لائیو, ’دفاعی کارروائی‘ میں قشم اور بندرعباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی حکام، پاسدارانِ انقلاب کی امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری

امریکی فوجی حکام نے ملک کے این بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ انھوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ​​دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کر دی ہے۔

خلاصہ

  • ’دفاعی کارروائی‘ میں قشم اور بندرعباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی حکام، پاسدارانِ انقلاب کی امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری
  • آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران
  • امریکی حملوں کے بعد یو اے ای پر ایرانی ڈرون حملے
  • ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
  • سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید اروانی نے امریکہ اور بعض عرب ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ’امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں، اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کا مؤقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے، اس کے برعکس، امریکہ، ’بحری جہاز کی آزادی‘ کی آڑ میں، سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے۔

    ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے، جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی ادارے کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے۔‘

    اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔

  2. شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے: اسماعیل بقائی

    ِایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہFatemeh Bahrami/Anadolu via Getty Images

    إذا رأيتَ نيوبَ اللَّيثِ بارزةً، فلا تَظُنَّنَّ أنَّ اللَّيثَ يبتسمُ

    یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جسے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر شیئر کیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

    ’اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو،

    تو یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے

    یعنی ایران نے بالواسطہ طور پر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ’ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔‘

    امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں دو اہداف کو ’دفاعی کارروائی‘ کے دوران نشانہ بنایا ہے، جس پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے اور ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے میزائل داغے۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ایک ہی غلطی کو دہرانے سے مختلف ردِعمل نہیں ملے گا، جواب صرف سخت ہوگا۔ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’سب سے پہلے ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ ہمارے پاس تین امریکی ڈسٹرائرز موجود تھے جو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی نقصان کے گزر گئے۔ جوابی کارروائی میں ایران کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو آسانی سے مار گرایا گیا۔‘

    ایرانی فوج نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

  3. اسلام آباد کی امریکی تحویل میں جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور سے تعاون کی درخواست

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    اسلام آباد امریکی فورسز کی جانب سے ضبط کی گئی کشتیوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انھوں نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن سے رابطہ کر کے امریکی فورسز کے قبضے میں موجود ان جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے، جو اس وقت سنگاپور کے قریب سمندری حدود میں پہنچ رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہ اس معاملے پر اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، اور پاکستان ’ایرانی شہریوں کی پاکستان کے راستے ایران محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ وزیرِ خارجہ کے مطابق ضبط کیے گئے جہازوں پر 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاح سوار ہیں۔

  4. جنوبی کوریا کا پہلا ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر کر منزل پر پہنچ گیا

    جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہYonhap

    جنوبی کوریا کا ایک آئل ٹینکر جو آبنائے ہرمز سے گزرا تھا جمعہ کو ملک پہنچا۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد اس راستے سے کسی ایشیائی ملک تک پہنچنے والا یہ پہلا ایسا بحری جہاز ہے۔

    جنوبی کوریا کا زیادہ تر انحصار مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی درآمد پر ہے، اور ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے ان میں سے زیادہ تر کھیپ آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، جس کی وجہ سے تہران نے اس آبنائے کو مؤثر طریقے سے روکا تھا۔

    ایک ملین بیرل خام تیل لے کر مالٹی پرچم والے اوڈیسا کی آمد، توانائی کی سلامتی کے بارے میں سیول کے خدشات کو کم کرنے کا امکان ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز 17 اپریل کو پابندیوں میں نرمی کے مختصر عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا۔

    اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق، تقریباً 1500 بحری جہاز اور 20,000 بین الاقوامی عملے کے ارکان تنازعات کی وجہ سے خلیج فارس کے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  5. قشم اور بندر عباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا، ’ہماری کارروائی دفاعی تھی‘: امریکی حکام

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کی بحریہ کی طرف سے فائر کیا گیا میزائل

    امریکی فوجی حکام نے ملک کے این بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ انھوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ​​دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔

    این بی سی نیوز نے ایک ہنگامی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔

    خاتم الانبیاء کے ہیڈکوارٹر جو کہ ایران میں جنگ کے انچارج ہیں، نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی دستوں نے امریکی حملوں کا جواب دیا: ’ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔‘

  6. ایرانی میڈیا نے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری کر دی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    ،تصویر کا کیپشنمیزائل لانچ کے لمحے کی تصاویر جو ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے

    جمعے کی صبح ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اور قشم اور بندر عباس سے ملحقہ ساحلوں میں امریکی بحری جہازوں پر فائر کیے گئے۔

    بی بی سی اس ویڈیو اور اس میں ظاہر کی جانے والی تصاویر کی درستگی یا صحیح تاریخ کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے، تاہم سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازعے میں شامل تین جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

  7. رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ’تفصیلی ملاقات‘ پر صدر مسعود پیزشکیان نے کیا کہا؟

    رہبر اعلیٰ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعرات 7 مئی کو آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان بحری جھڑپ سے ایک گھنٹہ قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک تقریر میں ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا اعلان کیا۔

    مسعود پیزشکیان نے ملاقات کے وقت کا ذکر نہیں کیا لیکن کہا کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ’ڈھائی گھنٹے‘ ملاقات کی۔ ابھی تک اس ملاقات کی کوئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔

    صدر مسعود پیزشکیان کا جمعرات کو سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ’اس ملاقات کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ انقلابِ اسلامی کے رہبر ِاعلیٰ کا وژن، اُن کی عاجزی اور مخلصانہ رویہ تھا۔‘

    ایران کے رہبر علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔

    رہبر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی آڈیو یا ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا گیا اور ایرانی میڈیا نے صرف ان کے تحریری پیغامات شائع کیے ہیں۔

    بعض اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای پر ہونے والے حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران کے رہبر اعلیٰ کے طور پر تقرری کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مسعود پیزشکیان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

  8. ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات کے ایجنڈے میں ایران جنگ سرفہرست

    Trump, Xi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک انتہائی متوقع دوطرفہ سربراہی اجلاس کے لیے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ واشنگٹن کو امید ہے کہ ایران میں جاری جنگ دونوں عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کی اس ملاقات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

    توقع ہے کہ سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کا پرتپاک سرکاری استقبال کیا جائے گا۔ اس ملاقات کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کی پیش رفت کے باعث اس سے قبل مارچ 2026 تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ اس سربراہی اجلاس میں ایران کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی معاملے پر چینی صدر کا مؤقف ’انتہائی قابلِ احترام‘ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، چونکہ صدر ٹرمپ بیجنگ روانگی سے قبل ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے چین ممکنہ طور پر اسی معاملے پر واشنگٹن کی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے دیگر متنازع امور پر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    اسی تناظر میں سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ماہر ایڈگر کاگن کا کہنا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایران کا مسئلہ امریکہ کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور چینی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔

  9. جمعرات کی شب کی اہم ترین پیش رفت اور ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں جھڑپیں

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعرات کی شب ایران نے امریکہ پر 7 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جب آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    • ایران نے گذشتہ شب ہونے والے واقعے کو اپنی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے تعبیر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے، جب کہ خلیج فارس کے سب سے بڑے جزیرے قشم میں واقع ایک گھاٹ کے تجارتی حصوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی۔
    • پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر کے ساتھ ساتھ فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا۔
    • ایرانی حکام کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جوابی کارروائی‘ کی اور امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے ’کافی نقصان‘ ہوا۔
    • کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے کہا، ’زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
    • دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آبنائے میں تین امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ کیا گیا تاہم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
    • انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی ’جارحیت پسندوں‘ کو ’بہت نقصان‘ پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فائرنگ کے تبادلے کو ’ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جنگ بندی اور امریکی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
    • ٹرمپ کے ریمارکس سے پہلے، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ’بلا اشتعال‘ ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جواب دیا جب گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ کسی امریکی آلات یا اہلکار کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
    • سینٹکام نے زور دیا کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرتا، لیکن امریکی افواج کی حفاظت کے لیے ’مکمل الرٹ‘ پر رہتا ہے۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​’جلد ختم ہو جائے گی‘ اور وہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  10. انڈین سیکریٹری خارجہ کی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی وزیرِ برائے بین الاقوامی تعاون ریئم الہاشمی سے ملاقات

