توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات: اترپردیش کے شہر نوئیڈا میں مزدور احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’ہم لوگ صبح صبح بچوں کو چھوڑ کر کام پر آتے ہیں۔ اگر ٹارگٹ پورا نہ کریں تو ہمیں دھمکیاں دے کر بھگا دیا جاتا ہے اور بعض اوقات تنخواه بھی روک لی جاتی ہے۔ حکومت اگر تنخواہ بڑھا بھی دیتی ہے تو ہمیں پوری رقم نہیں دی جاتی۔‘

انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے ملحق اور نیشنل کیپیٹل ریجن میں آنے والے اتر پردیش کے شہر نوئیڈا کے ایک فیکٹری ورکر سونو کی یہ بات صرف ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ان سینکڑوں مزدوروں کی کہانی ہے جو ان دنوں یومیہ اجرت اور تنخواہوں کے سلسلے میں سڑکوں پر ہیں۔

ایک اور مزدور پشپیندر کشواہا اس خلا کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ’حکومت نے کہا تھا کہ یکم اپریل سے اوور ٹائم کی اجرت دگنی ہو گی، اس حساب سے ہماری تنخواہ تقریباً 20 ہزار بنتی ہے لیکن ہمیں اتنی تنخواہ نہیں مل رہی۔‘

تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر شروع ہونے والا یہ احتجاج پیر کو نوئیڈا کے صنعتی علاقوں میں پُرتشدد ہو گیا، جہاں کئی مقامات پر توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات پیش آئے۔

منگل کو بھی نوئیڈا کے فیز ٹو سمیت مختلف علاقوں میں مزدور دوبارہ جمع ہوئے اور کشیدگی برقرار رہی، جسے قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے کارروائی کی۔

یہ بے چینی اب نوئیڈا تک محدود نہیں رہی۔ نیشنل کیپیٹل ریجن میں دوسری طرف ہریانہ کے فریدآباد میں بھی فیکٹری مزدوروں نے بہتر تنخواہوں کے مطالبے پر احتجاج کر دیا ہے، جہاں پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ واقعات خاص طور پر نوئیڈا کے فیز ٹو اور سیکٹر 60 کے فیکٹری والے علاقوں میں پیش آئے، جہاں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، بونس دیا جائے، کام کے حالات بہتر بنائے جائیں اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے خلاف باقاعده کمیٹیاں قائم کی جائیں۔

پیر کی صبح شروع ہونے والے اس احتجاج نے نوئیڈا اور دہلی کے درمیان اہم سڑکوں کو جام کر دیا، ہزاروں لوگ، جو روزمرہ کی طرح کام پر جا رہے تھے، گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔

حکومت کا اجرت میں اضافے کا اعلان

نوئیڈا میں پُرتشدد احتجاج کے بعد اتر پردیش حکومت نے نوئیڈا اور غازی آباد میں مزدوروں کی اجرت میں تقریباً 21 فیصد اضافہ کیا جبکہ بلدیاتی علاقوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے یہ اضافہ 15 فیصد ہو گا اور دیگر علاقوں کے مزدوروں کی اجرتوں میں 9 فیصد تک اضافہ کا اعلان کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق مرکزی حکومت نئے لیبر کوڈز کے تحت قومی سطح پر ’فلور ویج‘ مقرر کرنے کے عمل میں ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت کا یکساں بنیادی معیار قائم کرنا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔ انھوں نے آجر تنظیموں سے بھی کہا کہ وہ مزدوروں کو قواعد کے مطابق تنخواہیں، باقاعدہ اوور ٹائم، ہفتہ وار چھٹی، بونس اور سوشل سکیورٹی کے تمام حقوق فراہم کریں اور کام کی جگہوں پر خواتین مزدوروں کی حفاظت اور عزت کو یقینی بنائیں۔

انتظامیہ کا ردعمل: یقین دہانیاں اور ہدایات

گوتَم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے پیر کو کہا کہ صنعتی یونٹس کے ساتھ حالیہ میٹنگز کے بعد مزدوروں کے مطالبات تسلیم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان کےمطابق انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان فیصلوں پر عمل ہو۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹائم کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا، ہر مزدور کو ہفتہ وار چھٹی دی جائے گی اور اگر کوئی مزدور چھٹی کے دن کام کرے تو اسے دوگنا معاوضہ دیا جائے گا۔

گوتم بدھ نگر ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے کارکنوں کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں گے۔

پولیس کا موقف: اکسانے والوں کی شناخت جاری

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اتر پردیش کے ڈی جی پی راجیو کرشنا نے کہا ہے کہ پولیس ان افراد کی شناخت کر رہی ہے جو مبینہ طور پر احتجاج کے دوران تشدد بھڑکانے میں شامل تھے۔

اس کے علاوہ گوتم بدھ نگر کی پولیس کمشنر لکشمی سنگھ نے منگل (14 اپریل 2026) کو بتایا کہ اب تک 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا اور اس معاملے میں سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

دہلی پولیس نے بھی الرٹ رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری نمٹا جا سکے۔

مزدوروں کے مطالبات کیا ہیں؟

گزشتہ چند دنوں سے نوئیڈا میں مزدور مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ تنخواہیں بڑھتی مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔

فیکٹری ورکر رویندر کمار بتاتے ہیں کہ ’اوپر سے احکامات آ چکے ہیں کہ لوگوں کی تنخواہیں بڑھنی چاہییں لیکن جس رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس میں دو وقت کا کھانا بھی پورا نہیں ہو پاتا۔‘

مزدوروں کے مطابق، انھیں اوسطاً تقریباً 13 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں جبکہ پڑوسی ریاست ہریانہ میں حال ہی میں کم از کم تنخواہ تقریباً 14 ہزار سے بڑھا کر 19 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اسی فرق نے نوئیڈا کے صنعتی علاقوں میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے مہینہ مقرر کی جائے۔

سیاسی ردعمل: حمایت اور تنقید

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مزدوروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ احتجاج حکومت کی ’یکطرفہ پالیسیوں‘ کا نتیجہ ہے، جو ان کے مطابق سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں جبکہ مزدوروں کا استحصال جاری ہے۔

اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کا محنت کش طبقہ ’شدید دباؤ‘ میں زندگی گزار رہا ہے اور اس کی وجہ حکومت کی ’ناکام پالیسیاں‘ ہیں۔

پارٹی کے مطابق مزدوروں کے درمیان مایوسی کی ایک گہری فضا پائی جاتی ہے، جو ایسے احتجاجوں کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔

دوسری جانب، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مظفر نگر میں ایک ریلی کے دوران کہا کہ حکومت مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں آؤٹ سورسنگ کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے کم از کم اجرت کی ضمانت دی جائے گی، جو براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل ہوگی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایک ایسا نظام لا رہی ہے جس کے ذریعے مزدوروں کو حفاظت اور مناسب معاوضہ دونوں یقینی بنایا جائے گا۔