آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر ’فائلوں‘ کا غیرقانونی کاروبار کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
احسن عباس ایبٹ آباد کے رہائشی ہیں مگر روزگار کے سلسلے میں طویل عرصے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ تقریباً چھ سال قبل انھوں نے اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سکیم میں دس مرلے کا رہائشی پلاٹ حاصل کرنے کے لیے 19 لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروائے اور اس کے بعد آنے والے مہینوں میں وہ وقت پر اقساط بھی جمع کرواتے رہے۔
احسن عباس کے مطابق ہاؤسنگ سکیم کی انتظامیہ نے اس پلاٹ کی فائل انھیں اس وعدے پر فروخت کی تھی کہ مجموعی قیمت یعنی 95 لاکھ کا نصف ادا کرنے پر اُن کی فائل پر پلاٹ نمبر لگا دیا جائے گا اور انھیں قبضہ بھی دے دیا جائے گا تاہم چھ سال گزرنے اور رقم کی ادائیگی کے باوجود یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔
احسن اب مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے اس 10 مرلہ فائل کے عوض ادا کر چکے ہیں اور ان کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران سوسائٹی انتظامیہ کے دفتر کے درجنوں چکر لگانے کے باوجود انھیں کچھ حاصل وصول نہیں ہو سکا ہے۔
’پہلے تو کہا جاتا رہا کہ کل آنا، پرسوں آنا، یا یہ کہ ابھی ترقیاتی کام ہو رہا ہے، جس کے فوراً بعد پلاٹس آن گراؤنڈ ہوں گے۔ میری خون پسینے کی کمائی ہے مگر اس کے عوض برسوں سے چکر دیے جا رہے ہیں۔‘
ایبٹ آباد کے ہی رہائشی منظور خان کی کہانی بھی احسن سے ملتی جلتی ہے۔
انھوں نے سنہ 2018 میں اسلام آباد ایئرپورٹ کے نزدیک ایک سوسائٹی میں پلاٹ حاصل کرنے کے لیے ساڑھے سات لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروائے اور پھر ہر ماہ قسطیں جمع کرواتے رہے۔ اُن کے مطابق مجموعی طور پر انھوں نے ابتدائی دو برسوں میں 21 لاکھ روپے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے۔
منظور کے مطابق جب مقررہ وقت پر اور مقررہ قیمت جمع کروانے کے بعد وہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ کا قبضہ لینے پہنچے تو انتظامیہ نے انھیں جلد از جلد ڈویلپمنٹ چارجز جمع کروانے کی ہدایت کی اور وعدہ کیا کہ یہ چارجز جمع کرواتے ہی ان کی فائل کو نمبر الاٹ کر دیا جائے گا۔
منظور خان کا کہنا ہے انھیں ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ان کا پلاٹ سوسائٹی کے ’سیکڑ 11‘ میں ہو گا۔ ’جب ڈویلپمنٹ چارجز بھی دے دیے، تو کچھ عرصہ بعد بتایا گیا کہ ہم آپ کا پلاٹ سیکٹر 11 سے سیکٹر چھ میں منتقل کر دیں گے جہاں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ وہ دن اور آج کا دن، آئے روز نیا دعدہ کر کے مجھے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ جب بھی سوسائٹی کے بتائے ہوئے مقام پر جاتے ہیں تو وہاں ایک، دو مشینیں سست رفتاری سے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ مشینیں یہاں صرف اس لیے ہیں تاکہ اور لوگوں کو گھیرا جا سکے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے بچوں کا پیٹ کاٹ کر پیسے جمع کیے اور انھیں دیے۔ اب مجھے کچھ پتا نہیں کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں۔‘
یہ کہانیاں صرف احسن اور منظور تک محدود نہیں، ایسے ہزاروں متاثرین ہیں جو رقم جمع کروانے کے باوجود آج تک پلاٹ حاصل نہیں سکے۔
وفاقی ترقیاتی ادارے، سی ڈی اے، کے مطابق صرف اسلام آباد میں کم از کم 98 ہاوسنگ سوسائیٹیاں غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی ڈولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق اُن کی حدود میں 294 ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور سکیمز غیر قانونی ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران کچھ عرصے کے دوران انھوں نے راولپنڈی، اسلام آباد میں درجن سے زائد ہاوسنگ سوسائیٹیوں کے خلاف کاروائی کرکے مجموعی طور پر تقریباً 320 کروڑ روپے متاثریں کو واپس دلائے ہیں۔ تاہم پراپرٹی کی مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق ممکنہ طور پر اس نوعیت کے فراڈ کا حجم اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ بیشتر متاثرین قانون نافذ کرنے والے ادروں سے رجوع بھی نہیں کرتے ہیں۔
احسن عباس بتاتے ہیں کہ انھوں نے پلاٹ کی فائل اپنے ایک رشتہ دار پراپرٹی ڈیلر سے لی تھی جس نے انھیں ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کا خواب دکھایا تھا۔
محمد محسن اسلام آباد میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پراپرٹی ڈیلرز کا اہم کردار ہوتا ہے مگر یہ کہنا کہ پراپرٹی ڈیلرز دھوکہ دینے میں ملوث ہوتے ہیں یا وہ مکمل حقیقت جانتے ہیں تو یہ بات زیادہ درست نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سوسائٹیوں کے مالکان پراپرٹی ڈیلرز سے رابطہ کرتے ہیں، اُن کو فائلیں فروخت کرنے کے عوض اچھے اور بہتر کاروبار کے آپشن دیے جاتے ہیں۔
اویس چوہدری اسلام آباد میں دس سال سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ کیسے عوام کو خوش نما نعروں اور مختلف حربوں سے لوٹا جاتا ہے۔
کم رقبہ زیادہ فائلوں کی فروخت
اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ پانچ،چھ سال سے دیکھ رہے ہیں کہ ہاوسنگ سوسائیٹوں میں ایک طریقہ بہت عام ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے سوسائیٹیاں اپنے پاس موجود رقبہ سے زیادہ فائلیں فروخت کر دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ہوتا یہ ہے کہ ایک سوسائٹی کے پاس زمین کا خریدا گیا یا حاصل کردہ رقبہ صرف 50 یا 100 کنال ہوتا ہے، وہ اس رقبے کی تزئین و آرائش اور ڈویلپمنٹ کرتے ہیں، وہاں پر مشینری پہنچاتے ہیں، مارکیٹنگ فرم اور پراپرٹی ڈیلرز کو اکھٹا کیا جاتا ہے اور پھر سینکڑوں کنال کی فائلیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔‘
اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد اشتہار بازی شروع ہوتی ہے، لوگوں کو تھوڑا سے ڈویلپ کیے گئے رقبے کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں اور وزٹ کروائے جاتے ہیں جہاں پر ان کو تعمیراتی کام دکھایا جاتا ہے۔‘
’ایسے لوگ جو یک مشت ادائیاں نہیں کر سکتے اور اقساط والے آپشن اختیار کرتے ہیں، وہ آسان شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ انھیں بتایا جاتا ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں اسی پراجیکٹ کے ساتھ مزید اراضی خرید کر اسے بھی ڈویلپ کر دیا جائے گا، اور اسی خواب کی بنیاد پر لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ڈویلپر نے سو کنال زمین کراِئے پر حاصل کی اور وہاں پر انھوں نے تین ہزار لوگوں کو فائلیں فروخت کر دیں۔ اب نیب اس کے پیچھے ہے۔‘
’اس طرح بھی ہوا کہ ایک ڈویلپر نے صرف 70 کنال کا رقبہ حاصل کیا۔ اس ستر کنال کے رقبے کے تمام این او سی بھی حاصل کیے، مکمل قانونی کارروائی کی۔ مگر لوگوں کو اپنے خرید کردہ رقبے کے ساتھ ملحق وسیع رقبہ دکھا کر سینکڑوں کنال اراضی کو فائلوں پر فروخت کر دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس سارے عمل میں لوگوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، ’لوگ عموما بہت زیادہ تصدیق نہیں کرتے ہیں اور پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔‘
اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی ایک سوسائٹی کے لیے 18 مختلف قسم کی مختلف این او سیز حاصل کرنا ہوتے ہیں، جو مختلف حکومتی ادارے جاری کرتے ہیں۔ ’ان این او سی کے بغیر کسی بھی سوسائٹی کی فروخت اور اشتہار بازی شروع نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جب یہ سوسائٹی منظور ہو جائے تو اس وقت اُن کا لے آوٹ پلان باقاعدہ سرکاری ویب سائیٹس پر شائع ہوتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ اس سوسائٹی کے پاس کتنا رقبہ ہے اور اس کا کیا کیا منصوبہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی شخص پلاٹ خریدنے کا سوچے تو لازمی طور پر دیکھے کہ متعلقہ سوسائٹی کا لے آؤٹ پلان کیا ہے اور اس کو کہاں پر پلاٹ دیا جائے گا اور یہ منظور شدہ ہے کہ نہیں ہے۔ اس وقت یہ عمل سب سے اہم ہے۔‘
صارف کو ہاوسنگ سوسائٹی میں خریداری سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وکیل عمر گیلانی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ رئیل سٹیٹ میں سرمایہ کاری منافع بخش بھی ہو سکتی ہے اور خطرناک بھی، ’خاص طور پر جب جعلی یا غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز سامنے آتی ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے چند بنیادی قانونی اور عملی چیزوں کی تصدیق ضروری ہے۔‘
’اس میں سب سے پہلے یہ چیک کریں کہ سوسائٹی کو متعلقہ مجاز ادارے سے این او سی ملا ہوا ہے یا نہیں۔ اگر سوسائٹی مجاز ادارے کی لسٹ میں نہیں ہے، تو یہ خطرے کا پہلا اشارہ ہے۔‘
اس کا کہنا تھا کہ ’جعلی سوسائٹیز اکثر اصل زمین کے بغیر صرف فائلیں فروخت کرتی ہیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ آپ چیک کریں کہ زمین سوسائٹی کے نام پر رجسٹرڈ ہے، اس کا انتقال موجود ہے کہ نہیں اور کوئی عدالتی تنازع ہے کہ نہیں۔ اگر ملکیت واضح نہ ہو تو بھی سرمایہ کاری خطرناک ہو سکتی ہے۔‘
عمر گیلانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی سوسائٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان سے پتہ چلتا ہے کہ پلاٹس، سڑکیں، پارکس اور کمرشل ایریا کہاں کہاں واقع ہیں۔
’اگر آپ کا پلاٹ منظور شدہ نقشے سے باہر ہے تو وہ قانونی طور پر غیر محفوظ ہو گا۔ کئی سوسائٹیز اپنی مارکیٹنگ میں بڑا رقبہ ظاہر کرتی ہیں لیکن اصل میں اس کا صرف ایک چھوٹا حصہ منظور شدہ ہوتا ہے۔ باقی زمین مستقبل کے منصوبوں سے منسلک ہوتی ہے جو کہ قانونی طور پر منظور شدہ نہیں ہوتی ہے، اس پر نظر رکھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’صرف تشہری مواد، بروشرز یا ریئل سٹیٹ ایجنٹ کی بات پر یقین نہ کریں۔ خود موقع پر جا کر زمین دیکھیں، ترقیاتی کام چیک کریں اور مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کریں۔ یہ سب سے عملی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کمپنی رجسٹرڈ ہے یا نہیں، اس نے پہلے کون سے منصوبے مکمل کیے ہیں اور کیا وہ وقت پر ڈیلیوری دیتے ہیں۔ غیر تجربہ کار یا غیر رجسٹرڈ ڈویلپر خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا یہ تمام تفصیلات سرکاری ترقیاتی اداروں کی ویب سائٹس پر موجود ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ مجاز ادارے کے متعلقہ سوسائٹی کو جاری ہونے والے نوٹسز کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اسلام آباد میں ایئرپورٹ کے نزدیک واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی فیصل ٹاؤن میں گذشتہ کئی برسوں سے پراپرٹی کے کام سے وابستہ اکبر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ صارف سرمایہ کاری کرنے سے قبل تھوڑی سے محنت کر لیں تو اچھی ہاوسنگ سوسائٹی کا پتہ لگانا مشکل کام نہیں تاہم شرط یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پیسہ لگانے سے قبل خود موقع پر جا کر معاملات کی چھان بین کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ بہت سے ڈویلپر عام صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کا ارتکاب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں مگر بہت سے ایسے ڈویلپر بھی ہیں جن کی اس شعبے میں ساکھ ہے اور وہ وعدے کے مطابق صارفین کو بروقت ڈیلیوری کرتے ہیں اور اپنے مفاد کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بناتے ہیں۔
اکبر حسین شاہ صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی جمع پونجی بڑے بڑے وعدوں اور تشہیری مہمات کی بنیاد پر کسی کے حوالے نہ کریں بلکہ ایسے ڈویلپرز کی جانچ کریں جو ماضی میں اچھے ہاؤسنگ پراجیکٹ کر چکے ہیں اور اُن کی اس مارکیٹ میں ساکھ ہے۔
’آپ کو راولپنڈی، اسلام آباد میں جہاں درجنوں دھوکہ دینے والے ڈویلپرز ملیں گے وہیں ایسے ڈویلپر بھی ہیں، جو پہلے رقبہ خریدتے ہیں، اور پھر اتنے ہی پلاٹس مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں جتنی اُن کے پاس جگہ موجود ہوتی ہے۔‘
قانونی مدد کیسے حاصل کی جائے؟
عمر گیلانی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’اگر تمام احتیاط کے باوجود بھی فراڈ ہوجائے تو یاد رہنا چاہیے کہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ثبوت دیکھتے ہیں اور یہ ثبوت کسی بھی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ اگر تو ثبوت موجود ہیں تو پھر ٹھیک ہے اگر نہیں تو فوری طور پر ثبوت اکھٹا کرنا چاہییں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ثبوت کسی بھی قسم کے اور کئی اقسام کے ہو سکتے ہیں، مگر ایگریمنٹ/معاہدہ، فائل یا الاٹمنٹ لیٹر، رسیدیں جس میں کیش دینے کی رسید یا بینک میں جمع کروانے کی رسیدیں، بینک ٹرانسفر کی رسیدیں، ایڈوایڈورٹائزمنٹ، بروشر،واٹس ایپ چیٹ یا فون کالوں کا ریکارڈ، ایجنٹ یا کمپنی سے ہونے والی تمام گفتگو شامل ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فوری طور پر کسی قابل اعتماد وکیل کی مدد سے درخواست تیار کرکے قریبی پولیس سٹیشن میں جمع کروائیں۔ ممکنہ طور پر پولیس کے لیے فوری طور پر مقدمہ درج کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے تو تفتیش و تحقیق کر سکتے ہیں مگر درخواست نمبر ضرور حاصل کریں۔‘
عمر گیلانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پولیس کے بعد مجاز ادارے کو درخواست دیں اور ممکنہ طور پر سول عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فراڈ بڑا اور اجتماعی نوعیت کا ہے تو پھر ایسے معاملات میں نیب بھی دخل دیتا ہے اور ممکنہ طور پر ایف آئی اے بھی، مگر یہ بعد کے معاملات ہوتے ہیں اس سے پہلے پولیس اور متعلقہ مجاز ادارے میں درخواست دینا بہتر ہوتا ہے اور بعد میں ان اداروں سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔‘
عمر گیلانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایسے فراڈ کے مرتکب افراد کے خلاف دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہوتے ہیں۔
سرکاری ادارے کیا کر رہے ہیں؟
راولپنڈی اور اسلام آباد کے ترقیاتی اداروں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ گاہے بگاہے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فہرستیں جاری کرتے رہتے ہیں اور عوام کو بتاتے ہیں کہ فراڈ سے کیسے بچا جائے۔
ترقیاتی اداروں کے مطابق سرکاری ویب سائٹس پر منظور شدہ سوسائیٹیوں کی تمام تر تفصیلات بھی موجود ہوتی ہیں جن کی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
قومی احتساب بیورو کے مطابق انھوں نے گذشتہ تقریباً ایک سے دو سال (2025–2026) کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی ہاؤسنگ سوسائٹی سکیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں جن کا مقصد عوامی سرمایہ کی واپسی، متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت قائم کرنا ہے۔
ان کے مطابق اس دوران کم از کم درجن سے زائد ہاؤسنگ منصوبے زیرِ تفتیش اور کارروائی میں رہے جن میں غوری ٹاؤن، جیدّہ ٹاؤن، گلشنِ رحمان، عرین سٹی، ایشیا ہاؤسنگ سوسائٹی (گلشن کشمیر)، نیو میٹرو سٹی گجر خان اور بینکرز سٹی جیسے بڑے کیسز شامل ہیں جن میں عوام سے مبینہ طور پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی اور بعد ازاں تاخیر، دھوکہ دہی یا غیر شفاف طریقوں کے الزامات سامنے آئے۔
نیب کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مختلف مراحل میں متاثرین کو رقوم کی واپسی کی گئی اور متعدد کیسز میں چیک اور پلاٹ الاٹمنٹ لیٹرز بھی جاری کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر کم از کم تقریباً 320 کروڑ روپے کی واضح مالی ریکوریز اور ریفنڈز سامنے آئے ہیں، اس کے علاوہ بعض بڑے کیسز میں ہزاروں متاثرین کو براہ راست ریلیف فراہم کیا گیا جن میں ایک کیس میں 1700 سے زائد متاثرین شامل تھے جبکہ دیگر سکیموں میں سینکڑوں اور ہزاروں افراد کو مرحلہ وار ادائیگیاں کی گئیں۔
نیب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں پلی بارگین، نیلامی اور قانونی تصفیوں کے ذریعے رقوم کی واپسی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی زمینوں اور اثاثوں کی بازیابی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے، ادارے کے مطابق یہ تمام اقدامات 'چیٹنگ پبلک ایٹ لارج' کے تحت کیے جا رہے ہیں جن کا بنیادی مقصد متاثرہ شہریوں کو ان کا حق دلانا، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا خاتمہ اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔
نیب کا کہنا تھا کہ عوام کو بھی محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل دیکھنا چاہیے کہ تمام قانونی تقاضے پورے ہیں کہ نہیں۔