لائیو, ہم نہیں چاہتے ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہے: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کے ہمراہ ژونگ نان ہائی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت میں تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور‘ شامل تھے۔ ٹرمپ کے مطابق شی جن پنگ 24 ستمبر کو امریکہ کا دورہ کریں گے۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے جبکہ صدر شی نے انھیں بتایا ہے کہ چین ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دے گا
  • صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ چین امریکہ سے نہ صرف تیل خریدے گا بلکہ انھوں نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا بھی وعدہ کیا ہے
  • پاسداران انقلاب نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی اجازت سے چند چینی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں
  • ایرانی فوجی اہلکاروں نے خلیجِ عمان میں ایک ایسے جہاز کو ضبط کیا ہے جو مبینہ طور پر 'فلوٹنگ آرمری' یعنی اسلحہ لے جانے کے طور پر کام کر رہا تھا
  • پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مبینہ بیک چینل مذاکرات کی خبروں پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے تصدیق نہیں کر سکتے

لائیو کوریج

  1. چین کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی, لورا بیکر، بی بی سی

    چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ’بھرپور‘ کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ ’امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔‘

    چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے معاملے میں ’زیادہ صبر نہیں کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز دی تھی کہ وہ ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ کو تہران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ساتھ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کو امید تھی کہ شی جن پنگ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کریں گے۔

    چین کے بیان میں کہا گیا کہ یہ تنازع ’کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا‘ اور ’اس کے جاری رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘ تاہم اس بیان میں براہ راست امریکہ پر تنقید سے گریز کیا گیا۔

    معاشی طور پر اس جنگ نے چینی صنعت پر دباؤ ڈالا ہے کیونکہ تیل سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن سفارتی اور سیاسی سطح پر اسے شی جن پنگ کے لیے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے،جہاں وہ ایک ایسے امریکی صدر کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ کے باعث کمزور ہوا ہے۔

    اس کے برعکس، شی جن پنگ ایک امن کے حامی رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ چین نہ صرف عالمی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے بلکہ تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے۔

  2. صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان ملاقات کی تصویری جھلکیاں

    امریکی اور چینی صدر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ابھی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کا کچھ حصہ خبروں میں آ چکا ہے اور باقی تفصیل بھی عنقریب سامنے آئے گی، اس دوران ہم آپ کے لیے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے حوالے سے تازہ تصاویر پیش کر رہے ہیں۔

    امریکی اور چینی صدر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دونوں رہنماؤں نے آج صبح اپنی بات چیت سے قبل ژونگ نان ہائی کے احاطے میں چہل قدمی کی جو چین کی مرکزی قیادت کے لیے اہم مقام ہے۔

    امریکی اور چینی صدر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنصدر شی نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کو بطور تحفہ چینی گلابوں کے بیج بھیجیں گے
  3. بریکنگ, امریکہ کے ساتھ ’نیا دو طرفہ تعلق‘ قائم کیا ہے: چینی صدر شی جن پنگ

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ خطاب کے دوران چینی صدر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک ’نیا دو طرفہ تعلق‘ قائم کیا ہے جو انتہائی تعمیری ہے۔

    صدر شی نے اسے ایک سنگ میل بھی قرار دیا۔

    تاہم جب ان کا انگریزی مترجم اس بیان کا ترجمہ کر رہا تھا تو صحافیوں کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا اور براہ راست نشریات ختم کر دی گئیں۔

    اس سے قبل خطاب کے آغاز میں صدر شی نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کو بطور تحفہ چینی گلابوں کے بیج بھیجیں گے۔

    صدر ٹرمپ کے ہمراہ خطاب میں چینی صدر شی نے ژونگ نان ہائی کمپلیکس نے سب سے پہلے اس جگہ کی تاریخی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ ’یہ جگہ کبھی شاہی باغ کا حصہ ہوا کرتی تھی، اس کمپلیکس کی بہت تاریخی حیثیت ہے۔‘

    چینی صدرنے مزید بتایا کہ چہل قدمی کے دوران جس درخت کو انھوں نے دیکھا وہ 490 سال پرانا تھا۔ اسی دوران چینی صدر نے کہا کہ وہ باغ میں دیکھے گئے چینی گلابوں کے بیج ٹرمپ کو تحفے کے طور پر بھیجیں گے۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ بہت پسند آیا، یہ بہت اچھا ہے۔‘

