حنین شاہ نے آخری اوور میں ’سلو اوور ریٹ‘ پر ملنے والی سزا کو اپنی چال میں کیسے بدل دیا

،تصویر کا ذریعہPSL/X
ویسے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اگر ٹی ٹوئنٹی میچ میں آخری اوور میں محض چھ رنز درکار ہوں تو بولنگ سائیڈ کے ہاتھ سے میچ نکل چکا ہے۔ مگر پی ایس ایل 11 کے دوسرے ایلیمنیٹر میں ایسا نہیں ہوا۔
سکور بورڈ پر 187 رنز کا ہدف دینے کے بعد حیدر آباد کنگزمین کی ٹیم اس وقت فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے کے قریب تھی جب اسلام آباد یونائیٹڈ کو آخری اوور میں صرف چھ رنز درکار تھے۔
اس وقت کریز پر کریس گرین اور فہیم اشرف جیسے دو سیٹ بلے باز بھی کھڑے تھے جن کے درمیان صرف 13 گیندوں پر 29 رنز کی شراکت قائم ہو چکی تھی۔
مسئلہ یہ بھی تھا کہ سلو اوور ریٹ کی وجہ سے امپائرز نے حیدر آباد کو آخری اوور میں پانچواں فیلڈر دائرے سے باہر رکھنے سے روک دیا تھا۔
مگر حیدر آباد کے لیے یہ آخری اوور کرانے والے بولر حنین شاہ کچھ اور ہی سوچ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے کپتان مارنس لبوشین سے کہا کہ ’میں چھ کے چھ یارکر ماروں گا۔‘
آخری اوور میں میچ کا پانسہ کچھ یوں پلٹا کہ اسلام آباد کی ٹیم پی ایس ایل 11 کے فائنل میں پہنچتے پہنچتے رہ گئی اور حیدر آباد کی ٹیم محض دو رنز سے جیت گئی۔
اب تین مئی کو پشاور زلمی کا مقابلہ حیدر آباد کنگزمین سے ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حنین شاہ کا آخری اوور اور یارکرز کی بارش
اس میچ میں حیدر آباد کے ٹاپ سکورر عثمان خان تھے جنھوں نے پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 30 گیندوں پر 60 رنز بنائے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ اسلام آباد کی ٹیم چھ وکٹیں گِرنے کے باوجود جیت کی جانب گامزن تھی۔
حنین شاہ سے پہلے محمد علی کا 19واں اوور خاصا مہنگا ثابت ہوا تھا جس میں دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 22 رنز بنے تھے۔ شاید اس کے بعد کچھ لوگوں نے ٹی وی پر چینل بھی بدل دیا ہو۔
لیکن حنین شاہ نے ثابت کیا کہ آخری گیند تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
حنین شاہ کی پہلی گیند یارکر نہیں تھی مگر اس پر کریس گرین کوئی رن نہیں بنا سکے کیونکہ یہ ان کے بلے سے دور گِری تھی۔ اگلی تین گیندیں یارکر تھیں جن پر صرف ایک رن بنا اور فہیم اشرف کی وکٹ گِری۔
نئے آنے والے بلے باز عماد وسیم نے پانچویں گیند پر ایک رن بٹورا جس کے بعد آخری گیند پر چار رنز درکار تھے۔
لیکن کریس گرین اس آخری گیند، جو ایک اِن سوئنگنگ یارکر تھا، پر بے بس دکھائی دیے۔ گیند ان کی ٹانگ سے ٹکرائی اور لیگ بائی کا ایک رن ہی بن سکا۔

