انڈیا کے عام انتخابات میں ڈھائی ہزار سال پرانی دیو مالائی کہانی مرکزِ توجہ کیوں؟

انڈیا میں عام انتخابات کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو چوتھے مرحلے میں نو ریاستوں میں 72 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جن کے لیے 960 امیدوار میدان میں ہیں۔

ان انتخابات کے دوران 2500 برس قدیم ہندو دیو مالائی کہانی رامائن ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بی بی سی میں مذہبی امور کی رپورٹر پریینکا پاٹھک اس کی وضاحت کر رہی ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے۔

گذشتہ انتخابات کی طرح رواں سال بھی بہت سے ہندو قدامت پسندوں کے مابین گفتگو کا محور رامائن اور اس کہانی کے مرکزی کردار رام ہیں۔

حالیہ مہینوں میں انڈیا کے شمالی شہر ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے دیرینہ مطالبے نے ایک مرتبہ پھر زور پکڑ لیا ہے۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ یہ رام کی جنم بھومی (جائے پیدائش) ہے اور یہ مطالبہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔

سخت گیر ہندو یہ مندر اسی جگہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں 16 ویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد تھی جسے سنہ 1992 میں ہندو ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ بابری مسجد درحقیقت مسلمان حملہ آوروں نے ہندو مندر کو مسمار کر کے تعمیر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے انتخابی منشور میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک مرتبہ پھر سے رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔

گذشتہ انتخابات کی طرح بی جے پی کو یقین ہے کہ یہ وعدہ ہندو ووٹرز کو ان کی جانب راغب کرے گا۔ انتخابات سے قبل بی جے پی نے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کے مذہبی تہواروں کا انعقاد بھی کیا ہے۔

12 اپریل کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو تنظیموں نے رام لیلا میدان میں رام کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی تھی۔ رام لیلا میدان دارالحکومت دہلی کے وسط میں واقع ہے۔

کیسری یا زعفرانی پیراہن میں ملبوس اور ہاتھوں میں تلواریں تھامے لوگوں نے 'جے شری رام' کے نعرے بلند کیے تھے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کی دوبارہ تعمیر کریں گے۔

رامائن کی کہانی ہے کیا؟

رام نے یہاں کمان پر تیر چڑھا رکھا ہے۔ یہ منظر ہندوؤں کی رزمیہ نظم رامائن سے ماخوذ ہے۔ یہاں رام کو بدروحوں یا عفریت کے راجہ راون کے خلاف اخیر میں فتح سے ہمکنار ہونے کے لیے برہماستر (ہندو دیوتا برہما کا ہتھیار) چلانے کی تیاری میں دیکھا جا سکتا ہے۔

  • یہ کہانی رام سے متعلق ہے جو ایودھیا کا ایک محبوب شہزادہ ہے جسے اپنے دیوتا ہونے کا علم نہیں ہوتا۔
  • رام کی تاج پوشی سے پہلے ان کے والد ان کی سوتیلی والدہ کے کہنے پر انھیں سلطنت سے 14 برسوں کے لیے نکال دیتے ہیں۔
  • سلطنت سے نکالے جانے کے بعد وہ اپنی زوجہ سیتا اور بھائی لکشمن کے ساتھ انڈیا کے جنگلوں میں نکل جاتے ہیں اور پھر دس سروں والا بے رحم عفریتوں کا راجہ راون سیتا کو اغوا کر لیتا ہے۔
  • سیتا کو بچانے کے لیے رام کی راون سے جنگ ہوتی ہے جس میں راون کو شکست ہوتی ہے اور اس کے بعد رام عدل پر مبنی ایک سلطنت کی بنیاد رکھتا ہے۔
  • رام کی اچھائی کی تلاش پر مبنی کہانی انھیں ہندوؤں کے نزدیک ہیرو کا درجہ دیتی ہے، ایک ایسا ہیرو جو قربانی دیتا ہے جس میں جذبہ ایثار ہے۔
  • اور یہی وجہ ہے کہ یہ کہانی انڈیا کی سیاست میں چھائی ہوئی ہے۔

مندر کی دوبارہ تعمیر کی مہم کی قیادت بااثر ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کر رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم نے انڈیا میں کسی حد تک اجتماعی ہندو شناخت کی تشکیل کی ہے۔

آر ایس ایس حکمران جماعت بی جے پی کا نظریاتی سرچشمہ ہے اور رام مندر کی تعمیر کا آئیڈیا بیسویں صدی کے آغاز میں اس کی بنیاد بنا۔

تاہم اس مہم کو ایک صدی بعد نئی تحریک ملی۔

سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں اس حوالے سے ایک پیش رفت ہوئی۔ سب سے پہلے رامائن کی کہانی پر مبنی ایک ٹی وی پروگرام تیار کیا گیا جس کو آٹھ کروڑ ناظرین نے دیکھا اور اس کے ذریعے اس کہانی کے ہیرو رام کے لیے محبت و عقیدت کو دوبارہ اجاگر کیا گيا۔

اس سلسلہ وار پروگرام میں رامائن کی کہانی کے مختلف ورژن کو یکجا کیا گیا۔ اگرچہ اس کہانی کا کوئی آفیشل ورژن موجود نہیں ہے تاہم سنسکرت کے شاعر والمیکی کے تاریخی ورژن کو سب سے معتبر مانا جاتا ہے۔

اس کہانی سے متعلق 22 زبانوں میں لگ بھگ 3000 مختلف ورژن موجود ہیں جن میں سے کچھ میں راون کی بڑائی بیان کی جاتی ہے جبکہ کچھ میں کہا جاتا ہے کہ رام کے بھائی لکشمن نے در اصل شیطان بادشاہ راون کو ہلاک کیا تھا۔

