آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, افغان وزارت تعلیم کا پاکستان پر کنڑ میں یونیورسٹی پر حملے کا الزام، پاکستانی وزارت اطلاعات کی تردید

افغان وزارت تعلیم نے پاکستان پر صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر حملے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں متعدد طلبا اور اساتذہ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزارت اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

خلاصہ

  • عباس عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات: روس مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گا، پوتن
  • افغان وزارت تعلیم کا پاکستان پر کنڑ میں یونیورسٹی پر حملے کا الزام، پاکستانی وزارت اطلاعات کی تردید
  • پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے جھڑپوں کی اطلاعات
  • 'حزب اللہ اب بھی منظم ہے اور ہتھیار نہیں ڈالے گی': نعیم قاسم کا لبنانی حکام پر اسرائیل کو 'بے جا رعایتیں' دینے کا الزام
  • پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث اہم کردار ادا کیا: ایرانی وزیرِ خارجہ

لائیو کوریج

  1. بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام پر متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر دی

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے اُن افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے جنھوں نے ’ایران کے معاندانہ اور مجرمانہ اقدامات کی حمایت یا تعریف کا اظہار کیا۔‘ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُن افراد کے خاندانوں پر بھی لاگو ہوگا جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بحرین خطے کے اُن کئی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متعلق معلومات کو سختی سے کنٹرول کیا، اور اُن مقامی و غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا جنھوں نے ان حملوں کی ویڈیوز بنائیں۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ایران کی معاندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں سے ہمدردی اور ان کی تعریف کرنے والوں کی بحرینی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔ اب تک اس فیصلے کے تحت، ان کے زیرِ کفالت اہلِ خانہ سمیت کُل 69 افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘

    بحرین میں، ایران کی طرح، آبادی کی اکثریت شیعہ ہے اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے حق میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ حکام نے مظاہرین اور مظاہروں کی ویڈیوز بنانے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا اور درجنوں افراد پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے یا غداری جیسے الزامات عائد کیے۔ ان جرائم میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

    یہ ملک خلیج کے اُن چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں ایسے قوانین موجود ہیں جو بعض جرائم میں سزا پانے والے افراد کی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ افراد بے وطن ہو سکتے ہیں۔ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اس نوعیت کے اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے اور ناقدین کو سزا دینے کے لیے بطور جبر کے آلے استعمال ہوتے ہیں۔

  2. امریکہ نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے، عباس عراقچی کا دعویٰ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے۔

    سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ’دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور [امریکہ] کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ’اپنے مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر پایا ہے۔‘

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اسی لیے انھوں نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔

    اس بارے میں واشنگٹن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کریملن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ایران کے ’روس جیسے عظیم دوست اور اتحادی ہیں۔‘

  3. ’دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں اور بارود کی بو تھی، ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے‘

    افغانستان کے صوبہ کنڑ میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بی بی سی پشتو کو بتایا، ’معمول کی طرح دوپہر ڈھائی بجے کے قریب میں اپنی کلاس میں مصروف تھا اور استاد ہمیں پڑھا رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔‘

    واقعے کے عینی شاہد اکرام اللہ کا کہنا ہے، ’دھماکے کے بعد، وہاں پر شدید دھول، دھواں اور بارود کی بو تھی، اور ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ایجوکیشن کی عمارت کو نقصان پہنچا اور اس کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق واقعے کے بعد کنڑ کے دارالحکومت اسد آباد میں ایمبولینسوں کی آواز سنی گئی اور بعض زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    یاد رہے کہ افغانستان نے پاکستان پر اس حملے کا الزام لگایا ہے تاہم پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔

  4. پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے جھڑپوں کی اطلاعات, محمد کاظم اور عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ مختلف سرحدی اضلاع سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    سرکاری حکام نے بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن سے متصل سرحدی علاقوں میں پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دو پہر تک جاری رہا۔

