ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے اور ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کے لیے بحری اتھارٹی کا قیام
ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جو تجارتی جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے گی اور اس کے عوض ٹرانزٹ فیس وصول کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔
شپنگ اور بحری تجارت سے متعلق خبروں اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی۔
لائیڈز لسٹ نے یہ رپورٹ اس نمونہ فارم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو اس اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی کمپنیوں کو بھیجا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فارم میں جہازوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات اس اتھارٹی کو فراہم کریں۔
ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے نفاذ کے لیے ایک نظام‘ قائم کر لیا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے اس ضمن میں ’قواعد و ضوابط‘ بھیج دیے ہیں۔
ایران نے 28 فروری کو اس پر ہونے والے امریکی، اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی پر عائد پابندیوں کے تسلسل سے جوڑا گیا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے سابقہ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت تہران کو اس آبنائے پر کنٹرول حاصل ہو گا اور تجارتی فیس وصول کی جائے گی۔ ان محصولات کو عمان کے ساتھ بھی تقسیم کیا جائے گا، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔
اپریل میں ایران کی پارلیمان کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران کو آبنائے ہرمز میں عائد کردہ ٹرانزٹ فیس سے پہلی آمدن موصول ہو گئی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ٹرانزٹ فیس کے اعلان سے قبل ایران کی پارلیمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک پر یہ فیس عائد کرنے پر غور کر رہی تھی، جبکہ حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے جہازرانی ’جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