عرشیہ ستار جنوبی ایشیا کی زبانوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی ہیں اور انھوں نے والمیکی کی رامائن کا سنکسرت سے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ٹی وی پروگرام کے ذریعے انڈیا کو رامائن کا ایک مخصوص بیانیہ ملا اور اس نے ملک کو ایک ہی طرح کا مذہب دیا جو کہ پہلے بہت متنوع تھا اور اس میں بہت سے طریقۂ زندگی شامل تھے۔

سنہ 1980 کی دہائی کے اختتام پر دوسری بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی جب راجیو گاندھی کی سربراہی میں سیاسی جماعت کانگرس، جو اپنے آپ کو سیکولر پارٹی کہتی ہے، نے دائیں بازو کی تنظیم ویشوا ہندو پریشد کے تعاون سے ایودھیا میں مندر کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد ہندو ووٹروں کو راغب کرنا تھا۔

تاہم یہ پلان کامیاب نہ ہو سکا بلکہ اس نے سیاست کے میدان میں نووارد جماعت بی جے پی کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہندو ووٹروں کو اپنے حق میں متحد کریں۔

ستمبر سنہ 1989 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر ایل کے اڈوانی نے مندر کی تعمیر کے لیے ملک گیر مہم شروع کی۔ پورے ملک سے مندر کی تعمیر کے لیے اینٹیں بھیجی جانے لگیں۔ یہ مہم مذہبی بنیادوں پر لوگوں کے جذبات کو ابھارنے میں کامیاب ہوئی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات بابری مسجد کے انہدام کی صورت میں نکلے۔ اور اس واقعہ نے ملک بھر میں فسادات کو بھڑکایا۔

اس کے بعد والے انتخابات میں بی جے پی کو بڑی کامیابی ملی۔ اور وہ پارٹی جس کی بنیاد محض 12 برس قبل پڑی تھی وہ ملکی سطح پر بڑی جماعت بن گئی۔

بی جے پی نے اتنی اہمیت حاصل کر لی کہ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں یا تو وہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی سربراہی کر رہی تھی یا حزب اختلاف کی بڑی جماعت تھی۔ بی جے پی کے لیے ایودھیا میں رام مندر کا معاملہ اپنے ہندو ووٹرز کو یکجا کرنے کا ذریعہ بنا۔

کہانی کا مشہور ورژن جس میں رام ہیرو ہے دوسری تنظیموں کے اتحاد کا باعث بھی بنا۔ اور اس کا مطلب یہ تھا اس کہانی کے دوسرے ورژنز کا اختتام ہونے لگا۔

مثال کے طور پر سنہ 2011 میں ہندو قوم پرست طالب علموں کی تنظیم اور دوسرے دائیں بازو کے گروپس نے دہلی یونیورسٹی کو مجبور کر دیا کہ وہ تاریخ کے نصاب سے شاعر اور رامائن کے سکالر اے کے رامانوجن کے مضمون کو نکال دے۔ اس مضمون میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ رامائن کے کتنے ورژنز موجود ہیں۔

ادبی ناقد اور مصنفہ نیلنجانا رائے نے سنہ 2011 میں اپنے بلاگ میں اس واقعہ سے متعلق لکھا کہ 'یہ سنہ 1980 اور 2000 کی دہائيوں میں ہندوستان میں عدم رواداری کے عام ماحول کا حصہ ہو سکتی ہے جو اس بات پر برسر پیکار ہے کہ کسے ملک کی تاریخ اور افسانوی داستانیں بتانے کا حق حاصل ہے۔'

تاہم رامائن کی کہانیوں کے دوسرے ورژنز کا ثقافتی نقصان قدامت پسند ہندوؤں کے لیے صرف ثانوی نقصان تھا۔

ان کا خیال تھا کہ اس دیو مالائی کہانی کے ذریعے ایک طرح سے ہندوؤں کا نشاط ثانیہ ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ہندوؤں کو اس کے ذریعے متحد کیا جا سکتا تھا اور ان کے مذہب کی احیا کی جا سکتی تھی جو ان کے خیال میں کہیں گم ہو گئی تھی اور جس کی تجدید کی جا سکتی تھی۔

مثال کے طور پر ستمبر سنہ 2017 میں انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں متبادل ادویات کے وزیر نے تجویز پیش کی کہ 3.6 ملین ڈالر خرچ کر کے سنجیونی (آب حیات قسم کی کوئی جڑی بوٹی) کو تلاش کیا جائے۔ سنجیونی ایک افسانوی جڑی بوٹی ہے جو اندھیرے میں چمکتی ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے رام اور لکشمن کو یقینی موت سے بچایا تھا۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی نے دعوی کیا کہ رامائن کے وقت سائنس اتنی ترقی یافتہ تھی کہ سیتا دراصل ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ جبکہ ایک انڈین یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دعوی کیا کہ راون کے پاس ہوائی جہازوں کا ایک بیڑہ تھا۔

اس نوعیت کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں انڈین سیاست دانوں اور سکالرز نے کوشش کی کہ اس دیو مالائی کہانی کو مذید شہ دی جائے اور اس کی اہمیت کو قوت عطا کی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس کے ذریعے ملک کے عظیم ماضی کی یادیں تازہ کی ہیں جبکہ ماضی قدیم کے اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مستقبل میں بھی ان عظیم کامیابیوں کو دہرانے کی امید جگائی ہے۔