’چین اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحد نہیں‘: جوائنٹ بارڈر کمیشن کیا ہے جس کے فعال ہونے پر انڈیا نے اعتراض اٹھایا؟

،تصویر کا ذریعہX/ForeignOfficePk
- مصنف, اسماعیل شیخ
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے قائم مشترکہ کمیشن کو فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم انڈیا نے اس کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور یہ کمیشن ’قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔‘
بدھ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔
یہ کمیشن 2013 میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خنجراب پاس کے ذریعے ہونے والی آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے معاملات میں تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔
’پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں‘: انڈیا کا موقف
انڈیا نے پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی امور سے متعلق مبینہ مشترکہ کمیشن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور اس نوعیت کا کوئی کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کا اس معاملے پر مؤقف ’واضح اور مستقل‘ ہے اور وہ پاکستان-چین سرحدی کمیشن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے ’1963 کے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ’غیر قانونی اور کالعدم ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے یا غیر قانونی قبضے کو جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ ایسی کوششیں انڈیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستان اور چین کا مؤقف ہے کہ نیا کمیشن کسی سرحدی تنازع سے متعلق نہیں بلکہ پہلے سے متعین سرحد کے انتظام اور عملی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی معاہدہ کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
برطانوی راج کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحدی علاقوں پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح چین اور انڈیا کے درمیان بھی وقتاً فوقتاً سرحدی معاملات پر تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
مئی 2025 میں بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک تحریر کے مطابق انڈیا کے تاریخ دان اے جی نورانی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ نومبر 1959 میں جب پاکستان نے مذاکرات کی پیشکش کی تو اُسے چین کا سردمہری اور شکوک سے بھرا رویہ دیکھنے کو ملا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’چین، امریکہ کے اتحادی پاکستان کے بجائے انڈیا کو ترجیح دیتا تھا۔ پاکستان کی اس پیشکش کا جواب دینے میں چین نے پورا ایک سال لگا دیا، اور بالآخر 8 دسمبر 1960 کو ردعمل ظاہر کیا۔‘
'فیسنگ دی ٹروتھ' کے عنوان کے تحت اس مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان نے اپنی خودنوشت 'فرینڈز ناٹ ماسٹرز' میں لکھا ہے کہ دسمبر 1961 میں چینی سفیر نے اقوام متحدہ میں چین کی نشست کے لیے پاکستان کی حمایت مانگی، جس پر ایوب نے انھیں سرحدی مسئلے کی یاد دہانی کروائی۔
چینی سفیر نے مسئلے کو پیچیدہ قرار دیا جس پر ایوب نے جواب دیا: 'ہمیں دونوں مسائل کو ان کے میرٹ پر دیکھنا چاہیے۔'
مذاکرات 12 اکتوبر 1962 کو شروع ہوئے۔ چینیوں نے ابتدا میں خنجراب وادی اور کے ٹو کے قریب کے علاقوں پر دعویٰ کیا، لیکن آخرکار پاکستان کے نقشے پر مشتمل لائن آف کنٹرول کو معمولی ترامیم کے ساتھ تسلیم کر لیا۔ کے ٹو کی چوٹی کو دونوں ممالک کے درمیان بانٹنے پر اتفاق ہوا۔
پاکستان نے شمشال پاس کے پار واقع چراگاہی علاقوں پر دعویٰ کیا جو صدیوں سے ہنزہ کے لوگوں کے زیر استعمال تھے۔ چینی نمائندے نے اتفاق کیا کہ اس معاملے کو 'میرٹ' پر حل کیا جائے گا، اور بعد ازاں یہ علاقہ پاکستان کو دے دیا گیا۔
27 دسمبر 1962 کو اصولی معاہدے کا اعلان ہوا۔ 2 مارچ 1963 کو بیجنگ میں معاہدے پر دستخط ہوئے، اور 26 مارچ 1965 کو زمینی سرحدی نشاندہی کا پروٹوکول سائن ہوا۔
