آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
22 کروڑ روپے کا قرض اور دوست کی مدد سے اغوا برائے تاوان کا ’ڈرامہ‘ جس کی ویڈیو کراچی کے ساحل پر بنی
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اسلام آباد پولیس نے رواں ماہ کے آغاز پر ایک مبینہ اغوا سے متعلق اپنی تفتیش کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے سوشل میڈیا پر اغوا برائے تاوان کے واقعے سے متعلق وائرل ویڈیو کے مناظر کا جائزہ لے کر مقدمے کا سراغ لگا لیا اور اس میں ملوث چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں مبینہ مغوی بھی شامل ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افراد مغوی نورالدین زنگی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ویڈیو میں ایک شخص کے ہاتھ میں چھڑی ہے، جس سے وہ مغوی پر تشدد کر رہا ہے، جبکہ دوسرا شخص اسلحہ تان کر کھڑا ہے۔
ویڈیو میں مغوی مبینہ اغوا کاروں کے مطالبے کو دہرا رہا ہے کہ اس کی رہائی کے لیے پانچ کروڑ روپے ادا کیے جائیں، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
ویڈیو سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ملزمان مغوی کو جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں لے گئے ہیں اور کسی نامعلوم مقام پر قید کر کے اس کے اہلِ خانہ سے تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مدعی مقدمہ سیف الدین نے ابھی پولیس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے مگر انھوں نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی نورالدین سے ملاقات کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ انھیں 10 مئی کے قریب ان کے بھائی کے فون سے ڈاکوؤں کی طرف ان کی رہائی کے بدلے پانچ کروڑ تاوان والی کال موصول ہوئی تھی۔
’گاڑی سڑک پر تھی اور تاجر لاپتہ‘
اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں یکم مئی کو اس حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا، جس میں مدعی سیف الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ چند نامعلوم افراد نے ان کے بھائی نورالدین زنگی کو اغوا کر لیا ہے۔
ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق تحقیقات کے آغاز پر معلوم ہوا کہ نورالدین کی گاڑی سری نگر ہائی وے کے قریب کھڑی تھی اور اس میں چابی موجود تھی، جبکہ خود نورالدین لاپتہ تھے۔
ان کے مطابق پہلے پانچ روز تک نورالدین کا موبائل بند رہا، تاہم چھٹے روز جب موبائل آن ہوا تو اس کی لوکیشن راجن پور کے علاقے روجھان میں ظاہر ہوئی، جس پر وہاں کی پولیس سے رابطہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں موبائل فون دوبارہ بند ہوگیا اور چند روز بعد مدعی کو ایک ویڈیو موصول ہوئی، جو انھوں نے پولیس کے ساتھ شیئر کی۔
پولیس نے ویڈیو بھیجنے والے نمبر کا ایڈوانس ڈیجیٹل فارنزک کرایا، جس سے معلوم ہوا کہ ویڈیو کراچی کے علاقے فقیر گوٹھ کے ایک ٹاور کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے بھیجی گئی۔
مزید تجزیے سے پتا چلا کہ ویڈیو کے پس منظر میں پانی کی بہتات موجود ہے، جو کچے کے علاقوں کے برعکس کراچی کے ساحلی علاقے سے مشابہت رکھتی ہے۔
تحقیقات کے بعد سندھ پولیس سے رابطہ کیا گیا، جبکہ رحیم یار خان اور راجن پور پولیس بھی متحرک ہو گئی۔
تحقیقاتی ٹیم کو معلوم ہوا کہ نورالدین کچھ روز قبل اپنے دوست ضیا سے ملنے رحیم یار خان گئے تھے اور بعد ازاں کراچی چلے گئے۔
پولیس نے ضیا سے معلومات حاصل کرنے کے بعد نورالدین کے ایک اور دوست کو حراست میں لیا، جو ویڈیو میں اسلحہ تھامے نظر آیا تھا۔
پولیس کے مطابق مزید تفتیش سے انکشاف ہوا کہ نورالدین نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر اغوا برائے تاوان کا ڈرامہ رچایا۔ ویڈیو میں پولیس نے ایک اور بات یہ بھی نوٹ کی چھڑی ہلکے انداز میں ماری جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق نورالدین پر مالی دباؤ تھا اور وہ لوگوں کے تقریباً 22 کروڑ روپے کا مقروض تھا۔
پولیس کے مطابق نورالدین نے ہمدردی حاصل کرنے اور قرض دہندگان کے دباؤ سے بچنے کے لیے یہ ڈرامہ کیا۔
پولیس کا اغوا کا مقدمہ خارج کرنے پر غور
پنجاب پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس واقعے کے بارے میں کہا گیا کہ اغوا برائے تاوان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رحیم یار خان پولیس نے سی سی ڈی اور ملٹری انٹیلیجنس کی مدد سے تحقیقات شروع کیں اور جلد ہی اس ’ڈرامے‘ کو بے نقاب کر دیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس نے نورالدین کے ایک اور ساتھی کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اہلکار نورالدین اور دیگر ملزمان کو واپس لانے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئے ہیں۔
ان کے مطابق نورالدین اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 کے رہائشی ہیں اور کرنسی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں، جس میں لوگوں نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور وہ تقریباً 22 کروڑ روپے کے مقروض تھے۔
پولیس کے مطابق نورالدین کے ایک دوست نے دورانِ تفتیش بتایا کہ مالی دباؤ کم کرنے اور ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اغوا برائے تاوان کا ڈرامہ رچایا گیا۔
مزید برآں، سیف سٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ نورالدین نے خود اپنی گاڑی سری نگر ہائی وے پر کھڑی کی اور سڑک پار کر کے وہاں سے چلے گئے۔
پولیس کے مطابق انھوں نے گاڑی کی لوکیشن اپنے ڈرائیور کے ساتھ شیئر کی، جس کے بعد ڈرائیور نے گاڑی وہاں سے واپس لے لی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نورالدین کی اسلام آباد منتقلی کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی، جس کے بعد اغوا کا مقدمہ خارج کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے نورالدین کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رائے طلب کر لی ہے، جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی (این سی سی آئی) سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
نورالدین کے بھائی اور اس مقدمے کے مدعی سیف الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے پولیس کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات میڈیا میں ہی دیکھیں اور پڑھی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بھائی آن لائن ٹریڈنگ اور گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔
سیف الدین کے مطابق وہ جب اپنے بھائی سے ملاقات کریں گے تو ہی وہ آگے کا لائحہ عمل بنا سکیں گے۔ مدعی مقدمہ کے مطابق اگر پولیس کے مؤقف سے ان کے بھائی کا بیان مختلف ہوا تو پھر وہ قانون چارہ جوئی کریں۔
’ابھی میں پولیس کی تفتیش پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا‘۔