آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کی پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق: تہران نے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے، اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکراتی عمل جاری ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 'ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ'
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا
  • سعودی عرب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
  • جنگ میں ہونے والی 'ذلت' کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی 'احمقانہ اقدام' کو دہرانے کا نتیجہ مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا، ترجمان پاسدارنِ انقلاب
  • ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی
  • امریکہ نے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فوج نے غزہ سے 450 کلو میٹر دور صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو روکنا شروع کر دیا

    فلسطین حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑے کو روک رہی ہیں۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل (460 کلومیٹر) دور روکا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیرقانونی قزاقی قرار دیا ہے۔

    جی ایس ایف کی ویڈیو نشریات میں مسلح کمانڈوز کو کئی کشتیوں پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو ’محض اشتعال دلانے کا اقدام‘ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ اس میں ’دو پرتشدد ترک گروہ‘ شامل ہیں۔

    اس سے قبل اس بیڑے میں شام ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا پیچھا کر رہی تھیں اور انھوں نے کشتیوں کا روکنا شروع کر دیا ہے۔

    گذشتہ ماہ اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔

    اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں سے دو کے علاوہ باقی سب کو اگلے ہی روز شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

  2. جرمنی کی متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر حالیہ ایرانی فضائی حملوں کی مذمت: ’جوہری تنصیبات پر حملے پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘

    جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ جرمنی ’متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر ایران کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت‘ کرتا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں جرمن چانسلر نے ’جوہری تنصیبات‘ پر حملے کو پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    متحدہ عرب امارات نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ابو ظہبی کے قریب براکہ جوہری بجلی گھر کے باہر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے ایک جنریٹر میں آگ لگ گئی۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات میں کسی ملک کا نام نہیں لیا اور صرف یہ کہا تھا کہ ڈرون ’مغربی سرحد‘ سے داخل ہوئے تھے۔

    جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اپنے پڑوسیوں کو دھمکیاں دینا بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھولے۔

  3. مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکراتی عمل جاری ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔

    سوموار کے روز اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران امریکی تجویز کے مندرجات کے بارے میں بتایا کہ جب تہران نے 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا تو امریکہ نے اس پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اس کے جواب میں ہم نے بھی اپنی تحفظات سامنے رکھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے امریکی فریق نے عوامی طور پر 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے بعد ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے ان کے نکات اور شرائط کا ایک مجموعہ موصول ہوا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا تہران کی جانب سے 14 نکاتی منصوبہ بھیجے جانے کے اگلے ہی دن انھیں امریکی شرائط موصول ہوئیں۔

    ’گذشتہ چند دنوں میں ان نکات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے جواب میں ہماری طرف سے ردِعمل بھی فراہم کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔‘

  4. پنجاب سے گندم کی ترسیل کا معاملہ: خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے، سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب سے خیبر پختونخوا گندم کی ترسیل پر پابندی کو صوبے کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل بند نہیں کر سکتا اور یہ فری ٹریڈ ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے اور ’وفاقی حکومت کے علم میں لانے کے باوجود کوئی پنجاب حکومت کو اس سے منع نہیں کر رہا ہے۔،

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج خیبرپختونخوا کا رہائشی پاکستان میں سب سے مہنگا آٹا خرید رہا ہے۔

    ’تیل، بجلی، گیس، منرل اور مائنز خیبر پختونخوا پیدا کر رہا لیکن جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے یہ اس میں سیاسی تعصب سے کام لے رہے ہیں۔‘

    وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ امتیازی سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    ’یہ آیسا ہے کہ آپ خیبر پختونخوا کی عوام کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کریں جس سے آپ کو نقصان ہو۔‘

  5. انڈیا نے اقلیتوں اور میڈیا کی آزادی کے متعلق نیدرلینڈز کی تشویش مستر د کردی: ’انڈیا شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کو کبھی ستایا نہیں گیا‘

    گذشتہ ہفتے جب انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نیدرلینڈز کے دو روزہ دورے پر پہنچے تو نریندی مودی سے ملاقات سے قبل نیدر لینڈز کے وزیر اعظم راب جیٹن نے انڈین وزیرِ اعظم کے دورے سے متعلق سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیدر لینڈز اور یوروپی یونین کے رکن ممالک کو انڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں تشویش ہے۔

    مقامی اخبار ’ڈی فوکسکرانٹ‘ کے مطابق راب جیٹن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ تشویش صرف پریس کی آزادی کے بارے میں نہیں بلکہ یہ اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی ہے جو اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ اس کا تعلق مسلمانوں اور دوسری چھوٹی اقلیتی برادریوں سے ہے۔‘

