انڈین الیکشن: کیا مودی کا راہل کو امیٹھی میں شکست دینے کا خواب پورا ہو سکے گا؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، امیٹھی

'یہ انتخاب صرف سمرتی ایرانی اور راہل گاندھی کے درمیان نہیں ہے۔ یہ انتخاب قوم پرستوں اور ملک دشمنوں کے درمیان ہے۔'

'دیش کا دشمن راہل گاندھی ' کے نعروں کے درمیان امیٹھی میں بی جے پی کی امیدوار سمرتی ایرانی اپنے سیاسی جلسوں میں کہتی ہیں کہ راہل گاندھی اور ان کی جماعت کانگریس پاکستان پرست ہے اور وہ ملک کے ٹکڑے کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ چھ مئی کی پولنگ کے لیے امیٹھی میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ بی جے پی کے بڑے بڑے رہنما سمرتی ایرانی کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

امیٹھی نہرو گاندھی فیملی کا روایتی حلقہ ہے۔ یہاں سے راہل کی والدہ سونیا گاندھی اور ان کے مرحوم والد راجیو گاندھی بھی پارلیمنٹ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ خود راہل یہاں سے تین بار رکن پارلیمان منتخب ہو چکے ہیں اور اب وہ چوتھی بار یہاں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کی مہم میں ان کی بہن پریانکا گاندھی بھی شریک ہیں۔ ’

یہ بھی پڑھیے!

یہ کانگریس کا ایک مضبوط قلعہ ہے جسے بی جے پی فتح کرنا چاہتی ہے۔ سمرتی ایرانی مودی حکومت کی ایک بااثر وزیر ہیں۔ وہ گزشتہ انتخابات میں بھی راہل کے مقابل کھڑی ہوئی تھیں اور نسبتاً کم فرق سے الیکشن ہار گئی تھیں۔ بی جے پی نے اس بار راہل گاندھی کو ہرانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رکھی ہے۔

سمرتی ایرانی کہتی ہیں کہ 'راہل نے امیٹھی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ امیٹھی کی عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ ان کا لاپتہ رکن پارلیمان کہاں ہے۔'

کانگریس کی مقامی رہنما اور رکن اسمبلی آرادھنا مشرا کہتی ہیں کہ راہل نے امیٹھی کے لیے جو کچھ کیا ہے وہ کسی رکن پارلیمان نے اپنے حلقے کے لیے نہیں کیا ہو گا ساتھ ہی وہ صرف امیٹھی کے نمائندے نہیں ہیں۔ 'وہ پورے ملک میں مودی کی غلط پالیسیوں، فریب جملے بازیوں اور جھوٹ کے خلاف تن تنہا لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ امیٹھی کی عوام اسے سمجھتی ہے۔ اس نے یہ ذمہ داری دے کر راہل کو دلی بھیجا ہے۔'

بنارس اور لکھنؤ کے درمیان واقع امیٹھی حلقہ بنیادی طور پر ایک پسماندہ اور دیہی علاقہ ہے۔ لیکن اس علاقے میں بڑی بڑی فیکڑیاں، ہسپتال، پیشہ ورانہ ہنر کی تربیت کے تعلیمی ادارے اور دوسری سہولیات موجود ہیں۔ سنہ 2014 کے انتخابات میں مودی کی لہر کے دوران یہاں بھی بی جے کی حمایت بڑھی تھی۔

ایک مقامی صحافی یوگیندر شریواستو نے بی بی سی کو بتایا کہ ' سنہ 2014 سے پہلے یہاں کانگریس کا ایسا دبدبہ تھا کہ دوسری پارٹیوں کو دفتر کھولنے تک کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی لیکن مودی کے آنے کے بعد امیٹھی کے کچھ علاقوں میں بی جے پی کی حمایت بڑھی تھی۔’

تاہم وہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت یہاں بی جے پی کی وہ حمایت نظر نہیں آ رہی ہے جو مودی کی لہر کے دوران پیدا ہوئی تھی۔'

مقامی لوگوں میں بیشتر لوگ راہل گاندھی اور کانگریس کی حمایت میں بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ راہل گاندھی نے اس حلقے کے لیے بہت کام کیا ہے۔ ایک بزرگ رام آشرے کا کہنا تھا ' نہرو گاندھی نے یہاں جو کر دیا وہ کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ کانگریس نے جہاں بجلی کی روشنی دی وہاں بی جے پی کے لوگ موم بتی جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

جیا لال جیسے بی جے پی کے حمایتی بھی ہیں جنہیں لگتا ہے کہ یہاں اب تبدیلی کی ضرورت ہے 'میں اس بار راہل کو ووٹ نہیں دوں گا۔ وہ یہاں آتے ہیں، جیت جاتے ہیں اور پھر لاپتا ہو جاتے ہیں۔'

بی جے پی یہاں اپنی انتخابی مہم میں قوم پرستی کا بھی زوردار طریقے سے استعال کر رہی ہے۔ سمرتی پلوامہ کا ذکر کرتی ہیں۔ ان کی تقریروں میں بالاکوٹ، پاکستان، دہشت گردی اور سرجیکل سٹرائیک کا ذکر آتا رہتا ہے۔

اس کے برعکس راہل اور پریانکا کی مہم غیر جارحانہ ہے۔ پریانکا چھوٹے چھوٹے جلسوں میں لوگوں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ گاؤں میں جاتی ہیں اور لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کرتی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ابتدا سے ہی گاندھی خاندان کو ان کے مضبوط قلعے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ راہل گاندھی کو خود ان کی اپنی زمین پر شکست دینے کی ان کی تمنا بہت پرانی ہے۔ یہاں کی انتخابی مہم کافی تلخ ہو چکی ہے۔

امیٹھی میں راہل گاندھی اور سمرتی ایرانی کا یہ تلخ مقابلہ بی جے سے زیادہ راہل گاندھی کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