آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جب بھی معاملات سفارتی طریقے سے حل کی جانب بڑھتے ہیں تو امریکہ خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکہ ایک خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے اور یہ کہ اس کی ’وجوہات جو بھی ہوں، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔‘

خلاصہ

  • ’دفاعی کارروائی‘ میں قشم اور بندرعباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی حکام، پاسدارانِ انقلاب کی امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری
  • آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران
  • امریکی حملوں کے بعد یو اے ای پر ایرانی ڈرون حملے
  • ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
  • سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

لائیو کوریج

  1. ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے اور ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کے لیے بحری اتھارٹی کا قیام

    ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جو تجارتی جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے گی اور اس کے عوض ٹرانزٹ فیس وصول کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شپنگ اور بحری تجارت سے متعلق خبروں اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی۔

    لائیڈز لسٹ نے یہ رپورٹ اس نمونہ فارم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو اس اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی کمپنیوں کو بھیجا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس فارم میں جہازوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات اس اتھارٹی کو فراہم کریں۔

    ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے نفاذ کے لیے ایک نظام‘ قائم کر لیا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے اس ضمن میں ’قواعد و ضوابط‘ بھیج دیے ہیں۔

    ایران نے 28 فروری کو اس پر ہونے والے امریکی، اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی پر عائد پابندیوں کے تسلسل سے جوڑا گیا ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے سابقہ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت تہران کو اس آبنائے پر کنٹرول حاصل ہو گا اور تجارتی فیس وصول کی جائے گی۔ ان محصولات کو عمان کے ساتھ بھی تقسیم کیا جائے گا، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔

    اپریل میں ایران کی پارلیمان کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران کو آبنائے ہرمز میں عائد کردہ ٹرانزٹ فیس سے پہلی آمدن موصول ہو گئی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ٹرانزٹ فیس کے اعلان سے قبل ایران کی پارلیمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک پر یہ فیس عائد کرنے پر غور کر رہی تھی، جبکہ حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے جہازرانی ’جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘

  2. فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو ناکارہ بنایا: یو اے ای

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اُن کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے تھے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ وہ ’ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی ایسی کوشش کا سختی سے مقابلہ کریں گے جو ریاست کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کی گئی ہو، تاکہ اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے اور اس کے قومی مفادات اور صلاحیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘

  3. جب بھی معاملات سفارتی طریقے سے حل کی جانب بڑھتے ہیں تو امریکہ خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکہ ایک خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ محض دباؤ ڈالنے کی ایک بھونڈی حکمت عملی ہے؟ یا پھر کسی تخریب کار کی کارستانی، جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وجوہات کچھ بھی ہوں، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر سے متعلق اندازوں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے میزائل کے ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں ہے، صحیح اعداد و شمار 120 فیصد ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ایک مختصر جھڑپ کے بعد سامنے آیا ہے۔

    امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی افواج نے گذشتہ رات ایران میں فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے اور یہ کہ یہ قدم آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا تھا۔ تاہم اس جھڑپ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے باوجود جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

  4. خلیج کی جانب بڑھنے والے فرانس کے طیارہ بردار جنگی جہاز کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ’شارل دی گوول‘، جو اس سے قبل سویڈن اور پھر مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھا، اب یمن کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    یہ اقدام فرانس اور برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مستقبل کی ممکنہ مہم کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس بحری فضائی دستہ بدھ کے روز نہرِ سویز عبور کر چکا ہے۔

    طیارہ بردار جہاز شارل دی گوول فرانسیسی عسکری طاقت کی علامت اور فرانس میں اب تک تعمیر کیا گیا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے۔ اگرچہ اس کا حجم امریکی طیارہ بردار جہازوں سے کم ہے، تاہم اس کا وزن چار ایفل ٹاورز کے برابر ہے۔ اس کو بنانے کا آغاز سنہ 1986 میں ہوا تھا مگر اسے 2001 میں باضابطہ طور پر سروس میں شامل کیا گیا تھا۔

    اس کے بعد سے یہ طیارہ بردار جہاز مختلف سمندروں کے درمیان سفر کرتا رہا ہے اور افغانستان، لیبیا، عراق اور شام سمیت متعدد محاذوں پر کارروائیوں میں حصہ لے چکا ہے۔

    اپنے دو جوہری ری ایکٹروں کی بدولت شارل دی گوول کئی ماہ تک روزانہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  5. آبنائے ہرمز میں تازہ کشیدگی کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے بعد ڈالر کی قدر مزید کمزور ہوئی ہے۔

    اس جھڑپ کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے ۔

    ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کا بڑی عالمی کرنسیوں سے موازنہ کرتا ہے، کے مطابق 0.14 فیصد کمی کے ساتھ ڈالر کی قدر 98.195 پوائنٹس پر آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران یہ 97.623 کی سطح تک گر گیا تھا، جو 27 فروری کے بعد یعنی ایران جنگ کے آغاز سے ایک دن پہلے، کی کم ترین سطح تھی۔

  6. ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’دشمن ٹھکانے‘ کے طور پر دیکھتا ہے: ایرانی رُکن پارلیمان

    ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رُکن علی خضریان نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اہم عسکری اور انٹیلیجنس تعاون فراہم کیا، اور یہاں تک کہ ’ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اماراتی طیاروں نے نشانات مٹا کر براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملے کیے۔‘

    رُکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی کردستان ریجن کے حوالے سے سکیورٹی حکمتِ عملی میں اب متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، اور انھیں کسی بھی وقت اس بات کی توقع رکھنی چاہیے کہ جس طرح اربیل میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح امارات میں موجود اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق ایران اب متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’دشمن ٹھکانے‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔

    گذشتہ دو ماہ کے دوران جنگ کے آغاز کے بعد ایران متعدد بار ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اماراتی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا چکا ہے۔

  7. امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو 25.8 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو فضائی دفاعی نظام سے منسلک انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق ان دفاعی معاہدوں کی مجموعی مالیت 25.8 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ظاہر کی گئی رقم سے تین گنا زیادہ ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق مارکو روبیو نے یکم مئی کو بحرین، اسرائیل، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیے اِن معاہدوں کی ہنگامی منظوری دی تھی۔ کانگریس کے ایک نمائندے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کر بات کی، نے بھی تصدیق کی ہے کہ کانگریس کے اراکین کو اس حکومتی اقدام پر بریفنگ دی گئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ نے خلیجی اتحادیوں کے لیے 8.6 ارب ڈالر کے فوری نوعیت کے ہتھیاروں کے معاہدوں کی منظوری کا اعلان کیا تھا، مگر ان معاہدوں میں بحرین کا ذکر شامل نہیں تھا۔ ابتدائی طور پر بتائے گئے اعداد و شمار میں فرق کی وجہ انتظامی نوعیت کا معاملہ بتایا گیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ ان معاہدوں کو نئے سودوں کے بجائے سابقہ منظوریوں میں ترمیم قرار دیتی ہے۔

    امریکہ کے مطابق یہ دفاعی ڈیلز اُن اتحادی ممالک کے لیے امریکی عزم کو ظاہر کرتی ہیں جن پر 28 فروری کے بعد سے ایران کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ان ممکنہ معاہدوں کا حجم اور امریکا کی جانب سے ان ہتھیاروں کی پیداوار کی سست رفتاری ایسے سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ شراکت دار ممالک کو یہ اسلحہ کتنی جلدی فراہم کیا جا سکے گا۔

  8. چین کی آبنائے ہرمز میں اپنے تیل بردار جہاز پر حملے کی تصدیق

    چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدے ایک ٹینکر، جس پر چینی عملہ سوار تھا، حملے کا نشانہ بنا ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ جہاز پر چینی شہری بھی موجود تھے، تاہم اب تک عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ چینی خبر رساں ادارے شیامن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک چینی ملکیت کا تیل بردار جہاز پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا ہے۔

  9. اگر ضرورت پڑی تو ہم تیل کے بڑے ذخائر جاری کرنے کے لیے تیار ہیں: بین الاقوامی توانائی ایجنسی

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فتح بیرول نے کہا کہ ایجنسی نے ’اب تک اپنے تیل کے کل ذخائر کا صرف 20 فیصد جاری کیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    بیرول کے تبصرے ایرانی جنگ اور آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کے درمیان توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں، جو ایک اہم تجارتی راستہ ہے، جس میں برینٹ کروڈ کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کار گیرگَلی مولنار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلے ہی 2026 سے 2030 کے دوران تقریباً 120 بلین کیوبک میٹر عالمی مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا نقصان ہو چکا ہے۔

    جمعرات کو بوڈاپیسٹ ایل این جی سمٹ میں اپنی تقریر میں گیرگَلی مولنار نے وضاحت کی کہ یہ تنازع درمیانی مدت کی گیس کی توقعات کو تبدیل کر رہا ہے، جس میں مارکیٹ کے سخت حالات متوقع سے زیادہ دیر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس بحران نے مائع قدرتی گیس کی سپلائی میں تقریباً 15 فیصد کمی کر دی ہے، لیکن نئی مائع کی صلاحیت میں بڑے اضافے سے قطر اور متحدہ عرب امارات سے ضائع ہونے والی مقدار کی تلافی کی توقع ہے۔

