آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کسٹم حکام 400 کلوگرام چاندی کی کوئٹہ سے لاہور منتقلی کے دوران سیسے سے مبینہ تبدیلی کے ملزمان تک کیسے پہنچے؟
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان میں کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بلوچستان سے پنجاب منتقلی کے دوران 400 کلوگرام خالص چاندی کی مساوی وزن کے سیسے (لیڈ) سے مبینہ تبدیلی کے الزام میں محکمہ کسٹم کے دو ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق محکمہ کسٹمز (کوئٹہ) سے تعلق رکھنے والے دونوں ملازمین اس وقت کسٹمز حکام کی تحویل میں ہیں اور اُن سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
ترجمان محکمہ کسٹمز کے مطابق مذکورہ افسران کو سرکاری طور پر ضبط شدہ 688 کلوگرام چاندی کو 36 سیل شدہ ڈبوں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ذریعے کوئٹہ سے لاہور منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق تاہم جب یہ 36 سیل شدہ باکس لاہور میں کھولے گئے تو انکشاف ہوا کہ 400 کلوگرام چاندی کو اسی وزن اور مماثل پیکنگ والی نقلی سیسے کے اینٹوں سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔
کسمٹز حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سیف سٹی کوئٹہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اِس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ضبط شدہ اصل چاندی لے جانے والی گاڑی کی نقل و حمل کے دوران چاندی کو دانستہ طور پر سیسے سے تبدیل کیا گیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اس معاملے کی تفصیلات سے واقف کسٹمز کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ’جب کسٹمز کلیکٹوریٹ کوئٹہ سے بھیجی جانے والی خالص چاندی کا پاکستان منٹ ہائوس لاہور میں تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی نصف سے زائد مقدار تو سرے سے چاندی ہے ہی نہیں۔‘
اُن کے مطابق اس کے بعد یہ تجزیاتی رپورٹ کوئٹہ آفس کے ساتھ شیئر کی گئی جس کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز ہوا۔
اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ملزمان نے انتہائی مہارت سے یہ کام کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اہلکار کے مطابق یہ تمام چاندی کسٹمز کلیکٹوریٹ کوئٹہ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران برآمد کرنے کے بعد بحق سرکار ضبط کی تھی، جس کے بعد اس کی منتقلی لاہور کی جانی تھی۔
جب چاندی کی سیسے سے مبینہ تبدیلی کے واقعے سے متعلق کوئٹہ میں اسسٹنٹ کلیکٹر شہریار ولی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے محض اس بات کی تصدیق کی کہ اس حوالے سے دو اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
متعلقہ اہلکاروں کے مطابق پاکستان میں کسٹمز کلیکٹوریٹس میں جمع ہونے والی چاندی پاکستان میں وزارت خزانہ ماتحت چلنے والے ادارے ’پاکستان منٹ‘ کو منتقل کی جاتی ہے جہاں اس کا استعمال سکے وغیرہ بنانے میں ہوتا ہے۔
محکمہ کسٹمز کے پاس چاندی کہاں سے آئی؟
جب کسٹمز کلیکٹوریٹ کے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ چند ماہ قبل فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے پورے پاکستان میں کسٹمز کے کلیٹوریٹس کو آمدن بڑھانے کی ہدایت جاری کی تھی۔
ایک سینیئر اہلکار کے مطابق انھی ہدایات کی روشنی میں گذشتہ پانچ ماہ کے دوران جہاں محکمے کی ریونیو میں اضافہ ہوا وہیں سمگل شدہ دھاتوں بشمول چاندی کی بھی ریکارڈ مقدار میں برآمدگی کی گئی۔
ان کے مطابق ضبط شدہ کی 688 کلوگرام چاندی میں سے لگ بھگ 450 کلوگرام چاندی گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ہی برآمد کر کے ضبط کی گئی تھی۔
کسٹمز اہلکار نے بتایا کہ ضبط شدہ اشیا میں سے منشیات ضائع کر دی جاتی ہیں جبکہ غیر ملکی کرنسی کو سٹیٹ بینک میں جمع کروا دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کسٹمز کی جانب سے ضبط کیا گیا سونا، چاندی سمیت دیگر قیمتی دھاتوں کو اگر پاکستان منٹ ہاؤس خریدنا چاہے تو انھیں لاہور بھیج دیا جاتا ہے بصورت دیگر ان کو نیلام کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب رواں ماہ کے اوائل میں ضبط شدہ چاندی کو لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس حوالے سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر نصف سے زیادہ چاندی سیسے سے تبدیل کر دی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ جب پاکستان منٹ ہاؤس پہنچنے پر چاندی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بڑی مقدار کو سیسے سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے کہاں تبدیل کیا گیا؟
محکمہ کسٹمز کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ضبط شدہ چاندی کی مالیت اندازاً 60 کروڑ روپے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضبط کی گئی چاندی کی بڑی مقدار دبئی سے ایران اور افغانستان کے راستے سمگل ہو کر بلوچستان پہنچی تھی۔
کسٹمز اہلکار کا کہنا تھا کہ جب معلوم ہوا کہ ضبط شدہ چاندی کی بڑی مقدار تبدیل کر دی گئی ہے تو ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اسے منٹ ہاؤس میں یا لاہور کے کسی مقام میں تبدیل کیا گیا ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کسٹمز کوئٹہ نے کوئٹہ ایئرپورٹ اور لاہور ایئرپورٹ کے حکام کے علاوہ سیف سٹی لاہور اور سیف سٹی کوئٹہ کے حکام کو مراسلے بھیجے تاکہ تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب سیف سٹی کوئٹہ کے کیمروں کی فوٹیج چیک کی گئی تو پتہ چلا کہ چاندی کسٹمز کلیکٹوریٹ کوئٹہ اور کوئٹہ ایئرپورٹ کے درمیان ایک مقام پر مبینہ طور پر تبدیل کی گئی تھی۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے بعد چاندی کی منتقلی کے ذمہ داران افسروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی جس میں انھوں نے اس کام میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
حراست میں ہونے کے باعث کسٹمز کے دعوے کے متعلق نامزد ملزمان کا موقف معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔
کسٹمز اہلکار کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور یہ بھی پتہ لگایا جا رہا ہے کہ سکیورٹی کی جو گاڑی اہلکاروں کے ہمراہ گئی تھی وہ چاندی سے لدی اس گاڑی سے کیسے آگے نکل گئی جس میں چاندی کسٹمز کلیکٹوریٹ سے منتقل کی جا رہی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا چاندی کی بڑی مقدار کی سیسے میں تبدیلی کے عمل میں سکیورٹی کا عملہ بھی شامل تھا یا نہیں۔‘
یاد رہے کہ ایکس پر محکمہ کسٹمز کے بیان میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیف سٹی کوئٹہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی چاندی کی سیسے میں تبدیلی کی تصدیق ہوئی۔