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جھڑپوں کا آغاز پیر کو صبح کے وقت چمن شہر سے انداز 15 کلومیٹر کے فاصلے پر روغانی کی حدود میں ہوا۔

    اگرچہ سویلین حکام نے اس علاقے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق تو کی ہے لیکن تاحال اس کی وجوہات اور کسی جانی نقصان کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

    جب اس سلسلے میں چمن شہر میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اویس سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال اس حوالے سے کسی زخمی شخص کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں سے بھی جھڑپوں کے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    مقامی افراد نے بتایا ہے کہ گولے آبادی کے قریب گرے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

    ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سرحدی علاقوں بشمول لغڑئی، چارمنگ اور سلارزئی کے علاقوں میں سنی جا رہی ہیں۔

    لغڑی سے مقامی قبائلی رہنما ملک شاہئن نے بی بی سی کو بتایا کہ لغڑی میں چند روز کے وقفے کے بعد آبادی کے قریب گولے گرے ہیں لیکن اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دیگر سرحدی علاقوں جیسے سلارزئی اور چارمنگ کے بازار میں بھی گولے گرے ہیں۔

    لغڑی سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبادی کے درمیان سڑک سے دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ افرا تفری میں بھاگ رہے ہیں۔

    اس علاقے میں اس سے پہلے بھی لوگوں کے گھروں پر گولے گرے تھے جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  5. افغان وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی کنڑ یونیورسٹی پر ’پاکستانی میزائل حملے‘ کی مذمت

    افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔

    وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے اس کے حملے کے نتیجے میں 30 تقریباً طلبہ و اساتذہ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے کنڑ یونیورسٹی پر حملے کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے اور پاکستان نے سید جمال الدین یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

  6. عباس عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات: روس مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گا، پوتن

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی روس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ہوئی ہے۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ملاقات کے دوران پوتن نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے کہا ہے کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری کے لیے حوصلے سے لڑ رہے ہیں۔

    تاس نے پوتن کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران اس مشکل مرحلے پر قابو پانے کے بعد امن کی جانب بڑھے گا۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پوتن نے عراقچی سے کہا ہے روس ’مشرق وسطیٰ میں جلد از جلد امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘

    اس سے قبل عراقچی کے ٹیلی گرام چینل پر شیئر کی گئی تصاویر میں ایران کے وزیر خارجہ کو دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ ایک میز کے گرد بیٹھے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصویر میں انھیں روسی صدر سے ہاتھ ملاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پوٹن کے ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، مشیر یوری یوشاکوف اور روس کی جی آر یو ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ایگور کوسٹیوکوف بھی شامل ہیں۔

  7. سٹیٹ بینک کا شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان: ’یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا‘, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرحِ سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر شرحِ سود 10.50 فیصد سے بڑھر 11.50 فیصد ہو گئی ہے۔

    مرکزی بینک نے یہ فیصلہ آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

    شرح سود میں اضافے پر ملک کی کاروباری تنظیموں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے اورکہا گیا ہے ملک میں پہلے سے مشکلات کے شکار کاروبار کے لیے شرح سود میں اضافے سے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

    ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) پر اس فیصلے کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ ایس ایم ایز کے لیے سستی مالیات تک رسائی کے دروازے بند کر دے گا۔

    اانھوں نے کہا کہ بجلی کے بھاری ٹیرف کے ساتھ ساتھ اس مانیٹری سختی سے کئی مینوفیکچررز ڈیفالٹ یا مکمل بندش کی طرف چلے جائیں گے۔

    کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے سٹیٹ بینک کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صنعتی سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بظاہر مہنگائی کے دباؤ، کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال اور بیرونی مالیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاہم موجودہ حالات میں یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

  8. ’پاکستان نے کنڑ میں یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا‘: وزارت اطلاعات کی افغان میڈیا میں گردش کرتی اطلاعات کی تردید

    پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے میزائلوں اور جنگی طیاروں سے افغانستان کے صوبے کنڑ میں کارروائی کی ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ طلوع کی خبر کے مطابق اس کارروائی میں سید جمال الدین یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور بچوں سمیت 45 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    بیان میں افغان میڈیا کی اس خبر کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سید جمال الدین یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

    کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    دوسری جانب بی بی سی پشتو کو بھی مختلف ذرائع نے کنڑ میں یونیورسٹی پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعوی کیا ہے۔

    اس کے علاوہ بی بی سی پشتو کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  9. اسلام آباد کی عدالت نے ایکس پر متنازع پوسٹ لگانے کے جرم میں گرفتار صحافی کی ضمانت منظور کر لی

    اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت نے ایکس پر متنازع پوسٹ لگانے پر پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار سینیئر صحافی فخر الرحمان کی ضمانت منظور کرلی۔

    سوموار کے روز کو متعلقہ عدالت میں ضمانت بعد از گرفتاری درخواست پر سماعت کے دوران ملزم فخر الرحمان کی جانب سے بیرسٹر احد کھوکھر عدالت پیش ہوئے۔

    بیرسٹر کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اینجنسی یعنی این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملزم سے موبائل برآمد کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملزم بزرگ شہری ہے اور وہ باقاعدگی سے دوائیں لیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنی کوئی رائے نہیں دی بلکہ انھوں نے محض فیلڈ مارشل جنرل عاصم منری کی شیعہ علما سے ملاقات سے متعلق ایک عالم دین کا بیان ٹویٹ کیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے متعلق ایف آئی آر میں ملزم کا رول بھی نہیں بتایا گیا۔

    فخر الرحمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ یہ ایک بے بنیاد کیس ہے اور ان کے موکل کی ضمانت منظور کی جائے۔

    اس موقع پر پراسیکیوشن نے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کی جانب سے اپنی ٹویٹ میں جس عالم دین کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، کیا اس بیان کی ڈی جی آئی ایس پی آر یا وزارت دفاع سے تصدیق کی تھی؟

    وکیلِ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ایسی ہی ٹویٹس کی وجہ سے سارا سکردو جل گیا تھا۔

    انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔

    فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں پچاس ہزار روپے مالیتی مچلکوں کے عوض فخر الرحمن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرنے کا حکم سنا دیا۔

  10. ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کریملن

    کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے جڑی صورتِ حال جس طرح آگے بڑھ رہی ہے، اس تناظر میں ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

    خیال رہے کہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان کے دورے کے بعد سوموار کے روز ہی روس پہنچے ہیں۔

    اس سے قبل سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘

  11. پاکستان میں شرح سود ایک فیصد اضافے کے بعد 11.5 فیصد پر پہنچ گیا

    پاکستان کے مرکزی بینک نے شرح سود ایک فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

    سوموار کے روز سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 28 اپریل سے پالیسی کی شرح 100 بیسس پوائنٹس سے بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سے قبل جنوری کے آخر میں مرکزی بینک نے شرح سود کو برقرار رکھا تھا۔

  12. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں فضائی کارروائی کے دوران حزب اللہ کے تین ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان میں جاری کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کے تین ارکان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے تین جنگجوؤں کو اس وقت شناخت کیا گیا جب وہ ’فارورڈ ڈیفنس لائن کے جنوب‘ میں اسرائیلی فوجیوں کے قریب پہنچ رہے تھے۔

    اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً دس کلومیٹر تک ’بفر زون‘ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے لاحق خطرے کو کم کرنا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت لبنان کا لگ بھگ پانچ فیصد رقبہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بنت جبیل میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

    اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے تاہم حزب اللہ اس معاہدے کی فریق نہیں ہے۔

  13. ’حزب اللہ اب بھی منظم ہے اور ہتھیار نہیں ڈالے گی‘: نعیم قاسم کا لبنانی حکام پر اسرائیل کو ’بے جا رعایتیں‘ دینے کا الزام

    حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے لبنان کی مزاحمت ختم کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں تاہم وہ اب تک اس میں ناکام رہا ہے۔

