آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز زیرِ غور، امید ہے چین امن کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا: ایران

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے ان تجاویز پر اپنے مؤقف سے ثالث پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ چین امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن بمباری کی جائے گی۔
  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں 'ہم نے فریقین کو باور کروایا کہ دفاعی معاہدے کے باعث سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے'
  • آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم روکنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ: شہباز شریف
  • امریکہ سے مذاکرات میں صرف ’منصفانہ‘ معاہدہ ہی قبول کریں گے: ایران
  • جنگ کا دوبارہ شروع ہونا قابل قبول نہیں: چینی وزیر خارجہ

لائیو کوریج

  1. ہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کریں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ یہ کام کیسے کرے گا تو صدر نے دوبارہ یہی جواب دیا کہ ’ہم اسے حاصل کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائیوں کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اب تک 408 کلوگرام سے زیادہ اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم حوالے نہیں کر سکا ہے۔

  2. بیروت پر اسرائیلی فوج کے حملے: نیتن یاہو کا حزب اللہ کے سینئر کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت میں حملے کیے ہیں جن کا ہدف حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر تھے۔

    نیتن یاہو کے مطابق انھوں نے وزیرِ دفاع اسرائیل کتز کے ساتھ مل کر فوج کو ہدایت دی کہ وہ ’فوری طور پر بیروت میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنائیں تاکہ اسے غیر موثر بنایا جا سکے۔‘

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ رضوان فورس اسرائیلی بستیوں پر حملوں اور اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کا طویل ہاتھ ہر دشمن اور قاتل تک پہنچے گا‘، اور یہ بھی کہا کہ ’دشمن کے خلاف اسی طرح کارروائی کی جاتی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کی جائے گی۔‘

  3. بریکنگ, امریکی فوج کی خلیجِ عمان میں امریکی کارروائی، ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی فوج کے مطابق ’ایم ٹی حسنا‘ نامی ٹینکر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد متربہ خبردار کرنے کے بعد امریکی بحریہ کے جیٹ طیارے سے کینن گن کا استعمال کرتے ہوئے جہاز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ناکارہ ہو گیا۔`

    امریکی حکام کے مطابق ’ایم ٹی حسنا‘ اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا اور ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے یا جانے والے جہازوں کے خلاف امریکی پابندیاں بدستور نافذ ہیں۔

  4. امریکہ اور ایران میں سے پہلے پیچھے کون ہٹے گا؟, ژیار گُل، بی بی سی فارسی

    امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کی قیادت میں ایک قدر مشترک ہے: دونوں ہی دباؤ کو تسلیم کرنے اور یہ ماننے سے گریز کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ جنگ سے کس قدر بچنا چاہتے ہیں۔

    ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد اب یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے کہ امریکہ اس تنازع سے باہر نکنے کا راشتہ تلاش کر رہا ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک میں اضطراب کو ہوا دی ہے، جس کے باعث واشنگٹن پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ایران کو اس سے کہیں زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ٹرمپ کی طرح اس کی قیادت بھی مکمل طور پر جنگ میں معاشی نقصان اور ان مشکلات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، جن کا سامنا ایرانی عوام کر رہے ہیں۔

    بہت سی فیکٹریوں نے ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے، انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر دی گئی ہے اور وہ لاکھوں افراد جو ڈیجیٹل معیشت پر انحصار کرتے تھے اب روزی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بہت سے گھرانے اب صرف بنیادی ضروریات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    نظریات کے زیرِ اثر ایران میں سخت گیر عناصر اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے شدید انسانی اور معاشی نقصانات کو قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

    ایرانی حکومت کو خطرہ ہے کہ ملک میں دوبارہ بدامنی پھیل سکتی ہے۔ گذشتہ ایک مہینے میں 20 زیادہ سیاسی اسیروں کو سزائے موت دی گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر افراد کو جنوری میں احتجاجی مظاہروں کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان سزاؤں کے ذریعے ایرانی حکام نوجوان افراد کو دوبارہ حکومت کے خلاف اُٹھنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

  5. جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر اپنے مؤقف سے پاکستانی ثالثین کو آگاہ کر دیا ہے: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے۔

