اسرائیلی فوج نے غزہ سے 450 کلو میٹر دور صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو روکنا شروع کر دیا
فلسطین حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑے کو روک رہی ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل (460 کلومیٹر) دور روکا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیرقانونی قزاقی قرار دیا ہے۔
جی ایس ایف کی ویڈیو نشریات میں مسلح کمانڈوز کو کئی کشتیوں پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو ’محض اشتعال دلانے کا اقدام‘ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ اس میں ’دو پرتشدد ترک گروہ‘ شامل ہیں۔
اس سے قبل اس بیڑے میں شام ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا پیچھا کر رہی تھیں اور انھوں نے کشتیوں کا روکنا شروع کر دیا ہے۔
گذشتہ ماہ اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔
اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں سے دو کے علاوہ باقی سب کو اگلے ہی روز شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