جنگ میں ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا: ترجمان پاسدارنِ انقلاب

،تصویر کا ذریعہFARS
پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں خبردار کیا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے مزید سخت اور فیصلہ کن حملوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘
جنرل شکارچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ایران کے خلاف مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کو چھپانے کے لیے کسی بھی حماقت کو دہرانا، اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گا کہ اس ملک کو مزید شدید اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مایوس امریکی صدر کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر یہ دھمکیاں یا ایران کے خلاف کوئی نئی جارحیت حقیقت کا روپ دھارتی ہے تو اس کے ملک کے اثاثے اور اس کی بدنام فوج نئے، طوفانی، غیر متوقع اور جارحانہ حالات کا سامنا کریں گے۔‘
ترجمان نے خبردار کیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیتے ہوئے امریکہ اپنی ہی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا، جو اُن کے صدر کی مہم جو پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘
ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘







