پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں انڈین فوج انھیں درانداز اور عسکریت پسند قرار دے رہی ہے جبکہ اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور میت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے علاقے بٹل چوکی سے تعلق رکھنے والے چوہدری عامر شفیع کے والد محمد شفیع نے 12 مئی 2026 کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانہ سہڑا میں درج کروائی تھی۔ درخواست کے مطابق عامر شفیع اسی روز تقریباً 11 بجے گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں لوٹے۔
پولیس حکام کے مطابق گمشدگی کی ابتدائی تحقیقات جاری تھیں کہ اسی دوران انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عامر شفیع کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔
تھانہ سہڑا کے محرر لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ کر رہی تھی کہ میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید حساس ہو گئی ہے۔‘
عامر شفیع کے بڑے بھائی محمد سکندر کے مطابق وہ چھ بھائی ہیں، جن میں سے چار بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جبکہ وہ خود کوٹلی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر اپنے والدین کے ساتھ گاؤں میں رہتے تھے۔
سکندر نے بتایا کہ ’ہم نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باقی بھائی کمائی کر کے عامر کے گھر کے اخراجات میں مدد کریں گے تاکہ وہ ہمارے والدین کے ساتھ رہ سکیں۔
ان کے مطابق عامر شفیع کی شادی کو بمشکل ایک ماہ ہوا تھا اور ان کی ولیمے کی تقریب 10 اپریل کو ہوئی تھی۔
سکندر نے کہا کہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو عامر کو ایک نامعلوم نمبر سے فون کال موصول ہوئی جس کے بعد وہ گھر سے نکلے۔ ’اسی روز ہمارے والد مویشیوں کے ساتھ باہر تھے جبکہ عامر ہی روزانہ مویشی چرانے جاتے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب انھیں عامر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر کوٹلی سے گاؤں پہنچے، تاہم اگلے روز میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ عامر کو انڈین فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔
سکندر کے مطابق خاندان نے پولیس کو تمام دستیاب معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عامر کو کال کس نے کی تھی۔
انھوں کہا کہ ’ہم عام لوگ ہیں، ہمارا کسی قسم کی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگنا ہمارے لیے انتہائی حیران کن ہے۔‘
عامر کے والد محمد شفیع نے بھی انڈین موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک ’معصوم اور عام شہری‘ تھا جسے علاقے کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے۔
اس واقعے کے بعد بٹل چوکی میں اہلِ خانہ اور مقامی کمیٹی کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ میت فوری طور پر واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔
ادھر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر امجد یوسف نے اقوام متحدہ سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ ہے جسے غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ عامر شفیع کو ایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور بعد ازاں انھیں عسکریت پسند قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق عامر کا کسی تنظیم یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
دوسری جانب انڈین فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 12 مئی کو شام چار بجے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ فوج کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے منج کوٹ سیکٹر سے ایک مسلح گروپ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الرٹ فورسز نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے گروہ کو دیکھا اور انھیں واپس جانے کی وارننگ دی، تاہم فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی میں ایک درانداز ہلاک ہو گیا۔‘
انڈین میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر حالات عمومی طور پر کشیدہ رہتے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں اور دراندازی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
تاحال اس واقعے کی غیر جانبدار تصدیق نہیں ہو سکی، اور دونوں جانب کے متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