لائیو, ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور پراجیکٹ فریڈم کی معطلی کا اعلان، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیشرفت‘ اور ’پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست‘ پر آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے شروع کیا گیا ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ وقت کے لیے روکا جا رہا ہے۔ آج کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد کم ہو کر 108 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والا تیل 1.6 فیصد کمی سے 100.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ معاہدے پر ’بڑی پیشرفت‘ کے بعد ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ وقت کے لیے روکا جا رہا ہے: امریکی صدر ٹرمپ
  • ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے جاری ’پراجیکٹ فریڈم‘ کو قلیل مدت کے لیے روکنے کا فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک‘ کی درخواست پر کیا۔
  • ایران کے خلاف جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا، تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنا چاہیے: مارکو روبیو
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بیجنگ میں چینی ہم منصب سے ملاقات
  • متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس پر ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی نوعیت کے حملے نہیں کیے

لائیو کوریج

  1. ناروے کا یورپ کے لیے گیس فیلڈز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

    یورپ کو گیس فراہم کرنے کے لیے ناروے نے بحیرۂ شمال میں تین گیس فیلڈز دوبارہ کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے، جو سنہ 2028 میں دوبارہ پیداوار شروع کریں گی۔

    یہ بات وزارت توانائی کے اعلان میں بتائی گئی۔

    یورپ کے سب سے بڑے گیس برآمد کنندہ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے یورپ کی گیس سپلائی کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یہ تینوں فیلڈز سنہ 1998 میں بند کر دی گئی تھیں۔ تخمینہ ہے کہ ان میں موجود ذخائر نو کروڑ سے 12 کروڑ ملین بیرل تیل کے برابر ہو سکتے ہیں۔

    ان فیلڈز سے گیس جرمنی کے شہر ایمڈن تک برآمد کی جائے گی، جبکہ اسے مائع حالت میں منتقل کر کے برطانیہ بھی بھیجا جائے گا۔

  2. امریکہ ایران معاہدے کی امید اور پراجیکٹ فریڈم روکنے پر تیل کی قیمتوں میں نرمی, اوسمانڈ چیا، بزنس رپورٹر

    تیل نکالنے والی مشینری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید دلائی تو بدھ کے روز ایشیا میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اہم تجارتی آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے اپنا آپریشن معطل کرے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

    آج بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد کم ہو کر 108 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والا تیل 1.6 فیصد کمی سے 100.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

    مشرق وسطیٰ میں حملوں میں شدت آنے کے باعث ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں چھ فیصد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں، تاہم اس کے بعد بتدریج کمی آئی ہے۔

    28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

    دنیا میں تیل اور گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

    آٹھ اپریل کو اعلان کردہ اور بعد ازاں توسیع دی گئی امریکہ، ایران مشروط جنگ بندی کے بعد سے مجموعی طور پر تیل کی قیمتیں بلند رہی ہیں۔

    ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر کہا کہ پراجیکٹ فریڈم (امریکی قیادت میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزارنے کی کارروائی کے لیے دیا گیا نام) کو قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا۔

    سرمایہ کاری کی کمپنی ساکسو سے وابستہ چارُو چنانا کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے پراجیکٹ فریڈم کا معطل کیا جانا ’اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہے۔‘

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی فیصلہ کن موڑ نہیں ہے۔

    سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی ماہر چنانا نے کہا: ’تیل کے تاجروں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت دوبارہ کھولنے میں حقیقی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اس کے بہت کم شواہد موجود ہیں۔‘

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی صحافیوں سے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ابتدائی کارروائی ختم ہو چکی ہے کیوں کہ واشنگٹن کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔

    روبیو نے کہا: ’ہم امن کے راستے کو ترجیح دیں گے۔ صدر کی ترجیح ایک معاہدہ ہے۔‘

    ایران نے روبیو کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ تاہم ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے اس سے پہلے کہا تھا: ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے نا قابل برداشت ہے، جبکہ ہم تو ابھی آغاز کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ کے بقول، پراجیکٹ فریڈم کا مقصد آبی راستے کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو آسان بنانا تھا، تاہم اس اقدام نے دونوں جانب کی جنگ بندی کو آزمائش میں ڈال دیا تھا۔

    امریکہ نے کہا کہ اس نے آبنائے میں ایران کی متعدد ’تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر اپنی ایک آئل پورٹ پر حملے کا الزام عائد کیا۔ تہران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

  3. پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش کا اعلان

    امریکی محکمۂ خارجہ نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی مرحلہ وار بندش کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی معاملات کی ذمہ داری اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائے گی، ’یہ فیصلہ ہمارے سفارتی عملے کی سلامتی اور وسائل کے مؤثر انتظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

    امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پشاور میں قونصل خانہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسی ترجیحات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

    بیان کے مطابق ’ہم خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ با معنی روابط جاری رکھیں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے، علاقائی سلامتی کو تقویت دی جا سکے اور امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ، پاکستان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم رہے گا۔

  4. جرمنی نے لبنان پر اسرائیلی حملے کی مشروط حمایت کا اعلان کر دیا

    جرمن وزیر خارجہ جوہان فادیپول اور اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون سآر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورۂ برلن کے دوران ان کے جرمن ہم منصب نے لبنان پر اسرائیل کے عسکری حملے کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے، تاہم انھوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تنقید بھی کی۔

    جوہان فادیپول نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون سآر سے ملاقات کے بعد اسرائیل کے لیے جرمنی کی مضبوط حمایت پر زور دیا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ قریبی اتحاد کا مطلب ’مشکل معاملات سے گریز‘ نہیں ہوتا۔

    لبنان میں جنگ بندی کے نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی افواج نے حملے جاری رکھے، لبنان کی سرحد سے 10 کلومیٹر اندر جا کر ایک بفر زون قائم کیا اور لبنانی شہریوں اور ذرائع ابلاغ کو وہاں داخل ہونے سے روک دیا۔

    سآر نے فوجی کارروائیوں کے تسلسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو اس علاقے میں سرگرم ہیں اور اسرائیل پر حملے کرتے ہیں۔

  5. چین اور ایران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات

    چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے بتایا ہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کے روز بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے مذاکرات کیے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا تھا کہ عراقچی وانگ کے ساتھ ’دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی پیش رفت‘ پر بات چیت کریں گے۔

  6. ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے فیفا سے ٹھوس ضمانت چاہیے: صدر ایران فٹبال فیڈریشن

    ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج

    ،تصویر کا ذریعہFIFA via Getty Images

    ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے سنہ 2026 کے ورلڈ کپ میں ایرانی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے کہا: ’ہم ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن ہماری روانگی اس بات سے مشروط ہے کہ فیفا کے صدر اور سیکریٹری جنرل کے ساتھ ایک ملاقات ہو، جس میں وہ ہمیں ٹھوس ضمانت دیں۔‘

    مہدی تاج کے مطابق یہ ’ٹھوس ضمانت‘ اس بات پر مشتمل ہے کہ ’عسکری فورسز، بالخصوص پاسداران انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عہدے داروں کی توہین نہ کی جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ضمانت ’کینیڈا جیسا واقعہ‘ دوبارہ ہونے سے روکے گی۔

    مہدی تاج کا کہنا تھا: ’ہمیں امریکہ سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم خود ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہوئے ہیں اور ہمارا میزبان فیفا ہے، نہ کہ امریکہ اور نہ ہی مسٹر ٹرمپ۔‘

    ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے مزید کہا: ’اگر وہ ہماری میزبانی کو قبول کریں اور ہمارے فوجی اداروں کی توہین نہ کریں تو ہم جائیں گے، ورنہ انھیں وہی ردِ عمل دیکھنا پڑے گا جو کینیڈا میں دیکھا گیا تھا۔ (اس صورت میں) ایرانی ٹیم واپس آ سکتی ہے۔‘

    ورلڈ کپ 2026 کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کی میزبانی میں 11 جون سے منعقد ہو گا۔ ایران مصر، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ کے ساتھ ایک گروپ میں شامل ہے۔ ایران کے میچ لاس اینجلس اور سیاٹل میں کھیلے جائیں گے۔

  7. دبئی کے قریب ایک فرانسیسی مال بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات

    امریکا میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس میں دبئی کے قریب ایک مال بردار جہاز کو ممکنہ طور پر کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے چند ارکان زخمی ہوئے ہیں۔

    ان حکام کے مطابق، فرانسیسی کمپنی سے تعلق رکھنے والا جہاز، سی جی ایم سان انتونیو، مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات دیر گئے نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز اسی دن دوپہر تک دبئی کے قریب موجود تھا، تاہم جہازوں کی نگرانی کے عوامی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد وہ اپنی جگہ سے منتقل ہوا یا نہیں۔

    برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ منگل کے روز اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’ایک مال بردار جہاز کو نا معلوم میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اتوار کے روز سے اب تک، اس مرکز نے خطے میں جہازوں کے ساتھ پیش آنے والے مزید تین واقعات کی اطلاع دی ہے، جن میں ایک آتش زدگی، ایک میزائل کے ذریعے حملہ اور چھوٹی کشتیوں کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ایک حملہ شامل ہے۔

