لائیو, ایرانی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں امریکہ سے لہجہ بدلنے کا مطالبہ، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا ’لہجہ اور نقطہ نظر‘ تبدیل کرے اور کہا ہے کہ دباؤ، زبردستی اور ’دھونس‘ کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھیں گی۔ پیر کے روز ہی ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

خلاصہ

  • روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی 'اوزون' یوکرینی ڈرون حملوں کی زد میں
  • سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ لگ گئی، عملہ محفوظ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران پہنچ گئے
  • ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے امریکہ کی جانب سے معاشی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے
  • امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا‘

لائیو کوریج

  1. فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر کی ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی: محسن نقوی

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دورہ ایران میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔

    وفاقی وزیر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’ہماری گفتگو کا محور ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آئندہ کا لائحۂ عمل تھا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بحالی کے لیے دونوں جانب سے درکار اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو تنازع کے جامع حل کی جانب پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ایران کے صدر نے کھل کر اپنی حکومت کا مؤقف اور خدشات ہمارے سامنے رکھے، جبکہ متعلقہ امور پر ہمارے درمیان تعمیری اور مفید گفتگو ہوئی۔

    ’ملاقات کے دوران اہم پیش رفت ہوئی اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مزید مثبت اقدامات کی راہ ہموار کرے گی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو گی۔

    اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایرانی صدر اور چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا ’لہجہ اور نقطہ نظر‘ تبدیل کرے اور کہا ہے کہ دباؤ، زبردستی اور ’دھونس‘ کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھیں گی۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کو قانون کی حکمرانی، بین الاقوامی اصولوں اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں مثبت پیش رفت کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

  2. فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک روزہ دورہ ایران مکمل، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران-امریکہ تنازع کے خاتمے پر غور

    عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل ہو گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان کی اُن سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں تعطل ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن اور عدم استحکام کے مستقل خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنا ہے۔

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں جانب سے خطے میں امن اور مختلف تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ایرانی قیادت نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

  3. ایرانی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں امریکہ سے لہجہ بدلنے کا مطالبہ، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا ’لہجہ اور نقطہ نظر‘ تبدیل کرے اور کہا ہے کہ دباؤ، زبردستی اور ’دھونس‘ کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھیں گی۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے یہ بات پیر کی شام تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہی۔

    انھوں نے کہا کہ واشنگٹن کو قانون کی حکمرانی، بین الاقوامی اصولوں اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں مثبت پیش رفت کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

    صدر پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان کے ’تعمیری کردار‘ کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون مفاہمتی یادداشت کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ یادداشت جون میں پاکستان کی ثالثی سے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پائی تھی۔

    ادھر پیر کے روز ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    ان ملاقاتوں میں ایرانی رہنماؤں نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکہ ماضی میں بارہا اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ محسن رضائی نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

  4. معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت: امریکہ کا ایران کو پیغام

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ اقتصادی تنہائی کا سامنا کرے یا پھر عالمی معیشت میں ضم ہونے کا انتخاب کرے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب کی آمدنی کے تمام اہم ذرائع کی نشاندہی کر لی ہے اور واشنگٹن ان ذرائع کو ہدف بنانے کے لیے تیار ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ایران کو ’معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم‘ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد ایرانی حکومت پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے پابندیوں کے پانچ اہم شعبوں کا بھی اعلان کیا، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک یا ادارے ایرانی حکومت کی معاونت جاری رکھیں گے، وہ خود بھی ایران کی اقتصادی تنہائی میں کردار ادا کریں گے اور امریکی اقدامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے چین کو ممکنہ ثانوی امریکی پابندیوں میں شامل کیے جانے کے بارے میں سوال کیا، جس کے جواب میں سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’امریکہ کی ثانوی پابندیوں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہوگا۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایرانی حکومت کو مکمل طور پر عالمی سطح پر تنہا نہیں کر دیا جاتا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی نئی اقتصادی حکمتِ عملی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور اسے عالمی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس پالیسی کو ’معاشی تنہائی‘ کی مہم قرار دے رہی ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایسے اقدامات کیے ہیں جو ان کے بقول اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اب صرف ایرانی خطرے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اس خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی مہم کا مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والے تمام مالی اور اقتصادی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کو زندہ رکھنے والی ’تمام شریانیں کاٹ رہا ہے‘ اور یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران پر اقتصادی دباؤ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔

    سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکہ نے مختلف کمپنیوں اور اداروں کو ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات ختم کرنے کے لیے ایک مہلت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کے اختتام کے بعد ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کو امریکی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیسرے ممالک سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کی مشترکہ ٹیمیں دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہیں تاکہ ایران سے متعلق ان سرگرمیوں کو ختم کیا جا سکے جن کی واشنگٹن نے نشاندہی کی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے لیے مخصوص ڈیڈ لائنز مقرر کی جا رہی ہیں، جبکہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پابندیوں میں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی محدود یا مکمل طور پر ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

  5. ہم ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ’ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہا ہے‘۔

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ریپبلکن ووٹروں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ’جعلی سروے‘ جاری کر رہی ہے۔

    انھوں نے لکھا، ’انتہا پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس جعلی پولز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دراصل ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد ریپبلکن ووٹروں کے حوصلے توڑنا ہے تاکہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ نکلیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’حقیقی سروے ہمارے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ملک میں جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

    ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہے ہیں، جبکہ ایران اقتصادی اور عسکری اعتبار سے زوال کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔‘

  6. بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور قتل، ایک زخمی حالت میں بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مزدور تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ضلع قلعہ عبداللہ میں انگور کے ایک باغ میں کام کر رہے تھے، جہاں سے انھیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔

    کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں کو گذشتہ روز اغوا کیا اور بعد ازاں انھیں گولیاں مار دیں۔ حملے میں پانچ افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی حالت میں بچ گیا۔

    پولیس کے مطابق لاشیں اور زخمی شخص پشین کے علاقے سرانان کے قریب سلیمانزئی میں پڑے ہوئے ملے۔ انھیں ابتدائی طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد میں زخمی شخص اور لاشوں کو کوئٹہ روانہ کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امن دشمن عناصر نے ایک بار پھر معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق شدت پسند مزدوروں اور مسافروں کو ’سافٹ ٹارگٹ‘ سمجھ کر حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گذشتہ جمعے کو سرانان بازار میں واقع پشین تھانے پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

  7. ایران پر حملہ ہوا تو امریکی توانائی مفادات کو نشانہ بنائیں گے: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو تہران امریکی توانائی کے اہم مراکز اور دیگر اہم مفادات کو نشانہ بنائے گا۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق حسین محبی نے کہا کہ ’ایران کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا جواب امریکی توانائی کے اہم گزرگاہوں اور اہم مفادات پر شدید حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے سمیت امریکہ کے مقاصد ناکام ہو چکے ہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتیں بدستور برقرار ہیں۔

    حسین محبی کے بقول ’دشمن کے اس تصور کے برعکس کہ ایران کے فوجی ذخائر محدود ہو چکے ہیں، ہمارے اسمارٹ اور گائیڈڈ میزائلوں کی پیداوار مسلسل جاری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ صرف اپنی عسکری صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ جدید ہتھیاروں کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے، جس کے باعث ملک کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  8. آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران نے 45 آئل ٹینکروں کو بلیک لسٹ کر دیا

    ایران نے کہا ہے کہ اس نے اپنی مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 45 آئل ٹینکروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق مستقبل میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرنے والے جہازوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ بلیک لسٹ کیے گئے ٹینکروں کے ساتھ تیل یا دیگر سامان کی منتقلی میں ملوث بحری جہازوں کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف ’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘ عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کے باعث خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  9. پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلۂ خیال

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی ہے۔ فیلڈ مارشل کی ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی امن و استحکام اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ روابط کو مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ پاکستان اور ایران ایک طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں اور دونوں ممالک ماضی میں سرحدی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور غیر قانونی نقل و حرکت سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔

  10. سعودی عرب کی قومی شپنگ کمپنی نے بحیرۂ احمر میں اپنے جہاز پر حملے کی تصدیق کر دی

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی قومی شپنگ کمپنی بحری نے تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک جہاز امزن بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا ہے۔