    اسماعیل بقائی کا بدھ کو کہنا تھا کہ ایران نے ان تجاویز پر اپنے مؤقف سے ثالث پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔

  6. امید ہے کہ چین امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا: ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ چین امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ چین نے ایران کے قومی اقتدارِ اعلیٰ اور قومی وقار کے تحفظ کے حق کی توثیق کی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے چینی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی چار نکاتی تجویز کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران، چین پر اعتماد کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ وہ امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    بیان کے مطابق ایران نے جنگ کے بعد ایک نئے علاقائی ڈھانچے کے قیام کی حمایت بھی کی ہے جس کا مقصد ترقی اور سلامتی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔

  7. ایران اور امریکہ مذاکرات: معاہدے کے ’قریب‘ پہنچنے کی اطلاعات مگر کوئی سرکاری تصدیق نہیں, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    گذشتہ کئی گھنٹوں سے بین الاقوامی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے ’قریب‘ پہنچ گئے ہیں۔

    ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ وہ کسی معاہدے کے ’قریب‘ ہیں، روئٹرز بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات دیتا ہوا نظر آیا۔

    تاہم پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران متعدد مرتبہ ایسا لگتا رہا ہے جیسے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کسی معاہدے کے تحت اختتام کو پہنچنے والی ہے۔

    اسلام آباد میں گذشتہ مہینے 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران بھی متعدد مرتبہ حکام نے بی بی سی سمیت متعدد اداروں کو ’مثبت پیش رفت‘ کی خبر دی تھی، تاہم مذاکرات کا وہ دور بے نتیجہ رہا تھا۔

    پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث اس بار بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تفصیلات دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کے بیان سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

    بی بی سی نے جب پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے اور اس سے متعلق تفصیلات جاننے کی کوشش کی، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان بطور ثالث و سہولت کار اس وقت تک کسی قسم کی تفصیلات یا معلومات شیئر نہیں کر سکتا، جب تک فریقین اس کی اجازت نہ دیں۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ ٹروتھ سوشل پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں یہ تصدیق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ امریکہ نے مجوزہ معاہدہ ایران کے حوالے کر دیا ہے۔

    انھوں نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن بمباری کی جائے گی۔

    ’فرض کریں کہ اگر ایران معاہدے پرعمل کرنے پر رضامند ہو گیا توامریکی آپریشن کا خاتمہ ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ کا فراہم کردہ مجوزہ معاہدہ زیرِ غور ہے اور پاکستان کے زریعے امریکہ کو جواب دے دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ نے اب تک سرکاری طور پر مجوزہ معاہدے میں درج تفصیلات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تاہم اس سے قبل دو ایرانی ذرائع نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا تھا کہ آبنانے ہرمز کی ناکہ بندی، اس پر ایران کے حق کو تسلیم کرنا اور تہران پر عائد پابندیاں ہٹنے تک براہ راست مذاکرات کے امکانات کم ہیں۔

    ایک ذریعے نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران ابتدائی طور پر جوہری معاملات پر امریکہ کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن اعتماد کی بحالی کے بعد ان معاملات پر بات چیت کو خارج الامکان بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔

  8. امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بیچ تیل کی قیمتوں میں کمی اور مارکیٹس میں تیزی, آسمند چیاند اور مشعیل لابیاک، بزنس رپورٹرز، بی بی سی نیوز

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

    عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک گر گئی جو دن کے آغاز میں 108 ڈالر سے زیادہ تھی، تاہم بعد میں قیمت میں کچھ بہتری آئی۔

    یورپ میں لندن کا ایف ٹی ایس ای 100 اور جرمنی کا ڈیکس انڈیکس دو فیصد سے زیادہ بڑھا، جبکہ فرانس کا انڈیکس 40 تین فیصد اوپر گیا۔ ایشیائی سٹاک مارکیٹس بھی مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔

    یہ پیش رفت اس رپورٹ کے بعد ہوئی جس میں خبر رساں ادارے ایکسیوس نے کہا کہ امریکہ ایک ایسی مختصر دستاویز کے قریب ہے جو جنگ کے خاتمے اور بعد میں جوہری مذاکرات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    اس کے باوجود تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح یعنی تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہیں۔ جنگ کے باعث خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

