چین کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی, لورا بیکر، بی بی سی
چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ’بھرپور‘ کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ ’امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔‘
چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے معاملے میں ’زیادہ صبر نہیں کریں گے۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز دی تھی کہ وہ ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ بیجنگ کو تہران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ساتھ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو امید تھی کہ شی جن پنگ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کریں گے۔
چین کے بیان میں کہا گیا کہ یہ تنازع ’کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا‘ اور ’اس کے جاری رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘ تاہم اس بیان میں براہ راست امریکہ پر تنقید سے گریز کیا گیا۔
معاشی طور پر اس جنگ نے چینی صنعت پر دباؤ ڈالا ہے کیونکہ تیل سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن سفارتی اور سیاسی سطح پر اسے شی جن پنگ کے لیے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے،جہاں وہ ایک ایسے امریکی صدر کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ کے باعث کمزور ہوا ہے۔
اس کے برعکس، شی جن پنگ ایک امن کے حامی رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ چین نہ صرف عالمی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے بلکہ تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے۔











