انڈیا میں ’السلام علیکم‘ اور ’انشا اللہ‘ کہنے پر خاتون افسر کے تبادلے کا الزام، معاملہ کیا ہے؟

2021 بیچ کی آئی پی ایس (انڈین پولیس سروس) کی افسر بشریٰ بانو کا تنازع کے درمیان تبادلہ کر دیا گیا (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہBushara Bano's Facebook page

،تصویر کا کیپشن2021 بیچ کی آئی پی ایس (انڈین پولیس سروس) کی افسر بشریٰ بانو کا تنازع کے درمیان تبادلہ کر دیا گیا (فائل فوٹو)
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

مغربی بنگال کی خاتون آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو اِن دنوں خبروں میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ان کے ’السلام علیکم‘، ’ان شا اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے الفاظ اور سلام کے استعمال پر تنازع پیدا ہوا اور اسی دوران ان کا تبادلہ بھی کر دیا گیا۔

14 ستمبر کے سرکاری حکم نامے کے مطابق، 2021 بیچ کی آئی پی ایس (انڈین پولیس سروس) افسر بشریٰ بانو کو مغربی میدنی پور کے کھڑگ پور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے ہٹا کر ریاستی مسلح پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

اسی حکم نامے میں دو دیگر پولیس افسران کے تبادلوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق یہ تبادلے ’عوامی مفاد‘ میں کیے گئے انتظامی فیصلے ہیں۔

سرکاری حکام نے اسے ایک ’معمول کا تبادلہ‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، انڈین سیکولر فرنٹ کے رکنِ اسمبلی نوشاد صدیقی کا الزام ہے کہ بشریٰ بانو کی غلط طریقے سے ’گیراج پوسٹنگ‘ دی گئی ہے، یعنی انھیں ایسی ذمہ داری سونپی گئی ہے جسے ان کی سابقہ تعیناتی کے مقابلے میں کم اہم سمجھا جاتا ہے۔

کچھ دن پہلے بشریٰ بانو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو میں انھیں انڈیا کے مسابقتی سول سروس امتحان کی تیاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریذیڈنشل کوچنگ اکیڈمی اقلیتی برادری، خواتین اور درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی مدد کرتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک سابق طالبہ کی حیثیت سے اس کوچنگ اکیڈمی نے ان کی تعلیم اور امتحان کی تیاری میں بہت مدد کی تھی۔

اس ویڈیو میں ان کے بیان پر سوشل میڈیا پر تنازع شروع ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یونیفارم میں ملبوس ایک سرکاری افسر عوامی طور پر ’السلام علیکم‘، ’ان شاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے مذہبی الفاظ استعمال کر سکتی ہیں یا نہیں۔

کچھ افراد نے یہ بھی پوچھا کہ انھوں نے ’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ جیسے سلام یا نعرے کیوں استعمال نہیں کیے۔

'ہندو لیگل فنڈ' نامی تنظیم نے بشریٰ بانو کے خلاف مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری سے شکایت درج کرائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBushara Bano's Facebook page

،تصویر کا کیپشن’ہندو لیگل فنڈ‘ نامی تنظیم نے بشریٰ بانو کے خلاف مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری سے شکایت درج کرائی ہے

’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ کیوں نہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم، نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں اس ویڈیو کا ذکر بشریٰ بانو کی سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر کیا گیا ہے۔ اب بشریٰ بانو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ ویڈیو موجود نہیں ہے۔

سدرشن نیوز، جے پور ڈائیلاگز سمیت بعض ہندوتوا حامی پلیٹ فارمز پر بھی اس ویڈیو کو تنقید اور بحث کا موضوع بنایا گیا۔

’ہندو لیگل فنڈ‘ نامی ایک تنظیم نے 13 ستمبر کو ایکس پر بتایا کہ اس نے مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری سے بشریٰ بانو کے خلاف شکایت درج کرائی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

13 ستمبر کو ہندو لیگل فنڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا گیا کہ ’انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ’السلام علیکم‘ سے کیا، ’ان شاء اللہ‘ کا استعمال کیا اور ’جزاک اللہ‘ کہہ کر اپنی بات ختم کی، لیکن ’وندے ماترم‘ یا ’جے ہند‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔‘

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین ریاست کی نمائندگی کرنے والے ایک سرکاری افسر کو غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہیے اور عوامی گفتگو میں ایسے الفاظ استعمال کرنے چاہیں جو قومی جذبے کی عکاسی کرتے ہوں۔ اس معاملے کا مناسب جائزہ لے کر کارروائی کی جائے۔‘

اس کے اگلے ہی روز، 14 ستمبر کو مغربی بنگال حکومت کے محکمہ داخلہ نے بشریٰ بانو کے تبادلے کا حکم جاری کر دیا۔