،تصویر کا ذریعہPSL/X
’سلو اوور ریٹ‘ پر دائرے سے باہر صرف چار فیلڈرز
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آخری گیند کے بعد کے مناظر دیدنی تھے۔ حیدر آباد کنگزمین کے کپتان لبوشین سمیت تمام کھلاڑی اور سٹاف حنین شاہ کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور اس جیت کو سیلیبریٹ کر رہے تھے۔
مگر اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی اس بے یقینی میں مبتلا تھے کہ وہ اتنا قریب آ کر یہ میچ کیسے ہار گئے۔
اس میچ میں حنین نے 18ویں اوور میں مارک چیپمین کو بھی آؤٹ کیا جو 43 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔
میچ کے بعد دیے انٹرویو میں حنین شاہ نے کہا کہ جب وہ آخری اوور کرانے آئے تو انھوں نے کپتان مارنس سے کہا کہ 'ہمارے پاس مارجن نہیں ہے۔ میں چھ کے چھ یارکر ماروں گا، فیلڈنگ سٹریٹ رکھیں گے۔ اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔۔۔ دماغ میں ایک ہی چیز رکھی کہ یقین کرنا ہے اور آخر تک یقین کیا۔'
اہم بات یہ بھی تھی کہ سلو اوور ریٹ، یعنی ٹیم کی طرف سے مقررہ وقت پر 20 اوورز مکمل نہ کر پانے، کی وجہ سے حیدر آباد کے کپتان آخری اوور میں صرف چار فیلڈرز کو دائرے کے باہر رکھ سکتے تھے۔
مارنس لبوشین نے میچ کے بعد یہ تسلیم کیا کہ شاید اسی وجہ سے پلان آسان ہو گیا تھا۔
’ہمارے پاس باؤنڈری پر صرف چار فیلڈرز تھے تو اس سے چیزیں آسان ہو گئیں کہ سب کو سیدھی باؤنڈری پر رکھو اور بس چھ یارکرز کرانے کی کوشش کرو۔‘

،تصویر کا ذریعہX
’حنین شاہ اپنی فرنچائز کے لیے سٹار ثابت ہوئے‘
میچ کے بعد جہاں رمیز راجہ نے حنین کو 'شو سٹاپر' قرار دیا تو وہیں صہیب مقصود نے 'یو بیوٹی' کہہ کر ان کی بولنگ کی تعریف کی۔ سابق پاکستانی کپتان محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ حنین شاہ اپنی فرنچائز کے لیے ایک 'سٹار' ثابت ہوئے ہیں۔
عبد اللہ نامی صارف نے لکھا کہ 'پی ایس ایل 2026 کی نیلامی سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ نے حنین شاہ کو ریلیز کر دیا تھا۔ پی ایس ایل 2026 کے ایلیمنیٹر میں حنین شاہ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔'
سوشل میڈیا پر صارفین نے نہ صرف حنین شاہ کی بولنگ بلکہ حسان خان کی فیلڈنگ کو بھی خوب سراہا ہے۔
مظہر ارشد نے لکھا کہ 17ویں اوور میں میچ کا رُخ اس وقت پلٹ گیا تھا جب حسان خان نے چھلانگ لگا کر چار رنز روکے تھے اور اس کے بعد حیدر آباد کو دو رنز سے فتح حاصل ہوئی۔
ادھر جلال حیدر نے طنز کیا کہ یہ ’شاہین اور حارث رؤف کا صرف خواب ہو سکتا ہے۔‘ قادر خواجہ نے بھی کچھ یہی مشورہ دیا کہ ’پاکستان کے بڑے بولرز کو کم سے کم آج حنین شاہ کے آخری اوورز سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔‘
ایک دوسرے صارف نے تبصرہ کیا کہ ’نسیم شاہ کا ٹویٹ اور حنین شاہ کا آخری اوور وفاقی حکومت اور وفاقی ٹیم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔‘
حنین شاہ کو بعض صارفین نے اس لیے بھی داد دی ہے کہ ’سلو اوور ریٹ کے باعث دائرے کے اندر ایک اضافی فیلڈر کے ساتھ بولنگ کرنے کے باوجود حنین شاہ نے آخری اوور میں صرف تین رنز دیے۔‘

























