنی تنظیم کے لوگوں کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کی تلقین بھی کر چکے ہیں۔

احسان ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ حافظ گُل بہادر ماضی میں کبھی ایک یا دو بار میڈیا سے خود رابطے کر لیتے تھے، تاہم اب صرف ان کے بیانات جاری ہوتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ حافظ گُل بہادر سنہ 1961 میں شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے ملتان کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔

ان کے مطابق حافظ گُل بہادر سویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور فقیرِ ایپی مرزا علی خان کے پوتے ہیں۔

سویت یونین اور بعد میں امریکہ کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے سبب ان کے افغان طالبان سے گہرے تعلقات ہیں۔

احسان ٹیپو محسود کے مطابق سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حافظ گُل بہادر نے القاعدہ اور افغان طالبان کے جنگجوؤں کو شمالی وزیرستان میں پناہ دی تھی۔

شدت پسند تنظیموں پر نگاہ رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حافظ گل بہادر ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ افغانستان میں کافی متحرک رہے تھے مگر پاکستان میں حکومت کے حمایتی سمجھے جاتے تھے اور ان کا گروہ پاکستان میں حملے نہیں کرتا تھا۔‘

تاہم سنہ 2014 میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد حافظ گُل بہادر افغانستان فرار ہوگئے اور ان کے گروہ کی جانب سے پاکستان میں حملے بھی دیکھنے میں آئے۔

حافظ گُل بہادر کی قیادت میں اتحاد المجاہدین کی تمام تر توجہ خیبرپختونخوا پر ہی مرکوز ہے۔

احسان ٹیپو محسود بتاتے ہیں کہ ’حالیہ مہینوں میں اتحاد المجاہدین نے کواڈ کاپٹر حملوں کے ذریعے بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔‘

’اس اتحاد کی پروپیگنڈا مہم بھی انتہائی شدید ہے، جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور خفیہ مواصلاتی نیٹ ورکس کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔‘

گروپ کی جانب سے اب تک کیے کئے حملوں کی ٹائم لائن

  • اس گروپ کی 11 اپریل 2025 کو تشکیل کے اگلے ہی روز سے اس گروپ کی جانب سے شدت پسند حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے۔
  • اس گروپ کی جانب سے 12 اپریل 2025 کو ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں خیبر ایجنسی میں سکیورٹی چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ اگلے ہی روز اپنے ایک اور بیان میں اس گروپ نے اپنے پہلے ڈرون حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا
  • 19 مئی 2025 کو اس گروہ نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کے بدلے کے عوض سکیورٹی فورسز کو دھمکی جاری کی
  • 26 مئی 2025 کو گروپ نے ٹیلیگرام پر ایک اور پراپیگنڈا ویڈیو جاری کی جس میں خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ کامیابیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس پراپیگنڈا ویڈیو میں گروپ کی کارروائیوں اور نظریاتی موقف کو فروغ دینے کے لیے مناظر شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر پشتو میں ہے، جس کے ساتھ اردو سب ٹائٹلز موجود ہیں
  • اس کے بعد 30 مئی 2025 کو مبینہ طور پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں کیے گئے ایک حملے کی فوٹیج جاری کی گئی
  • 21 جون 2025 کو ضلع بنوں میں ایک فوجی کیمپ پر مبینہ حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی
  • 28 جون 2025 کو ٹیلیگرام پر شیئر کیے گئے بیان میں گروپ نے اپنے پہلے خودکش حملے کا دعویٰ کیا
  • اس موقع پر دعویٰ کیا گیا اس مبینہ حملے میں شمالی وزیرستان میں 'بھاری جانی نقصان' ہوا، تاہم کوئی مخصوص تعداد نہیں بتائی گئی
  • دو جولائی 2025 کو خیبر پختونخوا کے علاقے پشاور میں ایک فوجی چوکی پر مبینہ حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ نے قبول کی
  • 29 اگست 2025 کو ٹیلیگرام پر اس گروپ نے ضلع خیبرکی وادی تیراہ میں ایک مبینہ خودکش حملے کا دعویٰ کیا اور اس کو انجام دینے والے مبینہ جنگجو کا نام اور تصویر بھی شیئر کی گئی
  • اس کے بعد دو ستمبر 2025 کو گروپ نے ٹیلیگرام پر خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے ایک مرکز پر حملے کا دعویٰ کیا