آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’خواتین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی اقدام‘: کراچی میں عورت مارچ کی رہنماؤں کی گرفتاری اور رہائی
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’آپ اونچی آواز میں بات کر رہی ہیں، گدھے جیسی آواز ہوتی ہے اونچی۔‘
یہ الفاظ ہیں کراچی پولیس کے ایک افسر کے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نامور کتھک ڈانسر اور عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی سے ان کی گرفتاری سے قبل بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کے احتجاج کے باوجود انھیں ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
کراچی پولیس نے منگل کی شام کو عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی، منیزہ احمد، سفینہ جاوید اور شہزادی رائے سمیت کئی خواتین کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جو 10 مئی کو عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے آئی تھیں تاہم انھیں کراچی پریس کلب کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
جب خواتین پولیس اہلکار شیما کرمانی کو گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں بٹھا رہی تھیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی خواتین رہنماؤں کو مخاطب کر کے کہہ رہیں تھیں: ’شہلا رضا، شیری رحمان، پولیس 75 سالہ عورت سے ایسے پیش آ رہی ہے، یہ طریقہ ہے ان لوگوں کو۔‘
اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان تھانہ ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
شیما کرمانی اور دیگر حقوق نسواں کی کارکنوں کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ کمیشن شیما کرمانی اور عورت مارچ کے دیگر منتظمین کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے اور پرامن احتجاج تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیشن کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع اور نہایت تشویشناک رجحان کا حصہ ہے، جس میں شہریوں کو اپنے حقوق کے اظہار کے لیے عوامی جگہوں سے منظم طریقے سے محروم کیا جارہا ہے۔‘
ایکس پر صحافی طوبیٰ سید لکھتی ہیں کہ ’پیپلز پارٹی کی جمہوریت کا عملی مظاہرہ۔ شیما کرمانی، جو 75 سال کی ہیں اور ملک کی نہایت معزز فنکار خواتین میں شمار ہوتی ہیں، ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔‘
لمز یونیورسٹی کی استاد اور ایکٹوسٹ ندا کرمانی لکھتی ہیں کہ عورت مارچ کراچی کی ٹیم کے کئی ارکان کو کراچی پریس کلب میں ایک پہلے سے بُک پریس کانفرنس کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔
’بظاہر اب سندھ حکومت میں پریس کانفرنسز کی بھی اجازت نہیں رہی۔‘
آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ لینا غنی لکھتی ہیں کہ ’یہ واضح طور پر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش اور خواتین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی اقدام ہے۔‘
شیما کرمانی اور عورت مارچ کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور شدید ردِعمل سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی جنوبی کو ہدایت کی گئی ہے کہ گرفتار خواتین رہنماؤں کو رہا کیا جائے جس کے بعد تمام خواتین رہنماؤں کی رہائی عمل میں آئی۔
اپنی رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیما کرمانی نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد کیا گیا اور ایسا ایک ایسی جماعت کی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے، جس کی ماضی میں سربراہ ایک خاتون رہی ہیں۔
ان کا اشارہ سابق وزیرِ بےنظیر بھٹو کی طرف تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو پنک سکوٹر دینے کا کیا فائدہ، جب انھیں اتنی آزادی بھی نہ ہو؟‘
بعد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شیما کرمانی نے دعویٰ کیا کہ جب وہ تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ انہیں کیوں لایا گیا۔
’تھانے کے اہلکار ہم سے پوچھ رہے تھے کہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے جو آپ کو یہاں لایا گیا؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا، مکمل افراتفری تھی۔‘
عورت مارچ نے 10 مئی کو کراچی کے ساحلی مقام سی ویو پر ’ماؤں کے عالمی دن‘ پر عورت مارچ کا اعلان کیا ہے۔
شیما کرمانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس پروگرام کی این او سی کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست دی ہے لیکن مسلسل ٹال مٹول کی جا رہی ہے اور اجازت نہیں مل رہی۔
’ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور یہ دن ہم ضرور منائیں گے۔ ہم نے جمعے کو آصفہ بھٹو کو خط لکھا، جس میں ہم نے پوچھا ہے کہ کیا پہلی خاتون وزیرِاعظم والی حکومت خواتین سے خوفزدہ ہے؟‘
حکومت کا مؤقف
دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے محکمے کے پاس ابھی تک این او سی کی درخواست نہیں آئی، ’اگر کسی کلرک کے پاس جمع کروائی گئی ہے تو وہ اس سے لاعلم ہیں۔‘
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ پولیس کا اس طرح کا رویہ کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں، نہ پیپلز پارٹی کے لیے اور نہ ہی حکومت کے لیے۔
’اگر کسی کے خلاف کوئی ٹھوس چیز ہے تو آپ اسے گرفتار کریں لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی خاتون کو گاڑی سے گھسیٹا جائے۔‘
ریلی کی این او سی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کی وجہ سے ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی ہے لیکن بعض صورتوں میں محکمہ داخلہ استثنیٰ بھی دیتا ہے جس طرح یوم مزدور پر ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔
کراچی میں ریلیوں کے شرکا پر تشدد کے واقعات
کراچی میں انسانی حقوق، حقوق نسواں اور اقلیتی حقوق کی ریلیوں پر پولیس تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔
اس سے قبل گذشتہ برس پریس کلب پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھار کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے خلاف ریلی کے شرکا پر بھی تشدد کیا گیا تھا۔
اس کے بعد تین تلوار پر روھڑی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی بچی پریا کماری کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر لاپتا بلوچ اور سندھی قوم پرست کارکنوں کی رہائی کے لیے آنے والے کارکنوں پر بھی تشدد اور گرفتاریوں کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے شیما کرمانی اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔
جس کے بعد بدھ کے روز وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان تھانہ ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اور خواتین کے احترام اور حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
دوسری جانب شیما کرمانی کہتی ہیں کہ ’ہم پچھلے آٹھ سال سے عورت مارچ کر رہے ہیں، ہمیں ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے تنگ کیا گیا، خاص طور پر 8 مارچ سے پہلے مگر حالات پچھلے دو تین سال میں خراب ہوئے ہیں۔‘
شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ ’شاید ریاست عورتوں سے خوف زدہ ہے کہ وہ آواز نہ اٹھائیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ایک طرف عورتوں پر ظلم ہو، انھیں مارا جائے، جلایا جائے اور کوئی اس پر بات بھی نہ کرے؟‘
’انھیں اس سے بھی مسئلہ ہے کہ ہم جبری لاپتا کیے گئے لوگوں، سندھی عورتوں اور بلوچ عورتوں کے لیے آواز کیوں اُٹھاتے ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے، ہم کیوں نہ آواز اٹھائیں؟‘