    ایرانی حملوں نے قطر کی 17 فیصد مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت کو متاثر کر دیا ہے، جس سے گرمیوں کے موسم سے پہلے یورپ اور ایشیا کے لیے سپلائی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جسے عام طور پر سردیوں کی تیاری میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کار گیرگَلی مولنار نے کہا ہے کہ چونکہ یورپی یونین کے ذخیرے کی سطح گذشتہ پانچ سالوں میں ان کی اوسط سے تقریباً 30 فیصد کم ہے، اس لیے انھیں 90 فیصد کے ہدف تک بھرنے کے لیے اضافی 10 بلین کیوبک میٹر گیس کی ضرورت ہوگی۔

  10. آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید اروانی نے امریکہ اور بعض عرب ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ’امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں، اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کا مؤقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے، اس کے برعکس، امریکہ، ’بحری جہاز کی آزادی‘ کی آڑ میں، سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے۔

    ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے، جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی ادارے کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے۔‘

    اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔

  11. شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے: اسماعیل بقائی

    إذا رأيتَ نيوبَ اللَّيثِ بارزةً، فلا تَظُنَّنَّ أنَّ اللَّيثَ يبتسمُ

    یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جسے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر شیئر کیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

    ’اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو،

    تو یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے

    یعنی ایران نے بالواسطہ طور پر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ’ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔‘

    امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں دو اہداف کو ’دفاعی کارروائی‘ کے دوران نشانہ بنایا ہے، جس پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے اور ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے میزائل داغے۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ایک ہی غلطی کو دہرانے سے مختلف ردِعمل نہیں ملے گا، جواب صرف سخت ہوگا۔ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’سب سے پہلے ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ ہمارے پاس تین امریکی ڈسٹرائرز موجود تھے جو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی نقصان کے گزر گئے۔ جوابی کارروائی میں ایران کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو آسانی سے مار گرایا گیا۔‘

    ایرانی فوج نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

  12. اسلام آباد کی امریکی تحویل میں جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور سے تعاون کی درخواست

    اسلام آباد امریکی فورسز کی جانب سے ضبط کی گئی کشتیوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انھوں نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن سے رابطہ کر کے امریکی فورسز کے قبضے میں موجود ان جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے، جو اس وقت سنگاپور کے قریب سمندری حدود میں پہنچ رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہ اس معاملے پر اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، اور پاکستان ’ایرانی شہریوں کی پاکستان کے راستے ایران محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ وزیرِ خارجہ کے مطابق ضبط کیے گئے جہازوں پر 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاح سوار ہیں۔

  13. جنوبی کوریا کا پہلا ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر کر منزل پر پہنچ گیا

    جنوبی کوریا کا ایک آئل ٹینکر جو آبنائے ہرمز سے گزرا تھا جمعہ کو ملک پہنچا۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد اس راستے سے کسی ایشیائی ملک تک پہنچنے والا یہ پہلا ایسا بحری جہاز ہے۔

    جنوبی کوریا کا زیادہ تر انحصار مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی درآمد پر ہے، اور ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے ان میں سے زیادہ تر کھیپ آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، جس کی وجہ سے تہران نے اس آبنائے کو مؤثر طریقے سے روکا تھا۔

    ایک ملین بیرل خام تیل لے کر مالٹی پرچم والے اوڈیسا کی آمد، توانائی کی سلامتی کے بارے میں سیول کے خدشات کو کم کرنے کا امکان ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز 17 اپریل کو پابندیوں میں نرمی کے مختصر عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا۔

    اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق، تقریباً 1500 بحری جہاز اور 20,000 بین الاقوامی عملے کے ارکان تنازعات کی وجہ سے خلیج فارس کے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  14. قشم اور بندر عباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا، ’ہماری کارروائی دفاعی تھی‘: امریکی حکام

    امریکی فوجی حکام نے ملک کے این بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ انھوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ​​دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔

    این بی سی نیوز نے ایک ہنگامی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔

    خاتم الانبیاء کے ہیڈکوارٹر جو کہ ایران میں جنگ کے انچارج ہیں، نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی دستوں نے امریکی حملوں کا جواب دیا: ’ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔‘

  15. ایرانی میڈیا نے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری کر دی

    جمعے کی صبح ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اور قشم اور بندر عباس سے ملحقہ ساحلوں میں امریکی بحری جہازوں پر فائر کیے گئے۔

    بی بی سی اس ویڈیو اور اس میں ظاہر کی جانے والی تصاویر کی درستگی یا صحیح تاریخ کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے، تاہم سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازعے میں شامل تین جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

  16. رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ’تفصیلی ملاقات‘ پر صدر مسعود پیزشکیان نے کیا کہا؟

    جمعرات 7 مئی کو آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان بحری جھڑپ سے ایک گھنٹہ قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک تقریر میں ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا اعلان کیا۔

    مسعود پیزشکیان نے ملاقات کے وقت کا ذکر نہیں کیا لیکن کہا کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ’ڈھائی گھنٹے‘ ملاقات کی۔ ابھی تک اس ملاقات کی کوئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔

    صدر مسعود پیزشکیان کا جمعرات کو سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ’اس ملاقات کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ انقلابِ اسلامی کے رہبر ِاعلیٰ کا وژن، اُن کی عاجزی اور مخلصانہ رویہ تھا۔‘

    ایران کے رہبر علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔

    رہبر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی آڈیو یا ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا گیا اور ایرانی میڈیا نے صرف ان کے تحریری پیغامات شائع کیے ہیں۔

    بعض اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای پر ہونے والے حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران کے رہبر اعلیٰ کے طور پر تقرری کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مسعود پیزشکیان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

  17. ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات کے ایجنڈے میں ایران جنگ سرفہرست

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک انتہائی متوقع دوطرفہ سربراہی اجلاس کے لیے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ واشنگٹن کو امید ہے کہ ایران میں جاری جنگ دونوں عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کی اس ملاقات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

    توقع ہے کہ سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کا پرتپاک سرکاری استقبال کیا جائے گا۔ اس ملاقات کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کی پیش رفت کے باعث اس سے قبل مارچ 2026 تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ اس سربراہی اجلاس میں ایران کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی معاملے پر چینی صدر کا مؤقف ’انتہائی قابلِ احترام‘ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، چونکہ صدر ٹرمپ بیجنگ روانگی سے قبل ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے چین ممکنہ طور پر اسی معاملے پر واشنگٹن کی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے دیگر متنازع امور پر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    اسی تناظر میں سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ماہر ایڈگر کاگن کا کہنا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایران کا مسئلہ امریکہ کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور چینی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔

  18. جمعرات کی شب کی اہم ترین پیش رفت اور ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں جھڑپیں

    جمعرات کی شب ایران نے امریکہ پر 7 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جب آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    • ایران نے گذشتہ شب ہونے والے واقعے کو اپنی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے تعبیر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے، جب کہ خلیج فارس کے سب سے بڑے جزیرے قشم میں واقع ایک گھاٹ کے تجارتی حصوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی۔
    • پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر کے ساتھ ساتھ فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا۔
    • ایرانی حکام کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جوابی کارروائی‘ کی اور امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے ’کافی نقصان‘ ہوا۔
    • کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے کہا، ’زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
    • دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آبنائے میں تین امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ کیا گیا تاہم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
    • انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی ’جارحیت پسندوں‘ کو ’بہت نقصان‘ پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فائرنگ کے تبادلے کو ’ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جنگ بندی اور امریکی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
    • ٹرمپ کے ریمارکس سے پہلے، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ’بلا اشتعال‘ ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جواب دیا جب گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ کسی امریکی آلات یا اہلکار کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
    • سینٹکام نے زور دیا کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرتا، لیکن امریکی افواج کی حفاظت کے لیے ’مکمل الرٹ‘ پر رہتا ہے۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​’جلد ختم ہو جائے گی‘ اور وہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  19. انڈین سیکریٹری خارجہ کی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی وزیرِ برائے بین الاقوامی تعاون ریئم الہاشمی سے ملاقات

    انڈین سیکریٹری خارجہ نے آج ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی وزیرِ برائے بین الاقوامی تعاون ریئم الہاشمی سے ملاقات کی۔

    انڈیا کے مطابق فریقین نے انڈیا اور یو اے ای کے درمیان جامع سٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور مستقبل میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    سوشل میڈیا ایکس پر رندھیر جیسوال کے اکاؤنٹ پر یہ تفصیلات بھی شیئر کی گئیں کہ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

  20. آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے 20 ہزار ملاح پھنس گئے: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے کے گزرنے پر پابندیوں کی وجہ سے خلیج فارس کے علاقے میں تقریباً 1500 بحری جہاز اور 20,000 ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

    میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے جمعرات کو پاناما میں اس خبر کا اعلان کیا۔

    مشرق وسطیٰ کی جنگ، جو 28 فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے سے شروع ہوئی تھی، اس کے ساتھ پورے خطے میں تہران کی جوابی کارروائی اور عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل پڑا۔

    آرسینیو ڈومینگیز نے پاناما میں بین امریکی میری ٹائم سمٹ کے دوران کہا کہ ’اس وقت عملے کے 20,000 ارکان اور تقریباً 1,500 جہاز اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

    اہلکار کے مطابق یہ ملاح جغرافیائی سیاسی حالات میں پکڑے گئے بے گناہ لوگ ہیں جو ان کے قابو سے باہر ہیں۔

    امریکہ نے پیر کو آبنائے کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے آپریشن کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک دن بعد اسے منسوخ کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق ایران واشنگٹن کی ان تجاویز پر غور کر رہا ہے کہ کس طرح تنازع کو ختم کیا جائے اور آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جائے۔