    نعیم قاسم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل ایک بند گلی میں پھنس چکا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصانات اور آبادی کی نقل مکانی کے باوجود حزب اللہ اب بھی ’مضبوط اور منظم‘ ہے اور اسے عوامی حمایت حاصل ہے۔

    انھوں نے لبنانی حکام پر اسرائیل کو ’بے جا رعایتیں‘ دینے کا الزام عئد کیا۔

    نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کو ’سرے سے مسترد‘ کرتے ہوئے بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ تنازع کے کسی بھی حل کے لیے بنیادی شرائط میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا، ’قیدیوں‘ کی رہائی، متاثرہ آبادی کی اپنے علاقوں کو واپسی اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ’اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔‘

  14. کوئٹہ: ’دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے الزام میں گرفتار نرسنگ کی طالبہ کے والدین کا احتجاج

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زیر تعلیم نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف اُن کے اہلخانہ کا بولان میڈیکل کالج کے باہر دھرنا جاری ہے۔

    یاد رہے کہ خدیجہ بلوچ کو بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کر کے ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ خدیجہ بلوچ کو ’دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    تاہم دوسری جانب خدیجہ کے والدین کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی بے گناہ ہے۔ انھوں نے حکام سے اپنی بیٹی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 اپریل امتحانات شروع ہونے کے پیش نظر اُن کی بیٹی کو رہا کیا جائے۔

    خدیجہ بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک سے ہے اور اہلخانہ کے مطابق وہ بولان میڈیکل کالج میں بی ایس نرسنگ کی ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں۔

    وہ کالج کی نرسنگ ہاسٹل میں ہی رہائش پزیر تھیں جہاں سے انھیں 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان کے گرفتاری کے فوراً بعد کالج کی طالبات نے احتجاج کیا تھا، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اب خدیجہ کے والدین بھی کیچ سے کوئٹہ پہنچ کر اس احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔

    خدیجہ کے والد پیر جان بلوچ کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اُن پر مبینہ طور پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کریں۔

    پیر جان بلوچ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماضی قریب میں وہ اور اُن کی بیٹی تربت میں سی ٹی ڈی حکام کے سامنے پیش ہوئے تھے، جہاں سے، ان کے بقول، انھیں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

    تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والی طالبہ کے خلاف دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری کے واضح ثبوت ملے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ سہولت کاری کے شواہد سامنے آئے جس پر قانونی طریقے سے کارروائی کی گئی اور ملزمہ کو قوانین کے مطابق انٹرنمنٹ ڈٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ کو حراست میں لینے سے قبل قانونی تقاضوں کے مطابق اُن کے اہلخانہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ خدیجہ کے خلاف تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس معاملے کو مکمل طور پر قانون کی حدود میں رہتے ہوئے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔

  15. پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث اہم کردار ادا کیا: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘

    ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکراتی عمل میں بعض مقامات پر پیش رفت کے باوجود امریکہ کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات کا گذشتہ دور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، اس لیے موجودہ صورتحال پر پاکستان میں دوستوں کے ساتھ مشاورت ناگزیر تھی۔‘

    عباس عراقچی نے اپنے اس بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں ماضی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کن حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔‘

  16. پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ منظرِ عام سے غائب کیوں ہیں؟

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی مارچ کے آغاز سے ہی میڈیا سے غائب ہیں۔

    مارچ میں ہی انھیں پاسدارانِ انقلاب کمانڈر ان چیف کے اعلیٰ عہدے پر تعینات کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

    وہ آخری مرتبہ 11 فروری کو عوامی سطح پر سامنے آئے تھے کہ جب انھوں نے جنوبی شہر شیراز میں سنہ 1979 کے انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک ریلی میں ’دشمن‘ کو ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

    یکم مارچ کو بعض خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس نے یہ خبر دی تھی کہ واحدی کو پاسدارانِ انقلاب کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

    تاہم ان ویب سائٹس میں کوئی بھی بڑی سرکاری خبر رساں ایجنسی یا پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ادارہ شامل نہیں تھا۔

