’رسومات کے نام پر برہنہ ہونے کو کہا گیا:‘ روٹھے محبوب کو منانے کی کوشش میں جعلی عامل سے بلیک میل ہونے والی خاتون کی کہانی

    • مصنف, بھارگوا پاریکھ
    • عہدہ, بی بی سی گُجراتی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’میں نے ایک دن انسٹاگرام پر ایک رِیل پوسٹ کی جس پر مجھے ایک پیغام موصول ہوا کہ ’آپ کے ساتھ محبت میں دھوکہ ہوا ہے اور آپ کا دل ٹوٹا ہوا ہے، اپنی پریشانی کے حل کے لیے ہم سے رابطہ کریں، مفت مدد اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔‘

’اسی پیغام کے ساتھ ایک لنک بھی دیا ہوا تھا اور جب میں نہ اُس پر کلک کیا تو میرے سامنے ایک ایسی ویب سائٹ کا پیج کُھلا جسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ وہاں ایسی ویڈیوز موجود تھیں کہ جن میں لوگوں نے اپنے مسائل کے حل اور اپنی کامیابیوں کے دعوے کیے ہوئے تھے۔‘

’بس پھر کیا تھا، میں نے بھی ان سے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے دو تین ’منتر‘ دیے اور ایک خاص طریقہ بتایا۔ اس طریقے پر عمل کرنے کے بعد مُجھے اُس شخص کا پیغام ملا کہ جس کے ساتھ میری ناراضی چل رہی تھی۔‘

’اس کے بعد مجھے ان پر یقین ہو گیا۔ جب دوبارہ ناراضی ہوئی تو میں نے پھر رابطہ کیا، جس پر انھوں نے مختلف رسومات کے نام پر مُجھ سے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

’آہستہ آہستہ اُن کے مطالبات اور رقم بڑھتے گئے اور انھوں نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا، یہ دھمکی دیتے ہوئے کہ میری نازیبا تصاویر وائرل کر دی جائیں گی۔ مبینہ طور پر عملیات کے نام پر رقم بٹورنے والا بعد میں ایک مرد نکلا۔‘

یہ کہانی انڈیا کے شہر احمد آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون تورل پٹیل (فرضی نام) کی ہے، جن کے ساتھ ایک مبینہ ’تانترک‘ یعنی عامل کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

پوری کہانی کیا ہے؟

یہ سارا معاملہ آخر تھا کیا اور تورل پٹیل کے ساتھ ہوا کیا اس بارے میں انھوں نے بی بی سی سے بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’کچھ عرصہ قبل جس شخص سے میں بے حد محبت کرتی تھی، اُس کے ساتھ میرا جھگڑا ہو گیا اور ہمارے درمیان رابطہ ختم ہوا اور بات چیت بند ہو گئی۔ میں اس سب کے بعد بہت دکھی تھی، اس لیے میں نے انسٹاگرام پر ایک ریل پوسٹ کی۔‘

’اسی رات مجھے انسٹاگرام پر ایک میسج یعنی پیغام ملا جس میں کہا گیا کہ ’ایسا لگتا ہے آپ محبت میں دھوکہ کھا بیھٹی ہیں اور دکھی ہیں۔ آپ کی مشکل کا تانترک رسومات سے مفت حل کیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس پیغام کے ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام کے کچھ لنکس بھی دیے گئے تھے۔ میں اس وقت مایوس تھی، اس لیے میں نے وہ لنکس کھول کر دیکھے۔ اس میں کئی لوگ اپنی مشکلات کے حل ہونے کے دعوے کر رہے تھے۔ میں نے سکرین پر دیے گئے نمبر پر فون کیا، تو انھوں نے مجھے کچھ منتر اور ایک خاص طریقہ بتایا۔ اسی دوران جس شخص کے ساتھ میری ناراضی تھی، اس کا پیغام آ گیا اور ہماری ایک دو ملاقاتیں بھی ہوئیں۔‘

تورل پٹیل نے مزید بتایا کہ ’بعد میں پھر پرانے معاملے پر اختلاف ہوا۔ میری ذہنی حالت بہت خراب تھی، اس لیے میں نے پہلے کی طرح دوبارہ اسی تانترک کو فون کیا۔ اس نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے آپ کو ایک خواجہ سرا ظاہر کر رکھا تھا، اس لیے مجھے لگا کہ میں دھوکے میں نہیں آؤں گی۔‘

’اس نے پہلے ایک رسم کروانے کے لیے تین ہزار روپے مانگے جو میں نے ادا کر دیے۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ پہلی رسم میں کچھ کمی رہ گئی تھی اس لیے ایک اور رسم کروانی ہوگی۔ وہ ویڈیو کال کے ذریعے مبینہ تانترک عمل کر کے دکھاتا تھا، جس سے میرا اعتماد بڑھتا گیا، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک دن رات کے وقت رسم ادا کرنی تھی اور اس دوران میں ماہواری کے ایام سے گزر رہی تھی۔ اس پر ’خواجہ سرا پوجاری‘ مجھ پر ناراض ہو گیا اور کہنے لگا کہ اب طہارت کی رسم یعنی پاکیزگی کی رسم کرنی پڑے گی۔ اس نے مجھے اس رسم کے نام پر کپڑے اتارنے کو کہا۔ ویڈیو کال کے دوران اس نے مجھے بتائے بغیر کچھ سکرین شاٹس لے لیے اور ویڈیوز بھی ریکارڈ کر لیں۔‘

شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ اس کے بعد مختلف نمبروں سے واٹس ایپ پر ان کی قابلِ اعتراض تصاویر ایڈٹ کر کے بھیجی گئیں اور انھیں بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تورل پٹیل نے اپنی شکایت میں مزید کہا کہ ’میں نے اسے مجموعی طور پر ایک لاکھ 43 ہزار روپے دے دیے۔ دوسری جانب اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اور فون نمبر بند ہو گئے۔ میں اس سب کے بعد بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی لیکن آخر کار ہمت کر کے پولیس سے رابطہ کیا اور مدد مانگی۔ پولیس نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ میری تمام معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ میں نے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ جب پولیس نے اس دھوکے باز کو گرفتار کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ تانترک عمل کرنے والا کوئی خواجہ سرا نہیں بلکہ ایک مرد تھا۔‘

پولیس نے ملزم کو کس طرح گرفتار کیا اور اُس نے کیا بیان دیا؟

احمد آباد سائبر کرائم کے تفتیشی افسر پاتھویندر سنگھ واگھیلا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں 23 اپریل کو شکایت موصول ہوئی تو خاتون انتہائی خوفزدہ تھیں اور ذہنی طور پر ٹوٹ چکی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس انسٹاگرام اکاؤنٹ اور فون نمبر سے رابطہ کیا گیا تھا وہ بند ہو چکے تھے اس لیے آئی پی ایڈریس کی بنیاد پر تکنیکی نگرانی کے ذریعے ملزم تک پہنچنا مشکل تھا۔ دوسری طرف بلیک میلنگ کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے تھے۔ اس دوران خاتون نے جس بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی تھی اسے ٹریس کیا گیا تو وہ راجستھان کے علاقے بیکانیر کا ایک نجی بینک نکلا۔ اس بینک اکاؤنٹ سے منسلک فون نمبر کام کر رہا تھا۔ ہم نے اسی نمبر کی مسلسل نگرانی کی اور اس کے ذریعے اہم سراغ حاصل کیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’خواجہ سرا کے نام پر ایک ہی آئی پی ایڈریس سے 'خواجہ سرا جوتشی‘ کے نام سے چار دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی چلائے جا رہے تھے۔ ہم نے ان کو بھی ٹریس کیا اور اس کیس میں ایک ملزم کو راجستھان سے گرفتار کر لیا ہے جبکہ دو دیگر ملزمان مفرور ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔‘

احمد آباد سائبر کرائم کی ڈی سی پی لوینا سنگھ کے مطابق اس واردات میں راجستھان کے تین افراد پر مشتمل ایک گروہ ملوث ہے جن میں مرکزی ملزم رجنییش بھارگَو اور اس کے ساتھی وکاس بھارگَو اور روی بھارگَو شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’رجنییش بھارگَو نے بی اے کی پڑھائی چھوڑ دی ہوئی ہے۔ اس کے والد کی پرچون کی دکان ہے جہاں وہ دن بھر کام کرتا ہے، لیکن آمدنی محدود ہے۔ شام کے وقت رجنییش، وکاس اور روی اکٹھے ہو کر ’خواجہ سرا‘ کے نام پر خود کو ’لوو گرو‘ (Love Guru) ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بناتے تھے۔‘

ڈی سی پی کے مطابق ’یہ لوگ مختلف اکاؤنٹس بنا کر ایسے افراد کو پیغامات بھیجتے تھے جو سوشل میڈیا پر اپنی پریشانیوں یا دکھ کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں سے روزانہ 25 سے 30 افراد ان کے جال میں پھنس جاتے تھے۔ پہلے یہ معمولی ’تانترک‘ رسومات کرا کے کم رقم لیتے تھے اور اگر کوئی شخص ذہنی طور پر کمزور ہوتا تو اسے مزید رسومات کے نام پر زیادہ رقم دینے پر مجبور کرتے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’خواجہ سرا کے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹس میں خواتین جلدی اعتماد کر لیتی تھیں۔ بعد میں پاکیزگی کے نام پر نام نہاد رسم کے ذریعے انھیں پھنسایا جاتا، جس کے لیے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے اور اسی دوران خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنا کر انھیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد پکڑے جانے سے بچنے کے لیے وہ اپنا سم کارڈ بند کر دیتے تھے۔ یہ گینگ گزشتہ ڈھائی سال سے سوشل میڈیا پر جعلی شناخت کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا۔‘

پولیس نے مرکزی ملزم رجنییش کے چار دن کے ریمانڈ حاصل کر لیے ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گروہ نے اسی طریقے سے لوگوں سے 50 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بٹوری ہے۔

ملزمان کے اہلِ خانہ کیا کہتے ہیں؟

یہ تینوں ملزمان ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہیں اور بیکانیر کے ’بھارگَو محلہ‘ (جو علمِ نجوم کے حوالے سے مشہور علاقہ ہے) اور ’گوپیشور بستی‘ میں رہائش پذیر ہیں۔

یہ علاقہ بیکانیر کے کوتوالی پولیس سٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔ چونکہ یہ مقدمہ گجرات سے متعلق ہے اس لیے کوتوالی سٹیشن کے افسر گجیندر سنگھ نے بتایا کہ ’ہم نے گجرات پولیس کو مکمل تعاون فراہم کیا۔‘

کوتوالی تھانے کے علاقے میں امن و امان کے لیے کام کرنے والے سی ایل جی (کمیونٹی لائیزن گروپ) کے رکن ججنیش پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رجنییش، روی اور وکاس آپس میں رشتہ دار ہیں۔ وہ اپنے روزگار سے فارغ ہو کر کشن ریسٹورنٹ میں اکٹھے بیٹھا کرتے تھے، لیکن ہمیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ اس طرح کے کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہیں۔‘

ہم نے ججنیش پرساد کی مدد سے رجنیش کے والد گووند لال سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انھوں نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بارے میں کچھ بھی کہنے اور ہم سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