’میں انھیں ہاتھ بھی نہیں لگاتا‘: کیا خریداری کے بعد ملنے والی رسیدیں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہیں؟

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

    • مصنف, کیٹ بووی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

خریداری کے بعد ملنے والی رسیدیں عام طور پر لوگ جیب میں رکھ لیتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں سوشل میڈیا پر ان رسیدوں کو صحت کے لیے خطرناک قرار دینے والی ویڈیوز تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

ان ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رسیدوں کو چھونا مستقبل میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے، ہارمونز کی صحت خراب کر سکتا ہے اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم کر سکتا ہے۔

تقریباً 2500 ٹک ٹاک پوسٹس میں ایک مقبول آڈیو کلپ استعمال کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں کبھی رسیدوں کو ہاتھ نہیں لگاتا۔‘ یہ خدشات ڈائری آف اے سی ای او نامی پوڈکاسٹ کے ایک مہمان نے بھی بیان کیے، جسے دنیا بھر میں ہر ماہ لاکھوں لوگ سنتے ہیں۔

رسیدوں کے بارے میں یہ خدشات اس لیے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ یہ عام طور پر تھرمل پیپر پر چھاپی جاتی ہیں۔ اس کاغذ پر ایک کیمیائی تہہ ہوتی ہے جس میں اکثر بیسفینول اے استعمال کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بیسفینول اے ایسا کیمیکل ہے جو جسم کے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتا ہے اور اسے ہارمونز میں تبدیلی اور بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔

تاہم، سائنسدانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر رسیدوں کو ہاتھ لگانا خریداروں کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔

بسفینول اے کیا ہے اور یہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

1960 کی دہائی سے رسیدوں پر بسفینول اے یعنی ’بی پی اے‘ نامی ایک کیمیائی مرکب استعمال کیا جا رہا ہے، جو پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں اور خوراک کے ڈبوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

جدید رسید پرنٹرز میں سیاہی کے بجائے حرارت استعمال ہوتی ہے۔ بی پی اے کی تہہ پرنٹر کی تیز حرارت کی وجہ سے کاغذ کو سیاہ کر دیتی ہے، جس سے حروف اور اعداد فوری طور پر چھپ جاتے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم، انسانی خصیوں کے ٹشوز پر لیبارٹری میں کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ بی پی اے ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم کر سکتا ہے۔

دیگر مطالعات میں حمل کے دوران ان مرکبات کے اثرات اور لڑکوں میں تولیدی نظام سے متعلق نقائص کے درمیان تعلق بھی پایا گیا ہے۔

لندن کے سینٹ میری اور ہیمرسمتھ ہسپتالوں میں تولیدی غدود کے ماہر پروفیسر چنا جے سینا کے مطابق، بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے علاج کے مراکز میں آنے والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بی پی اے کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

ان کے بقول ’جوڑے اکثر اپنی صحت کے تمام پہلوؤں کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں۔ وہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے اور صحت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں پلاسٹک سے پرہیز بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘

پروفیسر جے سینا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ شواہد کی بڑھتی ہوئی تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ بی پی اے جیسے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ان مطالعات سے اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب نہیں ملتے، مثلاً کسی شخص کو بی پی اے کی کتنی مقدار کا سامنا ہونے پر یہ اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’میرے نقطۂ نظر سے یہ یقینی طور پر صحت کے لیے ممکنہ خطرہ ضرور ہیں۔‘

Colourful plastic mugs, caps, bottle bottle tops and toys sit at the front of the image. Behind are clear plastic bottles, which are out of focus.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبی پی اے روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا میں پایا جاتا ہے، جن میں پانی کی بوتلیں، دوبارہ استعمال ہونے والے کپ اور کھانا محفوظ کرنے والے ڈبے شامل ہیں۔

رسیدوں میں بی پی اے کے بارے میں تحقیق کیا کہتی ہے؟

ایک تحقیق کے مطابق بی پی اے جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہو سکتا ہے اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد رسید کو ہاتھ لگانے سے اس کا جذب ہونا بڑھ سکتا ہے۔

