فلموں کے ’نجات دہندہ‘ سے ممکنہ وزیرِ اعلیٰ تک: تمل فلموں کے ہیرو وجے جوزف کے سیاسی عروج کی کہانی

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

فلموں میں ہیرو کا کردار نبھانے والے اب تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ بننے جا رہا ہیں اور وہ بھی پورے پانچ برس کے لیے۔ تاہم فی الحال تجسس برقرار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کہانی کسی فلمی سکرین پر نہیں، بلکہ حقیقی سیاسی میدان میں لکھی جا رہی ہے۔

انڈین ریاست تمل ناڈو کے گورنر کی جانب سے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دینے پر ریاست میں سیاسی بے یقینی برقرار ہے۔

فلمی اداکار سے سیاست دان بننے والے سی جوزف وجے کی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کزھگم (ٹی وی کے) نے اسمبلی انتخابات میں 234 میں سے 108 نشستیں حاصل کی تھیں۔ یوں وہ اکثریتی پارٹی بننے سے صرف 10 نشستیں پیچھے رہ گئے تھے۔

انڈیا کی بڑی حزبِ اختلاف کانگریس نے جس کے پاس پانچ نشستیں ہیں، نتائج کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ’ٹی وی کے‘ کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔

تاہم ریاستی گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے اصرار کیا کہ ’ٹی وی کے‘ حکومت بنانے کے لیے درکار 118 ارکانِ اسمبلی کی حمایت کا ثبوت پیش کرے۔

جمعے کی دوپہر تین چھوٹی جماعتوں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) اور ودھوتلائی چیروتھائیگل کچھی (وی سی کے) نے بھی ’ٹی وی کے‘ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ان تینوں جماعتوں کے پاس دو، دو نشستیں ہیں۔

جمعے کو سی جوزف وجے نے ایک بار پھر گورنر سے ملاقات کی جو تین روز میں ہونے والی تیسری ملاقات ہے۔

سیاسی منظرنامے پر ان کے شاندارعروج کا موازنہ میٹنی آئیڈیل ایم جی راماچندرن سے کیا جا رہا ہے، جنھوں نے اپنی جماعت بنا کر 1977 میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

گورنر پر تنقید

وجے کو تمل ناڈو کے نوجوانوں اور خواتین میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہے اور ان کی جیت سے اُن کے مداح خوشی سے نہال ہیں۔

ان کی جماعت کے قائدین اور اتحادیوں نے گورنر کی جانب سے وجے کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دینے پر تنقید کی تھی۔

اداکار نے بدھ کے روز پہلی بار گورنر آرلیکر سے ملاقات کر کے اگلی حکومت بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جمعرات کو اُنھوں نے دوبارہ ملاقات کی۔

چند گھنٹوں بعد، گورنر کے دفتر سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں وضاحت کی گئی کہ ’قانون ساز اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریتی حمایت ثابت نہیں ہو سکی۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر کی ترجیح ایک مستحکم حکومت کی تشکیل کو یقینی بنانا ہے جو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔

تاہم بعض آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں گورنر نے واحد سب سے بڑی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور انھیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے وقت دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وجے کو اس موقع سے محروم رکھنا نا انصافی ہے۔

اس ریاست کی سیاست دہائیوں سے دو علاقائی جماعتوں دراوڑ منیترا کزھگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزھگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے زیرِ اثر رہی ہے، جو باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں۔

’ٹی وی کے‘ نے توقعات کے برعکس اس دو جماعتی نظام کو توڑا اور ریاستی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔

اداکار کی جماعت نے طاقتور موجودہ حکمران ڈی ایم کے کو شکست دی، جس کی قیادت ایم کے سٹالن کر رہے تھے۔

گذشتہ 48 گھنٹوں میں، جب ’ٹی وی کے‘ کے مستقبل پر بے یقینی چھائی ہوئی تھی۔ انڈین میڈیا میں ہر طرح کے ممکنہ سیاسی جوڑ توڑ کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک امکان یہ بھی تھا کہ الیکشن ہارنے والی دونوں جماعتیں مل کر حکومت بنانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

تمل ناڈو میں طویل عرصے سے سنیما اور اقتدار کا امتزاج دیکھنے میں آیا ہے اور وجے نے فلمی ستاروں راماچندرن اور ان کی جانشین جے للیتا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا ہے، جنھوں نے دہائیوں تک ریاست کی قیادت کی۔

تاہم، ان کے برعکس، وجے کے پاس کسی قسم کا سیاسی تجربہ نہیں ہے۔

سنہ 2024 میں ’ٹی وی کے‘ کے قیام کے فوری بعد اُنھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ سیاست کو وقت دینے کے لیے فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔

فلموں میں ’نجات دہندہ‘

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی ایک طویل سیاسی روایت ہے اور یہاں سنیما اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور فلمی شخصیات اپنی مقبولیت کا سیاسی میدان میں بھی فائدہ اُٹھاتے رہی ہیں۔

ایم جی رامچندرن، جے للیتا، رجنی کانت، کمل ہاسن، خوشبو اور وجے کانت جیسے اداکار فلموں میں اپنے جوہر دکھانے کے بعد سیاسی میدان میں بھی کامیابیاں سمیٹتے رہے ہیں۔

جے للیتا سنہ 1991 سے 2016 کے دوران مختلف مواقع پر 14 برس سے زائد عرصے تک ریاست کی وزیر اعلیٰ رہیں۔

اب جوزف وجے بھی اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

ایم جی رامچندرن اور جے للیتا اقتدار میں آنے سے پہلے فلمی دُنیا سے الگ ہو گئے تھے۔ لیکن کمل ہاسن کے ہائبرڈ نقطہ نظر، جس میں سنیما اور سیاست دونوں میں سرگرم رہنا شامل ہے، نے محدود انتخابی نتائج برآمد کیے ہیں۔

چنئی میں مقیم فلمی نقاد آدتیہ شری کرشنا کہتے ہیں کہ وجے مقبولیت کے لحاظ سے رجنی کانت اور کمل ہاسن نہیں ہیں۔ لیکن رقص، کامیڈی اور پاپولسٹ سنیما کی گہری سمجھ ان کی طاقت ہے۔

نقاد پریتم کے چکرورتی کہتے ہیں کہ وجے کی مقبولیت کوئی حادثاتی نہیں ہے۔

وجے نے 1980 کی دہائی میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر آغاز کیا اور 1992 میں ان کے والدین فلمساز ایس اے چندر شیکھر اور گلوکار مصنف شوبا چندر شیکھر نے نالایا تھیرپو کے ساتھ ایک مرکزی اداکار کے طور پر آغاز کیا۔ فلم فلاپ ہوئی، لیکن ان کا کریئر کامیاب نہیں ہوا۔

اگلی تین دہائیوں کے دوران وہ لگ بھگ 70 فلموں میں نظر آئے۔ نوے کی دہائی میں وہ رومانوی فلموں میں بطور ہیرو آنے لگے جبکہ 2012 کے بعد فلموں میں اُن کا روپ ایک نجات دہندہ کے طور پر سامنے آیا۔