ان دونوں واقعات کے درمیان صرف ایک دن کا فرق ہونے کی وجہ سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا بشریٰ بانو کے تبادلے کا اس ہندوتوا تنظیم کی شکایت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

جب ایک سینئر پولیس افسر سے اس تبادلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی سے کہا ’اس نوعیت کے تبادلے ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہوتے ہیں اور کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔ اس تبادلے کے حکم کا حالیہ تنازعے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس بارے میں، میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔‘

انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAsian News International

،تصویر کا کیپشنانڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی (فائل فوٹو)

اپوزیشن کا دعویٰ: ’مسلمان خاتون ہونے کی وجہ سے تبادلہ کیا گیا‘

ایک جانب ہندوتوا تنظیمیں سوشل میڈیا پر بشریٰ بانو کی تقریر پر اعتراض کر رہی ہیں، تو دوسری جانب کئی مسلم تنظیموں نے ان کے تبادلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بشریٰ بانو کی وائرل ویڈیو کے بعد اب مختلف ریاستوں کے متعدد پولیس افسران کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں انھیں وردی میں مذہبی تقریبات اور پوجا میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ویڈیوز پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم بی بی سی ان کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

مغربی بنگال میں اپوزیشن کے رکنِ اسمبلی نوشاد صدیقی نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف بی جے پی حکومت مسلم خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے۔

دوسری طرف، ان کے بقول، ایک ایسی مسلم خاتون افسر کا ’غیر مناسب طریقے سے‘ تبادلہ کیا جا رہا ہے جو تعلیم یافتہ ہیں اور ایک باوقار عہدے پر عزت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’انھوں نے صرف تین الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان الفاظ سے کسی دوسرے مذہب کے فرد کی دل آزاری نہیں ہوتی، اور نہ ہی یہ الفاظ ملک مخالف ہیں۔‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ترجمان اور سابق رکنِ اسمبلی وارث پٹھان نے ایک ویڈیو پیغام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے سوال کیا: ’کیا صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلم آئی پی ایس افسر اور ایک خاتون ہیں، ان کا تبادلہ کر دیا گیا؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ کتنے لوگوں نے وردی پہن کر پوجا اور آرتی کی ہے۔ کتنے اہلکاروں کو وردی میں کانوڑ یاترا کرنے والے عقیدت مندوں پر پھول برساتے دیکھا گیا ہے۔ اس وقت کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟‘

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انڈیا کا آئین شہریوں کو ’جے ہند‘ کہنے کا حق دیتا ہے، اسی طرح ’السلام علیکم‘ کہنے کا بھی حق دیتا ہے۔

بشریٰ بانو کے تبادلے کے معاملے پر ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے ایکس پر لکھا: ’ایک طرف برکس اجلاس میں ’نماز کے کمرے‘ بنا کر بی جے پی حکومت سیکولر تشخص پیش کر رہی ہے، اور دوسری طرف صرف ’السلام علیکم‘ اور ’جزاک اللہ‘ کہنے کی وجہ سے مسلم خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو ایک طرف کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، وردی میں قواعد و ضوابط کے حوالے سے مغربی بنگال پولیس کے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر جگموہن بھٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اپنے طویل کیریئر کے دوران انھوں نے افسران کو ’جے ہند‘ کے علاوہ کوئی اور سلام استعمال کرتے ہوئے نہیں سنا۔

انھوں نے کہا: ’چاہے ریاستی پولیس ہو، فوج ہو یا بارڈر سکیورٹی فورس، کسی بھی سرکاری ادارے یا فورس میں وردی پہننے والے افسر عموماً ’جے ہند‘ کہتے ہیں۔ وردی میں یہی سب سے عام سلام سمجھا جاتا ہے۔ ملازمت کے دوران ہم ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کسی مذہبی نعرے، جیسے ’جے شری رام‘ یا ’رادھے رادھے‘ وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے۔‘

बुशरा बानो

،تصویر کا ذریعہBushara Bano's Facebook page

،تصویر کا کیپشنبشریٰ بانو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کی ہے

بشریٰ بانو کون ہیں؟

بشریٰ بانو کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ (انسانی وسائل کے انتظام) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

پولیس سروس میں شامل ہونے سے پہلے وہ اتر پردیش حکومت میں ڈپٹی کلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

انھوں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان دو مرتبہ کامیابی سے پاس کیا۔ پہلی مرتبہ امتحان میں کامیابی کے بعد انھوں نے انڈین ریلوے ٹریفک سروس میں کام کیا۔

دوسری مرتبہ یو پی ایس سی امتحان پاس کرنے کے بعد وہ انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) میں شامل ہوئیں اور اس وقت مغربی بنگال پولیس میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