  4. بریکنگ, ہم نہیں چاہتے کہ ’ان‘ کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ہمراہ ژونگ نان ہائی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت میں تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور‘ شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کئی مختلف مسائل حل کیے جنہیں دوسرے لوگ حل نہیں کر سکتے تھے۔‘

    ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔‘ اور ’ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ آنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ سے 24 ستمبر کو دوبارہ ملاقات ہو گی جب وہ امریکہ کا دورہ کریں گے۔

    ٹرمپ کے مطابق انھیں امید ہے کہ شی امریکہ سے اسی طرح متاثر ہوں گے جیسے وہ اس بار چین سے ہوئے ہیں۔

  5. چین کا ایران تنازع کا ’ فوری حل تلاش کرنے‘ پر زور ، چینی وزارت خارجہ

    امریکی صدر ٹرمپ اورچینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ٹرمپ اورچینی صدر شی جن پنگ

    چین کی وزارتِ خارجہ نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کا فوری حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران سے متعلق تنازع ’کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا‘ اور ’اسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

    چینی ترجمان کے مطابق اس تنازع کا جلد از جلد حل تلاش کرنا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اورچینی صدر شی جن پنگ کی دوبارہ ملاقات ژونگ نان ہائی میں جاری ہے جو چینی قیادت کے لیے ایک انتہائی محفوظ کمپلیکس سمجھا جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق یہاں صرف محدود تعداد میں صحافیوں کو اس کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صدارتی قافلے کی آمد کے لیے سڑکیں خالی کر دی گئی تھیں اور راہگیر اس منظر کو اپنے موبائل فونز پر ریکارڈ بھی کرتے رہے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے ’دونوں ممالک اور دنیا سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘ اور متعدد اموور پر اتفاقِ رائے ہوا تاہم مخصوص موضوعات کی تفصیل فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

    ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’ایک دوسرے کے خدشات کو مناسب طریقے سے نمٹانے پر اہم اتفاق‘ کیا اور عالمی اور علاقائی امور پر تعاون بڑھانے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

  6. ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر میں جمعرات کو ریکارڈ کمی

    انڈیا کی کرنسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کی کرنسی

    انڈیا کا روپیہ جمعرات کو تاریخی کم ترین سطح پر آنے سے فی ڈالر 95.09 انڈین روپے پر آ گیا ہے جب کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں اور غیر ملکی سرمایہ میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

    جمعرات کو انڈیا کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید 0.2 فیصد کم ہو کر 95.9 تک گر گیا، جو اس سے ایک روز قبل قائم ہونے والی کم ترین سطح 95.79 سے بھی نیچے ہے۔

    بعد ازاں روپے کی قدر میں بہت معمولی بہتری اس وقت دیکھی گئی جب بلومبرگ نیوز نے رپورٹ کیا کہ انڈیا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بانڈز پر ٹیکس میں کمی پر غور کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پالیسی ساز زرمبادلہ کے زخائر کو مضبوط بنانے اور روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے ڈالر کی آمد بڑھانے کے طریقے زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔ 2026 کے دوران اب تک روپے کو ایشیا میں بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی قرار دیا جا رہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آئی، جس کے بعد حکام کو مختلف اقدامات کرنا پڑے۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں بھی ایران جنگ کے باعث خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

    اس صورتِ حال سے انڈیا میں معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انڈیا اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد اور گیس کا تقریباً 50 فیصد درآمد کرتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انڈیا کو مسلسل تیسرے سال ادائیگیوں کے توازن کے خسارے کا سامنا ہے جس کے باعث روپے کی کمزوری کے خدشات برقرار ہیں، اگرچہ مرکزی بینک مداخلت کے ذریعے اتار چڑھاؤ کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی اس سے قبل شہریوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔ وفاقی حکومت نے قیمتی دھاتوں کی درآمد پر محصولات بھی بڑھا دیے ہیں۔

    دوسری جانب روئٹرز کا کہنا ہے کہ انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں مہنگائی ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جو توانائی کے بحران کے معاشی اثرات کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہے۔

  7. چین بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    ٹرمپ، شی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران جنگ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے چینی ہم منصب کو بتایا ہے کہ دراصل امریکہ اس معاملے میں چین کی ’مدد‘ کر رہا ہے، کیونکہ میرا خیال ہے کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ صدر شی نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ ایک ’بہت بڑی بات‘ ہے۔

    امریکہ کے صدر کا کہنا تھا کہ چین ایران سے بہت سا تیل خریدتا ہے اور وہ یہ خریداری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

