امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک گر گئی جو دن کے آغاز میں 108 ڈالر سے زیادہ تھی، تاہم بعد میں قیمت میں کچھ بہتری آئی۔
یورپ میں لندن کا ایف ٹی ایس ای 100 اور جرمنی کا ڈیکس انڈیکس دو فیصد سے زیادہ بڑھا، جبکہ فرانس کا انڈیکس 40 تین فیصد اوپر گیا۔ ایشیائی سٹاک مارکیٹس بھی مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔
یہ پیش رفت اس رپورٹ کے بعد ہوئی جس میں خبر رساں ادارے ایکسیوس نے کہا کہ امریکہ ایک ایسی مختصر دستاویز کے قریب ہے جو جنگ کے خاتمے اور بعد میں جوہری مذاکرات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس کے باوجود تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح یعنی تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہیں۔ جنگ کے باعث خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
تنازع کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ راستہ کئی ہفتوں سے مؤثر طور پر بند رہا ہے، جس کے باعث عالمی گیس کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔
ادھر سٹاک مارکیٹس میں یورپ کی بڑی منڈیاں اب بھی فروری کے آخر کی سطح سے نیچے ہیں جبکہ امریکہ کا ایس اینڈ پی 500 انڈیکس بلند سطح پر ہے۔
واضح رہے کہ آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہواتھا جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی اور سٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی رہنمائی کرے گی جسے انھوں نے پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم منگل کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ اس کارروائی کو مختصر مدت کے لیے روک رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کو روکنے کا عمل جاری رکھے گا، جس کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے۔