آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہ شکست نہیں شرمندگی ہے‘: پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے سب سے ’تاریک دور‘ تک کیسے پہنچا اور اب آگے کیا راستہ ہے؟
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
’اس ٹیم میں بڑے نام نہیں ہیں اور نہ ہی سپرسٹارز ہیں لیکن ہر کھلاڑی ٹیم کے لیے کھیلتا ہے۔ اس کا ٹیم کی جیت میں حصہ ہے۔ ہر کھلاڑی نے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘
یہ الفاظ تھے پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کے جب پاکستان سنہ 2016 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آِیا اور لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں اُس وقت آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مصباح الحق کو میس (اعزازی گرز) تھمائی۔
پاکستان نے اسی برس موسم گرما میں انگلینڈ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ میں سیریز دو، دو سے برابر کی تھی جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہونے اور ہوم کراؤڈ کے سامنے میچز نہ ہونے کے باوجود پاکستان متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کو تواتر سے شکست دے رہا تھا۔
پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی سیریز میں بھی حریف ٹیموں کو باآسانی شکست دے رہا تھا اور ٹیم میں بڑے نام نہ ہونے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا طوطی بول رہا تھا۔
یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی ٹیم میں بڑے نام نہیں تھے۔ اظہر علی، اسد شفیق، یاسر شاہ اور سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جا رہا تھا جبکہ مصباح الحق اور یونس خان نے پاکستان کے مڈل آرڈر کا بوجھ بہت اچھے انداز میں سنبھال رکھا تھا۔
فاسٹ بولنگ میں محمد عامر کی واپسی ہو چکی تھی، تاہم مصباح الحق کی کپتانی میں راحت علی، سہیل خان اور وہاب ریاض جیسے بولرز بھی حریف ٹیموں کے خلاف موثر ثابت ہو رہے تھے۔
پاکستان آئی سی سی کی جانب سے سنہ 2003 میں متعارف کرائے گئے ٹیسٹ رینکنگ سسٹم کے بعد اعزازی گرز حاصل کرنے والی پانچویں ٹیم تھی، اس سے قبل آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور انڈیا کی ٹیمیں ہی یہ اعزاز گرز حاصل کر پائی تھیں۔ لیکن اب یہ ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔
ایسے میں کرکٹ ماہرین کم از کم ٹیسٹ فارمیٹ میں پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ قرار دے رہے تھے، لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انگلینڈ کو اُس کے ہوم گراؤنڈ میں شکست دے کر ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے والی پاکستان کی ٹیم 10 برس بعد بنگلہ دیش کے ہاتھوں کلین سویپ ہو کر ٹیسٹ رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر لڑھک جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2016 سے 2023 کے دوران پاکستان کی کارکردگی میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا اور اس دوران مصباح الحق اور یونس خان بھی ریٹائر ہو گئے، لیکن سنہ 2023 کے بعد پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں تیزی سے نیچے آیا اور اب بنگلہ دیش کے ہاتھوں کلین سویپ کے بعد ماہرین اسے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے برا دور قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے زوال کی کوئی ایک وجہ قرار نہیں دیتے بلکہ اُن کا ماننا ہے کہ سلیکشن، پسند ناپسند، ڈومیسٹک کرکٹ کی کمزوریوں، ٹی 20 کرکٹ کو ترجیح دینے سمیت بہت سے عوامل نے پاکستان کرکٹ کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔
بی بی سی نے پاکستان کرکٹ کو قریب سے دیکھنے والے کرکٹ تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر پاکستان کرکٹ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ٹاپ فور تو درکنار اب بنگلہ دیش جیسی نچلے رینکنگ کی ٹیموں سے شکست کیوں کھا رہا ہے؟
لیکن اس سے پہلے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستان کا ٹیسٹ کرکٹ میں حالیہ ریکارڈ
پاکستان شان مسعود کی قیادت میں سنہ 2024 سے لے کر اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں سے 12 میں شکست کھا چکا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف کلین سویپ سے قبل گذشتہ برس جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز بھی نہیں جیت پایا تھا اور یہ سیریز ایک، ایک سے برابر رہی تھی۔
سنہ 2024 میں ٹیسٹ کرکٹ میں نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی اپنے ہی گھر میں ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پایا تھا اور یہ سیریز بھی ایک، ایک سے برابر رہی تھی۔ اسی سال بنگلہ دیش نے پاکستان کو دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں دو، صفر سے شکست دی تھی۔
پاکستان نے ایک ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز 448 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود پاکستان یہ ٹیسٹ میچ نہیں بچا سکا تھا۔