اس معاہدے کے بعد انڈیا نے کہا کہ پاکستان نے چین کو بہت بڑا علاقہ دے دیا اور اس معاہدے کو 'غیر قانونی' قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق 1947 کے معاہدۂ الحاق کی رو سے پورا کشمیر انڈیا کا حصہ ہے۔ انڈیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک احتجاجی خط بھی ارسال کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’پاکستان سی پیک کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے‘
پاکستان اور چین کے درمیان جوائنٹ بارڈر کمیشن 2013 میں اس وقت کے چینی وزیرِ اعظم لی کی چیانگ کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اس سوال پر کہ اس کمیشن کو فعال ہونے میں اتنا وقت کیوں لگا، انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے پاکستان چائنہ سٹڈی سینٹر سے وابستہ محقق اسد اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر بین الاقوامی تعلقات کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو جب بھی دو ملک اس طرح کے کسی بھی معاہدے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی افادیت کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اگر اسے لاگو کیا جاتا ہے تو یہ کتنا پائیدار ثابت ہو گا اور اس سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں دیر سویر ہو جاتی ہے۔
اسد اللہ خان کے مطابق اس کمیشن کے بننے سے جن فوائد کی نشاندہی کی گئی ہے، اس میں بارڈر مینجمنٹ میں بہتری، جوائنٹ بارڈر سروس، تجارتی نقل و حمل کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان رابطے میں بہتری شامل ہے۔ ’وہ اس مشترکہ سرحدی کمیشن کو بہتر تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا وہ واحد ملک ہے جس کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع ہے۔ ’انڈیا کو یہ بات بہت کھٹک رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ چین کا کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ان دونوں نے تو ایک جوائنٹ بارڈر کمیشن بنا دیا ہے جو کہ 1963 کے سرحدی معاہدے کو مزید مضبوط کرے گا۔‘
اسد اللہ خان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ہمیشہ سے پاکستان اور چین کے درمیان موجود سی پیک معاہدے کی مخالفت کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کو ہمیشہ اس بات سے مسئلہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر جیسے علاقے جن پر انڈیا اپنا دعویٰ کرتا آیا ہے انھیں سی پیک سے فائدہ کیوں پہنچ رہا ہے۔ ’یہ ان علاقوں کی ترقی کا سوال ہے، وہ نہیں چاہتا کہ ان علاقوں میں خوشحالی آئے۔‘
پاکستان کونسل آن چائنہ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کا مقصد بارڈر مینجمنٹ میں بہتری لانا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سی پیک کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تاجکستان، کرغزستان، قازقستان اور ازبکستان تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
’اس علاقائی اور معاشی تعاون کے تناظر میں وقت کی ضرورت ہے کہ اس نئے کمیشن کو فعال کیا جائے۔‘
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ملکوں میں زمینی رابطے کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے بہت مواقع ہیں اور چینی سیاحوں کے لیے ویزہ فری پالیسی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ ’اس ویزا فری رجیم کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے سرحدی گزرگاہوں پر فسیلیٹیشن کی ضرورت پڑے گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی حکومت گلگت بلتستان میں معدنیات کے شعبے پر بھی دھیان دے رہی ہے اور اس سلسلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے مطابق اگر چینی کمپنیاں ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور خام معدنیات چین برآمد کی جاتی ہیں تو اس صورت میں بارڈر مینجمنٹ کی فسیلیٹیشن کی ضرورت بڑھ جائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے علاقے مقپنداس میں خصوصی اکنامک زون بھی قائم کیا جا رہا ہے اور کچھ ہفتے قبل ہی چین میں پاکستان کے سفیر خلیل الرحمٰن ہاشمی نے چینی سرمایہ کاروں کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے واقعات کے باعث سرحد کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے نشانات آگے پیچھے ہو جاتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کے لیے ضروری ہے کہ دونوں طرف سے ایک باقاعدہ نظام موجود ہو کہ سرحدی لائن کو قائم رکھا جا سکے۔



















