ایمان مزاری کی صحت پر اہلِخانہ کے خدشات: ’تجویز کردہ ادویات کے علاوہ کوئی دوائی مریض کو نہیں دی جاتی‘ اڈیالہ جیل انتظامیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں دستیاب طبی سہولیات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان مزاری گذشتہ چند ہفتوں سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری سمیت تمام قیدیوں کے لیے 24 گھنٹے طبی سہولیات اور ڈاکٹر موجود ہیں، جبکہ ایمان مزاری کی مسوڑھوں سے خون آنے اور سینے کے انفیکشن کی شکایات پر لیڈی ڈاکٹر کے معائنے کے بعد ان کا علاج جاری ہے۔
خیال رہے 24 جنوری کو ایمان اور ان کے شوہر ہادی کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے پیکا (الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون) کے تحت متعدد مقدمات میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
ان سزاؤں کے بعد وکلا اور مختلف حلقوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کی گئی، بعد ازاں ان دونوں کی جانب سے سات فروری کو اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔
پیر 25 اگست کو ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے اہلِ خانہ کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ ایمان مزاری چند طبی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
ایکس پر ایمان مزاری کی والدہ اور پی ٹی آئی کی سابق رہنما شیرین مزاری کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں خاندان اور قانونی ٹیم نے کہا کہ ’وہ جیل میں دونوں سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے انتظام سے تو مطمئن ہیں تاہم ان کے مطابق ایمان گذشتہ تین ہفتوں سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جس پر جیل میں دستیاب طبی سہولیات کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘
ادھر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے بھی اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری سمیت تمام قیدیوں کو فوری اور معیاری طبی علاج فراہم کیا جانا چاہیے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خاندان والوں کی جانب سے جاری بیان میں کیا کہا گیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہ@ShireenMazari1
بیان میں خاندان کے افراد کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ’ایمان نے ابتدا میں مسوڑھوں سے شدید خون بہنے کی شکایت کی، تاہم جیل میں ان کے معائنے کے لیے کوئی دانتوں کا ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مزید یہ کہ خاندان نے اپنے دانتوں کے ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ان کے لیے ادویات بھجوائیں، لیکن دعویٰ کیا کہ تمام ادویات ان تک نہیں پہنچ سکیں۔
بیان کے مطابق ’اس کے بعد کے دنوں میں ایمان کو معدے کے مسائل بھی پیش آئے، تاہم اس دوران بھی انھیں مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔‘
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ متلی اور قے روکنے کے لیے انھیں ’زیڈرون‘ نامی دوا دی گئی، جو بنیادی طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘
خاندان اور قانونی ٹیم کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے ایمان سینے کے شدید انفیکشن میں بھی مبتلا ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ان کا خون کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں سفید خون کے خلیوں کی تعداد زیادہ پائی گئی جو انفیکشن کی نشاندہی کرتی ہے۔ انھیں سینے کا ایکسرے کرانے کی ضرورت ہے، لیکن جیل حکام نے اب تک ایکسرے کا انتظام نہیں کیا تاکہ انفیکشن کی وجہ معلوم کی جا سکے اور تپِ دق یعنی ٹی بی جیسی خطرناک بیماریوں کو خارج از امکان کیا جا سکے۔‘
خاندان اور قانونی ٹیم نے کہا کہ ’ان حالات کو دیکھتے ہوئے ان کی تشویش اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ اڈیالہ جیل کے خواتین وارڈ میں متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو الگ رکھنے کے بجائے دیگر قیدی خواتین اور بچوں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’خواتین کے لیے طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی دستیابی کی صورتِ حال انتہائی ناقص ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ جیل میں صحت کا بحران ہے اور قیدیوں کی صحت و سلامتی کی ذمہ داری ریاست کی ہے، جسے اس معاملے کو کسی صورت معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘
خاندان اور قانونی ٹیم نے کہا کہ ’اگر ان کی سزا معطلی کی درخواستوں کی بروقت سماعت کی جاتی تو صحت سے متعلق یہ تمام مسائل پیدا ہونے سے روکے جا سکتے تھے۔‘
خاندان اور قانونی ٹیم نے جیل حکام اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمان کا سینے کا ایکسرے فوری طور پر کرایا جائے اور تمام خواتین قیدیوں کو دانتوں کے علاج سمیت مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو دیگر قیدیوں کی حفاظت کے لیے باعزت طریقے سے الگ یا قرنطینہ میں رکھا جائے، تمام قیدیوں کو ماہر ڈاکٹروں اور ضروری ادویات تک رسائی فراہم کی جائے۔
بیان میں حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ’ایمان اور ہادی کی جانب سے دائر سزا معطلی کی درخواستوں کی مخالفت نہ کی جائے۔‘
واضح رہے کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں آٹھ ستمبر 2026 کو مقرر ہے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
جیل انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی نیوز اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ایمان مزاری سمیت جیل کے تمام قیدیوں کے لیے ڈاکٹر اور میڈیکل کا عملہ چوبیس گھنٹے جیل میں موجود ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مردانہ قیدیوں کی وارڈ میں پانچ ڈاکٹر جبکہ خواتین قیدیوں کی وارڈ میں ایک ڈاکٹر موجود ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایمان مزاری نے مسوڑوں میں خون آنے کی شکایت کی تھی جس پر ڈاکٹروں نے انھیں دوا دی ہے۔ جیل کے اہلکار کے بقول پرائمری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے ہی ادویات لے کر مریضہ کو دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کے علاوہ کوئی اور دوائی مریض کو نہیں دی جاتی۔
