لائیو, پراجیکٹ فریڈم پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی پر روکا کہ ایسا کرنے سے ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ’پراجیکٹ فیڈم کے روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی، اور انھوں نے یعنی پاکستان نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ پراجیکٹ فریڈم کو روکتے ہیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم ایک مُمکنہ ’ڈیل‘ یا معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. جنگ میں ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا: ترجمان پاسدارنِ انقلاب

    FARS

    ،تصویر کا ذریعہFARS

    پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں خبردار کیا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ہونے والی ’ذلت‘ کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی ’احمقانہ اقدام‘ کو دہرانے کا نتیجہ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے مزید سخت اور فیصلہ کن حملوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘

    جنرل شکارچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ایران کے خلاف مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کو چھپانے کے لیے کسی بھی حماقت کو دہرانا، اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گا کہ اس ملک کو مزید شدید اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مایوس امریکی صدر کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر یہ دھمکیاں یا ایران کے خلاف کوئی نئی جارحیت حقیقت کا روپ دھارتی ہے تو اس کے ملک کے اثاثے اور اس کی بدنام فوج نئے، طوفانی، غیر متوقع اور جارحانہ حالات کا سامنا کریں گے۔‘

    ترجمان نے خبردار کیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیتے ہوئے امریکہ اپنی ہی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا، جو اُن کے صدر کی مہم جو پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘

  2. پراجیکٹ فریڈم پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی پر روکا کہ ایسا کرنے سے ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں: مارکو روبیو

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ سے جب یہ سوال ہوا کہ کیا پراجیکٹ فیڈم دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور کیا ایران پر حملوں کا آغاز ایک مرتبہ پھر ہو سکتا ہے؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فیڈم کے روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی، اور انھوں نے یعنی پاکستان نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ پراجیکٹ فریڈم کو روکتے ہیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم ایک مُمکنہ ’ڈیل‘ یا معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بھی خیال میں یعنی امریکی صدر بھی یہی چاہتے ہیں کہ ’اس معاملے کا حل سفارتی انداز میں نکالا جائے، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اپنے بیڑے خلیجِ فارس سے نکال لیتے ہیں، اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے باوجود اُن پر ایران کی جانب سے حملے کیے گیے۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر اب بھی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ’ایران کے ساتھ موجود مسائل کا ’سفارتی حل‘ نکالا جائے۔ ہماری جانب سے ایرانی حکومت اور انتظامیہ کو ہر قسم کا موقع دیا جائے مگر ایران میں ایک تقسیم کی فضا پائی جاتی ہے، یعنی وہاں فیصلا کس نے کرنا ہے اس بارے میں ابھی تک ابھام موجود ہے۔‘

    مارکو روبیو سے انٹرویو کے دوران ایک اور سوال کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہیں کیا اور ایرانی انتظامیہ کی رہنمائی کر رہے ہیں؟ اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرت میں تو ایرانی وزیرِ خارجہ سامنے آتے ہیں اور اب اس بات کا واضح طور پر علم نہیں ہے کہ وہ ایران واپس جا کر وہاں کی انتظامیہ، سپریم کونسل یا نئے رہبرِ اعلی کس سے بات کرتے ہیں اور فیصلہ کون کرتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی وجہ سے ہماری جانے سے تجاویز کے بعد اس پر جواب میں ایران کی جانب سے چار سے پانچ دن لگ جاتے ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کس سے بات کرتے ہیں اور امریکہ کو جواب دینے کے لیے انھیں کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

  3. عراق سے مُلکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا گیا: سعودی وزارت دفاع

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارت دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق 17 مئی کو سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ڈرون روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ڈرون عراق کی فضائی حدود سے داخل ہوئے تھے۔

    میجر جنرل المالکی نے کہا کہ ’ ہماری وزارتِ دفاع مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور مملکت کی خودمختاری، سکیورٹی اور اس کی سر زمین پر موجود شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے خلاف کسی بھی کوشش کے جواب میں تمام ضروری اقدامات کرے گی۔‘

