بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام پر متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر دی
بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے اُن افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے جنھوں نے ’ایران کے معاندانہ اور مجرمانہ اقدامات کی حمایت یا تعریف کا اظہار کیا۔‘ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُن افراد کے خاندانوں پر بھی لاگو ہوگا جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بحرین خطے کے اُن کئی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متعلق معلومات کو سختی سے کنٹرول کیا، اور اُن مقامی و غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا جنھوں نے ان حملوں کی ویڈیوز بنائیں۔
بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں گرفتار پانچ پاکستانیوں کو ’سخت سزاؤں‘ کا سامنا
بحرین کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ایران کی معاندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں سے ہمدردی اور ان کی تعریف کرنے والوں کی بحرینی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔ اب تک اس فیصلے کے تحت، ان کے زیرِ کفالت اہلِ خانہ سمیت کُل 69 افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘
بحرین میں، ایران کی طرح، آبادی کی اکثریت شیعہ ہے اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے حق میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ حکام نے مظاہرین اور مظاہروں کی ویڈیوز بنانے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا اور درجنوں افراد پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے یا غداری جیسے الزامات عائد کیے۔ ان جرائم میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔
یہ ملک خلیج کے اُن چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں ایسے قوانین موجود ہیں جو بعض جرائم میں سزا پانے والے افراد کی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ افراد بے وطن ہو سکتے ہیں۔ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اس نوعیت کے اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے اور ناقدین کو سزا دینے کے لیے بطور جبر کے آلے استعمال ہوتے ہیں۔