جیل کے اہلکار کے مطابق ایمان مزاری نے سینے میں انفکیشن کی شکایت کی تھی اور جیل کے اہلکار کے مطابق لیڈی ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا ہے اور ڈاکٹر کے مشورے پر ہی ان کا علاج ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے ان چھہ ڈاکٹروں کے علاوہ سپیشلٹ ڈاکٹر ہر روز جیل کا وزٹ کرتے ہیں اور وہ ان قیدیوں کو مکمل طور پر چیک کرتے ہیں جو کہ وزٹ کرنے والے ڈاکٹر سے متعقلہ ہوں۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جیل کا اپنا ہسپتال بھی ہے اور جس بھی قیدی کو ڈاکٹر بیماری کی نوعیت کو دیکھ کر ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کرتے ہیں، انھیں ہسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی مریض قیدی کو علاج معالجے کے بعد ہسپتال سے وارڈ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے معاملے کو لے کر دیگر قیدیوں نے بھی جیل سے باہر پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کراونے کے لیے اپنی بیماریوں کو اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے اور عدالتوں میں درخواستیں دینا شروع کردی ہیں۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر کیا الزامات ہیں؟
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست سنہ 2025 کو درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔
اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے نہ صرف پراسیکیوشن پر اعتراض اٹھایا بلکہ انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس مقدمے کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دی تھی۔
اس دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھیں اس مقدمے میں سزا دی جائے گی اور وہ بھی سات سال ہو گی لیکن وہ یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔
اس پر جج افضل مجوکا مسکرا دیے اور پراسیکیوٹر کو کہا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق حتمی دلائل دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملزم ہادی علی چٹھہ نے اس دوران عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان داخل کروانے اور اپنی صفائی میں گواہ لانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔
ملزم ہادی چٹھہ نے اپنی درخواست کے حق میں خود ہی دلائل دیے تھے اور کہا تھا کہ 342 کا بیان اصل میں ملزم کا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق سٹیٹ کونسل نے 342 کا جواب دیا اور وہ 342 کا جواب سٹیٹ کونسل کا ہے ملزمان کا نہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا کہ جب اس مقدمے کی کارروائی کے دوران گواہان پر جرح ہوئی تو سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دے دیا گیا اور پراسیکیوشن نے سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دیا، جس پر ملزم نے انحصار نہیں کیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سوالنامہ نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ انھیں دیا۔
ہادی چٹھہ کا کہنا تھا کہ ہم سٹیٹ کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست عدالت کو دے چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنا 342 کا جواب دینا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گواہان کی بھی فہرست ہے اور ان گواہان میں صحافی احمد نورانی کی والدہ، صحافی مدثر نارو کی والدہ، سردار اختر مینگل، شاعر احمد فرہاد، عارفہ نور ودیگر گواہان میں شامل ہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا تھا کہ عدالت اگر چاہے تو گواہان کو سمن بھی کر سکتی ہے۔
خاندان کے خدشات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی بحث

،تصویر کا ذریعہx.com
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں اڈیالہ جیل میں زیرِ حراست وکیل ایمان مزاری کی صحت اور جیل میں خواتین قیدیوں کو دستیاب طبی سہولیات سے متعلق ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ’قید میں ہونے سے کسی شخص کا صحت کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ زیرِ حراست ہر فرد کی زندگی، صحت اور عزتِ نفس کا تحفظ ریاست اور جیل انتظامیہ کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔‘
تنظیم کے مطابق مقدمے کی نوعیت سیاسی، قانونی یا کسی بھی نوعیت کی ہو کسی بھی قیدی کو ضروری طبی سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے بیان میں مزید کہا کہ ’ہم حکومت، جیل انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو کسی صورت معمولی نہ سمجھیں۔ کسی بھی قیدی کی صحت سے غفلت ناقابلِ قبول ہے۔ علاج کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہx.com
سوشل میڈیا پر ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں طبی سہولیات سے متعلق اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کے دعوؤں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صارفین نے ایمان کی مبینہ طبی مشکلات، جیل میں مناسب علاج کی عدم دستیابی اور متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ نہ رکھنے پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ بعض صارفین نے حکام سے فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایکس پر علی ڈار نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’جن لوگوں کے پاس اختیار ہے، وہ براہِ کرم انھیں ہر ممکن مکمل طبی سہولیات فراہم کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہx.com
مصطفیٰ قادری نامی ایک ایکس صارف نے ایمان مزاری کی صحت کے حوالے سے اُن کی والدہ شیرین مزاری کی پوسٹ کے نیچے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’شیریں، میں آپ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ کی تشویش اور غصے کے ساتھ اس بات پر اتنا ہی فخر بھی ہونا چاہیے کہ آپ کی بیٹی اتنے بڑے حوصلے کی مالک ہے۔ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ ایمان اور ہادی کو فوری طور پر رہا کریں۔‘
راجہ منیب نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’ایمان مزاری کے ساتھ جیل میں پیش آنے والی طبی غفلت کی خبر انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک قیدی کی صحت سے کھیلنا، مناسب ڈاکٹر اور ضروری ٹیسٹ نہ کرانا اور ایسی دوا دینا جس کے استعمال کے لیے مخصوص طبی احتیاطیں موجود ہیں، ناقابلِ قبول ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قید کسی انسان سے اس کا زندہ رہنے، علاج کروانے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق نہیں چھینتی۔ ایمان مزاری کو فوری مکمل طبی معائنہ اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔ جیل سزا کا مقام ہے، انسانوں کو طبی لاپروائی کے حوالے کرنے کی جگہ نہیں۔‘



