  8. جب میں نے عہدہ سنبھالا تو چین امریکہ سے بہت فائدہ اُٹھا رہا تھا، لیکن اب میرے صدر شی سے اچھے تعلقات ہیں: صدر ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین پہلے امریکہ سے فائدہ اُٹھا رہا تھا، لیکن اب اُن کے صدر شی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

    چینی صدر سے پہلی ملاقات کے بعد فاکس نیوز کو دیے گئے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے ایسے وقت میں عہدہ سنبھالا جب چین امریکہ سے فائدہ اُٹھا رہا تھا۔

    چینی صدر کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ چینی رہنما ’ایک گرم جوش‘ انسان ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ (چینی صدر) سنجیدہ اور کام پر توجہ دینے والے شخص ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی کھیل نہیں کھیلتے یہ ایک اچھی بات ہے۔‘

    چینی صدر کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ ہالی وڈ فلم میں صدر شی کا کردار ادا کرنے کے لیے کسی اداکار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں تو آپ کو اُن جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ (صدر شی) بہت طویل قامت ہیں، بہت لمبے ہیں اور اس ملک (چین) میں آپ کو عام طور چھوٹے قد کے لوگ ہوتے ہیں۔‘

  9. چینی صدر نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا وعدہ کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چینی صدر نے امریکہ سے 200 بوئنگ طیارے خریدے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صدر شی نے 200 بوئنگ جیٹ طیارے خریدنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اور یہ اُن کے ’عزم‘ کا اظہار ہے۔

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ 200 بڑے جہازوں کی خریداری کا مطلب بہت ساری نوکریاں، بوئنگ کو 150 کا آرڈر درکار تھا، اُنھیں 200 کا مل گیا۔

    اس سے قبل اس خریداری کے معاملے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نشریاتی ادارے سی این بی سی کو بتایا تھا کہ اُنھیں اُمید ہے کہ بیجنگ بہت جلد بوئنگ طیاروں کی خریداری کا پہلا آرڈر دے گا۔

  10. چینی صدر نے کہا وہ ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دیں گے: صدر ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بیجنگ کی تہران کی ’حمایت‘ پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

    ایک انٹرویو کے دوران فوکس نیوز کے میزبان سے ان سے سوال کہ کیا چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس ’حمایت‘ سے متعلق بات ہوئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ حمایت کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ (چین) ہمارے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ رہا۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ایران کو ’عسکری ساز و سامان نہیں دے گا‘ اور ٹرمپ کے مطابق ’یہ ایک بڑا بیان ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں چینی صدر نے بتایا کہ بیجنگ ایران سے ’تیل خریدتا ہے اور وہ ایسا کرتے رہنا چاہیں گے۔‘

    امریکی صدر کے مطابق صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ’آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہے گا۔‘

  11. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے اب ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے فیصلے کے ساتھ ہی، متعدد چینی بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز کے ایرانی انتظامی پروٹوکول کے مطابق گزرنا ممکن ہو گیا ہے۔‘
    • خلیجِ عمان میں ایک ایسے جہاز کو، جو مبینہ طور پر ’فلوٹنگ آرمری‘ یعنی اسلحہ لے جانے کے طور پر کام کر رہا تھا، ایرانی فوجی اہلکاروں نے ضبط کر لیا ہے۔ یہ بات بحری خطرات پر نظر رکھنے والی کمپنی وینگارڈ نے بتائی ہے۔
    • سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ میں ایران کے ساتھ جنگ ​​سے متعلق سماعت کے دوران کہا کہ ایران کی اپنے پڑوسیوں اور خطے میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
    • پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مبینہ بیک چینل مذاکرات کی خبروں پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کر سکتے۔
    • برطانیہ کے وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے وزیر اعظم سے اختلافات کے بعد اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایکس پر شیئر کیے گئے ایک خط میں انھوں نے کہا کہ انھیں کیئر سٹامر کی قیادت پر ’اعتماد نہیں رہا‘ اور ان کے بقول اب مزید حکومت کا حصہ رہنا ’باعزت اور اصولی رویے کے خلاف‘ ہوگا۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں منشیات کے مبینہ سمگلروں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں اور جائیدادیں سر بمہر کی جا رہی ہیں۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں ’نشہ مُکت جموں و کشمیر‘ یعنی منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم چلائی جا رہی ہے، جس کی قیادت خود لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کر رہے ہیں۔
    • پاکستان نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے زیر اہتمام مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا ’کامیاب تربیتی تجربہ‘ کیا گیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشنل نظام سے لیس یہ ہتھیار طویل فاصلے کے اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