ڈھاکہ ٹیسٹ: ڈیبو کرنے والے اذان اویس اور عبداللہ فضل کا اچھا آغاز، شاہین آفریدی کے ’پیس‘ پر بحث

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ڈھاکہ میں جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز پاکستان نے بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کے سکور 413 کے تعاقب میں ایک وکٹ کے نقصان پر 179 رنز بنا لیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبو کرنے والے اذان اویس 85 جبکہ عبداللہ فضل 37 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔

پاکستان کے کپتان شان مسعود نے جمعے کو ٹاس جیت کر پہلے بنگلہ دیش کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی تاہم اُن کا یہ فیصلہ درست ثابت نہیں ہو سکا۔ دو وکٹیں جلد گنوانے کے باوجود بنگلہ دیش کی ٹیم پہلی اننگز میں 413 رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

بنگلہ دیش کی جانب سے نجم الحسن شنتو سنچری جبکہ مومن الحق 91 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے پانچ، شاہین شاہ آفریدی نے تین جبکہ حسن علی اور نعمان علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ڈھاکہ کے شیر بنگلہ کرکٹ سٹیڈیم میں جاری اس ٹیسٹ میچ کی پچ کو فاسٹ بولنگ کے لیے سازگار سمجھا جا رہا ہے اور وکٹ پر کچھ گھاس بھی چھوڑی گئی ہے۔

خیال رہے کہ بابر اعظم زخمی ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں شرکت نہیں کر رہے تاہم اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں پراعتماد بلے بازی کرنے والے اذان اویس کی سوشل میڈیا پر تعریفیں ہو رہی ہیں۔

فاسٹ بولنگ کے لیے سازگار سمجھی جانے والی پچ میں بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر ناہید رانا کو پاکستانی بلے بازوں کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا لیکن اذان اویس اُن کے خلاف جارحانہ انداز میں بلے بازی کرتے دکھائی دیے اور مسلسل تین چوکے بھی لگائے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے21 سالہ اذان اویس نے 33 فرسٹ کلاس میچز میں 10 سنچریوں اور نو نصف سنچریوں کی بدولت 2673 رنز بنا رکھے ہیں۔

ڈھاکہ ٹیسٹ کے دوسرے روز اُن کی سیدھی ڈرائیو، پل اور کور ڈرائیو پر جہاں کمنٹیٹر تعریف کرتے رہے تو وہیں سوشل میڈیا صارفین بھی اُنھیں پاکستان کرکٹ کا مستقبل قرار دے رہے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اسے پہچاننے کے لیے ایک آنکھ کی ضرورت ہے۔ اذان اویس کی بنگلہ دیش کے خلاف کارکردگی نے یہ ثابت کر دیا۔ ان کے ساتھ عبداللہ فضل کے پاس اب بڑی اننگز کھیل کر اپنے ڈیبو کو یادگار بنانے کا بہترین موقع ہے۔ ان جیسے ڈومیسٹک کرکٹ پرفارمرز کو مزید مواقع دینے چاہیے، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔‘

عبداللہ نامی صارف نے لکھا کہ ’ناہید رانا کا باؤنسر جسم پر کھانے کے بعد لگاتار تین چوکے، یہ ہوتا ہے جواب۔۔۔ اذان اویس اپنے ڈیبو پر شاندار بیٹنگ کر رہے ہیں۔‘

سپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی نے لکھا کہ اذان اویس نئے بیٹنگ سٹار کے طور پر اُبھر رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ عبداللہ فضل اور اذان اویس دونوں تکنیکی طور پر مضبوط بلے باز ہیں۔ مجھے امید ہے کہ پی سی بی انھیں ضائع نہیں کرے گا۔ انھیں پالش کیا جانا چاہیے اور اگر پی سی بی ایسا کرنے میں ناکام رہا تو سارا الزام ان پر عائد ہونا چاہیے۔

باسط سبحانی نے لکھا کہ ’اذان اویس اور عبداللہ فضل ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے اور انھیں صرف موقع ملنے کی دیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پی ایس ایل کی بنیاد پر ٹیلنٹ پرکھنے سے آگے بڑھیں۔‘

اذان اویس نے 12 چوکوں کی مدد سے 133 گیندوں پر 85 رنز بنا رکھے ہیں اور اُن کا سٹرائیک ریٹ 63 ہے۔ دوسری جانب عبداللہ فضل 78 گیندوں پر 37 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں، اُنھوں نے چھ چوکے لگائے ہیں۔

ایک جانب جہاں نوجوان بلے باز داد سمیٹ رہے ہیں تو وہیں پاکستان کے تیز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی کم ہوتی ہوئی بولنگ سپیڈ پر بھی بات ہو رہی ہے۔

شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ سپیڈ اوسط 133 رہی جبکہ کچھ برس پہلے تک فاسٹ بولر 140 سے زائد کی رفتار سے بولنگ کرتے رہے ہیں۔

سابق کرکٹر بازید خان نے پی ٹی وی کے پروگرام ’گیم آن ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی جب پی ایس ایل میں بولنگ کر رہے تھے تو اُن کی رفتار 145 کلو میٹر فی گھنٹہ تک بھی رہی لیکن اب وہ 135 تک پہنچنے میں بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ بولنگ سپیڈ میں 10 کلومیٹر بہت بڑا فرق ہے، شعیب اختر اور بریٹ لی ٹیسٹ کرکٹ میں طویل سپیل کرتے تھے اور اُن کی بولنگ رفتار میں کوئی کمی نہیں آتی تھی۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف نے بھی بازید خان کی بات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا، لیکن پی ایس ایل میں رات کے میچ میں آپ کی رفتار 145 سے 147 تک جا رہی تھی لیکن ٹیسٹ میچ میں آپ 135 تک بھی نہیں پہنچ پا رہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ٹیسٹ کرکٹ میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔

طلحہ نواز نامی صارف نے شاہین شاہ آفریدی کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ سنہ 2020 کے بعد سے لے کر اب تک شاہین شاہ آفریدی تینوں فارمیٹس کھیل رہے ہیں۔

اُنھوں نے لکھا کہ اس عرصے کے دوران شاہین شاہ آفریدی نے 1667 اوورز کروائے، لہذا ان پر اتنی زیادہ تنقید نہیں کی جانی چاہیے۔

احسن نے لکھا کہ شاہین پر تنقید کرنے والوں کو نرمی برتنے کی ضرورت ہے، وہ ہمارے پریمیئر فاسٹ بولر رہے ہیں اور ٹیسٹ میچ کرکٹ میں ان کا ریکارڈ اچھا ہے۔ ’انھیں اپنی رفتار پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لائن اور لینتھ بے ترتیب ہوسکتی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ وکٹوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اُمید ہے کہ وہ جلد بہتری لائیں گے۔‘