لیکن کیمسٹری کے پروفیسر اولیور جونز کے مطابق معاملہ صرف کیمیکل کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ کسی شخص کو اس کی کتنی مقدار کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ آسٹریلیا کی میلبورن میں واقع آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔

وہ اس کا موازنہ شراب سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر آپ ایک گلاس شراب پیتے ہیں تو شاید اس کا زیادہ اثر نہ ہو، لیکن اگر آپ ایک سال تک ہر رات شراب کی پوری بوتل پیتے ہیں تو اس کا اثر ضرور ہوگا۔‘

ان کے مطابق اسی بنیاد پر یہ امکان کم ہے کہ ایک رسید سے جسم میں جانے والی بی پی اے کی معمولی مقدار صحت پر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صاف لفظوں میں کہوں تو میرا خیال ہے کہ آپ رسید کھا بھی لیں تو بھی بی پی اے کی اتنی مقدار جسم میں نہیں جائے گی کہ کوئی مسئلہ پیدا ہو۔‘

لیکن ان کیشیئرز کا کیا جو زیادہ باقاعدگی سے رسیدیں ہاتھ میں لیتے ہیں؟

تولیدی ہارمونز کے ماہر جے سینا کہتے ہیں کہ ’میں نے کیشیئرز کی بڑی تعداد کو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے کلینکس کا رخ کرتے نہیں دیکھا۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’یہ جاننے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں کہ پیشے یا ماحول کے ذریعے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا سامنا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔‘

اس کے باوجود یورپی یونین اور برطانیہ میں بی پی اے والی رسیدوں پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی انھیں مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

ان خطوں میں بہت سے مینوفیکچررز نے بی پی اے کی جگہ بسفینول ایس استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پروفیسر جونز کے مطابق یہ کیمیائی مرکب ’تقریباً وہی‘ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’تکنیکی طور پر بی پی ایس زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کے بارے میں وہ شواہد موجود نہیں جو بی پی اے کے بارے میں ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر، میرا اب بھی خیال ہے کہ اس سے خطرہ کافی کم ہے۔‘

This headshot of Jayasena shows him smiling at the camera, wearing a black suit jacker, checked shirt and tie featuring pink and blue stripes.

،تصویر کا ذریعہImperial College London

،تصویر کا کیپشنجے سینا کے مطابق اگر آپ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کئی دوسرے ایسے اقدامات بھی ہیں جن کے مؤثر ہونے کے سائنسی شواہد موجود ہیں۔

کیا احتیاط کے طور پر رسیدوں کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیے؟

اگر آپ اب بھی پریشان ہیں تو دستانے استعمال کرکے یا کاغذی رسید کے بجائے ای میل کے ذریعے رسید حاصل کرکے بی پی اے کے سامنے آنے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

پروفیسر جونز کہتے ہیں کہ ’اگر اس سے آپ کو بہتر محسوس ہوتا ہے اور آپ کی پریشانی کم ہوتی ہے تو پھر ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟‘

پروفیسر جے سینا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ بی پی اے کے سامنے آنے کے حوالے سے فکرمند ہیں تو اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں زیادہ سائنسی شواہد موجود ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پلاسٹک کے ان ڈبوں میں کھانا بار بار گرم کرنے یا رکھنے سے گریز کرنا ایک اچھا آغاز ہے جو کھانا پیک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اکثر مائیکروویو میں رکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر آپ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا یا اسے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو سب سے اہم کاموں میں سگریٹ نوشی چھوڑنا، شراب کا استعمال محدود کرنا، ورزش کرنا اور جسمانی وزن کو صحت مند حد میں رکھنا شامل ہیں۔‘

ان کے مطابق ’کچھ چیزیں ہمارے اختیار میں ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان کا تولیدی صحت پر اثر پڑتا ہے، لیکن رسیدیں ان میں شامل نہیں ہیں۔‘