    خطے میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں، اگرچہ اپریل میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بڑی حد تک اس قسم کے واقعات میں کمی ہوئی ہے تاہم عراق سے خلیجی ممالک کی جانب ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سعودی عرب اور کویت بھی شامل ہیں۔

  4. ایران کو اب جلد فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ اُن کے پاس کُچھ نہیں بچے گا: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر ’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ کی اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بات چیت متوقع تھی۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے تازہ منصوبوں پر امریکہ نے اپنے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے لچک نہ دکھانے کی صورت میں مذاکرات ’تعطل‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس سے قبل دی گئی ان کی اس دھمکی کے ہی تناظر میں ہے کہ جس میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب‘ تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ بیان اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے اعلان سے کچھ دیر پہلے سامنے آیا تھا۔

    اس ہفتے کے آغاز میں بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے، جبکہ انھوں نے تہران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان مطالبات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ذمہ دارانہ‘ اور ’حقیقت کے قریب‘ ہیں۔

  5. ایرانی صدر کی محسن نقوی سے ملاقات: ’مسلم ممالک جتنے متحد ہوں گے، بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک خصوصاً ایران کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی کسی بھی جارحیت کو ناکام بنایا جا سکے۔

    یہ بات ایرانی صدر نے اتوار کے روز پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کہی۔

    ایرانی خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات کی بنیاد پر اتحاد اور ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ملک کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں سے مسلح شدت پسندوں گرد عناصر کے ذریعے دراندازی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں پروسی ممالک کی سرزمین کا ایران کے خلاف کسی بھی غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔

  6. پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں باقر قالیباف سے ملاقات

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی اتوار کی دو پہر تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔

    اس ملاقات کے حوالے سے ایران اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آِئی ہیں۔

    یاد رہے کہ محسن نقوی گذشتہ روز غیر اعلانیہ دورے پر ایران پہنچے تھے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔

    اس سے ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا تھا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجاویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی پانچ شرائط عائد کی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے ’امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گذشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔‘

  7. عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کا ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک حملے پر تشویش کا اظہار

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اس حملے کے نتیجے میں پاور پلانٹ کے نزدیک ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم ابوظہبی حکوت کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی گھر کے اطراف میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔

    اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایکس پر لکھا کہ \ایسی فوجی سرگرمیاں جو جوہری تحفظ کے لیے خطرہ بنیں ناقابلِ قبول ہیں۔ً

    حالیہ جنگ کے دوران ایران نے آئی اے ای اے کو اطلاع دی تھی کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کو کم از کم چار میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حلہ کس نے کیا ہے۔

    براکہ جوہری بجلی گھر متحدہ عرب امارات کے شمال مغربی صحرا میں سعودی عرب اور قطر کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    یہ بجلی گھر امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن کے کنسورشیم نے جنوبی کوریا کی ایک توانائی کمپنی کے تعاون سے تعمیر کیا تھا۔

  8. عالمی ادارۂ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کو عالمی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری سے اب تک اس وبا کے تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی عالمی وبائی ایمرجنسی (پینڈیمک) تک نہیں پہنچی ہے۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا موجودہ اندازوں اور رپورٹ کیے گئے کیسز سے کہیں ’بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے‘ اور اس کے مقامی و علاقائی سطح پر پھیلنے کا نمایاں خطرہ موجود ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم سامنے آئی ہے وہ بُنڈی بوگیو وائرس کے باعث ہے اور اس کے علاج تاحال کوئی منظور شدہ دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔

    اس وبا سے متاثرہ شخص میں پائی جانے والی ابتدائی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلے میں خراش شامل ہیں، جن کے بعد قے، اسہال، جلد پر خارش اور خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

  9. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    enec.ae

    ،تصویر کا ذریعہenec.ae

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کی تقرری کی تجویز دی تھی جس کے بعد رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی منظوری دی۔
    • متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔
    • ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔
    • امریکہ کے ایران پر ممکنہ طور پر دوبارہ حملوں کی شروعات کی اطلاعات پر ردِ عل دیتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بار ایران کا ردِعمل ’زیادہ جارحانہ‘ اور ’حیران کن‘ ہوگا۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