    ’ہمیں اس بارے میں تشویش لاحق ہے کہ انڈیا کس حد تک ایک ایسے جمہوری ملک کے طور پر قائم رہتا ہے جہاں تمام مذہبی گروپوں کے لیے یکساں حقوق ہوں۔‘

    نیدر لینڈرز کے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا کی حکومت کو اس بارے میں آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

    تاہم انڈیا نے نیدرلینڈرز کی تشویش کو یہ کہہ کر مستر کر دیا ہے یہ انڈیا کے جمہوری نظام، تہذیبی اختلاط اور مذہبی رواداری کے بارے میں سمجھ کی کمی کا نتیجہ ہے۔

    یوروپی ممالک سے متعلق انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان سیبی جارج نے کہا کہ انھوں نے نیدر لینڈز کے وزیر اعظم کا بیان نہیں دیکھا ہے۔ ’میں نے انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق اور آزادی اظہار سے متعلق وسیع تر سوالات کا جواب دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں کوئی بھی انڈیا جیسا ملک نہیں جہاں اتنے سارے مذاہب۔ ہندوازم، بدھ ازم، جین ازم، سکھ ازم وجود میں آئے اور بدستور فروغ پا رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کو کبھی ستایا نہیں گیا۔

    ’یہاں مسیحی حضرت عیسی اور مسلمان پیغمبر حضرت محمد کے عہد میں ہی آ گئے تھے اور آج کروڑوں کی تعداد میں یہاں موجود ہیں اور انڈیا کے جمہوری نظام میں فروغ پا رہے ہیں۔‘

  6. ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔‘

    انھوں نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔‘

    بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان شرائط کے تبادلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ایران کے مطالبات واضح ہیں۔‘ ان کے مطابق ’مثال کے طور پر ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندیاں ختم ہونے کو اپنی شرط کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اپنا مطالبہ قرار دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا‘، اور خطے کے ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کے بقول امریکی موجودگی نے خطے کے امن کو بہتر بنانے کے بجائے اسے شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

  7. متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر پر ڈرون حملہ، پاکستان اور انڈیا کی مذمت

    پاکستان نے 17 مئی 2026 کو متحدہ عرب امارات کے شہر براکہ میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی جوہری تنصیب کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کا موقف ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات انسانی جانوں، ماحول اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سویلین نیوکلیئر انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے جس پر ہر صورت میں عمل ہونا چاہیے۔‘

    پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ ’وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    بیان کے مطابق خطے میں پائیدار امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

    دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے براکہ کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں جوہری بجلی گھر میں لگنے والی آگ کے بعد فوری طور پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا متحدہ عرب امارات میں براکہ کے جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے والے حملے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔”

    بیان میں مزید کہا گیا کہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور تنازع کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی جانب واپسی کی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ جوہری بجلی گھر کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔

    ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔‘

  8. ایبولا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

    اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ کو یہ خبر دی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ ایبولا کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔

    ایبولا کیا ہے؟

    ایبولا ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری نایاب ہے مگر شدید نوعیت کی ہوتی ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ایبولا وائرس کی تین اقسام ایسی ہیں جو وباؤں کا سبب بنتی ہیں اور موجودہ وبا ’بنڈی بوجیو‘ وائرس سے پھیل رہی ہے۔

    ایبولا کیسے منتقل ہوتا ہے؟

    یہ وائرس انسانوں کے درمیان متاثرہ جسمانی رطوبتوں، جیسے خون، قے اور دیگر رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

    یہ کتنا خطرناک ہے؟

    ماضی میں بنڈی بوجیو ایبولا وائرس سے ہونے والی وباؤں میں تقریباً 30 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہوئے۔

    علامات ظاہر ہونے میں کتنا وست لگتا ہے؟

    وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 2 سے 21 دن کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

    اس کی علامات ہیں کیا؟

    ابتدائی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو جیسی ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔ تاہم بیماری کے بڑھ جانے پر قے، اسہال شروع ہو جاتا ہے اور جسم کے اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔ بعض مریضوں میں اندرونی اور بیرونی خون بہنے کی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ایبولا کہاں سے شروع ہوتا ہے؟

    یہ بیماری عموماً متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں سے۔

    کیا اس سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہے؟

    ایبولا کی تین میں سے ایک قسم ’زئیر‘ کے لیے ویکسین دستیاب ہے، تاہم اس وائرس کی جو قسم اس وقت پھیل رہی ہے یعنی ’بنڈی بوجیو‘ اس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔

  9. عالمی ادارہِ صحت نے کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا

    عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق کانگو کے مشرقی صوبے اتوری میں پھیلنے والی اس وبا میں اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں تاہم یہ صورتحال عالمی وبا یعنی پینڈیمک کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد کے مقابلے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو سکتے ہیں اور یہ وبا اس وقت کی صورت حال سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے جس کے باعث مقامی اور علاقائی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

    ادارے کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم پھیل رہی ہے وہ ’بنڈی بوجیو وائرس‘ سے پیدا ہوتی ہے، جس کے خلاف تاحال نہ تو کوئی منظور شدہ دوا موجود ہے اور نہ ہی ویکسین دستیاب ہے۔

    ایبولا کی ابتدائی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلا خراب ہونا شامل ہیں جبکہ بعد میں قے، اسہال، جسم پر خارش اور خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق وائرس کے آٹھ کیسز لیبارٹری میں تصدیق شدہ ہیں جبکہ دیگر مشتبہ کیسز اور اموات اتوری کے دارالحکومت بونیا سمیت تین دیگر علاقوں، اور سونے کی کانوں والے شہروں مونگوالو اور روامپارا میں سامنے آئے ہیں۔

    دارالحکومت کنشاسا میں بھی وائرس کے ایک کیس تصدیق ہو چکی ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ شخص اتوری سے واپس آیا تھا۔

    ادارے نے مزید بتایا کہ یہ وائرس کانگو سے باہر بھی پھیل چکا ہے اور ہمسایہ ملک یوگنڈا میں دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یوگنڈا کے حکام کے مطابق جمعرات کے روز وفات پانے والے 59 سالہ شخص میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

  10. جنگ میں ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا: ترجمان پاسدارنِ انقلاب

    پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں خبردار کیا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے مزید سخت اور فیصلہ کن حملوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘

    جنرل شکارچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ایران کے خلاف مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کو چھپانے کے لیے کسی بھی حماقت کو دہرانا، اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گا کہ اس ملک کو مزید شدید اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مایوس امریکی صدر کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر یہ دھمکیاں یا ایران کے خلاف کوئی نئی جارحیت حقیقت کا روپ دھارتی ہے تو اس کے ملک کے اثاثے اور اس کی بدنام فوج نئے، طوفانی، غیر متوقع اور جارحانہ حالات کا سامنا کریں گے۔‘

    ترجمان نے خبردار کیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیتے ہوئے امریکہ اپنی ہی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا، جو اُن کے صدر کی مہم جو پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘

  11. پراجیکٹ فریڈم پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی پر روکا کہ ایسا کرنے سے ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ سے جب یہ سوال ہوا کہ کیا پراجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور کیا ایران پر حملوں کا آغاز ایک مرتبہ پھر ہو سکتا ہے؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کے روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی اور انھوں نے یعنی پاکستان نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ پراجیکٹ فریڈم کو روکتے ہیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم ایک مُمکنہ ’ڈیل‘ یا معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بھی خیال میں یعنی امریکی صدر بھی یہی چاہتے ہیں کہ ’اس معاملے کا حل سفارتی انداز میں نکالا جائے، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اپنے بیڑے خلیجِ فارس سے نکال لیتے ہیں، اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے باوجود اُن پر ایران کی جانب سے حملے کیے گیے۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر اب بھی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ’ایران کے ساتھ موجود مسائل کا ’سفارتی حل‘ نکالا جائے۔ ہماری جانب سے ایرانی حکومت اور انتظامیہ کو ہر قسم کا موقع دیا جائے مگر ایران میں ایک تقسیم کی فضا پائی جاتی ہے، یعنی وہاں فیصلہ کس نے کرنا ہے اس بارے میں ابھی تک ابہام موجود ہے۔‘

    مارکو روبیو سے انٹرویو کے دوران ایک اور سوال کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہیں کیا اور ایرانی انتظامیہ کی رہنمائی کر رہے ہیں؟ اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرت میں تو ایرانی وزیرِ خارجہ سامنے آتے ہیں اور اب اس بات کا واضح طور پر علم نہیں ہے کہ وہ ایران واپس جا کر وہاں کی انتظامیہ، سپریم کونسل یا نئے رہبرِ اعلیٰ کس سے بات کرتے ہیں اور فیصلہ کون کرتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی وجہ سے ہماری جانے سے تجاویز کے بعد اس پر جواب میں ایران کی جانب سے چار سے پانچ دن لگ جاتے ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کس سے بات کرتے ہیں اور امریکہ کو جواب دینے کے لیے انھیں کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

  12. عراق سے مُلکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا گیا: سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارت دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق 17 مئی کو سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ڈرون روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ڈرون عراق کی فضائی حدود سے داخل ہوئے تھے۔

    میجر جنرل المالکی نے کہا کہ ’ ہماری وزارتِ دفاع مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور مملکت کی خودمختاری، سکیورٹی اور اس کی سر زمین پر موجود شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے خلاف کسی بھی کوشش کے جواب میں تمام ضروری اقدامات کرے گی۔‘

    خطے میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں، اگرچہ اپریل میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بڑی حد تک اس قسم کے واقعات میں کمی ہوئی ہے تاہم عراق سے خلیجی ممالک کی جانب ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سعودی عرب اور کویت بھی شامل ہیں۔

  13. ایران کو اب جلد فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ اُن کے پاس کُچھ نہیں بچے گا: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر ’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ کی اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بات چیت متوقع تھی۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے تازہ منصوبوں پر امریکہ نے اپنے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے لچک نہ دکھانے کی صورت میں مذاکرات ’تعطل‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس سے قبل دی گئی ان کی اس دھمکی کے ہی تناظر میں ہے کہ جس میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب‘ تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ بیان اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے اعلان سے کچھ دیر پہلے سامنے آیا تھا۔

    اس ہفتے کے آغاز میں بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے، جبکہ انھوں نے تہران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان مطالبات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ذمہ دارانہ‘ اور ’حقیقت کے قریب‘ ہیں۔

  14. ایرانی صدر کی محسن نقوی سے ملاقات: ’مسلم ممالک جتنے متحد ہوں گے، بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک خصوصاً ایران کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی کسی بھی جارحیت کو ناکام بنایا جا سکے۔

    یہ بات ایرانی صدر نے اتوار کے روز پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کہی۔

    ایرانی خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات کی بنیاد پر اتحاد اور ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ملک کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں سے مسلح شدت پسندوں گرد عناصر کے ذریعے دراندازی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں پروسی ممالک کی سرزمین کا ایران کے خلاف کسی بھی غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔

  15. پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں باقر قالیباف سے ملاقات

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی اتوار کی دو پہر تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔

    اس ملاقات کے حوالے سے ایران اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آِئی ہیں۔

    یاد رہے کہ محسن نقوی گذشتہ روز غیر اعلانیہ دورے پر ایران پہنچے تھے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔

    اس سے ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا تھا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجاویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی پانچ شرائط عائد کی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے ’امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گذشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔‘

  16. عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کا ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک حملے پر تشویش کا اظہار

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اس حملے کے نتیجے میں پاور پلانٹ کے نزدیک ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم ابوظہبی حکوت کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی گھر کے اطراف میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔

    اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایکس پر لکھا کہ \ایسی فوجی سرگرمیاں جو جوہری تحفظ کے لیے خطرہ بنیں ناقابلِ قبول ہیں۔ً

    حالیہ جنگ کے دوران ایران نے آئی اے ای اے کو اطلاع دی تھی کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کو کم از کم چار میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حلہ کس نے کیا ہے۔

    براکہ جوہری بجلی گھر متحدہ عرب امارات کے شمال مغربی صحرا میں سعودی عرب اور قطر کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    یہ بجلی گھر امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن کے کنسورشیم نے جنوبی کوریا کی ایک توانائی کمپنی کے تعاون سے تعمیر کیا تھا۔

  17. عالمی ادارۂ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کو عالمی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری سے اب تک اس وبا کے تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی عالمی وبائی ایمرجنسی (پینڈیمک) تک نہیں پہنچی ہے۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا موجودہ اندازوں اور رپورٹ کیے گئے کیسز سے کہیں ’بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے‘ اور اس کے مقامی و علاقائی سطح پر پھیلنے کا نمایاں خطرہ موجود ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم سامنے آئی ہے وہ بُنڈی بوگیو وائرس کے باعث ہے اور اس کے علاج تاحال کوئی منظور شدہ دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔

    اس وبا سے متاثرہ شخص میں پائی جانے والی ابتدائی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلے میں خراش شامل ہیں، جن کے بعد قے، اسہال، جلد پر خارش اور خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

  18. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کی تقرری کی تجویز دی تھی جس کے بعد رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی منظوری دی۔
    • متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔
    • ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔
    • امریکہ کے ایران پر ممکنہ طور پر دوبارہ حملوں کی شروعات کی اطلاعات پر ردِ عل دیتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بار ایران کا ردِعمل ’زیادہ جارحانہ‘ اور ’حیران کن‘ ہوگا۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