آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بی ایس ایف کے سابق فوجی تیج بہادر: ’پاکستان ہر روز سر چڑھ کر بولتا ہے، مودی صرف الیکشن میں‘
الیکشن میں انڈین وزیراعظم کو چیلنج کرنے والے بی ایس ایف کے سابق فوجی تیج بہادر کا کہنا ہے کہ وہ مودی سے پلوامہ حملے پر سوال کریں گے۔
تیج بہادر وارانسی سے نریندر مودی کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے تھے لیکن اب سماجوادی پارٹی نے انہیں وارانسی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف امیدوار بنایا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں تیج بہادر کا کہنا تھا 'وزیراعظم نریندر مودی اپنی انتخابی مہم میں دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے دور میں ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اگر ایسا ہے تو پلوامہ کا حملہ کیسے ہوا؟‘ تیج بہادر نے کہا کہ 'اس حملے کی تحقیقات کیوں نہیں کروائی گئی'۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات اتنے ہی اچھے ہیں تو اتنے سارے جوان میری انتخابی مہم کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ تیج بہادر کا کہنا ہے کہ 997 جوانوں نے خود کشی کی ہے لیکن یہ بتاتے نہیں۔ لیکن ہمارے پاس اعداد و شمار ہیں 775 جوان شہید ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'پاکستان ہر روز سر چڑھ کر بولتا ہے اور یہ صرف الیکشن کے وقت بولتے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیج بہادر کا تعلق ریاست ہریانہ سے ہے۔ جب وہ بی ایس ایف میں تھے تو 2017 میں ان کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں انھوں نے فوجی جوانوں کو ملنے والے کھانے کی شکایت کی تھی۔ جس کے بعد انہیں فوج سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
ویڈیو شیئر کرنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے بھروسے کے ساتھ یہ ویڈیو پوسٹ کی تھی کیونکہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو لگتا تھا کہ انہیں ایک اچھا وزیراعظم مِلا ہے جو بار بار عوام سے اپیل کرتا ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں اور میری مدد کریں۔
تیج بہادر کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کے دوران گوا میں ایک ریلی میں انھوں نے چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا تھا کہ نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا ۔ ہم نے سوچا ہمارا وزیراعظم اتنا کام کر رہا ہے تو ہمیں بھی اپنی بات رکھنی چاہیے۔ ہم نے اس بھروسے ویڈیو پوسٹ کی کہ وزیراعظم ان کی مدد کریں گے۔ 'لیکن ملا کیا مجھے برخاست کر دیا گیا'۔
تیج بہادر کہتے ہیں کہ ان کا خاندان دانے دانے کو محتاج ہو گیا، یہاں تک کہ ان کا بیٹا اس دنیا سے چلا گیا۔
انھوں نے کہا، 'میں تسلیم کرتا ہوں کہ ویڈیو شیئر کر کے میں نے فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی لیکن میرا جو اپنا فنڈ ہے وہ تو مجھے دے دو، اکیس سال جو میں نے فوج میں نوکری کی ہے اس کی پینشن تو دو اور اگر وہ بھی نہیں دیتے تو بدعنوان اہلکاروں کو تو سزآ دو لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے، جو بدعنوان ہیں انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے اور جو آواز اٹھا رہا ہے اسے ختم کر دو، یہ ان کی پالیسی ہے'۔
تیج بہادر کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام پارٹیوں کو خط لکھا تھا جس کے بعد سماجوادی پارٹی کی جانب سے انہیں فون آیا اور انہیں امیدار بنا دیا گیا۔