    احمد واحدی کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بننے کی یہ خبر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں میجر جنرل محمد پاکپور اور کئی سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق تقرری سے قبل احمد واحدی پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

  17. اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف تین مقدمات کی سماعت چھ ہفتے کی تاخیر کے بعد ایک مرتبہ پھر ملتوی

    یروشلم پوسٹ نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی عدالتی سماعت شروع ہونے سے تقریباً 90 منٹ قبل ان کے وکیل کی درخواست پر ’اچانک منسوخ‘ کر دی گئی۔

    نیتن یاہو کو آج تقریباً چھ ہفتوں کی تاخیر کے بعد فوجداری مقدمے میں گواہی دینا تھی۔

    یہ تیسری مرتبہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے باعث عدالتی سماعت ملتوی کی گئی ہے۔

    تاہم تاحال حکام کی جانب سے آج کی سماعت میں تاخیر اور اس کے منسوخ کیے جانے کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

    نیتن یاہو گزشتہ پانچ برس سے تین الگ مقدمات رشوت لینے، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

    گزشتہ سال موسمِ خزاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ملک کے صدر سے اس معاملے میں معافی کی درخواست کی تھی۔

  18. ملزم پر آج عدالت میں باضابطہ فردِ جرم عائد کی جائے گی

    واشنگٹن ڈی سی میں سنیچر کی رات وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے ملزم کو آج عدالت میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ملزم کی شناخت کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے۔

    امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا اور خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک ’ممکنہ‘ ہدف تھے۔

    واقعے کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘ اور بعد میں حملہ آور کی تصویر بھی شیئر کی۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ملزم کو گزشتہ روز شمال مغربی واشنگٹن ڈی سی کے میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں رکھا گیا تھا اور آج اسے دارالحکومت کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا۔

    امکان ہے کہ آج ہی حملہ آور پر ایک وفاقی اہلکار پر حملہ کرنے اور اسلحہ کے استعمال کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

  19. میں پریشان نہیں تھا، ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کو اٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ واسنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کی وجہ سے وہ خوفزدہ یا فکر مند ہوئے؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پریشان نہیں تھا۔ میں زندگی کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔ ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں۔‘

    سی بی ایس نیوز کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ مُمکنہ طور پر آپ اس حملے کا اصل حدف تھے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں تو کُچھ نہیں کہہ سکتا مگر میں نے حملہ آور کی اب تک سامنے آنے والی دستاویزات دیکھی ہیں اور وہ (حملہ آور) انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر ہو چکا ہے، وہ پہلے مسیحی نظریات پر چلنے والا تھا تاہم پھر اس نے انھیں چھوڑ دیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ زندگی میں بہت سے دیگر مسائل سے گُزر رہا تھا جن کے بارے میں اُس کے بھائی نے بھی ذکر کیا اور شکایت کی ہے اور انتظامیہ کو مزید بہت کُچھ بتایا ہے۔‘

    سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر امریکی صدر اور اُن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    حملہ آور کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے پڑھیے یہ تحریر

  20. علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان تعاون اہمیت کا حامل ہے، عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روسی حکام کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی ملاقاتوں کا ایجنڈا کئی اہم امور پر مشتمل ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پہ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روس میں اہم شخصیات کے ساتھ ملاقات میں جاری جنگ کی صورتحال، علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ اور تہران و ماسکو کے درمیان سیاسی تعلقات کو فروغ دینا ایجنڈے میں سرِفہرست ہیں۔‘

    عراقچی نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ اس دورے کے دوران ایک وقفے کے بعد مشاورت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ’مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا، ساتھ ہی علاقائی امور، خاص طور پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی معاملات کو آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دورہ ان کے حالیہ دورے کا تسلسل ہے جس میں پاکستان اور سلطنتِ عمان شامل تھے، جہاں مذاکرات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ امور پر بات چیت کی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مسقط کے ساتھ تکنیکی مشاورت بھی جاری ہے۔‘

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