عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر تنازعے کے بعد پاکستانی ٹیم کی شاہ چارلس سے ملاقات ہو گی

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے درمیان وقفے میں شاہ چارلس پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے درمیان وقفے میں شاہ چارلس پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گے
    • مصنف, سٹیفن شمیلٹ
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر تنازع ہوا تھا اور اس پر پاکستانی ٹیم نے دورۂ انگلینڈ منسوخ کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ مگر اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی ٹیم برطانیہ کے شاہ چارلس سے ملاقات کرے گی۔

سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لنچ کے دوران سکائی سپورٹس نے سابق پاکستانی کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان کا انٹرویو نشر کیا تھا۔

عمران خان گذشتہ تین برس سے بدعنوانی کے الزامات میں قید ہیں۔ وہ اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرویو نشر ہونے سے قبل لارڈز ٹیسٹ جاری نہ رکھنے اور تین میچوں کی سیریز کے باقی مقابلے بھی منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس معاملے پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے برطانیہ میں خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور سے متعلق دفتر سے بھی مشورہ مانگا تھا۔

اتوار کو بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ شاہ چارلس اس ہفتے کے آخر میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات کریں گے جس کی منصوبہ بندی سیریز شروع ہونے سے قبل کی گئی تھی۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس ’دولتِ مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی مردوں کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کلیرنس ہاؤس کے باغات میں استقبال کریں گے۔ یہ ملاقات موسمِ گرما میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچ کے درمیان وقفے میں ہو گی۔‘

اطلاعات ہیں کہ شاہ چارلس پاکستانی ٹیم کے ساتھ تقریباً 15 منٹ گزاریں گے۔

73 سالہ عمران خان نے پاکستان کے لیے 21 برس طویل بین الاقوامی کیریئر گزارا اور 1992 میں اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ جتوایا تھا۔

وہ 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے اور ایک سال بعد انھیں قید کر دیا گیا تھا۔

شاہ چارلس 2013 میں کلیرنس ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہ چارلس 2013 میں کلیرنس ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں

علیمہ خان کی شاہ چارلس سے اپیل

دسمبر 2025 کے دوران عمران خان کی بہن نے دولتِ مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے شاہ چارلس سے اپیل کی تھی کہ وہ اس صورت حال پر آواز اٹھائیں۔

دی ٹائمز کے مطابق علیمہ خان نے کہا تھا کہ ’پاکستان دولتِ مشترکہ کی رکن ریاست ہے۔

’اس کے منشور کے بنیادی اصول قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور انسانی حقوق ہیں۔ ایک رکن ملک تینوں بنیادی اصولوں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔‘

علیمہ نے سوال کیا تھا کہ ’کیا رکن ممالک، خاص طور پر جہاں شاہ چارلس دولتِ مشترکہ تنظیم کے سربراہ ہیں، فسطائیت یا فوجی آمریت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے؟ پھر ایسی تنظیموں کا مقصد کیا ہے؟‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی موجودہ پاکستانی حکومت میں وزیر داخلہ بھی ہیں۔

بی بی سی نے پی سی بی سے اس حوالے سے موقف طلب کیا ہے کہ آیا محسن نقوی شاہ چارلس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں موجود ہوں گے یا نہیں۔

عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہونے سے قبل سکائی سپورٹس کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی۔ تاہم اس نے سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کی سلیمان اور قاسم کے ساتھ گفتگو کا ایک ورژن نشر کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

انٹرویو میں سلیمان اور قاسم نے اپنے والد کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور انھیں فراہم کی جانے والی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے برطانیہ کی حکومت کے ردعمل پر بھی تنقید کی تھی۔

انٹرویو سے پیدا ہونے والے تنازع کے باوجود دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لنچ کے بعد پاکستانی ٹیم مقررہ شیڈول کے مطابق میدان میں واپس آئی تھی۔

دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر پاکستان کے کوچ سرفراز احمد نے کہا کہ انھیں اور ان کی ٹیم کو اس انٹرویو کے بارے میں علم نہیں تھا۔

سرفراز نے کہا کہ ’مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میری تمام توجہ صرف میچ پر ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’آپ انٹرویو کی بات کر رہے ہیں؟ ہمیں اس انٹرویو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔‘

اکتوبر میں انگلینڈ پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ ایک روزہ سہ فریقی سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

ملک میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوروں کے درمیان 17 سال کے وقفے کے بعد گذشتہ چار برس میں یہ انگلینڈ کا پاکستان کا چوتھا دورہ ہو گا۔