محمد رضوان کی اپنے خلاف تحقیقات روکنے کی درخواست خارج: ’رات ایک بجے ہوٹل لابی میں بُلا کر موبائل فون ضبط کیا گیا‘

26 اگست کی تصویر: لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل نیٹ سیشن کے دوران محمد رضوان نے فٹ بال پکڑ رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہStu Forster/Getty Images

،تصویر کا کیپشن26 اگست کی تصویر: لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل نیٹ سیشن کے دوران محمد رضوان نے فٹ بال پکڑ رکھا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
    • مقام, اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان کی جانب سے دائر کردہ یہ درخواست مسترد کر دی ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کو حکم دیا ہے کہ وہ این سی سی آئی اے کے جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں کھیلے گئے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکواڈ میں شامل سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل تھے۔

جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ’نظم و ضبط اور رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے پیشِ نظر ایک اندرونی تادیبی تحقیقات‘ کا آغاز کیا تھا۔ ستمبر کے اوائل میں پاکستان کے مختلف ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں چل رہی تھیں کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران پی سی بی نے کچھ کھلاڑیوں کے موبائل فونز تحویل میں لیے تھے اور انھیں این سی سی آئی اے کے حوالے کیا تھا۔ تاہم پی سی بی نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپنی درخواست میں محمد رضوان نے عدالت سے یہ استدعا کی تھی کہ ان کا موبائل فون اور دیگر سامان واپس دلایا جائے جو این سی سی آئی اے نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

29 اگست کی تصویر: لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز محمد رضوان کو طبی امداد دی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن29 اگست کی تصویر: لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز محمد رضوان کو طبی امداد دی جا رہی ہے

مختصر سماعت کے بعد درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے دائر اس درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ان کے وکیل قاضی عمیر علی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو این سی سی آئی اے کی جانب سے کرکٹ میں مبینہ سٹے بازی اور جوئے میں ملوث ہونے کے الزام پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جا کر نوٹس کا جواب دینا چاہیے۔

قاضی عمیر علی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو 10 ستمبر کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کی تعمیل بھی کر دی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ پھر وہ عدالت میں کیا لینے آئے ہیں؟

سماعت کے دوران عدالت نے محمد رضوان کے وکیل سے پوچھا کہ موصول ہونے والے نوٹس اور لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کی فائل کہاں ہے۔ قاضی عمیر علی نے بتایا کہ متعلقہ فائل ان کے جونیئر وکیل کے پاس ہے۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں تو کم از کم مقدمے کی فائل ان کے پاس ہونی چاہیے تھی۔

محمد رضوان کے وکیل مزید دلائل دینا چاہتے تھے، تاہم عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں ہدایت کی کہ وہ این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دیں۔

محمد رضوان نے عدالت سے کیا استدعا کی تھی؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی درخواست میں محمد رضوان نے بتایا ہے کہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان 27 تا 30 اگست تک کھیلے گئے لارڈز ٹیسٹ میچ کے فوراً بعد انھیں رات ایک بجے اُس ہوٹل کی لابی میں طلب کیا گیا جہاں پوری ٹیم مقیم تھی۔

درخواست کے مطابق ’وہاں ایک افسر موجود تھا جو بظاہر کسی سرکاری ادارے سے تعلق رکھتا تھا۔‘

درخواست میں محمد رضوان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی پیشگی نوٹس نہ ہونے کے باوجود مذکورہ افسر نے ان سے پوچھ گچھ کی اور ان کا موبائل فون بغیر کسی وجہ یا جواز فراہم کیے تحویل میں لے لیا۔

درخواست میں درج ہے کہ محمد رضوان نے اپنا فون اس یقین دہانی پر حوالے کیا تھا کہ ڈیوائس کا مکمل معائنہ کیا جائے گا اور اسے اگلے تین گھنٹوں کے اندر واپس کر دیا جائے گا۔

محمد رضوان کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ اور این سی سی آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں ان پر سٹے بازی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ نوٹس میں لگائے گئے تمام الزامات نہ صرف جھوٹے ہیں بلکہ حقائق پر بھی مبنی نہیں ہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ نوٹس کا مقصد کرکٹر محمد رضوان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

مزید کہا گیا کہ این سی سی آئی اے نے اب تک ان الزامات کے حوالے سے جو تحقیقات کی ہیں، ان کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔

درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ این سی سی آئی اے کے حکام تفتیش کے دوران اس تاریخ کی بھی نشاندہی نہیں کر سکے جس روز مبینہ طور پر سٹے بازی کی گئی۔

درخواست کے مطابق محمد رضوان 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تھے، جبکہ 14 ستمبر کو انھوں نے متعلقہ حکام کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ انھیں کس بنیاد پر طلب کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ مبینہ سٹے بازی کے الزام کے تحت جاری کیا گیا نوٹس اور اس کے بعد شروع کی جانے والی انکوائری قانون کے مطابق نہیں۔

مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر کرکٹ میں میچ فکسنگ یا سٹے بازی کا معاملہ ہو تو اس کی تحقیقات کرانے کا اختیار انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پاس ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار، یعنی محمد رضوان، اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان کے خلاف انکوائری کس معاملے میں کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے حکام نوٹس یا انکوائری کی آڑ میں درخواست گزار کو حراست میں لے سکتے ہیں یا گرفتار کر سکتے ہیں۔

درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ نہ صرف اس نوٹس بلکہ اس کے بعد شروع کی جانے والی انکوائری کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔

ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی گئی کہ محمد رضوان کا موبائل فون اور دیگر سامان واپس دلایا جائے جو این سی سی آئی اے نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

لاہور میں این سی سی آئی اے کے حکام نے کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق کو 10 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کے بعد دونوں کرکٹرز کو جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، تاہم این سی سی آئی اے کے حکام نے ان کے زیرِ استعمال موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images

،تصویر کا کیپشنلاہور ہائی کورٹ

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے کیا پوچھا؟

بی بی سی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو بھیجا گیا سوال نامہ موصول ہوا ہے، جو ایجنسی کے وکیل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر نے ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا۔

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے ان کی ذاتی، مالی اور سفری تفصیلات طلب کی ہیں۔

سوالنامے کے مطابق محمد رضوان سے ان کی ولدیت، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، اہلیہ اور بچوں سے متعلق معلومات طلب کی گئیں، جبکہ گذشتہ 10 برس کے دوران استعمال کیے گئے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

ایجنسی نے گذشتہ پانچ سال کے دوران تنخواہ، کرائے کی مد میں آمدن، کاروبار اور زرعی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن، بینکوں میں موجود رقوم پر حاصل ہونے والے منافع، گھریلو اخراجات اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

سوالنامے میں محمد رضوان سے وراثتی جائیداد کی مکمل معلومات، جائیداد منتقل کرنے والے شخص کی تفصیل اور متعلقہ ثبوت فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے، جبکہ گذشتہ پانچ سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

مزید برآں، گذشتہ پانچ برسوں کے دوران کیے گئے بین الاقوامی اور اندرونِ ملک سفر، ان پر آنے والے اخراجات، قیام کی مدت، تمام بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور کسی بھی شخص یا ادارے سے لیے گئے قرضوں کی تفصیلات بھی سوالنامے کا حصہ ہیں۔