پاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے تاریخی کم بیک اور راولپنڈیز کی ناکامی کی پیچھے چھپی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
حیدرآباد کنگزمین اور راولپنڈیز دونوں نے پاکستان سُپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن میں پُرجوش عزائم اور غیرمعمولی مالی طاقت کے ساتھ قدم رکھا تھا۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری، معروف ناموں کی شمولیت اور بڑی توقعات کے باعث یہ دونوں نئی فرنچائزز ٹورنامنٹ کے آغاز ہی سے توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔
دونوں ٹیموں نے ٹورنامنٹ کا آغاز مسلسل چار شکستوں سے کیا، لیکن سیزن کے وسط میں اُن کی راہیں یکسر جدا ہو گئیں۔
حیدرآباد کنگزمین نے پی ایس ایل کی تاریخ کے حیران کُن کم بیک میں سے ایک کرتے ہوئے اگلے چھ میں سے پانچ میچ جیتے، پلے آف مرحلے تک رسائی حاصل کی اور بالآخر فائنل کھیلنے میں کامیاب رہی۔
اس کے برعکس راولپنڈیز مجموعی طور پر دس میچوں میں صرف ایک میں ہی کامیابی حاصل کر پائی اور پوائنٹس ٹیبل کے آخری نمبر کی حقدار قرار پائی۔
یوں دونوں ٹیموں کی متضاد مہمات اس سیزن کی نمایاں ترین کہانیوں میں شامل رہیں۔
بی بی سی اردو نے دونوں فرنچائزز سے بات کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مضبوط سکواڈز رکھنے کے باوجود دونوں ٹیموں کے نتائج اتنے مختلف کیوں رہے، اور وہ کون سے عوامل تھے جنھوں نے حیدرآباد کو بحران سے نکال کر کامیابی کی راہ پر گامزن کیا، جبکہ راولپنڈیز مسلسل دباؤ اور ناکامی کی دلدل میں پھنستی چلی گئی۔
حیدرآباد کنگزمین کے مالک فواد سرور نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’اگر ہم ایک اور میچ ہار جاتے تو حالات ہمارے لیے بھی مشکل ہو سکتے تھے۔ اُس وقت دباؤ ضرور بڑھ رہا تھا اور حوصلے متاثر ہونے کا خدشہ تھا، تاہم ٹیم نے ہار ماننے کے بجائے ہمت اور ثابت قدمی برقرار رکھی، اور یہی مضبوط جذبہ بعد میں ٹیم کی واپسی میں اہم ثابت ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں صرف ایک لمحے اور تھوڑی سی قسمت کی ضرورت تھی، کیونکہ ابتدائی چار میچوں کے دوران جتنا بُرا ہو سکتا تھا، وہ واقعی ہو رہا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’ہر ٹیم کا مقصد اچھا آغاز اور مسلسل بہتری ہوتا ہے، اور ہماری نیت بھی یہی تھی، مگر نتائج توقع کے مطابق نہیں آ رہے تھے۔ اصل مسئلہ ہماری مجموعی کرکٹ تھی، خاص طور پر پلیئنگ الیون اور کمبینیشنز میں بہتری کی ضرورت تھی۔‘
فواد کہتے ہیں کہ کاغذ پر ہر سکواڈ مضبوط لگتا ہے، لیکن آخر میں فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کون سی ٹیم بہتر ردھم میں ہے اور حالات کو کیسے سنبھالتی ہے۔
’مسلسل چار شکستوں کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ چیزوں کو دوبارہ ترتیب دینی ہو گی۔ اس دوران دباؤ ضرور بڑھ رہا تھا، مگر خوش قسمتی سے ٹیم کا مورال برقرار رہا۔ اسی لیے ہم نے سادہ اور سمارٹ کرکٹ کھیلنے پر توجہ دی تاکہ مزید غلطیاں نہ ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایسے کھلاڑیوں کو ترجیح دی جو ذمہ داری لے سکیں اور دباؤ میں بہتر ردعمل دیں۔ یہ بھی اہم تھا کہ کھلاڑیوں میں ذاتی موٹیویشن ہو، کیونکہ صرف نام یا تجربہ کافی نہیں ہوتا۔ ہمارا یقین تھا کہ صحیح ماحول میں یہ کھلاڑی ضرور کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’کئی بار خود ہمیں بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود نتائج کیوں نہیں آ پا رہے، لیکن ہم نے کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا اور ان پر غیر ضروری دباؤ نہیں ڈالا۔ خاص طور پر نوجوان مقامی کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں بہترین ردعمل دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آخر میں، قیادت اور کوچنگ سٹاف نے ٹیم کو سنبھالے رکھا اور اصل کریڈٹ کھلاڑیوں کو جاتا ہے جنھوں نے حالات کا سامنا کیا اور ٹیم کو واپس مقابلے میں لانے میں کردار ادا کیا۔‘
پہلا سیزن اور غیر ملکی کپتان: کیا یہ رسک لینے والا فیصلہ تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حیدرآباد کنگزمین نے آسٹریلوی کرکٹر مارنوس لبوشین کو اپنے پہلے سیزن میں کپتان مقرر کیا تھا، جو ایک غیر متوقع فیصلہ تھا کیونکہ لبوشین کے پاس ٹی ٹوئنٹی کپتانی کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس فارمیٹ کے باقاعدہ یا مستقل کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔
لبوشین نے اس سے قبل کسی بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ مکمل طور پر ٹی ٹوئنٹی سرکٹ میں فعال رہے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ٹاپ آرڈر بیٹنگ کے لیے جانے جاتے ہیں اور اُن کا شمار ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کے اہم اور مستقل مزاج بلے بازوں میں ہوتا ہے، جہاں ان کی مضبوط تکنیک اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت کھل کر سامنے آتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کی بات کی جائے تو لبوشین اب تک صرف ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں، جبکہ جولائی 2024 کے بعد سے انھوں نے صرف چار ٹی ٹوئنٹی میچز ہی کھیلے تھے۔
جب فواد سرور سے ایسے کپتان کے انتخاب کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے پاس ٹی ٹوئنٹی کا کوئی تجربہ نہیں تھا تو انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک کپتانی کا سوال ہے تو ہم لوگ چاہتے تھے کہ مقامی طور پر کسی کو دیکھا جائے۔‘
’میرے ذہن میں یہ تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی مقامی ہے اور کل کو اگر ٹیم پرفارم نہیں کرتی تو تنقید کافی بڑھ سکتی ہے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ ہمارے کچھ کھلاڑی جیسا کہ صائم ایوب، عثمان خان یا عرفان وغیرہ، تو ذہن میں یہی بات تھی کہ انھیں تھوڑا ریلیکس رکھیں اور انھیں گیم پر فوکس کرنے دیں کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ پہلے اُن کی فارم کو بحال کیا جائے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایمانداری سے کہوں تو صائم سے جب بات ہوئی تو اس نے پہلے ہی کہہ دیا کہ اگر آپ کپتانی کے لیے میرا نام سوچ رہے ہیں تو میں درخواست کروں گا کہ ایسا نہ کریں، یہ ایسی چھوٹی چیزیں تھیں جو دیکھ کر ہمیں بھی خوشی ہوئی کہ پلیئرز کے اندر خود بھی ذمہ داری ہے اور ان کے اردگرد جو چیزیں ہو رہی ہیں وہ ان سے باخبر ہیں اور اس طرح پھر مارنس والا فیصلہ ہوا جو اچھا ثابت ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مارنس کا جیسے ہی نام آیا تو پھر کوئی اور بات ہی نہیں کی، میں نے کہا کہ انھیں ہی کر لو کیونکہ وہ آسٹریلیا کی جانب سے کھیل چکے ہیں اور جیسے ان کا کیریکٹر ہے، جس طرح وہ خود کو لے کر جاتے ہیں اور وہ ہر چیز میں شامل ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہی تھا کہ وہ ایسا کھلاڑی ہے جو اپنے کریئر میں خود کو منوا چکا ہے۔‘
’کوچز سے بھی اُن کے بارے میں فیڈبیک لیا تو پتہ چلا کہ وہ گھلنے ملنے والا کھلاڑی ہے اور بہت اچھا گائیڈ بھی، اور یہ چیز ہمارے لیے بہت اہم تھی۔‘
فواد سرور کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی ٹیم کو کہا تھا کہ ہم تو اسی دن جیت گئے تھے جس دن ہم نے ٹیم لے لی تھی، کیونکہ کوئی امید نہیں کر رہا تھا کہ اس شہر کو ٹیم ملے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں یہی کہوں گا کہ بولنے میں بہت اچھا ہے کہ ہم نے عزت کمائی ہے اور اس بات سے میں مطمئن ہوں۔ مگر دوسری طرف ٹرافی نہیں جیت سکے، اس لیے میں کہوں گا کہ کام ابھی ختم نہیں ہوا اور یہیں سے آگے کوشش کریں گے۔‘
’ہم اپنی آئیڈیل الیون کے اہم کھلاڑی کھو بیٹھے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈیز کا نام دراصل کبھی بھی پی ایس ایل کی آکشن کا حصہ نہیں تھا۔ نیلامی کے لیے جو فرنچائز پیش کی گئی تھی وہ ملتان سلطانز تھی، لیکن نئے مالکان نے فرنچائز حاصل کرنے کے بعد اس کا نام تبدیل کر دیا۔
اس سال ملتان سلطانز کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، اور نئے مالکان نے ٹیم کو راولپنڈی کے نام سے ری برانڈ کیا۔ تاہم نئی انتظامیہ نے گذشتہ سیزن کی سلطانز ٹیم کے چند اہم کھلاڑی برقرار رکھے، جن میں کپتان محمد رضوان بھی شامل تھے۔
راولپنڈیز نے، تجزیہ کاروں کے مطابق، پی ایس ایل کے مضبوط ترین سکواڈز میں سے ایک تیار کیا۔ آکشن میں بھی انھوں نے نہایت سوچ سمجھ کر فیصلے کیے اور ماہرین کی رائے میں ان کے پاس ہر شعبے میں متوازن اور مکمل ٹیم موجود تھی، جسے ٹورنامنٹ کے بہترین سکواڈز میں شمار کیا جا رہا تھا۔
ڈیرل مچل پی ایس ایل آکشن میں سب سے مہنگے غیر ملکی کھلاڑی ثابت ہوئے اور انھیں ٹورنامنٹ کے نمایاں ترین بیٹنگ ٹیلنٹ میں شمار کیا جا رہا تھا۔ یاسر خان، سیم بلنگز اور نوجوان عبداللہ فضل کے ساتھ مل کر پنڈیز نے جارحانہ انداز کے ٹاپ آرڈر بیٹرز کا ایک مضبوط کور تیار تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیم کے پاس سپن بولنگ کا بھی متوازن اٹیک موجود تھا، جس میں رشاد حسین، آصف آفریدی اور 21 سالہ سعد مسعود سکواڈ کا حصہ تھے۔
کاغذ پر مضبوط ترین سکواڈ ہونے کے باوجود یہ ٹیم میدان میں اپنی طاقت کا اظہار نہ کر سکی۔ ایک کے بعد ایک شکست نے ان کا تعاقب کیا، اور پورے ٹورنامنٹ میں وہ کسی بھی حریف کے لیے خاطر خواہ خطرہ ثابت نہ ہو سکے۔
مایوس کن سیزن پر بات کرتے ہوئے ہیڈ آف کمپیٹیٹو سٹریٹیجی اور اسسٹنٹ کوچ عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ آکشن میں جس اصل ٹیم کا انتخاب کیا گیا تھا، وہ انجریز اور اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث بُری طرح متاثر ہو گئی، جس کا اثر پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی پر پڑا۔
’ہمیں مسلسل دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے زمان خان انجری کا شکار ہوئے، پھر نسیم شاہ زخمی ہو گئے، لوری ایونز اور جیک فریزر میک گرک دستیاب نہ ہو سکے، اور پھر مڈ سیزن میں رشاد حسین بھی ٹیم چھوڑ گئے۔‘
’اس وجہ سے ہمارا کمبینیشن بار بار ٹوٹتا رہا۔ ٹی20 کرکٹ مکمل طور پر مومینٹم کا کھیل ہے۔ جب آپ جیتنا شروع کرتے ہیں تو پھر جیت کا سلسلہ چل پڑتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس ایسا کمبینیشن ہو جو اہم لمحات کو سنبھال سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’پشاور زلمی کے خلاف پہلا میچ، جس میں ہم ہارے، وہی لمحہ تھا جہاں ہمارا مومینٹم ٹوٹ گیا۔ انھیں تقریباً 14 سے 15 رنز فی اوور درکار تھے اور ہمارے بولر نے وہ رنز دے دیے، جس کے بعد ہم دباؤ میں آ گئے۔‘
’عام طور پر ٹیم کی حکمتِ عملی یہ ہوتی ہے کہ پاور پلے میں چند وکٹیں حاصل کی جائیں، مڈل اوورز میں سپنرز دباؤ ڈالیں اور وکٹیں لیں، اور پھر ڈیتھ اوورز میں میچ پر کنٹرول کیا جائے، لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔‘
’کمبینیشن کے مسائل کی وجہ سے ہم ان اہم فیزز کو استعمال نہیں کر سکے جس طرح دوسری ٹیموں نے کیا۔ ہم پیچھے رہ گئے۔ ہم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے رہے اور ڈیتھ اوورز میں بھی ہماری کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ البتہ اگر آپ غور کریں تو ہمارا مڈل آرڈر کافی حد تک سیٹل تھا۔ بلنگز، مچ اور فورسٹر نے اچھا پرفارم کیا، لیکن ہم پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں فائدہ نہ اٹھا سکے۔‘
ٹی 20 کرکٹ میں فرق بہت باریک ہوتا ہے۔ اس فارمیٹ میں آپ کو غلطیاں سدھارنے کا زیادہ موقع نہیں ملتا۔ ایک بار اگر آپ سے غلطی ہوجائے تو واپسی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔
اُن کے مطابق ’میچ کے چھ اہم مراحل ہوتے ہیں — دونوں اننگز میں پاور پلے، مڈل اوورز اور ڈیتھ اوورز۔ ان چھ میں سے کم از کم چار مرحلے آپ کو جیتنے پڑتے ہیں تاکہ آپ میچ میں رہ سکیں۔ کبھی ہم دو مرحلے جیتے، کبھی تین، لیکن چار سے آگے نہیں جا سکے۔‘
’دوسری جانب حیدرآباد کو زیادہ تبدیلیاں نہیں کرنا پڑیں۔ ان کے پاس ایک فکس سکواڈ تھا اور وہ صرف اپنے پلیئنگ الیون میں معمولی ردوبدل کر کے بہتر انداز میں کھیلتے رہے۔ دوسری جانب ہم اپنی آئیڈیل الیون کے اہم کھلاڑی کھو بیٹھے۔‘
عبدالرحمٰن کے مطابق ’جب ہم نے آکشن ٹیبل پر ٹیم بنائی تو پہلے اپنی بہترین الیون تیار کی اور پھر اس کے مطابق بینچ بنایا، لیکن بعد میں ہم اپنی اسی بہترین الیون کے پانچ کھلاڑیوں سے محروم ہو گئے، اور یہی وہ مقام تھا جہاں سے ہمارا مسئلہ شروع ہوا۔‘

