    کمپنی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔‘

    اس سے قبل یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امزن نامی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم حملے کی نوعیت اور اس سے ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

  11. بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل حملہ: حوثیوں کا دعویٰ

    Yemen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ’امزن‘ نامی آئل ٹینکر کو سعودی شہر ینبع کے ساحل کے قریب بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    ان کے بقول، ’میزائل حملہ نہایت درست اور براہِ راست تھا، جس کے نتیجے میں جہاز میں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔‘

    تاہم سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا تھا کہ ایک ٹینکر ینبع سے تقریباً 63 ناٹیکل میل (117 کلومیٹر) مغرب میں کسی نامعلوم شے کے حملے کی زد میں آیا ہے۔ ایجنسی نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

  12. ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ میں بڑے اضافے کا اعلان آج متوقع

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ آج ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافے کی تفصیلات کا اعلان کرنے والا ہے۔ توقع ہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ تہران کے وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے نیوز کانفرنس میں ایران پر امریکی تاریخ کے ’سب سے سخت‘ اقتصادی دباؤ کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کے اگلے مرحلے کا جامع خاکہ پیش کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ اس اقدام کو ’معاشی ڈی ڈے‘ قرار دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ میں ’ڈی ڈے‘ اتحادی افواج کا ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن تھا، جس نے شمال مغربی یورپ کو نازی قبضے سے آزاد کرانے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

    روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی کمپنیوں اور ممالک پر عائد کی جا سکنے والی ثانوی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

    ادھر سکاٹ بیسنٹ نے فنانشل ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں لکھا کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک محدود کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کے بعد اب ہم اپنی مہم کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    امریکی اقدامات کے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کے باعث ایران میں غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت 200 ہزار تومان کی سطح سے تجاوز کر گئی۔

  13. مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے: چینی صدر

    China

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے۔

    شی جن پنگ نے اس مسئلے کے سیاسی حل، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے جلد قیام پر زور دیا۔

    چینی صدر نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے دیرینہ ہدف کو عملی شکل دی جانی چاہیے۔

    یہ بیان چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ملاقات کے سرکاری خلاصے میں سامنے آیا ہے۔

  14. تزویراتی تیل ذخائر کے نئے اجرا کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، آئی ای اے سربراہ

    عالمی توانائی کا نگران ادارہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    عالمی توانائی کے نگران ادارے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ فی الحال تزویراتی تیل ذخائر کو دوبارہ جاری کرنے پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

    فاتح بیرول کے مطابق آئی ای اے تیل کی عالمی منڈیوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ مارچ میں 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیے جانے کے بعد بھی تزویراتی ذخائر کا تقریباً 80 فیصد حصہ باقی ہے۔

    آئی ای اے نے مارچ میں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سرکاری تیل ذخائر کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد کیا گیا تھا، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو مستحکم رکھنا اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو کم کرنا تھا۔

  15. مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس نازک مرحلے میں داخل، مذاکرات کی جانب واپسی ناگزیر: چینی وزیرِ خارجہ

    China and Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو جلد از جلد مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی جانب واپس آنا چاہیے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے یہ بات بیجنگ میں کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات کے دوران کہی۔

    انھوں نے زور دیا کہ خطے میں بار بار تنازعات اور محاذ آرائی کے پرانے طرزِ عمل کو نہیں دہرایا جانا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ترجیح کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

    وانگ یی کا کہنا تھا کہ چین خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کویت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کے تجارتی شراکت داروں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جسے تہران نے ’تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی حملہ‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف ’معاشی جنگ‘ جاری رہی تو وہ خلیج فارس سے تیل کی تمام برآمدات روکنے پر غور کر سکتا ہے۔ ایران نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ بحری جہاز ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کریں۔

  16. ایران نے کرنسی کی قدر میں کمی کو ’عارضی‘ اور ’پروپیگنڈا حملے‘ کا نتیجہ قرار دے دیا

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے غیر سرکاری شرح مبادلہ میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال عارضی ہے اور اس کے پیچھے ’پروپیگنڈا‘ کارفرما ہے۔

    انھوں نے آج کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کرنسی پالیسیوں کا رخ تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔‘

    گذشتہ روز ایران کی آزاد منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں ڈالر پہلی بار 200 ہزار تومان کی سطح سے تجاوز کر گیا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ آج سے ایران کے خلاف نئی اور سخت پابندیاں نافذ کرنے جا رہا ہے، جس کے باعث زرمبادلہ کی طلب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    بہت سے ایرانی شہریوں کو خدشہ ہے کہ ملکی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، اسی لیے وہ اپنے اثاثوں کی مالیت محفوظ رکھنے کے لیے سرمایہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کی منڈیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

  17. ایران مکمل طور پر ٹوٹ رہا ہے: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران مکمل طور پر ٹوٹ رہا ہے۔‘ امریکی صدر نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایران پر ’کرشنگ‘ اقتصادی دباؤ ڈالیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی آج فنانشل ٹائمز میں ایک آپشن میں ایران کو ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی دھمکی دی۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کچلنے اور اس کا جوہری پروگرام کمزور ہونے کے بعد، اب ہم آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے خدشات کے درمیان ایران کی غیر سرکاری منڈی میں گذشتہ روز زرمبادلہ اور سونے کی شرح مبادلہ نے ایک نیا ریکارڈ بنایا اور ڈالر دو ملین ریال کی حد عبور کر گیا۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ملک یا ادارے کو سزا دی جائے گی۔ ایران نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک جو معاشی دباؤ میں امریکہ کی مدد کرے گا اسے ’دشمن‘ تصور کیا جائے گا اور اسے منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

    دریں اثنا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کے کمانڈر اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اعلی ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تہران میں ہیں۔ پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس دورے کا مقصد پرامن حل تک پہنچنا تھا۔

  18. روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی ’اوزون‘ یوکرینی ڈرون حملوں کی زد میں, جیمز گریگوری

    روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی ’اوزون‘ کا گودام جو یوکرینی حملوں کی زد میں آیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر نے روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی اوزون کے گوداموں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے کمپنی کی لاجسٹکس تنصیبات میں آگ لگ گئی جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    اوزون کے مطابق روس کے جنوبی علاقوں کراسنودار، داغستان، ستاوروپول اور ادیگیا میں واقع اس کی لاجسٹکس سہولیات رات بھر ہونے والے حملوں کے بعد متاثر ہوئیں۔

    یوکرین گذشتہ کئی ہفتوں سے روس کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کی تنصیبات کو بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔ کیئو کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنی روسی فوج کو پرزہ جات اور سامان فراہم کرتی ہے، تاہم ماسکو اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے معاشی اہداف کو نشانہ بنا کر ’پنڈورا باکس‘ کھول دیا ہے اور روس اس کے جواب میں یوکرین کے ’انتہائی حساس معاشی شعبوں‘ کو نشانہ بنائے گا۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی حملوں کی متعدد ویڈیوز کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے۔ ایک ویڈیو میں اورنبرگ کے علاقے میں ایک ڈرون کو گودام سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں داغستان میں واقع گودام سے دھویں اور آگ کے بڑے شعلے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔

    1998 میں قائم ہونے والی اوزون روس کی قدیم ترین آن لائن ریٹیل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ملک بھر میں موجود اس کے پک اپ مراکز اور ڈیلیوری نیٹ ورک کے باعث یہ حجم اور رسائی کے اعتبار سے صرف وائلڈ بیریز سے پیچھے ہے۔

    روس میں اکثر مشترکہ پک اپ پوائنٹس پر اوزون اور وائلڈ بیریز کے لوگو ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

    ان کمپنیوں کو نشانہ بنائے جانے سے جنگ کے اثرات عام روسی شہریوں تک زیادہ شدت سے پہنچنے لگے ہیں۔ دونوں کمپنیوں کو اکثر ’روس کا ایمازون‘ کہا جاتا ہے، اور اندازوں کے مطابق روس کی معاشی طور پر متحرک آبادی کا 85 سے 90 فیصد حصہ ان پلیٹ فارمز سے استفادہ کرتا ہے۔

    روس کے دور دراز علاقوں میں، جہاں دکانوں تک رسائی محدود ہے، بہت سے لوگ کپڑوں، گھریلو سامان اور برقی آلات کی خریداری کے لیے انھی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔

    اوزون اور وائلڈ بیریز آزاد فروخت کنندگان کو خریداروں سے جوڑتے، سامان ذخیرہ اور ترسیل کرتے اور ادائیگیوں کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حملوں سے ہونے والے مالی نقصانات کا بڑا حصہ ان کاروباروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔

    کریملن نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ یہ آن لائن پلیٹ فارمز روسی فوج کو رسد یا سامان کی فراہمی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

  19. مذہبی تقریب کے تشہیری بینر پر خادم حسین رضوی کی تصویر لگانے پر منتظم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ, احتشام شامی، صحافی

    خادم حسین رضوی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک مذہبی تقریب کے میزبان کے خلاف مقامی انتظامیہ سے تقریب کی اجازت نہ لینے اور اس تقریب کے تشہیری بینر پر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی تصویر لگانے کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11 ڈبلیو لگائی گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصل آباد کے مدینہ ٹاؤن میں ایک مذہبی محفل منعقد کی گئی جو کہ رات نو بجے سے 12 بجے تک جاری رہی۔ ایف آئی آر کے مطابق محفل کے منتظم نے اس بابت کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا اور محفل کے حوالہ سے بنائی گئی فلیکس (تشہیری بینر) پر کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے بانی (خادم حسین رضوی) کی تصویر لگائی گئی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منتظم کے اس فعل سے عیاں ہے کہ وہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اس فلیکس کو شباب نامی پرنٹر نے کمپوز کیا ہے، جو کہ کالعدم تنظیم کی تشہیر کا ذمہ دار ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق حکومت پاکستان، تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے چکی ہے ، جس کے بعد یہ تنظیم کسی قسم کا کوئی اجتماع اور تشہیر نہیں کر سکتی۔ کیس کے تفتیشی آفیسر انسپکٹر شوکت علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تقریب کے منتظم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ فلیکس اپنے قبضہ میں لے لی ہے اور اسے پولیس ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔

  20. برطانوی وزیرِ اعظم کا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس دینے کا اعلان, ڈین جانسن، کیئو (یوکرین) سے نامہ نگار

    اینڈی برنہم، ولادیمیر زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اینڈی برنہم برطانیہ کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر یوکرین کے دارالحکومت کیئو پہنچے ہیں۔

    یہ دورہ سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے 35 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، اور اس دوران وہ ایک ایسے معاہدے کا اعلان کریں گے جس کے تحت یوکرین برطانوی سٹورم شیڈو کروز میزائل کے اپنے ماڈلز تیار کرنا شروع کرے گا۔

    جس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس برنہم یوکرین کو فراہم کر رہے ہیں، وہ روس کے اندر تقریباً 241 کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    میزائل بنانے والے ادارے کے مطابق یہ ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ انھیں دن اور رات، ہر قسم کے موسمی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور ان میں جدید نیویگیشن نظام نصب ہیں۔

    برطانوی میزائل جو یوکرین کو فراہم کیے جائیں گے

    اگرچہ یوکرین کے طویل فاصلے تک حملہ کرنے والے ڈرون اس سے بھی دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تاہم یہ اس بات کا ایک اہم اشارہ ہے کہ بین الاقوامی شراکت دار ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    یوکرین کو امید ہے کہ یہی طرزِ تعاون پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملے گا، جن کی اسے روسی بیلسٹک حملوں کے خلاف دفاع کے لیے اشد ضرورت ہے۔

    یوکرین کے دار الحکومت کیئو کے تاریخی سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کے سامنے یوکرین کے یومِ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا: ’روس کی جانب سے میرے ملک کو دی جانے والی نا قابلِ قبول دھمکیوں کے باوجود ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا: ’روس پر دباؤ برقرار رکھنے کا یہی وقت ہے۔‘

    بین الاقوامی سطح پر اپنے پہلے اہم خطاب میں اینڈی برنہم نے یوکرینی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا: ’یوکرینی عوام کی غیر معمولی قوت واقعی حیران کن ہے۔‘

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے سامنے ’سر نہیں جھکائے گا۔‘

    اپنی تقریر میں زیلینسکی نے کہا: ’یوکرینی عوام بادشاہوں اور حکمرانوں کے قدموں تلے بچھنے والے پتھر نہیں بنیں گے۔ یوکرینی عوام سر نہیں جھکائیں گے۔‘