آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا مئی 2025 کی لڑائی میں پاکستانی کارروائی میں ہونے والا نقصان تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
6-0 دیکھنے میں تو ٹینس میچ کا سکور لگتا ہے لیکن ایک برس قبل پاکستان اور انڈیا کی چار روزہ لڑائی کے بعد یہ ہندسے پاکستان کے ان دعوؤں کا اہم حصہ تھے جو چھ سے دس مئی 2025 کے درمیان ہونے والی عسکری کارروائیوں میں انڈیا کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے سامنے آئے تھے۔
پہلگام میں سیاحوں پر مہلک حملے کو بنیاد بناتے ہوئے انڈیا کی جانب سے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر میزائل حملوں کے بعد نو مئی کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی افواج کے نمائندوں نے باضابطہ طور پر انڈین فضائیہ کے پانچ طیارے جن میں تین رفال، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل تھا، گرانے کا دعویٰ کیا اور 11 مئی کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی فضائیہ کے ایئروائس مارشل اورنگزیب احمد کی جانب سے اس رات گرائے جانے والے انڈین طیاروں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی۔
جب اس وقت انڈین حکام سے ان دعوؤں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو ایئر مارشل اے کے بھارتی نے جواب دیا تھا ’جب دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ نہ کچھ نقصان دونوں جانب ہوتا ہے ۔ ہم اپنے نقصان کا جائزہ لیں گے اور اس کی تفصیل بتائیں گے۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے بعد امریکی صدر نے بھی ایک تقریب کے دوران 'انڈیا پاکستان جنگ رُکوانے' کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران 'پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے' تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے اور کس ملک نے گِرائے۔
جون 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔'
پاکستان کی جانب سے انڈیا کے طیاروں کی تباہی کے دعوے کیے جانے کے بعد بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے جو انڈیا کی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔
ان میں سے ایک ویڈیو کی جیو لوکیشن سے بی بی سی ویریفائی کو علم ہوا تھا کہ یہ انڈین ریاست پنجاب میں بھٹنڈہ کے مقام کی ہے۔ اس ویڈیو میں یونیفارم میں ملبوس اہلکار لڑاکا طیارے کا ملبہ جمع کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے رات کے وقت بنائی جانے والی دو مزید ویڈیوز کو بھی چیک کیا اور وہ بھی اسی مقام کی تھیں۔ ان میں سے ایک میں کھیتوں میں موجود ملبہ دیکھا جا سکتا تھا جبکہ ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک اڑنے والی چیز کو پہلے آسمان میں آگ لگتی ہے اور پھر وہ ایک کھلے کھیت میں گرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ بی بی سی کے نامہ نگار نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ کے قصبے پام پور میں گرنے والے ایک طیارے کے ملبے کو بلڈوزر کی مدد سے منتقل ہوتے ہوئے دیکھا۔
نامہ نگار ریاض مسرور جب موقع پر پہنچے تھے تو قصبے کے مختلف حصوں میں گرنے والے ایک جہاز کے ٹکروں کو جمع کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبے کے معائنے کے لیے انڈین ایئر فورس کی ایک ٹیم بھی جائے وقوعہ پر موجود تھی تاہم حکام کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی کہ یہ کون سا طیارہ تھا یا کس ملک کا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ جموں کے ضلع رام بن میں بھی چھ اور سات مئی کی درمیانی شب ایک طیارہ تباہ ہوا تھا۔
ضلع رام بن کے علاقے پنتھیال کے سرپنچ ظہور احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کے گاؤں میں بدھ کی شب جیٹ طیاروں کی آواز کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد وہ خود پولیس کے ہمراہ جائے واردات پر پہنچے تھے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا پہلا دعویٰ دس مئی کو آپریشن بنیان المرصوص کے آغاز کے بعد سامنے آیا اور پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ذرائع کی جانب سے کیے دعووں کے مطابق انڈیا میں متعدد مقامات پر حملے کیے گئے جن میں بیاس میں ’براہموس میزائل‘ کی سائٹ کے علاوہ ادھم پور ایئربیس اور پٹھان کوٹ میں ایئر فیلڈ کو تباہ کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ادھم پور کے علاوہ سری نگر، پٹھان کوٹ، آدم پور، بھٹنڈہ، سرسا اور سورت گڑھ میں فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ راجوری اور بارہمولا میں عسکری تنصیبات ہدف تھیں۔
