آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے نئے آرڈر: 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے دفاعی اخراجات کتنے بڑھے؟
- مصنف, اسماعیل شیخ اور شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) نے اپنی نئی سالانہ رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق 2025 میں انڈیا سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل تھا جبکہ انڈیا اور پاکستان نے اپنے اپنے دفاعی بجٹس میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
سپری کے محققین کے مطابق سنہ 2025 میں انڈیا نے اپنے دفاعی اخراجات میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 8.9 فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد انڈیا کی جانب سے عسکری مقاصد کے لیے خرچ کی جانے والی رقم 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے دوران پاکستان کے دفاعی اخراجات میں بھی 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ملک کے مجموعی دفاعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان فوجی اخراجات کرنے والے ممالک کی فہرست میں 31ویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی کے بعد انڈیا کے فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں سیاحتی مقام پہلگام پر ایک حملے کے بعد سات مئی کو انڈیا کی جانب سے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں ملکوں کی جانب سے جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس لڑائی کے دوران جہاں پاکستان نے انڈیا کے فرانسیسی ساختہ جدید رفال طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تو وہیں انڈیا نے پاکستانی طیارے مار گرانے کے ساتھ ساتھ فضائی اڈوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔
عالمی دفاعی اخراجات پر سپری کی رپورٹ میں کیا ہے؟
سپری کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے دوران انڈیا نے جنگی طیاروں اور اُن سے منسلک نظام کے لیے مختص اخراجات پر نظرثانی کی اور ابتدائی بجٹ کے مقابلے میں اس ضمن میں اخراجات 50 فیصد زیادہ رہے تھے۔
اس کے علاوہ انڈین فضائیہ کے آپریشنل اور عملے سے متعلق اخراجات میں مختص بجٹ کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات میں اس اضافے کی بڑی وجہ مئی میں انڈیا کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد پاکستان کی جانب سے چین سے طیاروں اور میزائلوں کی خریداری کے نئے معاہدے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے سے طے شدہ دفاعی سودوں کے لیے کی جانے والی ادائیگیاں بھی پاکستانی دفاعی بجٹ میں اضافے کا باعث بنیں۔
تاہم دفاعی اخراجات میں اضافے کا رجحان صرف انڈیا اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سپری کی نئی رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات دو ہزار 887 ارب ڈالر تک جا پہنچے، جو سنہ 2024 کے مقابلے میں 2.9 فیصد زیادہ ہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ امریکہ، چین اور روس دفاعی اخراجات پر خرچ کرتے ہیں۔ سنہ 2025 میں ان ممالک نے مجموعی طور پر 1480 ارب ڈالر خرچ کیے، جو عالمی فوجی اخراجات کا 51 فیصد بنتا ہے۔
اس عرصے کے دوران روس کے دفاعی اخراجات 5.9 فیصد اضافے کے بعد 190 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ چین کا عسکری بجٹ 336 ارب ڈالر رہا جو کہ 2024 کے مقابلے میں 7.4 فیصد زیادہ ہے۔
تاہم امریکہ، جو کہ دنیا میں عسکری مقاصد کے لیے سب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے، اس کے دفاعی بجٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے فوجی اخراجات میں سنہ 2025 کے دوران 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 83.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد سعودی عرب دنیا میں فوجی اخراجات کرنے والا آٹھواں سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے دفاعی اخراجات کیوں بڑھے؟
بی بی سی اُردو نے پاکستان اور انڈیا کے دفاعی تجزیہ کاروں سے اس رپورٹ اور اس میں درج تفصیلات سے متعلق بات کی ہے۔
پاکستانی دفاعی تجزیہ کار محمد علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جنگی نظریے یا ڈاکٹرئن میں ’وقت کے ساتھ جدت آئی ہے‘ اور اب اس کا انحصار ’صرف روایتی اور بڑے پیمانے کے روایتی ہتھیاروں پر نہیں۔‘
ان کے مطابق پاکستان غیر روایتی اور نئی ابھرتی یا ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا سہارا لیتے ہوئے ’اپنے سے آٹھ گنا بڑے حریف انڈیا‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