گذشتہ برس جنوبی افریقہ میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بھی پاکستان کو دو، صفر سے شکست ہوئی تھی۔ سنہ 2023 اور 2024 میں دورہ آسٹریلیا میں بھی پاکستان کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں تین، صفر سے شکست ہوئی تھی۔
کئی ٹیسٹ میچز میں اچھی پوزیشن میں آنے کے باوجود ٹیسٹ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا رہا۔ سلہٹ ٹیسٹ میں شکست کے بعد بھی کپتان شان مسعود نے کہا کہ ’دونوں ٹیسٹ میچز میں ہمیں اچھا کرنے کے بہت سے مواقع ملے، جن سے ہم فائدہ نہ اُٹھا سکے۔‘
’یہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بُرا دور ہے‘
سپورٹس تجزیہ کار اور کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے ایڈیٹر عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’یہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے برا دور کہا جا سکتا ہے۔‘
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ اس لیے بھی زیادہ برا لگ رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ بھی اس وقت بہت نیچے آئی ہوئی ہے۔‘
عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ اس سے قبل پاکستان نے 60 کی دہائی میں وہ دور دیکھا تھا جب 30 ٹیسٹ میچز میں سے اس نے صرف دو ٹیسٹ میچز جیتے تھے۔
’50 کی دہائی میں جب پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا شروع کی تو اس کا آغاز بہت اچھا تھا اور مجموعی طور پر وہ عشرہ پاکستان کے لیے بہت اچھا رہا تھا، لیکن 60 کی دہائی میں جو زوال آیا وہ بہت برا تھا۔‘
اُن کے بقول اس کے بعد سنہ 2005 سے 2010 کا دور پاکستان کے لیے اچھا نہیں تھا، کوچ باب وولمر کی وفات اور اس کے بعد انگلینڈ میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے پاکستان کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ’لیکن اس کے بعد بھی پاکستان اچھا کرنے لگا تھا۔‘
’اس سے لو پوائنٹ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ میں کبھی نہیں آیا، یہ کوئی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم بھی نہیں ہے۔ 30 سال سے زائد عمر کے سات سے آٹھ کھلاڑی ہیں، تین چار تو 35 سال سے بھی زائد عمر کے ہیں۔‘
سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز بھی عثمان سمیع الدین سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ نہ صرف پاکستان کرکٹ کے لیے بہت برا دور ہے بلکہ ’شرمندگی کا بھی مقام ہے۔ ‘
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے لیے ’یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے، کیونکہ حالیہ عرصے میں جس طرح مسلسل غلطیوں کو نظر انداز کیا جا رہا تھا تو اسی نوعیت کے نتائج کی توقع ہی کی جا سکتی ہے۔‘
اُن کے بقول بنگلہ دیش بہت اچھی کرکٹ کھیل رہا ہے اور ’دو برس پہلے تک وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں اس طرح کی بدترین شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ پاکستان نے دُنیا کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی پیدا کیے، لیکن ’اب پاکستان اس فارمیٹ سے غیر متعلقہ لگتا ہے۔‘
مصباح الحق نے کس طرح ٹیم کو نمبر ون پوزیشن پر پہنچا دیا تھا؟
اس سوال کے جواب میں کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل اور ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہو جانے کے باوجود پاکستان مصباح الحق کی کپتانی میں ٹیسٹ رینکنگ میں سرفہرست کیسے آیا تھا؟
اس پر عثمان سمیع الدین کا کہنا تھا کہ جب مصباح الحق کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تو اُن کی کارکردگی بھی شان مسعود کی طرح کچھ خاص نہیں تھی۔ لیکن اُس وقت سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد پاکستان بار بار کپتان تبدیل کر رہا تھا۔
’مصباح نے کپتانی ملتے ہی سب سے پہلے اپنی کارکردگی بہتر بنائی اور یہ ہر پاکستانی کپتان کے لیے ایک مثال ہے کہ اُنھوں نے اپنے پہلے چھ، سات ٹیسٹ میچز میں پانچ یا چھ نصف سنچریاں اور ایک سنچری سکور کی اور یہی تسلسل اُنھوں نے برقرار رکھا۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ مصباح الحق نے اپنی کارکردگی کے ذریعے دوسرے کھلاڑیوں کو بھی تحریک دی کہ ’اگر کپتان اچھا کر سکتا ہے تو ہمیں بھی کچھ کر کے دکھانا ہے۔‘
اُن کے بقول مصباح الحق کے پاس ’محمد عامر اور محمد آصف نہیں تھے، اُنھوں نے ایک طرح سے ایک نئی ٹیم کھڑی کی اور پہلے سعید اجمل اور پھر یاسر شاہ جیسے کھلاڑیوں کو اتنا اعتماد دیا کہ وہ میچ ونر میں تبدیل ہو گئے۔‘
عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’مصباح الحق بہترین کرکٹ برین رکھنے والے سمارٹ اور ٹیکٹیکل کپتان تھے اور چونکہ پاکستان اپنی ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیل رہا تھا تو وہ وہاں کی کنڈیشنز کو بھی سمجھتے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ مصباح کے دور میں بھی پاکستان آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ میچز نہیں جیت پاتا تھا، لیکن اُنھوں نے متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ میچز جیتنے کا گُر سیکھ لیا تھا۔
’ہوم گراؤنڈز میں مصباح الحق نے ایک فارمولہ بنا لیا تھا کہ کس طرح سے میچز جیتنے ہیں یا کم از کم ڈرا کرنے ہیں اور شکست سے بچنا ہے۔‘
کیا شان مسعود کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کپتان شان مسعود نے پاکستانی قوم سے معذرت کی ہے، تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ’کپتانی سے متعلق فیصلہ اُن کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘
پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شان مسعود کے مستعفی ہونے کا امکان ہے، تاہم نیوز کانفرنس کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ جب میں نے کپتانی سنبھالی تو میری نیت واضح تھی کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو بہتر کرنا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں ’سٹرکچرل تبدیلیوں‘ کی ضرورت ہے۔
عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’سارے کا سارا ملبہ شان مسعود پر گرانا درست نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے کہ جب ٹیم ہارتی ہے تو ساری توجہ کپتان پر جاتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا شان مسعود کا کپتان بنایا جانا چاہیے تھا؟‘
اُن کے بقول ’جب تین برس پہلے اُنھیں کپتان بنایا گیا تو اُن کی انفرادی کارکردگی اتنی اچھی نہیں تھی، وہ ٹیم کا مستقل حصہ بھی نہیں تھے۔ حالانکہ انھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے 10 برس ہو گئے تھے۔‘
عثمان سمیع الدین کے بقول ’پاکستان کی ٹیم سلیکشن اور ٹیلنٹ سمیت ٹیم کی ناقص کارکردگی کی صرف ایک وجہ نہیں ہے۔ لہذا صرف ایک کھلاڑی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’شان مسعود 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز ہار چکے ہیں، جو چار ٹیسٹ میچز وہ جیتے ہیں وہ ہوم گراؤنڈ میں جیتے ہیں تو سوال تو یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ پھر بھی اُن پر انحصار کیوں کرتا رہا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اصل مسئلہ ٹیلنٹ کا بھی ہے، جو کھلاڑی ٹیم میں آ رہے ہیں وہ اچھے تو ہیں، لیکن وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان جس طرح کی کرکٹ کھیل رہا ہے وہ بین الاقوامی کرکٹ سے میل نہیں کھاتا جبکہ تیز بولر ایک سپیل میں تو اچھی بولنگ کر لیتے ہیں، لیکن وہ دوسرے یا تسیرے سپیل میں رہ جاتے ہیں۔‘
’ٹیسٹ میچز جیتنے کے لیے آپ کے پاس فاسٹ بولرز ہونے چاہییں، آپ کے پاس جو بولرز ہیں، وہ بظاہر ان فٹ لگتے ہیں۔‘
تو حل کیا ہے؟
پاکستان کرکٹ ٹیم ماضی میں نیچے جاتے جاتے مختلف مواقع پر اُبھر کر سامنے آتی رہی ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا ایک تسلسل ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
عثمان سمیع الدین پاکستان کرکٹ کے اس نہج پر پہنچنے کی وجوہات میں پالیسی کا تسلسل نہ ہونا ہے۔
اُن کے بقول ’جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو اُنھوں نے ڈپارٹمنٹ کرکٹ بند کر دی اور چھ ٹیمیں بنائی گئیں۔ پھر پالیسی تبدیل ہوئی اور بہت ساری ٹیمیں بنا دی گئیں جس سے معیار میں فرق آیا۔‘
عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’طویل مدتی فیصلوں کی بات کریں تو ایک ایک پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، یعنی فیصلہ کر لیا جائے کہ 10 ٹیمیں ہوں گی اور یہ سسٹم 10 سال کے لیے ہو گا اور اسے کوئی بھی نیا چیئرمین تبدیل نہیں کر سکے گا۔‘
اُن کے بقول ’پچز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کراچی، لاہور، فیصل آباد ہر جگہ مختلف پچز ہوں تاکہ کھلاڑیوں کو ہر طرح کی کنڈیشنز میں کھیلنے کا موقع ملے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ فوری طور پر جو فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اس میں ظاہر ہے کہ کپتان کی تبدیلی کا فیصلہ تو ہوگا۔ ’ٹیم میں ایک، دو کھلاڑی ایسے ہیں جو کپتانی کے اُمیدوار ہو سکتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’سوچ میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے، مثال کے طور پر محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھا گیا کہ اُن کے پاس پیس نہیں ہیں، لیکن وہی آپ کے لیے وکٹ بھی لے رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ اب پاکستان کرکٹ کو اُن کھلاڑیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا جو بار بار سسٹم میں آ جاتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ایک ’قبیلہ‘ سے بنا ہوا ہے اور پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلے ہو رہے ہیں، سب سے پہلے یہ ختم کرنا ہو گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا کہ پاکستان میں اب فاسٹ بولرز نہیں آ رہے، غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اُنھیں سسٹم میں آنے نہیں دیا جاتا۔ علی رضا جیسے بولرز جو 140 سے زائد کی رفتار سے گیند کر سکتے ہیں اُن کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔‘
عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ ’جب آپ صحیح لوگوں کو اہم عہدوں پر لائیں گے تو کچھ تبدیلیوں کے ذریعے ہی پاکستان کرکٹ میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی اور اب جب طویل مدتی منصوبوں پر عمل درآمد ہوا تو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا۔‘