ہانٹا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہانٹا وائرس ایک نایاب مگر خطرناک وائرس ہے جو انسانوں میں زیادہ تر چوہوں اور دوسرے کترنے والے جانوروں سے منتقل ہوتا ہے۔
ادارے کے مطابق یہ وائرس متاثرہ چوہوں کے پیشاب، پاخانے یا لعاب کے ذرات کی گرد سانس کے ذریعے اندر جانے سے انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔
اس کی علامات کیا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہانٹا وائرس کی علامات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متاثرہ فرد کو بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، شدید تھکن اور متلی یا الٹی کی شکایت ہو سکتی ہے تاہم اس کے شدید ہونے کی صورت میں یہ وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتا ہے جس کی وجہ سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق اس وائرس کے شکار افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری، کھانسی، سینے میں جکڑن جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ادارے کے مطابق اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں تاہم علامات کو دیکھتے ہوئے اس مرض پر دیگر ادویات کی مدد سے قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بچاؤ کیسے کریں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں اور گوداموں میں چوہوں کو خاتم کیا جائے، صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانے استعمال کریں، جھاڑو دینے کے بجائے گیلے کپڑے سے صفائی کریں تاکہ صفائی کی صورت میں دھول مٹی نا اُڑے اور یہ سانس کے ساتھ پھیپھڑوں کو متاثر نہ کرے۔
اسی کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا بند ڈبوں میں رکھیں اور اگر چوہوں والی جگہ پر رہنے کے بعد بخار یا سانس کی تکلیف ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔









