پاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟

Asim Munir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, روحان احمد
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

نومبر 2022 میں جب عاصم منیر کو تھری سٹار جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر پاکستانی فوج کا سربراہ بنایا گیا تھا تو اُس وقت ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا اور ایک کامیاب تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالے جانے والے عمران خان ملک میں 'حقیقی آزادی' کی تحریک چلا رہے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب سابق وزیرِ اعظم کے حامی سڑکوں پر اپنے رہنما کی اقتدار سے بیدخلی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جبکہ عمران خان براہ راست فوج پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو ختم کرنے کے الزامات لگا رہے تھے اور اِسی تناظر میں فوج کے نئے سربراہ بننے والے جنرل عاصم منیر کو تحریک انصاف کے حامیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر بھی سخت تنقید کا سامنا تھا۔

فوج اور اُس وقت کی حکومت کی طرف سے عمران خان اور تحریک انصاف کے الزامات کی بارہا تردید کی گئی۔

وفاقی دارالحکومت میں واقع اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے نتیجے میں نو مئی 2023 کو ملک میں بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے ہوئے، جن کے دوران راولپنڈی میں واقع پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر سمیت دیگر فوجی تنصیبات کو مشتعل افراد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان پرتشدد مظاہروں کے مقدمات عمران خان سمیت پارٹی کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قائم کیے گئے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کا دعویٰ رہا ہے کہ فوج کی قیادت نے انھیں ’انتقام کا نشانہ‘ بنایا۔

بظاہر نو مئی کے دن نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔

فروری 2024 میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت وجود میں آئی اور اس کے لگ بھگ سوا سال بعد انڈیا، پاکستان جنگ نے جنرل عاصم منیر کو نہ صرف فیلڈ مارشل عاصم منیر بنایا بلکہ گذشتہ ہفتوں کے دوران وہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر ایک اہم ثالث بن کر بھی اُبھرے۔

واشنگٹن میں دیگر شخصیات کے ہمراہ ایک ملاقات کے دوران عاصم منیر سے ’مختصر‘ بات چیت کا دعویٰ کرنے والے نیولائنز انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’جب عاصم منیر فوج کے سربراہ بنے تو ملک مشکلات کا شکار تھا، عمران خان 'انقلاب' لانے کے لیے نکلے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ فوج بھی اُن کے خلاف ہے لیکن وہ ہر مشکل سے نکلنے میں کامیاب رہے۔‘

تاہم اس سفر کے دوران کچھ اہم واقعات بھی پیش آئے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو نہ صرف ملک کی تاریخ کا دوسرا فیلڈ مارشل بنا دیا بلکہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دنیا کی دیگر بااثر شخصیات کی توجہ کا مرکز بھی بنایا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں تقریباً چار دنوں پر محیط جنگ لڑی گئی، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر نہ صرف میزائل اور ڈرون حملے کیے بلکہ اسلام آباد نے نئی دہلی کے رفال طیاروں سمیت متعدد جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔

ایشیا گروپ میں پارٹنر اور چیف پروڈکٹ آفیسر عزیر یونس نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’انڈیا کے ساتھ مئی میں ہونے والا تنازع عاصم منیر اور پاکستان دونوں کے لیے اہم موڑ ثابت ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں داخلی طور پر اس (جنگ) سے لوگوں کو پیغام ملا کہ پاکستانی فوج میں بھرپور جواب دینے کی طاقت موجود ہے۔ اور بیرونی طور پر علاقائی اور عالمی طاقتوں کو یہ اشارہ ملا کہ بڑے سیاسی و معاشی مسائل کے باوجود پاکستان کے پاس ایسی عسکری قوت موجود ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

انڈیا کے خلاف اِسی مختصر جنگ کے بعد حکومتِ پاکستان نے عاصم منیر کو ترقی دی اور وہ فائیو سٹار جنرل بن گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا میں جنگ بندی اُن ہی کی کاوشوں کی بدولت ہوئی، اسلام آباد برملا ان کے اس دعوے کی تائید کرتا آیا ہے۔

ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ اِسی جنگ اور پھر اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی نے عاصم منیر کو صدر ٹرمپ کا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ بنایا۔

’میرے خیال میں جس طرح سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انڈیا کے ساتھ جنگ کو ہینڈل کیا، اس سے بھی امریکی صدر کو یہ پیغام گیا ہو گا کہ وہ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد شخصیت ہیں۔‘

فوجی سربراہ سے بااثر شخصیت تک

Islamabad

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم انڈیا کے خلاف جنگ کے بعد واشنگٹن میں موجود بعض تجزیہ کاروں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی کو محسوس کیا۔

امریکہ میں قائم انسٹیٹیوٹ فار گلوبل افیئرز کی نان ریزیڈنٹ فیلو اور خارجہ امور کی ماہر ڈاکٹر سحر خان نے واشنگٹن میں عاصم منیر کو دو دوروں کے دوران قریب سے دیکھا ہے۔

عاصم منیر نے بطور پاکستانی فوج کے سربراہ امریکہ کا پہلا دورہ دسمبر 2023 میں کیا تھا اور ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ ’اُس وقت وہ بہت خاموش تھے، زیادہ نہیں بولے، وہ زیادہ پُر اعتماد بھی نہیں لگ رہے تھے۔‘

’واشنگٹن میں لوگ جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل راحیل شریف جیسے کُھل بات کرنے والے لوگوں کو دیکھنے کے عادی تھے۔‘

لیکن وہ کہتی ہیں کہ جب فیلڈ مارشل عاصم منیر دوسری مرتبہ واشنگٹن آئے تو لوگ اُن سے ’متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔‘

’جب وہ جون 2025 میں آئے، تو بہت پُراعتماد تھے اور یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بالکل بعد کا وقت تھا۔ لوگ اس لیے بھی متاثر ہوئے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جو اس وقت درپیش بحران کو سنبھالنے کی کوشش کی، عاصم منیر نے اسے امریکہ کے ساتھ اور صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔‘

جب عاصم منیر نے بطور آرمی چیف چارج سنبھالا تو اس وقت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید اُن کے چیف آف جنرل سٹاف تھے۔

Tehran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اُس وقت سے جانتے ہیں جب وہ ایک جوان آفیسر تھے۔

’وہ زیادہ میل جول پسند نہیں کرتے، آپ انھیں گپ شپ کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔‘

عاصم منیر صرف ٹرمپ کے ہی ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ نہیں بلکہ وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ دیگر ممالک کے دورے کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

کبھی وہ چین میں نظر آتے ہیں، کبھی سعودی عرب میں اور کبھی ایران میں۔ جب پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ عاصم منیر بھی وہاں موجود تھے۔

پاکستان میں سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خارجہ امور سے متعلق فیصلہ سازی میں موجودہ حکومت کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار

رواں برس 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں اور جنگ کی شروعات کے بعد پاکستان نے متحرک انداز میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی پیشکش فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گذشتہ برس ہی کر دی تھی۔

جون 2025 میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تھے اور بی بی سی نے اُس وقت رپورٹ کیا تھا کہ دونوں کی ملاقات میں ایران کا ذکر آیا تھا۔

اس ملاقات کے بعد عاصم منیر نے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے میں ایک کھانے کے دوران کچھ افراد سے ملاقات بھی کی تھی، جن میں متعدد پاکستانی امریکی خارجہ پالیسی ماہرین بھی شامل تھے۔

ڈاکٹر کامران بخاری کے مطابق وہ بھی اُن افراد میں شامل تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا تھا کہ ’ہم (پاکستان) نے انھیں (صدر ٹرمپ) بتایا کہ سفارتکاری ہی کشیدگی کم کرنے کا طریقہ کار ہے اور ہم (پاکستان) آپ (امریکہ) کی مدد کر سکتے ہیں۔‘

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کے ممالک سے رابطے بڑھا کر اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی، وہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی صدر ٹرمپ سمیت امریکہ اور ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت سے رابطے میں رہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کچھ دن قبل بی بی سی اردو کو صدر ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی تھی۔

Pakistan KSA

،تصویر کا ذریعہPakistan Prime Minister's Office

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دور 11 اپریل کو ہوا تھا اور اس دوران فریقین کے ہمراہ کمرے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔

یہ مذاکرات بےنتیجہ ختم ہوئے لیکن اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بات چیت جاری رہے گی۔

تہران اور واشنگٹن میں جنگ بندی بھی، صدر ٹرمپ کے مطابق، پاکستان کی درخواست پر ہی کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ اب کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں نہیں ہو گا، تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ان مذاکرات میں شامل رہے گا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں تک رسائی رکھنے والے عاصم منیر آخر دونوں ممالک کے لیے بطور ثالث قابلِ قبول کیوں ہیں؟

مبصرین کہتے ہیں کہ ایران، خلیجی ممالک اور اب امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات پاکستان کو ایک موزوں ثالث بناتا ہے۔

ایشیا گروپ سے منسلک عزیر یونس کہتے ہیں: ’عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان تمام اہم ممالک کے لیے ایک اہم شراکت دار بن کے سامنے آیا ہے۔‘

’پاکستان نے ایسا سعودی عرب، چین اور امریکہ جیسے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی قومی سلامتی کی ترجیحات کو آگے مثبت طریقے سے آگے بڑھا کر کیا ہے۔‘

ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ’کامیاب ثالث‘ اس لیے بھی ہیں کیونکہ وہ ایران اور امریکہ کی ’ریڈلائنز‘ کو سمجھتے ہیں۔ ’وہ امریکہ کو بتا سکتے ہیں کہ ایران کیا چاہتا ہے اور ایران کو بتا سکتے ہیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے۔‘

سابق تھری سٹار جنرل محمد سعید کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک مؤثر ثالث ثابت ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کی عسکری اور انٹیلیجنس قیادت سے دیرینہ تعلقات ہیں۔

’ان کے ایران کے انٹیلیجنس چینل اور پاسدارانِ انقلاب سے اس وقت سے روابط ہیں جب وہ سنہ 2016 میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس تھے اور پھر 2018 اور 2019 میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ پھر وہ آخری چار برسوں میں پاکستانی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔‘

Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم ڈاکٹر کامران بخاری کے مطابق صدر ٹرمپ سے ذاتی تعلقات نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مزید اہم بنا دیا۔

’صدر ٹرمپ پروٹوکول کو زیادہ فالو نہیں کرتے، وہ یہ نہیں کہتے کہ کیونکہ میں صدر ہوں اس لیے اس ملک کے وزیرِ اعظم سے تعلقات رکھوں۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس ملک میں طاقت کس کے پاس ہے؟ یہ واضح ہے کہ وہ عاصم منیر کے پاس ہے۔‘

تاہم ایران کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ تہران کے پاس اور کوئی چوائس نہیں ہے اور اگر فیلڈ مارشل کے علاوہ کوئی اور جنرل ہوتا تب بھی ایران نے اسے قبول کرنا تھا۔

’بتائیں کون کروائے گا ثالثی؟ ترکی بھی ان کا حریف ہے، اس پر تین میزائل داغے ہیں ایران نے، سعودی عرب نہیں کر سکتا، چین اور روس اس کھیل کا حصہ نہیں ہیں اور عمانی سفارتی چینل بھی ختم ہو گیا تھا۔‘

’ایران کو بھی معلوم ہے کہ یہ شخص (عاصم منیر) وائٹ ہاؤس قربت رکھتا ہے، جس کے سعودیوں سے تعلقات ہیں اور ان کے ترکی کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔‘

تاہم لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ عاصم منیر کو اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ ’دو ٹوک انداز میں فیصلے لیتے ہیں اور واضح بات کرنے کے عادی ہیں۔‘

انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پسِ منظر میں جاتی تنقید

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بیرونِ ملک قد بڑھ رہا ہے اور ملک میں کچھ عرصے پہلے تک اُن پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے جو الزامات تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر ناقدین عائد کرتے تھے وہ بظاہر پس منظر میں جاتے نظر آئے۔

پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عمران خان نے ماضی میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر مبینہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جن کی فوج کی جانب سے متعدد مرتبہ تردید بھی جاتی رہی ہے۔

عمران خان فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ماضی کے آمروں سے تشبیہہ بھی دیتے رہے ہیں اور یہ دعوے بھی کر چکے ہیں انھیں، اُن کی اہلیہ اور پی ٹی آئی کی قیادت کو ’عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید اور ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے متعدد مرتبہ فوج پر یہ الزامات بھی عائد کیے کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماوں کے خلاف کارروائیاں کروا رہے ہیں۔

Asim Munir speaks with DC Foreign Policy experts during his visit to the US

،تصویر کا ذریعہISPR

ایمنیسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے بھی ماضی میں عمران خان کی حراست اور اُن کے پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور مبینہ 'ظالمانہ اور جان لیوا کریک ڈاؤن' پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

عارفہ نور اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ جب بھی یہ سٹریٹجکلی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی پوزیشن میں آتا ہے، تو ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت کی باتیں پسِ پشت چلی جاتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ہمیشہ سے ہی یہ تاثر رہا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی پر کنٹرول رکھتی ہے۔ موجودہ (فوجی) قیادت کے پاس اِس کی زیادہ گنجائش موجود ہے کیونکہ اس کا تعلق حکومت سے شروع سے ہی ایسا ہے۔‘

تاہم موجودہ صورتحال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑی ناقد پی ٹی آئی بھی ان کے بطور ثالث کردار پر تنقید کرنے سے گریز کرتی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہمارے تحفظات الگ ہیں اور اندرونی معاملات سے متعلق ہیں۔ جہاں تک پاکستان کے کسی کردار کا تعلق ہے، وہ چھوٹا کردار ادا کرے یا بڑا، اگر اس سے خطے میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور کروڑوں لوگوں کی پریشانی کو ختم کر سکتا ہے تو عمران خان اور ان کی جماعت اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔‘