آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, سفارت کاری کو موقع دینے پر صدر ٹرمپ کو سراہتے ہیں، ایران جامع معاہدے کی کوششوں کا مثبت جواب دے: سعودی عرب

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع‘ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع' دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے۔
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 'دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں اور وہ جنگ اور مہم جوئی کے نئے مرحلے کی تلاش میں ہے۔'
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور 'وہ فوری طور پر کھل جانی چاہیے۔'
  • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی نگرانی میں 26 بحری جہاز باحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
  • چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک 'اہم موڑ' پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز 'ناقابل قبول' ہوگا۔

لائیو کوریج

  1. جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کو موقع دینے پر ٹرمپ اور ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کو سراہتے ہیں: سعودی عرب

    سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع‘ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں فیصل بن فرحان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: ’سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو سراہتا ہے کہ انھوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا، (ایسا معاہدہ جو) آبنائے ہرمز میں باحفاظت سمندری نقل و حمل کی آزادی کو 28 فروری 2026 سے قبل کی حالت میں بحال کرنے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مؤثر ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    ’سعودی عرب توقع رکھتا ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک مضمرات سے بچنے کے لیے اس موقع سے استفادہ کرے گا اور ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے ہونے والی کوششوں کا فوری مثبت جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔‘

  2. دشمن جنگ کے نئے مرحلے کی تلاش میں، ایران نے جنگ بندی کو آپریشنل صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا: محمد باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں اور وہ جنگ اور مہم جوئی کے نئے مرحلے کی تلاش میں ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنے آڈیو پیغامات میں قالیباف کا کہنا تھا کہ سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کا مقصد ایران کو پسپا کرنا ہے لیکن انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے عسکری انفراسٹرکچر جنگ بندی کے ایک مہینے کو اپنی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

    اپنے آڈیو پیغام میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اطراف سیاسی ماحول ان کے ایران سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

  3. آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں، معاہدے پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور ’وہ فوری طور پر کھل جانی چاہیے۔‘

    بدھ کو ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آبنائے ہرمز کھلوانی ہے اور وہ فوری طور پر کھلنی چاہیے۔‘

    ایران کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوئی ’جلدی نہیں ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے لوگوں کا بھلا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘

    ’ایران میں اس وقت بہت غصہ ہے کیونکہ لوگ بُری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کافی ہلچل ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘

  4. گذشتہ 24 گھنٹوں میں 26 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی نگرانی میں 26 بحری جہاز باحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپس اور دیگر کمرشل جہاز شامل تھے، جو اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی کے مطابق کم از کم پانچ ’سپر ٹینکرز‘ آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ مزید جہازوں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق چین اور جنوبی کوریا سے ہے، نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اجازت طلب کی ہے۔

  5. متحدہ عرب امارات کی ’عراقی سرزمین سے کیے جانے والے سنگین دہشتگرد حملوں‘ کی مذمت

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ ’عراقی سرزمین سے کیے جانے والے بلا اشتعال ڈرون حملوں‘ کی مذمت کرتا ہے، جس میں سنیچر کو براکہ نیوکلیئرپاور پلانٹ پر کیا جانے والا ڈرون حملہ بھی شامل ہے جس سے پلانٹ کے باہری حصے میں موجود ایک جنریٹر کو نقصان پہنچا تھا۔

    بدھ کو ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک اور خلیجی تعاون کونسل کے رُکن ممالک میں اہم سویلین اداروں پر عراقی سرزمین سے ہونے والے ’سنگین دہشتگرد حملوں‘ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو اپنی ’خودمختاری‘، ’فضائی حدود‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے بیان میں عراق کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ’متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان خطرات کا فوری اور ذمہ دارانہ طریقے سے سدِباب کرے۔‘

    عراقی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کی مذمت کی تھی، تاہم اس کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کے بیان پر کوئی ردِعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

  6. ایران، امریکہ مذاکرات کی بحالی کی کوششیں: پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایران کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیر داخلہ کا یہ ’دورہ پچھلے دورے کا تسلسل ہے اور ان کا ایجنڈا (امریکہ اور ایران کے درمیان) مذاکرات کی بحالی ہے۔‘

    اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھی جانے والی خبر ایجنسی تسنیم نے بھی پاکستانی وزیرِ داخلہ کے تہران پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    خیال رہے محسن نقوی تقریباً چار روز ایران میں گزار کر گذشتہ روز منگل کو ہی پاکستان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباسی عراقچی سمیت متعدد ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    منگل کو ایران سے واپسی کے بعد محسن نقوی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنے دورے سے متعلق آگاہ بھی کیا تھا۔

    حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزیرِ داخلہ کے دورے کی تفصیلات تو شیئر نہیں کی گئیں، لیکن یہ دورے ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

  7. عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26 سے 28 مئی تک، نوٹیفیکیشن جاری

    پاکستان کی وفاقی حکومت نےعیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26، 27 اور 28 مئی تک ہوں گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    یاد رہے کہ عیدالضحیٰ کا تہوار پاکستان میں بدھ 27 مئی کو منایا جائے گا جبکہ 26 کو حج کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

  8. چین اور روس کو’ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات ‘کی مخالفت کرنا چاہیے: صدر شی

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار بڑی طاقتوں‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے اور ’ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات ‘کی مخالفت کرنی چاہیے۔

    چینی صدر نے یہ بات چین اور روس کی جانب سے تجارت، ٹیکنالوجی،سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں کے ایک سلسلے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہی۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    چینی صدر نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور اب جامع سٹریٹیجک پارٹنر شپ کی اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

    ان کے مطابق دونوں ممالک نے برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام کا مظاہرہ کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے نقطۂ آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں۔

    شی جن پنگ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چین اور روس کو تمام سطحوں پر روابط اور تبادلے جاری رکھنے چاہییں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں جدت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

    روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے: پوتن

    چینی صدر کی گفتگو کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بیرونی دباؤ اور عالمی منڈیوں میں منفی رجحانات سے محفوظ ہے۔

    صدر پوتن کے مطابق روس اور چین آزاد خارجہ پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور عالمی سطح پر استحکام پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  9. پوتن کا چین کے ساتھ تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند ‘ہونے کا دعویٰ اور چین کا محتاط رویہ, لورا بیکر نامہ نگار بی بی سی کا تجزیہ

    روسی صدر پوتن نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔

    ہم اس جملے کو پہلے بھی سن چکے ہیں۔ گزشتہ سال جون اور ستمبر میں چین کے دوروں کے دوران پوتن اور ان کے حکام بھی یہی بات کہہ چکے تھے۔

    تاہم یہ بیان ہمیشہ روس کی جانب سے آتا ہے۔

    یہ درست ہے کہ دوطرفہ تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن جب زبان اور اندازِ بیان کی بات آتی ہے تو چین زیادہ محتاط، حتیٰ کہ قدرے محتاط اور دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔

    شی جن پنگ اپنے ہم منصب کو ’پرانا دوست‘ کہتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’غیر متزلزل‘ قرار دے چکے ہیں۔

    چینی رہنما عموماً محتاط انداز اختیار کرتے ہیں اور وہ بلند آہنگ بیانات دینے کے بجائے اپنی برتری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    چین وہ شراکت دار ہے جس کی روس کو ضرورت ہے اور اس کے پاس وہ معاشی طاقت اور سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ تعلقات کے رخ اور شرائط طے کر سکتا ہے۔

  10. موجودہ عالمی صورتحال پیچیدہ، تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہو گا: چینی صدر شی جن پنگ

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر نے یہ بات روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران کہی جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ میں ایک سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔

    چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم میں 30 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ پوتن کا اس سال پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

    شی جن پنگ ’عزیز دوست‘ ہیں: روسی صدر

    روسی سرکاری میڈیا تاس (TASS) کے مطابق صدر پوتن نے شی جن پنگ کو پہلے کی طرح ایک بار پھر ’عزیز دوست‘ قرار دیا۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین اور روس کے تعلقات جس سطح تک پہنچے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک مسلسل ’باہمی سیاسی اعتماد اورسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط‘ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے: شی جن پنگ

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ یہ خطہ اس وقت ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ چینی رہنما کے مطابق جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے جبکہ تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر شی نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے چار نکاتی تجویز کا مقصد بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنانا اور کشیدگی کم کرنے، تنازع کو گھٹانے اور امن کے فروغ میں مدد دینا ہے۔‘

    یاد رہے کہ یہ چار نکاتی تجویز گزشتہ ماہ ابو ظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کے دوران پیش کی گئی تھی، جس میں پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی بالادستی، اور ترقی و سلامتی کے لیے مربوط حکمت عملی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے اس ملاقات میں اپنے ابتدائی کلمات میں پوتن سے کہا کہ دونوں ممالک کو ترقی کے عمل میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

    بیجنگ میں ہونے والی دونوں ملکوں کے صدر کی ابتدائی مختصر نشست ختم ہو چکی ہے جس کے بعد کریملن کی جانب سے جاری ایجنڈا کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ایک ’وسیع فارمیٹ‘ کی ملاقات طے ہے۔

    اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بھی علیحدہ مذاکرات کریں گے۔

  11. جنگ میں واپسی کی صورت میں امریکہ کو بہت سے ’سرپرائز‘ ملیں گے: عباس عراقچی کا دعویٰ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

    عباس عراقچی نے ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیان کے بعد جوابی بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔ ‘

    عباس عراقچی کے مطابق ’اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔"

    اس پوسٹ کے آخر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے جو سیکھا اور جو علم ہم نے حاصل کیا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔‘

    منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’ مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘

    خیال رہے صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے منگل کو ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر انھوں نے اسے مؤخر کیا۔

  12. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 19 افراد ہلاک: لبنانی وزارت صحت

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود حزب اللہ اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    لبنانی وزارت صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ضلع طائر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔‘

    وزارت کے مطابق دیگر اضلاع میں حملوں کے دوران ایک خاتون سمیت نو افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے کہا کہ اس کے جنگجو جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔

    لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 3,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جنگ بندی کی شرائط میں ابتدائی طور پر 10 روزہ جنگ بندی کا ذکر تھا اور کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں اس میں مزید توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

    امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے متعدد نکات میں یہ شرط موجود تھی کہ کسی بھی منصوبہ بندی کے تحت یا فوری حملے کی صورت میں ’اسرائیل کے دفاع کا حق‘ برقرار رکھا جائے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے ’خیر سگالی کا مثبت اشارہ‘ اور ’اچھی نیت‘ کے ساتھ ایک مستقل اور دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کا سلسلہ ہے۔

  13. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ ایرانی ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے۔

    وینس کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رکھی جائے، اور اسی لیے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘

    امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ اُن کا ملک چاہتا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایسے عمل میں شامل ہو جو یہ یقینی بنائے کہ آنے والے برسوں میں تہران دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

  14. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ بدھ کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 مئی کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اس واقعے میں شامل تینوں یو اے ویز عراق سے بھیجے گئے تھے۔
    • بلوچستان کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔‘ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد پراکسیز کے خلاف معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو سخت سزا دی جا سکے۔‘
    • پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی میں ایک خاتون سے مبینہ اجتماعی ریپ کرنے کا مقدمہ پانچ ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے اس کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
    • کراچی میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف خاندان اور مزدور تنظیموں کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی۔
    • ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمنی کے چانسلر کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کے ایک جوہری پلانٹ کے قریب ہونے والے حملے میں کردار تھا۔
    • عالمی ادارہ صحت کے ایک ڈاکٹر نے خبردار کیا ہے کہ کانگو میں ایبولا وائرس پہلے اندازے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس وبا سے اب تک کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  15. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپک ے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں اور تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    اگر آپ 19 مئی کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