    تنازع کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ راستہ کئی ہفتوں سے مؤثر طور پر بند رہا ہے، جس کے باعث عالمی گیس کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

    ادھر سٹاک مارکیٹس میں یورپ کی بڑی منڈیاں اب بھی فروری کے آخر کی سطح سے نیچے ہیں جبکہ امریکہ کا ایس اینڈ پی 500 انڈیکس بلند سطح پر ہے۔

    واضح رہے کہ آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہواتھا جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی اور سٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔

    تاہم اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی رہنمائی کرے گی جسے انھوں نے پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    تاہم منگل کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ اس کارروائی کو مختصر مدت کے لیے روک رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کو روکنے کا عمل جاری رکھے گا، جس کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

  9. اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنگ ​​بندی کے باوجود لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ حملے بدھ کے روز جنوبی لبنان کے تقریباً 12 دیہاتوں کے لیے اسرائیل کی طرف سے جاری کردہ انخلا کی نئی وارننگ کے بعد ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے شروع کرنے کا اعلان جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فورسز کے قریب کئی ڈرونز کے پھٹنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

  10. ایران نے معاہدہ قبول نہیں کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن بمباری کی جائے گی۔

    سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ’فرض کریں کہ اگر ایران معاہدے پرعمل کرنے پر رضامند ہو گیا توامریکی آپریشن کا خاتمہ ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔‘

    ساتھ ہی انھوں نے ایران کو دھمکاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’تاہم اگر وہ راضی نہ ہوا تو بمباری شروع ہو جائے گی، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کی سطح اور شدت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔ ‘

  11. فریقین کو باور کروایا کہ سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں ’ہم نے فریقین کو باور کروایا کہ دفاعی معاہدے کے باعث سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے کہ کوئی بھی اس کی جانب آنکھ اٹھا کے نہ دیکھے۔‘

    اسلام آباد میں پاکستان علماء کونسل کے زیرِ اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈا ر نے کہا کہ ’اللہ نے پاکستان کو سعادت بخشی کہ حرمین شریفین کے محافظ ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا معاہدہ گزشتہ سال ہوا اور ہمارا سکورڈن سعودی عرب میں اب بھی موجود ہے۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق ’ایران کہتا تھا کہ امریکی ہماری بیس پر حملے کر رہے ہیں۔’ پاکستان امریکہ اور ایران کو 47 سال کے بعد مذاکرات کی میز پر لایا۔ ہم نے امریکہ ایران سے کہا کہ آپ ساتھ بیٹھیں، ہم سے کہا گیا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھیں۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اس سے پہلے بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’حرمین شریفین کی پاسداری کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کا بے بنیاد الزام لگا کر انڈیا پاکستان پر حملہ آور ہوا، پاکستانی قوم نے معرکۂ حق میں مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

  12. ایران، امریکہ ڈیل کی خبروں کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 7000 پوائنٹس تک کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں اب تک 7000 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    آج صبح مارکیٹ میں کاروبار کا اغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں کچھ اضافہ ہوا تاہم مارکیٹ میں اس وقت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیل کے سلسلے میں پیش رفت کی خبر سامنے آئی۔

    مارکیٹ انڈیکس 7000 پوائنٹس سے زائد اضافے کے بعد 172088 پوانٹس کی حد تک جا پہنچا۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے انڈیکس میں اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان کے ڈیل کے سلسلے میں پیش رفت کو قرار دیا ہے۔

    جے ایس گلوبل میں کام کرنے والے تجزیہ کار وقاص غنی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے ون پیج میمو کے سمجھوتے کی خبر ہے تاکہ جنگ ختم کی جا سکے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس خبر کے آنے کے بعد مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو اور کاروبار کا رجحان مثبت ہوگیا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔

  13. کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت، تین اہلکار گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت پر مقدمہ درج کر کے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق سفیر احمد باجوہ نامی نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب، سمنگلی روڈ پر اُس وقت پیش آیا جب سفیر احمد اپنے بھائی کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے یونیورسٹی کے سامنے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم گاڑی نہ رکنے پر پولیس نے تعاقب کیا اور سمنگلی روڈ پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں سفیر احمد باجوہ کے سر پر گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق فائرنگ کے الزام میں ایک اے ایس آئی سمیت تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

    سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی ایس ایس پی سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کی سربراہی میں کام کرے گی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

    خیال رہے کہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے گذشتہ تین سے چار ہفتوں کے دوران کوئٹہ میں کسی نوجوان کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل نوشکی سے تعلق رکھنے والے نوجوان خالد ساسولی بلوچستان یونیورسٹی کے قریب، مبینہ طور پر نہ رکنے پر، پولیس کے ایگل سکواڈ کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

  14. آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم روکنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ: شہباز شریف

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم معطل کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں شہباز شریف نے لکھا: ’پاکستان، سعودی عرب اور دیگر برادر ممالک کی درخواست پر صدر ٹرمپ کا مثبت رد عمل خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘

    شہباز شریف کے مطابق پاکستان مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پر امن حل کی حمایت کرتا ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے ایک ایسے دیر پا معاہدے کے لیے امید ظاہر کی جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنائے گا۔

  15. امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں صرف ایک ’منصفانہ اور جامع‘ معاہدہ ہی قبول کریں گے: ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بیجنگ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات ہوئی۔

    خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران صرف ایک ’منصفانہ اور جامع معاہدہ‘ ہی قبول کرے گا۔

    ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے روئیٹرز نے رپورٹ کیا کہ وانگ یی سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف تھا: ’مذاکرات میں ہم اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پوری کوشش کریں گے۔‘

    جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ چین دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ پر ’شدید تشویش‘ کا شکار ہے اور اس صورتحال میں ایک ’جامع جنگ بندی‘ ناگزیر ہے۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ایرانی وزیر خارجہ کا چین کا پہلا دورہ تھا۔

    اے پی کے مطابق ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر ایک جامع جنگ بندی کی ضرورت ہے، جنگ کا دوبارہ شروع ہونا قابل قبول نہیں، اور یہ خاص طور پر ضروری ہے کہ مکالمے اور مذاکرات کے لیے عزم برقرار رکھا جائے۔‘

  16. ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب نقل و حرکت انتہائی محدود

    بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آج بھی آبنائے ہرمز کے اطراف جہازوں کی نقل و حرکت نہایت کم ہے۔

    تنازع کے دوران علاقے میں جہازوں کی درست نقل و حرکت کی تصدیق مشکل رہی ہے، کیونکہ بعض جہازوں نے اپنے ٹرانسپونڈر بند کر دیے ہیں، جبکہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) میں بھی خلل آ رہا ہے اور معتبر معلومات ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    معمول کے حالات میں دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔

    دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی تجارت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے لیے خوراک، ادویات اور ٹیکنالوجی جیسی اہم درآمدات بھی یہاں سے ہی ہوتی ہیں۔

    تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد ایران نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی ٹریفک کو بہت محدود کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی الگ ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔

    پینٹاگون نے منگل کو بتایا کہ خلیج میں موجود 1550 جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران پھنسے ہوئے ہیں۔ رسد میں کمی اور جہاز پر موجود عملے کی جسمانی و ذہنی صحت پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

  17. پراجیکٹ فریڈم: آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے ٹرمپ کا وہ منصوبہ جو معطل کر دیا گیا

    جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کی گئی کارروائی معطل کر دی ہے۔

    ’پراجیکٹ فریڈم‘ نامی اس کارروائی کا اعلان امریکی صدر نے اتوار کو کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خلیج میں پھنسے جہاز رانوں کی مدد کے لیے ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت اٹھایا جانے والا قدم ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا تھا کہ یہ علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے ’انتہائی ضروری‘ ہے۔

    ایران نے جواب میں کہا کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو وہ انھیں نشانہ بنائے گا، جبکہ بعد ازاں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سینٹکام نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات ’چھوٹی کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس دعوے کی تردید ایران نے کی۔ بعد ازاں امریکی صدر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو اسے ’صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔‘

    منگل کے روز ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

    اسی روز بعد میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی ’قلیل وقت کے لیے‘ معطل کر دی جائے گی اور کہا کہ یہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ہونے والی ’بڑی پیش رفت‘ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق خلیج میں 1550 تجارتی جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران پھنسے ہوئے ہیں۔

  18. ایران پراجیکٹ فریڈم کی معطلی کو اپنی فتح قرار دے سکتا ہے, رپورٹر وائٹ ہاؤس، برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    پروجیکٹ فریڈم میں ’وقفے‘ کے اعلان سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ سے بہت سے لوگ حیران ہوئے ہوں گے۔

    ٹرمپ کے بیان سے وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین کے مؤقف کو زک پہنچی ہے جو اپنے بیانات میں مسلسل اس عزم کا اظہار کر رہے تھے کہ پراجیکٹ فریڈم آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جہازوں اور تجارت کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائے گا۔

    اب اس کے بعد کیا ہو گا، یہ واضح نہیں۔

    اس سے قبل یہ بات واضح کی گئی تھی کہ پراجیکٹ فریڈم ناکہ بندی سے ’الگ اور منفرد‘ مہم ہے جس کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے۔

    پراجیکٹ فریڈم کا مقصد خطے سے تیل کی ترسیل بحال کرنے اور عالمی معیشت کی بتدریج معمول پر واپسی میں مدد دینا تھا۔

    اگر اس ’وقفے‘ کے دوران عالمی شپنگ کمپنیاں اور ان کے ساتھ کام کرنے والی انشورنس کمپنیاں یہ محسوس کرتی ہیں کہ ایرانی مداخلت کے باعث ان کے لیے آمد و رفت ممکن نہیں، تو ٹرمپ کے لیے یہ دعویٰ کرنا انتہائی مشکل ہو گا کہ انھوں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

    دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کو امید ہو گی کہ پراجیکٹ فریڈم کے منجمد کرنے کو ایران ایک ایسے اشارے کے طور پر دیکھے جو اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دے۔

    اس دوران، ایران غالباً اس وقفے کو اپنی فتح کے طور پر پیش کرے گا۔

  19. آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا تسلسل، آسٹریلیا نے ایندھن کے ذخائر بڑھانے کے لیے سات ارب ڈالرز مختص کر دیے

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 ارب آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 7.2 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرے گی۔

    اس منصوبے کے تحت آسٹریلیا سرکاری طور پر تقریباً ایک ارب لیٹر پر مشتمل ایندھن کا ذخیرہ قائم کرے گا، جو ملک کی توانائی ضروریات کو 50 دن تک پورا کرنے کے لیے کافی ہو گا۔

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  20. سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں: اعلیٰ عدلیہ میں اختیار سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں سب سے زیادہ اختیار کے سوال پر اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ آئینی طور پر خودمختار عدالتیں ہیں، اور کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یکم اپریل 2026 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔

    13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت کے سامنے تین سول پٹیشنز، ایک سول متفرق درخواست اور توہینِ عدالت کی فوجداری نوعیت کی دو درخواستیں زیرِ سماعت تھیں، جن میں بنیادی نکتہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد دائرہ اختیار کے تعین سے متعلق تھا۔

    عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے طے کیے گئے قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لاگو ہوں گے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک عدالت دوسری کے تابع ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 175 ایف کے تحت ہائی کورٹس کے وہ مقدمات جو آئینی دائرہ اختیار، یعنی آرٹیکل 199 کے تحت آتے ہیں، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے، جبکہ دیگر سول یا فوجداری اپیلیں بدستور آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 189(1) کو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد کے آئینی ڈھانچے کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے، جو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ تقسیم ہر عدالت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں خصوصی اختیار دیتی ہے اور اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ ایک عدالت دوسری کے ماتحت ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 189(1) کی وسیع تشریح کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک اعلیٰ عدالت کو دوسری کے تابع کر دیا جائے، جو آئین میں کہیں درج نہیں۔

    عدالت کے مطابق آرٹیکل 189(1) عدالتوں کے آزادانہ اختیارات کو ختم نہیں کرتا۔