آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روسی طیاروں کی ’خطرناک انداز‘ میں برطانوی جاسوس طیارے کو ’روکنے کی کوشش‘: ’ایک طیارہ صرف چھ میٹر کی دُوری پر تھا‘
- مصنف, ہنری مور
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
برطانوی وزارتِ دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ماہ بحیرۂ اسود کے اُوپر دو روسی جنگی طیاروں نے برطانیہ کی رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے طیارے کو ’بار بار خطرناک انداز‘ میں روکنے کی کوشش کی اور یہ طیارے کے اتنا قریب آ گئے کہ اس کا ہنگامی نظام فعال ہو گیا۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ بیان کے مطابق ایک روسی Su-35 طیارہ راونٹ جوائنٹ نگرانی کے طیارے کے بہت قریب آیا اور اس کی وجہ سے اس کا آٹو پائلٹ نظام فعال ہو گیا۔
بیان کے مطابق روس کے ایک اور Su-27 طیارے نے آر اے ایف کے طیارے کے سامنے چھ مرتبہ چکر لگائے اور اس کے صرف چھ میٹر قریب تک پہنچ گیا۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے روسی پروازوں کو 'ناقابل قبول' قرار دیتے ہوئے آر اے ایف کی ’غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت‘ کی تعریف کی۔
برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سنہ 2022 کے بعد یہ روس کی سب سے خطرناک کارروائی ہے، اس وقت ایک روسی لڑاکا طیارے نے بحیرۂ اسود کے اُوپر برطانیہ کے جاسوس طیارے پر میزائل داغ دیا تھا۔ روس نے ستمبر 2022 میں پیش آنے والے اس واقعے کو ’تکنیکی خرابی‘ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔
روسی پائلٹ نے دو میزائل فائر کیے تھے، جن میں سے پہلا اپنے ہدف سے چوک گیا تھا۔
برطانیہ نے روسی وضاحت کو قبول کر لیا، لیکن بعد میں تین سینئر مغربی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ روسی پائلٹ نے ایک ’مبہم ہدایت‘ کے بعد جو روسی زمینی سٹیشن سے دی گئی تھی، میزائل داغا تھا۔
’کشیدگی کے سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں‘
برطانوی وزارتِ دفاع نے حالیہ واقعے کے حوالے سے مزید بتایا کہ برطانیہ کا یہ سرویلنس طیارہ نیٹو کے مشرقی محاذ کے تحفظ کے لیے معمول کی پرواز کر رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واقعہ ایک اور مثال ہے کہ روسی پائلٹ ایک غیر مسلح طیارے جو بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا کو کس طرح خطرناک انداز میں روک رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے حادثات اور ممکنہ کشیدگی کے سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ نیٹو، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے مفادات کے دفاع کے لیے روسی جارحیت کے خلاف برطانیہ کے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘
برطانوی وزارت دفاع اور دفتر خارجہ نے روسی سفارت خانے سے اس واقعے کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی جارحیت میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
رائل ایئر فورس کا راونٹ جوائنٹ آر سی 135 ڈبلیو طیارہ 51 سکواڈرن کے زیرِ استعمال ہے اور یہ عموماً لنکن شائر میں واقع ایک اڈے سے پرواز کرتا ہے۔
آر اے ایف کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ جدید سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے ’برقی مقناطیسی طیف میں سگنلز کو روکنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور حقیقی وقت میں سٹریٹجک اور ٹیکٹیکل انٹیلی جنس فراہم کرتا ہے۔‘