دس مئی کو انڈیا کی وزارت دفاع کے حکام نے تسلیم کیا کہ ’پاکستان نے انڈیا کے 26 مقامات پر مربوط حملے کیے ہیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی مسلح افواج نے دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔‘
اسی دن انڈین فوج کی کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’پاکستان نے لگاتار کارروائیاں کیں جن میں ڈرونز اور لانگ رینج ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے انڈین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں جموں، سانبہ، راجوری، ادھم پور، نگروٹا، اونتی پورہ، ریاسی، پونچھ، اکھنور اور پنجاب میں پٹھان کوٹ اور امرتسر شامل ہیں۔
اس لڑائی کے چند ماہ بعد انڈیا کی جانب سے جہاں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے نئے دعوے سامنے آئے وہیں انڈیا کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات کا ذکر پھر بھی نہیں کیا گیا۔
اور اب انڈیا کی عسکری کارروائی کی برسی پر چند دن قبل انڈیا کی تینوں مسلح افواج کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس میں جب ایک نامہ نگار نے اعلی انڈین فوجی حکام سے پوچھا کہ گزشتہ برس چار روزہ لڑائی کے دوران انڈیا کو کیا نقصان پہنچا تھا، تو اس کے جواب میں ایئر مارشل اے کے بھارتی نے جواب دیا کہ انڈیا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ان کا کہنا تھا 'وہ نہ تو ہمارا کوئی بڑا نقصان کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمارے کسی عسکری یا سویلین ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ جو بھی جہاز ، میزائل اور ڈرونز ہماری طرف آئے، ہم نے انھیں مربوط طریقۂ کار سے تباہ کر دیا۔ پاکستان جو بھی کہے یہ یاد رکھیے کہ بیانیے اور تقریر سے جیت نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سات مئی کو ہم نے ان کے نو دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ ہم نے ان کے 11 فضائی اڈوں کو تباہ کیا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے 13 جہاز تباہ کیے خواہ وہ فضا میں تھے یا زمین پر ۔'
اس پریس کانفرنس میں انڈیا کی مئی 2025 میں عسکری کارروائی کے وقت کے ڈی جی ایم او لفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی بھی موجود تھے ۔ انھوں نے انڈیا کو ہونے والے نقصانات کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم جب آپ کے سامنے پہلی بار آئے تھے تو ہم ویڈیو، فوٹوگراف اور ٹائم لیپس کے ساتھ آئے ۔ آپ نے انڈیا کے نقصان کے بارے میں ایسی کوئی مستند ویڈیو دیکھی ہے جو پاکستان نے پیش کی ہو ۔ جب آپ اس نوعیت کا آپریشن کرتے ہیں تو آپ کے پاس ثبوت ہونا چاہئیے جو کہ پاکستان کے پاس نہیں ہے۔‘
انڈیا-پاکستان جنگ کے بارے میں دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے درمیان یہ سوال بار بار اٹھتا رہا ہے کہ اس جنگ میں انڈیا کو کیا نقصان پہنچا؟
اہم امر یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے یہاں انڈین حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات تک بین الاقوامی میڈیا کو رسائی دی تھی اور وہاں ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصویریں جاری کی گئی تھیں تاہم اس کے برعکس انڈیا میں میڈیا کو فضائی اڈوں اور دیگر متعلقہ فوجی تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی اور جو خبریں آ رہی تھی وہ وہی تھیں جو سرکاری طور پر نیوز کانفرنس میں بتائی جاتی تھیں جن کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں تھی۔
دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چار روز کی اس جنگ میں پہلی رات کی لڑائی بہت اہم تھی۔ امریکی کانگریس نے نومبر 2025 میں ایک رپورٹ پیش کی اس میں انھوں نے صاف لکھا ہوا ہے کہ چار کی دن کی لڑائی میں پاکستان کی فوج نے انڈین فوج سے بہتر کارکردگی دکھائی۔