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہ@MEAIndia

    انڈین سیکریٹری خارجہ نے آج ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی وزیرِ برائے بین الاقوامی تعاون ریئم الہاشمی سے ملاقات کی۔

    انڈیا کے مطابق فریقین نے انڈیا اور یو اے ای کے درمیان جامع سٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور مستقبل میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    سوشل میڈیا ایکس پر رندھیر جیسوال کے اکاؤنٹ پر یہ تفصیلات بھی شیئر کی گئیں کہ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

  11. آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے 20 ہزار ملاح پھنس گئے: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے کے گزرنے پر پابندیوں کی وجہ سے خلیج فارس کے علاقے میں تقریباً 1500 بحری جہاز اور 20,000 ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

    میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے جمعرات کو پاناما میں اس خبر کا اعلان کیا۔

    مشرق وسطیٰ کی جنگ، جو 28 فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے سے شروع ہوئی تھی، اس کے ساتھ پورے خطے میں تہران کی جوابی کارروائی اور عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل پڑا۔

    آرسینیو ڈومینگیز نے پاناما میں بین امریکی میری ٹائم سمٹ کے دوران کہا کہ ’اس وقت عملے کے 20,000 ارکان اور تقریباً 1,500 جہاز اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

    اہلکار کے مطابق یہ ملاح جغرافیائی سیاسی حالات میں پکڑے گئے بے گناہ لوگ ہیں جو ان کے قابو سے باہر ہیں۔

    امریکہ نے پیر کو آبنائے کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے آپریشن کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک دن بعد اسے منسوخ کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق ایران واشنگٹن کی ان تجاویز پر غور کر رہا ہے کہ کس طرح تنازع کو ختم کیا جائے اور آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جائے۔

  12. کیا ایران نے جنگ کی روشنی میں تیل کی روزانہ پیداوار میں کمی کی ہے؟

    امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی یومیہ تیل کی پیداوار میں تقریباً 400,000 بیرل کی کمی کر دی ہے۔

    کرس رائٹ نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ توقع ہے کہ ایران اپنی تیل کی پیداوار میں کمی جاری رکھے گا کیونکہ وہ اپنی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تک پہنچ جائے گا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایران کے وزیر تیل محسن نژاد نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کے ملک کی تیل کی برآمدات ’اچھی تھیں اور جنگ کے دوران اس میں کمی نہیں آئی‘۔

    ایران تقریباً 3.3 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کرتا ہے، جو اوپیک کے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

  13. ایران امریکہ بحری جھڑپ کے فوراً بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد جمعہ کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں، جن میں میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیاں شامل تھیں، کو ناکام بنایا، اور جب اس کے بحری جہاز خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے راستے نکل رہے تھے تو جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ ایران نے امریکہ پر پہلے حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔

    ان جھڑپوں کے بعد عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 102.40 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جب کہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت 2.1 فیصد بڑھ کر 96.80 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    کشیدگی میں اس اضافے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اپریل کو امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کرنے کی غرض سے غیر معینہ مدت کے لیے توسیع دی تھی۔

  14. متحدہ عرب امارات اور مصر کے صدر کا یو اے ای میں تعینات مصری فائٹر سکواڈرن کا معائنہ

    UAE

    ،تصویر کا ذریعہ@modgovae

    متحدہ عرب امارات کے صدرِ شیخ محمد بن زاید النہیان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے یو اے ای میں تعینات مصری لڑاکا سکواڈرن کا معائنہ کیا۔

    اس دورے کا مقصد آپریشنل تیاری، استعدادِ کار اور مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینا تھا۔

    اس موقع پر صدرِ مملکت اور مصری صدر کے ہمراہ شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم، شیخ حمدان بن محمد بن زاید آل نہیان، وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور محمد بن مبارک بن فاضل المزروعی، اور وزارتِ دفاع کے متعدد اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے۔

