30 روپے کے شاپنگ بیگ پر کھاڈی کو جرمانہ: ’برانڈ نے میرے پیسوں سے اپنی تشہیر کی‘

،تصویر کا ذریعہEBAY
- مصنف, عزیز اللہ خان اور نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی ایک عدالت نے صارفین سے شاپنگ بیگ پر 30 روپے وصول کر کے اپنی تشہیر کرنے پر معروف برانڈ کھاڈی کو 25 ہزار روپے ہرجانہ اور 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
پشاور کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے کھاڈی کو یہ حکم بھی دیا کہ شاپنگ بیگ کے لیے وصول کیے گئے 30 روپے شکایت کنندہ کو واپس کیے جائیں۔
بدھ کو پشاور کی کنزیومر کورٹ کا فیصلہ اس شکایت پر سنایا گیا جو برانڈ کے لوگو والے کیئرنگ بیگ کی اضافی رقم وصول کرنے کے خلاف گذشتہ سال دسمبر میں دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ صارف سے اضافی رقم وصول کرنے کے ساتھ اسی صارف کے خرچ پر کمپنی کے برانڈ کی تشہیر کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کیا ہے۔
بی بی سی اُردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر کھاڈی کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا کیونکہ پلاسٹک کے استعمال سے بچنے کے لیے شاپنگ بیگز کو ماحول دوست بنایا گیا تھا۔
کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
پشاور کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے صارفین سے برانڈ لوگو والے شاپنگ بیگ کے 30 روپے اضافی چارج کرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
کنزیومر کورٹ کے جج نصر اللہ خان گنڈاپور نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کھاڈی درخواست گزار کو 30 روپے واپس کرے، انھیں 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے اور اس کے علاوہ 25 ہزار روپے کا جرمانہ سرکاری خزانے میں بھی جمع کرائے۔
یہ مقدمہ شفق عامر ایڈووکیٹ نے خیبر پختونخوا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت کھاڈی پاکستان لمیٹڈ کے خلاف دائر کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے 20 دسمبر 2025 کو کھاڈی کے یونیورسٹی روڈ پشاور آؤٹ لیٹ سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے تھے اور اس سے شاپنگ یا سامان لے جانے والے بیگ کے لیے اضافی 30 روپے وصول کیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار کے مطابق اس بیگ پر کھاڈی کا تشہیری لوگو بھی چھپا ہوا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کھاڈی نے صارف سے 30 روپے وصول کرنے کے الزام کی تردید نہیں کی، تاہم کمپنی کا موقف تھا کہ وہ صارفین کو مفت شاپنگ بیگ فراہم کرنے کی پابند نہیں اور صارف کی درخواست پر بیگ اضافی رقم کے عوض فراہم کیا جاتا ہے۔
تاہم عدالت کے مطابق یہ بیگ محض سامان لے جانے کے لیے نہیں بلکہ کمپنی کی تشہیر کے لیے بھی استعمال ہو رہا تھا اور اس تشہیر کی لاگت بھی صارف سے وصول کی جا رہی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کو اس صورت حال میں صارف کو ایک عام بیگ فراہم کرنا چاہیے تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صارف سے اضافی رقم وصول کرنے کے ساتھ اسی صارف کے خرچ پر کمپنی کے برانڈ کی تشہیر کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے اور یہ خیبر پختونخوا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے خلاف ہے۔

،تصویر کا ذریعہKHAADI/FACEBOOK
’اکثر لوگ 30 روپے کو معمولی رقم سمجھ کر خاموش رہتے ہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درخواست گزار کے وکیل احسن سردار ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست گزار شفق عامر بھی ایک وکیل ہیں اور انھوں نے اس بارے میں کھاڈی کے حکام سے کہا تھا کہ ’آپ اپنی تشہیر والے شاپنگ بیگ پر 30 روپے اضافی وصول نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں کھاڈی کی انتظامیہ کو لیگل نوٹس بھیجا گیا تھا، جس پر کھاڈی انتظامیہ کے جواب سے ان کی درخواست گزار مطمئن نہیں تھیں۔
اس پر انھوں نے پھر کنزیومر کورٹ یا صارفین کے تحفظ کی عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صارف کا سوال تھا کہ جب ان سے 30 روپے وصول کیے جا رہے ہیں تو اس پر کھاڈی برانڈ کی تشہیر کیوں کی جا رہی ہے۔
اس بارے میں درخواست گزار شفق عامر ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ اگرچہ 30 روپے کوئی بڑی رقم نہیں ہے لیکن ’لوگ یہاں سے کافی خریداری کرتے ہیں اور کوئی ایک، دو بیگ نہیں لیتا بلکہ بعض لوگ زیادہ بیگ بھی لے جاتے ہیں، جس سے برانڈ اضافی آمدنی حاصل کر رہا ہے اور اس سے برانڈ کی تشہیر صارف کے پیسوں سے ہو رہی ہے۔‘
اکثر عام صارفین وکلا کے اخراجات کی وجہ سے کنزیومر کورٹ نہیں جاتے تو کیا خود وکیل ہونے کی وجہ سے شفق عامر کے لیے یہ راستہ اختیار کرنا آسان تھا؟
اس سوال پر شفق عامر نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر لوگ 30 روپے کو معمولی رقم سمجھ کر خاموش رہتے ہیں لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں صارفین کے تحفظ کی عدالت ہے اور جہاں ایسی ناانصافی ہو وہاں وہ صارفین کے تحفظ کی عدالت میں جا سکتے ہیں۔‘
احسن سردار ایڈووکیٹ نے اس بارے میں کہا ہے کہ اس درخواست کا مقصد لوگوں کو آگاہی دینا مقصود تھا کہ صرف کھاڈی ہی نہیں بلکہ دیگر بڑے سٹور بھی اسی طرح اپنے شاپنگ بیگز پر اپنی تشہیر کرتے ہیں اور اس کی رقم وہ صارفین سے وصول کرتے ہیں، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے حقوق کو سمجھیں اور اس بارے میں آواز بھی بلند کریں تاکہ اس پر کارروائی ہو سکے۔
کھاڈی کا موقف
بی بی سی اُردو کے رابطہ کرنے پر کھاڈی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے پشاور کنزیومر کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا، اس لیے اسے اعلی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کھاڈی تک محدود نہیں بلکہ پوری ریٹیل انڈسٹری کا ہے اور ریٹیل ایسوسی ایشن اس معاملے پر کھاڈی کے مؤقف سے متفق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاڈی کے آؤٹ لیٹس پر جو بیگز دیے جاتے ہیں وہ ماحولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ پلاسٹک کے استعمال سے بچا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل برانڈز بھی اسی پریکٹس پر عمل کرتی ہیں۔



















