آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں نے وہ لیا جو میرا حق تھا‘: ویب سیریز ’چرییا‘ جس نے ازدواجی ریپ پر نئی بحث چھیڑ دی
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
حال ہی میں ریلیز ہونے والی ایک ویب سیریز نے انڈیا میں ایک نہایت سنگین سماجی مسئلے کی طرف عوام کی توجہ دوبارہ مبذول کرائی ہے، ایک ایسا مسئلہ جسے ملک میں اب تک باضابطہ جرم قرار نہیں دیا گیا۔
’چرییا‘ کے عنوان سے یہ سیریز جیو ہاٹ سٹار پر ریلیز ہوئی ہے اور مختصر وقت میں ہی لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے۔ گذشتہ چند مہینوں میں یہ پلیٹ فارم کی مقبول ترین ہندی سیریز میں سے ایک بن گئی ہے۔
میڈیا ناقدین اس بات کو سراہ رہے ہیں کہ سیریز نے ایک ایسے موضوع کو منظرِ عام پر لایا ہے جو معاشرے میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر رضامندی اور خواتین کے خلاف رویوں سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، کچھ لوگوں نے اسے ’مرد مخالف‘ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے ’شادی جیسے تصور‘ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
سیریز کی سکرپٹ رائٹر، دیوی ندھی شرما کے مطابق کہانی دو خواتین، کمليش اور پوجا کے گرد گھومتی ہے۔
کمليش کا کردار دیویا دتہ نے ادا کیا ہے۔ کمليش ایک متوسط طبقے کی گھریلو خاتون ہیں جو سمجھتی ہیں کہ عورتوں کی جگہ گھر اور باورچی خانے تک محدود ہونی چاہیے۔
پوجا، جن کا کردار پرسنہا بشٹ نے کیا ہے، ایک پڑھی لکھی، آگاہی رکھنے والی اور برابری پر یقین رکھنے والی خاتون دکھائی گئی ہیں۔
’تم بار بار یہ کیوں کہتی ہو کہ میں نے تمہارا ریپ کیا ہے؟‘
دونوں کرداروں کی دنیا اس وقت ٹکراتی ہے جب پوجا کی شادی کمليش کے دیور ارون سے ہوتی ہے، جسے کمليش نے بیٹے کی طرح پالا ہے۔
ارون بظاہر ایک مثالی شوہر دکھائی دیتے ہیں، لیکن شادی کی پہلی ہی رات پوجا کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور اسے ارون کے رویے سے شدید صدمہ پہنچتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب پوجا اس نامناسب اور جارحانہ برتاؤ پر احتجاج کرتی ہیں، تو ارون انھیں کہتا ہے کہ ’میں نے صرف وہ لیا ہے جو میرا حق تھا۔‘
اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ’تم بار بار یہ کیوں کہتی ہو کہ میں نے تمہارا ریپ کیا ہے؟‘
وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ انڈیا میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان اس نوعیت کے معاملات کو جرم نہیں سمجھا جاتا، اس لیے اس کے خلاف کوئی مخصوص قانون موجود نہیں۔
سیریز رضامندی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے
دویا دتہ کا کہنا ہے کہ یہ سیریز رضامندی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ خاص کر شادی جیسے رشتے میں جو بہت مقدس سمجھا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ازدواجی عصمت دری کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل ہے۔ ہر وہ عورت جسے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ سمجھتی ہے کہ یہ صرف اس کی کہانی ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اگر اس نے بات کی تو اس کی بدنامی ہو جائے گی اور اس کا گھر ٹوٹ جائے گا۔‘
سیریز میں جب ایک زخمی اور پریشان پوجا اپنے علاج کے بارے میں بات کرتی ہیں تو انھیں ان کے اپنے گھر والوں نے ’سمجھوتہ‘ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ سچ بولنے سے صرف بدنامی ہوگی۔
کملیش شروع میں مانتی ہیں کہ شادی میں جنسی تعلقات کے لیے رضامندی خود بخود ہوتی ہے۔
لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، ان کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے اور وہ سچائی کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کرتی ہیں، چاہے اس کا مطلب اس کے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہو۔ آخر کار، وہ پوجا کی حمایت کرتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں تقریباً 6.1 فیصد شادی شدہ خواتین کو کسی نہ کسی موقع پر جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
لیکن برسوں کے احتجاج کے باوجود انڈیا ان تین درجن ممالک میں شامل ہے جہاں ازدواجی ریپ کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔
پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں بھی اسے جرم نہیں سمجھا جاتا۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں، لیکن حکومت، مذہبی تنظیموں اور مردوں کے حقوق کی تنظیموں نے اس قانون میں تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔
اس مسئلے پر موجودہ قانون نوآبادیاتی دور کا ہے۔ یہ اس شوہر کو مجرم نہیں گردانتا جو اپنی بیوی کو جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتا ہے جب تک کہ وہ نابالغ نہ ہو۔
پچھلے سال ایک کیس پر بہت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس معاملے میں اپنی بیوی کے ’ریپ کے مجرم‘ کو عدالت نے اس بنیاد پر بری کر دیا تھا کہ ہندوستان میں ازدواجی ریپ کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔
سکرپٹ رائٹر دیوی ندھی شرما کہتی ہیں کہ ’یہ ناانصافی ہمارے گھروں میں اور آس پاس ہو رہی ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی قانونی یا سماجی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے، ایک مصنف کے طور پر، میں نے اس پر کام کرنا ضروری سمجھا۔‘
اس طرح کی کہانیاں دنیا کو بدل سکتی ہیں
یہ سیریز ایک بنگالی شو ’سمپورنا‘ سے ماخوذ ہے، جسے شمالی ہند کے تناظر میں دوبارہ تخلیق کیا گیا ہے۔ شمالی ہند ایک ایسا خطہ جہاں مردانہ بالادستی کا دارو دورہ نظر آتا ہے۔
دیوی ندھی شرما کہتی ہیں کہ ’سمپورنا کا مرکزی کردار ایک فیمنسٹ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہماری ہیروئن، کملیش، ایک ایسی عورت ہیں جو لفظ ’مسوجنی‘ یعنی عورت سے نفرت کے ہجے تک نہیں جانتیں۔ وہ پدرانہ سوچ میں اس قدر ڈوبی ہوئی ہے کہ اس کا اخلاقی نقطہ نظر پوری طرح سے گر چکا ہے۔‘
لیکن آخر میں، وہ کھڑی ہو جاتی ہیں اور اس جرم کے خلاف لڑتی ہیں۔‘
ہدایت کار ششانک شاہ کا کہنا ہے کہ کملیش کے کردار کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ انڈیا میں بہت سی خواتین اس سے جوڑ سکتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہ خاندانی نظام پر کامل یقین رکھتی ہے، مگر آہستہ آہستہ جب اس کی دنیا بکھرنے لگتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک فریب تھا، ایک ایسا ڈھونگ، جس کے اندر لوگ خاموشی سے تکلیف سہہ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس سیریز کا مقصد حکومت یا قانون پر سوال اٹھانا نہیں بلکہ معاشرے کو سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ پوجا کی کہانی فرضی ہے ’لیکن یہ لاکھوں عورتوں کی حقیقت ہے‘ اور کملیش کے کردار کے ذریعے ’ہم نے بہن چارے کی ایک کہانی سنانا چاہی ہے۔‘
اگرچہ یہ ویب سیریز خواتین کے گرد گھومتی ہے لیکن شاہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ چرییا میں مرد کردار چیختے چلاتے منفی خاکے کے طور پر پیش نہ ہوں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہ (مرد) درندے نہیں، بلکہ عام لوگ ہیں جن سے ہم روزمرہ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ پدرانہ نظام اتنا گہرائی میں پیوست ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ عورت دشمن رویّہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘
دویا دتہ کا کہنا ہے کہ سیریز کو زبردست رسپانس ملا ہے۔ وہ آدھی رات کو بھی پیغامات اور کال وصول کرتی ہیں۔ لوگ ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ وہ نظمیں لکھ کر بھیج رہے ہیں۔
تاہم، کچھ منفی ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔
دیوی ندھی شرما کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اسے ایک سیریز سمجھتے ہیں جو ’مردوں کو بری روشنی میں پیش کرتی ہے۔‘
لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا مقصد صرف بات چیت شروع کرنا تھا۔ ہم قانون نہیں بنا سکتے، لیکن آرٹ کے ذریعے ہم ایسے مسائل کو معاشرے کے علم میں لا سکتے ہیں۔‘
دیویا دتہ کا کہنا ہے کہ وہ منفی ردعمل کو نظر انداز کر رہی ہیں اور مثبت پر توجہ دے رہی ہیں۔
آخر میں، وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ ایسی کہانیاں دنیا کو بدل سکتی ہیں۔ وہ ہمیں دکھاتی ہیں کہ ہم کہاں غلط ہیں۔ اور ہمیں تبدیلی کا آغاز اپنے گھروں سے کرنا ہے۔ یہ پہلا اور مضبوط ترین قدم ہے۔‘