گذشتہ سال جاری کردہ سپری کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے 2020 سے 2024 تک پاکستان کے درآمد شدہ ہتھیاروں کا 81 فیصد فراہم کیا ہے۔ (یعنی پاکستان نے اس دورانیے میں جتنے ہتھیار درآمد کیے ہیں، ان میں سے 81 فیصد چین سے خریدے گئے ہیں۔)
پاکستان نے چین سے جو ہتھیار حاصل کیے ہیں ان میں جدید لڑاکا طیارے، میزائل، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ پاکستان میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے کچھ ہتھیاروں میں بھی چین کا کردار ہے، یہ یا تو چینی کمپنیوں نے تیار کیے ہیں یا پھر ان میں چینی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
محمد علی کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا اُن چیزوں کی خریداری پر رقم لگا رہا ہے جو ’روایتی ہتھیاروں کے زمرے میں آتے ہیں‘ جیسے ٹینک، جنگی بحری جہاز یا لڑاکا طیارے۔
اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کا ’وار ڈاکٹرائن (جنگی نظریہ) پاکستان کے گرد گھومتا ہے‘ تاہم اس سے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ایک طویل عرصے سے انڈیا کی قیادت عالمی طاقت بننے کا بیانیہ پیش کر رہی ہے‘ اور وہ خود کو ’چین کے خلاف امریکہ کے ایک حلیف کے طور پر پیش کرتا ہے۔‘
مگر ان کی رائے میں اب بھی انڈیا کے پاس ایسے ہتھیار نہیں جو ’چین کے خلاف زیادہ موثر ثابت ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بظاہر انڈین حکومت کے دفاعی اخراجات ان کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ ’آپریشن سندور‘ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
انڈیا کا دفاعی بجٹ ’اب بڑھتا ہی جائے گا‘
انڈین دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال پاکستان سے لڑائی کے بعد انڈیا کی فوج میں ایک نئی سوچ آئی ہے جس کے تحت ’اِنٹیگریٹڈ ملٹی ڈومین وار فیئر‘ پر توجہ دی گئی ہے۔ اس سے مراد زمین، سمندر اور فضا تینوں کو ملا کر ایک مشترکہ دفاعی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔
تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ مئی 2025 سے لے کر اب تک انڈین حکومت نے تقریباً 25 ارب ڈالر فضائی دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کی خریداری کے لیے منظور کیے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے جنگی جہازوں کی خریداری کی بھی منظوری دی ہے۔
ان کے مطابق انڈیا نے 114 رفال جہازوں کی خریداری کی بھی منظوری دی ہے جو اس دفاعی بجٹ سے الگ ہے، ایک نیوکلیئر آبدوز کی تیاری کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انڈیا کی اصل توجہ ڈرونز اور میزائل سسٹم پر مرکوز ہے کیونکہ آپریشن سندور کے دوران یہ دو چیزیں بہت زیادہ استعمال ہوئیں۔
راہل بیدی کہتے ہیں کہ انڈیا کی چین اور پاکستان سے ملنے والی سرحدیں متنازع رہی ہیں اور کافی متحرک بھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر انڈیا کی دفاعی حکمت عملی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر فوج کو تعینات رکھنے کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بڑی تعداد میں ساز و سامان کے ساتھ فوجوں کی تعیناتی اور ہمیشہ رہنے کی پوزیشن کے سبب ان پر آنے والے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان دونوں سرحدوں پر ملٹری ڈاکٹرائن بھی بدلتی رہتی ہیں، جس میں اب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہو گئی ہے اور یہی وجہ ہے انڈیا کا دفاعی بجٹ بڑھتا رہتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا کا دفاعی بجٹ ملک کی مجموعی جی ڈی پی کا 2.1 فیصد ہے۔ کئی برس سے فوج یہ چاہ رہی ہے کہ یہ بجٹ بڑھا کر جی ڈی پی کے تین فیصد تک لایا جائے۔
راہل بیدی کا کہنا ہے کہ انڈیا نے جو دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے، وہ ایک مہنگا پہلو ہے، اس لیے انڈیا کا دفاعی بجٹ آنے والے سالوں میں بڑھتا ہی جائے گا۔
رہی بات پاکستان کے مقابلے انڈیا کے آٹھ گنا زیادہ بجٹ کی، تو راہل بیدی کہتے ہیں کہ انڈیا کے مشرق اور مغرب میں چین اور پاکستان کے ساتھ دو متحرک سرحدیں ہیں اور دونوں سرحدیں بہت سی جگہوں پر متنازع ہیں۔ ’تو ظاہر ہے ان سرحدوں پر تعیناتی اور ان کے لیے جنگی ساز و سامان پر اخراجات زیادہ ہوں گے۔‘
گذشتہ عشرے میں انڈیا نے جنگی ساز و سامان کے لیے اپنا انحصار روس پر کم کرتے ہوئے مغربی ملکوں کی طرف مرکوز کر دیا ہے۔
روس، فرانس اور اسرائیل اب انڈیا کو جنگی ہتھیار فراہم کرنے والے سب سے بڑے سپلائرز ہیں۔
گذشتہ فروری کو پیش کیے گئے بجٹ میں حکومت نے ’آپریشن سندور‘ کے پس منظر میں دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے 7 لاکھ 85 ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی تھی۔