’امریکی کانگریس اور دنیا نے یہ نتیجہ پہلی رات کی لڑائی کی بنیاد پر نکالا تھا۔ انڈیا اور پاکستان کے بارے میں یہ تاثر بنا ہوا تھا کہ دونوں ملکوں میں روایتی جنگ کی جو صلاحیت ہے اس میں انڈیا کو برتری حاصل ہے۔ امریکی کانگریس کی رپورٹ نے اس تاثر کو توڑ دیا ۔ انڈیا کی روایتی جنگ میں برتری کی شبیہ ٹوٹ گئی۔‘
اس جنگ میں انڈیا کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں پروین ساہنی کہتے ہیں کہ ’آج ٹیکنالوجی کے سبب ہر چیز گلوبلائزڈ ہے۔ سٹیلائٹ سے تصاویر ملتی ہیں۔ اس لیے کھل کر بات کرنی بہت ضروری ہو جاتی ہے۔ اگر کھل کر بات نہیں کریں گے تو آپ کے بیانیے کے بارے میں لوگوں کے ذہن میں شک و شبہات پیدا ہوں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے جنگ کے سب سے اہم دن یعنی پہلے دن کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں جبکہ پاکستان کی فضائیہ نے انٹرنیشنل میڈیا کو بریفنگ بھی دی۔ اس کے بارے میں تفصیل سے وضاحت بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کہہ دیا کہ پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرا دیے ہیں۔
’انڈیا کی طرف سے اس کا جواب آنا چاہیے تھا لیکن انڈیا خاموش رہا۔ انڈیا کا تجزیہ پانچ مہینے بعد سامنے آیا جب فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے بنگلور میں ایک لیکچر میں کہا کہ انڈین فضائیہ نے پاکستان کے پانچ فائٹرز گرائے تھے لیکن اس بیان کو کسی نے اہمیت نہیں دی اور نہ ہی یہ انٹرنیشنل میڈیا میں دکھائی دیا ۔انڈیا کی جو پوزیشن تھی اسی کی تفصیلات آنی چاہییں تھیں۔ انڈیا نے وہ موقع کھو دیا تھا۔‘
سرکردہ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی انڈیا – پاکستان جنگ کے بارے کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے پنجاب سے کشمیر اور گجرات کے بھج سیکٹر تک فضائی حملے کیے تھے لیکن انڈیا کا جو فضائی دفاعی گریڈ سسٹم تھا وہ تین سے چار دفاعی دائروں پر محیط تھا۔ اس میں ایس – 400 سب سے پہلا اور موثر دفاعی دائرہ تھا ۔انڈیا نے جو دفاعی شیلڈ بنائی تھی اس سے انڈین فوجی اڈوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچ سکا۔‘
راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’سرکاری طور پر انڈیا نے یہ کبھی قبول نہیں کیا کہ اس کا کوئی جنگی جہاز گرا ہے یا اسے کوئی بڑا نقصان پہنچا ہو لیکن غیر سرکاری طور پر سننے میں آتا ہے کہ چار یا پانچ جہاز گرائے گئے ہیں۔ ان کے ملبے جموں، بھٹنڈہ اور پٹھان کوٹ کے پاس ملے تھے۔ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے بھی کہا تھا کہ 13 پاکستانی جہاز گرائے گئے لیکن اپنے جہازوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل چوہان نے بھی کہا کہ لڑائی میں تو نقصان ہوتے ہی ہیں لیکن انھوں نے بھی کوئی تفصیل نہیں دی۔
’اب ایک سال گزر چکا ہے اگر اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار آنے ہوتے تو اب تک آ گئے ہوتے۔ یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اگر کوئی پائلٹ مر جاتا تو آخری رسوم وغیرہ سے لوگوں کو پتا چل جاتا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے مقابلے انڈیا کا نقصان بہت کم ہوا ہے۔‘
آبزرور ریسرچ فاؤندیشن کے محقق اور تجزیہ کار منوج جوشی کا کہنا ہے پاکستان نے جو دعوے کیے تھے ان کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے انڈیا کے ایس – 400 دفاعی نظام کو تباہ کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جہازوں کے گرنے کے ثبوت تو ہیں لیکن وہ کس کا جہاز تھا، کہاں سے آیا تھا اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔‘
سو بیانیے کی اس جنگ میں پاکستان ہو یا انڈیا دونوں اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن اس صورتحال میں بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ انڈیا اپنی جنگی کارروائی اور نقصانات کے بارے میں پوری معلومات دینے سے گریز کر رہا ہے۔
انڈیا نے مئی 2025 کی عسکری کارروائی کے بعد 30 سے زیادہ ملکوں میں پارلیمانی وفود بھی بھیجے تاکہ وہ انھیں انڈیا کے موقف کا ہمنوا بنا سکے۔ اس سلسلے میں حکومت کو کچھ حد تک کامیابی ضرور ملی لیکن انڈیا کے بیانیے کو عمومی قبولیت نہیں مل سکی ہے۔