  8. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین پہنچ گئے

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین پہنچ گئے

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کی صبح ایک سفارتی وفد کے ہمراہ چین کے دار الحکومت بیجنگ پہنچے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کرنا ہے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔

    چین ایران کا سب سے نمایاں تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، اور اس نے تہران پر عائد امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔

    عراقچی کا یہ دورہ ایسے اہم وقت میں ہو رہا ہے جب 14 اور 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ طے ہے۔

    اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ عراقچی پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ چینی عراقچی کو وہ بات کہیں گے جو کہنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ آپ آبنائے (ہرمز) میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کو بین الاقوامی طور پر تنہا کر رہا ہے۔‘

  9. ایران سے معاہدے پر ’بڑی پیشرفت‘ کے بعد ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ وقت کے لیے روکا جا رہا ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی آپریشن کو ’کچھ وقت کے لیے‘ روکا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایک دن قبل شروع ہونے والا ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہونے کے باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر‘ کیا ہے، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

    سماجی رابطے کے اپنے آن لائن پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی۔ اور پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا کہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے اسے فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے۔‘

    امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا حملہ، آپریشن ایپک فیوری، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔

  10. ایرانی افواج نے متحدہ عرب امارات پر حملے نہیں کیے، کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا: پاسدارنِ انقلاب

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    آئی آر آئی بی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے گذشتہ چند دنوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی نوعیت کے میزائل یا ڈرون حملے نہیں کیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اپنی کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اور یہ کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بھی اس نے 15 ایرانی میزائل اور چار ڈرونز کو ناکارہ بنایا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے سوموار کے روز ایک حملے کے بعد متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ پر لگنے والی آگ کی دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے اس یا کسی دوسرے حملے کا وہ ذمہ دار نہیں ہے۔

  11. ایران کے خلاف جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا، تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنا چاہیے: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہCQ-Roll Call, Inc via Getty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو ’مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک جو اس تنازع میں فریق نہیں وہ بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ امریکی وزیر کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کے باعث نہ صرف ان ممالک کا سامان بلکہ ان کے شہریوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

    آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر خوراک اور پانی کی کمی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات کے باعث ’کم از کم دس ملاح پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    روبیو نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک نے امریکہ سے اپنے پرچم بردار کمرشل جہازوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیاں مکمل طور پر ’دفاعی‘ نوعیت کی ہیں۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم تب تک فائر نہیں کرتے جب تک ہم پر پہلے فائر نہ کیا جائے۔‘

    مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ’آپریشن ایپک فیوری — جو ایران کے خلاف ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملے کا نام تھا — مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپریشن ایپک فیوری آپریشن کے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا جارحانہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرے اور ایسا سفارتی راستہ اختیار کرے جو ’تعمیرِ نو، خوش حالی اور استحکام‘ کی طرف لے جاتا ہو۔

    ’ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور شرائط قبول کرنی چاہییں۔‘

  12. امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنا کر ’دنیا پر احسان‘ کر رہا ہے: مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بین الاقوامی قانون ’بالکل واضح‘ ہے کہ ’کوئی بھی ملک ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ یہ طے کرے کہ کون اس آبی راستے کو استعمال کرے گا اور کون نہیں۔

    روبیو نے ایرانی اقدامات کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کی کہ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج اس دفاعی آپریشن، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، کو وسعت دے رہی ہے تاکہ کمرشل جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کر ’دنیا پر احسان‘ کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جو جہاز پھنسے ہوئے ہیں، ان پر دیگر ممالک کے عوام کے لیے ضروری سامان موجود ہے، جن میں ایندھن، کھاد اور انسانی امداد شامل ہے۔

    ’یہ ان کے جہاز ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں، ہمارے نہیں۔‘

    ایرانی جوہری پروگرام کے متعلق سوال

    وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی اشارے ملتے ہیں کہ تہران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔

    مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران ’ہمیشہ‘ سے کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا لیکن وہ اس بارے میں سچ نہیں بول رہے۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے امریکہ جنوبی کوریا اور جاپان سے ’زبردست معاہدے‘ کر رہا ہے۔ جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ ایران کی جانب سے ایسے کیا اقدامات ہیں جو سیز فائر کی خلاف ورزی تصور کیے جا سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ جانتے کہ کیا نہیں کرنا چا ہیے۔‘
    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا جا چکا ہے۔
    • ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
    • متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس پر ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنا رہا ہے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