  15. امریکی حملوں کے بعد یو اے ای پر ایرانی ڈرون حملے

    متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام اس وقت ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والی آوازیں دراصل یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ ہیں، جن کے ذریعے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کے خلاف متحرک طور پر کارروائی کر رہے ہیں، اور ملک بھر میں سنائی دینے والی آوازیں انہی دفاعی آپریشنز کا حصہ ہیں۔

  16. صدر ٹرمپ کی امریکہ بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق، چھوٹی ایرانی کشتیوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملہ آوروں کو ’شدید نقصان‘ پہنچایا گیا اور ان کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ کشتیاں فوری اور مؤثر طریقے سے سمندر کی تہہ میں چلی گئیں۔ ہمارے بحری جہازوں پر میزائل داغے گئے تھے لیکن انھیں آسانی سے گرا دیا گیا۔ اسی طرح ڈرون بھی آئے لیکن انھیں فضا میں ہی ختم کر دیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دوسرا ’نارمل ملک (امریکی) جہازوں کو گزرنے دیتا لیکن ایران کوئی نارمل ملک نہیں ہے۔ اس کی قیادت جنونی کر رہے ہیں‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع ہوتا تو وہ ’ایسا کر گزرتا۔‘

    ’لیکن انھیں یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔ اگر وہ جلد ہی کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتے تو پھر جس طرح آج ہم نے انھیں مارا ہے، مستقبل میں بھی ہم انھیں اس سے بھی بری طرح ماریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رہے گی اور حملے کی زد میں آنے والے تینوں امریکی بحری جہاز ایک بار پھر ’آہنی دیوار‘ میں شامل ہو جائیں گے۔

    دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے، گذشتہ روز ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی مجوزہ معاہدے سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔

  17. ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے: امریکی صدر

    ایرانی فورسز اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے۔

    انھوں نے اے بی سی نیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی برقرار اور نافذ ہے۔‘

    امریکی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ بس پیار بھرا ایک دھکا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    خیال رہے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے جاسک کی بندرگاہ پر ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا اور اس نے اس کے ردِعمل میں امریکہ بحری جہازوں پر حملے کیے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس کے بحری جہازوں پر ’بلا اشتعال حملے‘ کیے، جنھیں اس نے ناکام بنایا اور جوابی کارروائی میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    بی بی سی ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  18. آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی اطلاعات: ایرانی سرکاری میڈیا

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے، جسے اس نے ایرانی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان ’فائرنگ کا تبادلہ‘ قرار دیا ہے۔

    ایک اسرائیلی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کی شام آبنائے ہرمز میں ہونے والے مبینہ حملوں میں ’اسرائیل ملوث نہیں‘ ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ واقعہ امریکی فوج کی جانب سے ایک ایرانی ٹینکر پر حملے کے بعد پیش آیا اور اس دوران آبنائے ہرمز میں ’دشمن یونٹس‘ ایرانی میزائلوں کی زد میں آئے۔

    امریکہ نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  19. ایران کا امریکہ پر تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کرنے کا الزام

    ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری ایران کی فوج کے ترجمان سے منسوب ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے بالمقابل آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے امریکہ کی طرف سے بندر خمیر، سیریک اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقوں میں بھی ’فضائی حملے‘ کیے گئے ہیں۔

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جواب دیا‘ اور امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں ’نقصان‘ پہنچا ہے۔

  20. بحری جنگی جہازوں پر ایرانی حملے ناکام بنا دیے، حملوں کی ذمہ دار فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا: سینٹکام

    بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

    سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ: ’ایرانی افواج نے متعدد میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اس وقت حملے کیے جب یو ایس ایس ٹرکسٹن (ڈی ڈی جی 103)، یو ایس ایس رافیل پرالٹا (ڈی ڈی جی 115) اور یو ایس ایس میسن (ڈی ڈی جی 87) بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔ لیکن کوئی بھی امریکی اثاثہ ان کا نشانہ نہیں بنا۔‘

    سینٹکام کے مطابق اس کی فورسز نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایااور ان ’ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو امریکی افواج پر حملوں کی ذمہ دار تھیں‘، جن میں اس کے مطابق میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول مقامات اور انٹیلی جنس اور نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سینٹکام کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مستعد اور تیار ہے۔