پاکستانی نوجوان جو ’انڈین لڑکی کی محبت‘ میں مبینہ طور پر ایل او سی عبور کر گیا: ’فوج نے میری بیٹی کو چائے پلائی اور چھوڑ دیا‘

    • مصنف, ریاض مسرور، شہزاد ملک، نصیر چوہدری
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی ویڈیو پاکستان اور انڈیا کے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انھیں لائن آف کنٹرول کے اُس پار انڈین سکیورٹی فورسز کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولہ پولیس کے ایس ایس پی مولا جی پی سنگھ نے بی بی سی اُردو کو پاکستانی نوجوان کی انڈین فوج کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع حویلی کے ڈپٹی کمشنر طارق محمود کا کہنا ہے کہ پولیس نے ذیشان نامی پاکستانی نوجوان کی گمشدگی کی رپورٹ اُن کے والد کی مدعیت میں درج کر لی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور ذیشان کے دوستوں اور اُن کے قریبی رشتہ داروں سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نوجوان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ایک لڑکی کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر لائن آف کنٹرول عبور کر کے انڈیا کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوئے تھے جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

تاہم لڑکے کے والد نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں یہ نہیں بتایا کہ اُن کے بیٹے کی ایل او سی کے پار کسی لڑکی سے دوستی ہے اور محض اتنا کہا گیا ہے کہ وہ تین دن پہلے جانوروں کو چرانے کے لیے نکلا تھا مگر تاحال واپس نہیں آیا۔

بارہ مولہ کے ایس ایس پی جی پی سنگھ نے بتایا کہ دونوں افراد (لڑکا اور لڑکی) فوج کی تحویل میں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جیسے ہی فوج انھیں پولیس کے حوالے کر دے گی تو فوری طور پر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا جائے گا۔

لڑکی کے والد نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میری بییٹی کو فوج نے اتوار کی صبح سات بجے حراست میں لیا تھا اور چار گھنٹے کے بعد رہا کر دیا گیا، میری بیٹی محفوظ ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر حویلی کے مطابق ذیشان کے والد نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا بیٹا تین دن پہلے مال مویشی چرانے کے لیے گھر سے نکلا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا اور یہ کہ انھوں نے اپنے تئیں اسے تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مل پا رہا۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق والد کا کہنا ہے کہ اُن کے گاؤں کے لوگوں نے انھیں سوشل میڈیا پر اُن کے بیٹے کی ایل او سی عبور کرنے اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر جا کر اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کی ویڈیو کے بارے میں بتایا ہے۔

وائرل ویڈیو میں کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی ایک لڑکے کا ہاتھ تھامے بیٹھی ہے اور ویڈیو بنانے والے اس موقع پر اُن کی شناخت کے حوالے سے اُن سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

دونوں افراد کھلے مقام پر ساتھ بیٹھے ہیں، اُن کے چہرے نمایاں ہیں جبکہ اُن کے عقب میں سرسبز پہاڑ موجود ہیں۔ سوال پوچھنے والا دونوں افراد کے نام اور علاقے کی دونوں افراد سے تصدیق کرتا ہے۔

انڈین پولیس کے مطابق لڑکی کا تعلق ایل او سی کے نہایت قریب واقع اُوڑی سیکٹر کے تِلہ واڑی گاؤں سے ہے۔

جب بی بی سی نے لڑکی کے والد سے فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ ’میری بیٹی کو فوج نے اتوار کی صبح سات بجے حراست میں لیا تھا اور چار گھنٹے کے بعد رہا کر دیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ فوج نے اُن کی بیٹی کو چائے پلائی اور کھانا کھلایا۔

والد کے مطابق انھیں معاملات (محبت) کا علم پولیس سے ہوا۔ ’ہماری بچی محفوظ ہے بس ہمارے لیے یہی کافی ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے مطابق انھیں وائرل ویڈیو کے ذریعے علم ہوا ہے کہ پاکستان نوجوان کسی انڈین لڑکی سے رابطے میں تھا اور اسی سلسلے میں ایل او سی عبور کر کے دوسری جانب چلا گیا۔

ڈی ایس پی حویلی سیماب عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق نوجوان یونین کونسل بھڑی کے گاؤں پینکڑی کا رہائشی ہے۔ پینکڑی ضلع حویلی کا آخری سرحدی گاؤں ہے جبکہ لڑی وہ آخری آبادی ہے جہاں اس وقت لڑکے کے والد رہتے ہیں۔

موسمِ گرما میں وہ اس گاؤں سے آگے کے علاقوں میں منتقل ہو جاتے ہیں جو لڑی گاؤں میں واقع ہیں، اور ایل او سی کے قریب واقع علاقے میں ہیں۔

’جب لوگ دور سے دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں تو اس طرح کے خطرناک واقعات سامنے آتے ہیں‘

اس علاقے کے مقامی رہائشی شبیر بیگ کے مطابق اس علاقے میں سڑک ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹوں کا پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پینکڑی سے آگے موبائل فون سروس دستیاب نہیں اور گاؤں کے بیشتر افراد کو اس واقعے کا علم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے ذریعے ہوا۔

شبیر بیگ کے بقول ’جب ہم نے ویڈیو دیکھی تو اس کے بعد ذیشان کے والدین کو بتایا کہ آپ کا بیٹا دوسرے کشمیر چلا گیا ہے اور اس کی ایک ویڈیو وائرل ہے۔‘

حویلی کے رہائشی سردار مظفر کا کہنا ہے کہ جس علاقے سے ذیشان مبینہ طور پر ایل او سی کراس کر کے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوا وہاں پر ایک چھوٹا سا برساتی نالہ ہے جس کو عبور کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں اتی۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جس میں لوگوں کے مال مویشی برساتی نالہ کراس کرکے دوسری سائیڈ پر چلے جاتے ہیں۔

حویلی کہوٹہ کی رہائشی خاتون وکیل شازیہ کیانی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل او سی کے آر پار کشمیریوں کے خون کے رشتے ہیں اور جب یہ لوگ ایک دوسرے کو دور سے دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں تو پھر اس طرح کے خطرناک واقعات سامنے آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلے بس سروس کے ذریعے کشمیری خاندانوں کو آپس میں ملنے کے مواقع میسر آئے تھے، اب وہ بھی ختم ہو گئے ہیں۔ خاندان در خاندان، سینہ بہ سینہ یہ رشتے چلے آ رہے ہیں، تو پھر لوگ ایک دوسرے سے ملنے کی ایسی کوشش تو کریں گے۔‘

واضح رہے کہ ماضی قریب میں 24 نومبر 2024 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقہ کرنی سے ایک لڑکی نے لائن آف کنٹرول عبور کی تھی اور ضلع حویلی کے ایک گاؤں میں پاکستانی نوجوان لڑکے کے گھر پہنچی تھی۔

بعد میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لڑکی نے پاکستانی نوجوان کے ساتھ شادی کی غرض سے لائن اف کنٹرول عبور کی تھی۔