’ہم دنیا میں بدترین سیاحوں کے طور پر ابھر رہے ہیں‘: ’انڈین مہمانوں‘ سے متعلق سوئس ہوٹل کے نوٹس کی حقیقت کیا ہے؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلّی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈین کے معروف صنعت کار ہرش گوئنکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نوٹس کی تصویر شیئر کی ہے، جو ان کے مطابق سوئٹرزلینڈ کے ایک ہوٹل میں آویزاں تھا اور اس پر انڈین مہمانوں کے لیے اصول و قواعد درج تھے۔

گوئنکا کہتے ہیں کہ اس نوٹس کو انھوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے پڑھ کر وہ گھبرا گئے۔

اس نوٹس پر تاریخ تو درج نہیں مگر انڈین میڈیا پر پرانی خبریں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نوٹس سنہ 2019 میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آیا تھا۔ تاہم ایک ٹریول پوڈ کاسٹر کے مضمون کے ردِعمل میں ہرش گوئنکا کی جانب سے اسے دوبارہ شیئر کیے جانے کے بعد اس پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

بی بی سی نے اس ہوٹل سے تحریری طور پر ہم اس نوٹس کی تفصیلات مانگی تھیں، تاہم اس کی جانب سے جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نوٹس میں ایسا تھا کیا اور گوئنکا سمیت دیگر سوشل میڈیا صارفین اس پر بحث کیوں کر رہے ہیں؟

نوٹس میں کیا لکھا ہے؟

نوٹس میں ’انڈین مہمانوں‘ کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا کہ ناشتہ کرنے کے بعد ریستوران سے کوئی چیز پیک کر کے باہر نہ لے جائیں۔ اگر لنچ کے لیے کچھ پیک کروانا ہو تو اس کے لیے الگ سے پیسے ادا کرنے ہوں گے۔

ان قواعد میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی ڈش ایک سے زیادہ لوگ شیئر کرتے ہیں تو اس کے لیے الگ سے پیسے ادا کرنے ہوں گے۔

اس نوٹس میں دیگر کئی قواعد کے ساتھ نرمی کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ ہوٹل میں پوری دنیا سے مہمان آ کر ٹھہرتے ہیں، وہ سکون اور خاموشی پسند کرتے ہیں۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ آپ کوریڈور اور اپنی بالکونی وغیرہ میں اونچی آواز میں بات نہ کریں۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

انڈین صنعت کار ہرش گوئنکا نے سوشل میڈیا پر یہ نوٹس شیئر کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کے لیے کچھ تنقیدی جملے بھی ادا کیے ہیں: ’آج بیرون ملک ریستورانوں میں گربا ڈانس، ہوائی اڈوں پر زور زور سے باتیں کرنے اور ہوائی جہاز کے کیبن کو پکنک سپاٹ بنا دینے کی ویڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں۔‘

’یہاں تک ڈیوس میں ایک بزنس مین نے ایک کلب میں انتہائی اونچی آواز میں پنجابی موسیقی بجائی تاکہ پوری دنیا اسے سن سکے۔ وہ اسے 'سوفٹ پاور' کہتے ہیں لیکن دوسرے اس سے خفا ہوئے۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیگر صارفین بھی اسی طرح کی تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

بھاٹی کملیندر نے نامی صارف نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یورپ میں بہت سے ہوٹل انڈین مہمانوں کے کمروں میں الیکٹرک کیتلی نہیں رکھتے کیونکہ بہت سے مہمان اسے مصالحے دار نوڈلز بنانے اور انڈے ابالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

کلاسیکی ڈانسر انیتا آر رتنم نے بھی انڈین سیاحوں کے رویے پر نکتہ چینی کی: ’انڈیا سیاحوں کے بے حس اور لا پروا رویوں کے بارے میں طرح طرح کی اطلاعات آ رہیں ہیں، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ہم دنیا میں سے سب سے بدترین سیاحوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اس سے ہماری شاندار کامیابی اور قوت خرید بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔‘

لیکن جہاں کچھ لوگ انڈین سیاحوں پر نقطہ چینی کر رہے ہیں وہیں کچھ افراد ہوٹل پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔

نونیت بھنڈاری نے اپی ایک پوسٹ میں ہوٹل پر ’تعصب‘ برتنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’کسی بھی انڈین مہمان کو اس ہوٹل میں نہیں رُکنا چاہیے۔‘

ہوٹل کی جانب سے انڈین مہمانوں کے لیے نوٹس آویزاں کرنا شاید ایک پُرانا واقعہ ہرش گوئنکا نے بھی ایکس پر یہ پوسٹ صحافی اور ٹریول پوڈکاسٹر ویر سانگھوی کے ایک مضموں کے ردِعمل میں لکھی تھی۔

ویر سانگھوی نے بیرون ملک انڈین سیاحوں کے برتاؤ پر اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ’بیرونِ ملک انڈین سیاح اتنے غیر مقبول کیوں ہوگئے ہیں؟ وہ اس لیے ہے کہ ہم مقامی حساسیت کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے، کیونکہ ہم اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں اور کسی کوکچھ سمجھتے نہیں ہیں۔‘

ویر سانگھوی نے ایکس پر اپنے مضمون کو پوسٹ کرتے ہوئے ایک تصویر شائع کی، جس میں ویتنام کے ہوائے اڈے پر بہت سے انڈین سیاح جہاز پر چڑھنے سے پہلے جہاز کے نزدیک ڈانس کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اپرنا نامی ایک صارف نے ہرش گوئنکا کی جانب سے پوسٹ کیے گئے نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا 2019 میں ہوا تھا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ہوٹل نے تنقید کی زد میں آنے کے بعد معذرت بھی کی تھی اور اسے ’مِس انڈرسٹینڈنگ‘ قراد دیا تھا۔

تاہم اپرنا نے لکھا کہ ’اس سے یہ حقیقت نہیں بدل جاتی کہ کچھ انڈین شہریوں کو بنیادی آداب سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ نوٹس کتنا پُرانا ہے؟

ہرش گوئنکا نے 22 جولائی 2019 میں بھی سوشل میڈیا پر اس نوٹس کی تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ ’یہ نوٹس پڑھ کر مجھے غصہ آیا، شرمندگی ہوئی اور میں احتجاج کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ بطور سیاح ہم اکثر بلند آواز ہوتے ہیں، بدتمیز ہوتے ہیں اور ثقافتی طور پر حساس نہیں ہوتے۔‘

اس وقت کی کچھ خبروں میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ اس نوٹس پر سوئٹزلینڈ کے ہوٹل کی انتظامیہ نے معذرت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ ’ہمارے تمام عزیز انڈین مہمانوں کو بدتمیز سیاح‘ قرار دینا اس کا ارادہ نہیں تھا اور ہوٹل نے اس نوٹس کو واپس لے لیا تھا۔